Connect with us
Monday,16-March-2026

(جنرل (عام

کورونا ایک بار پھر دہلی، یوپی، راجستھان، میں پھیل رہا ہے! جانیں اس بار کتنا خطرہ ہے

Published

on

corona-india

نئی دہلی : دارالحکومت دہلی سمیت شمالی ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں کورونا وائرس ایک بار پھر پھیلتا دیکھا جا رہا ہے۔ کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز نے لوگوں کی تناؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ چہارشنبہ کے روز دہلی میں کووڈ 19 کے کل 63 نئے معاملے سامنے آئے۔ گزشتہ سال مئی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دہلی میں راجدھانی میں کووڈ کے اتنے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ وہیں، راجستھان میں بھی کووڈ کے معاملے بڑھ رہے ہیں۔ راجستھان کے وزیر اعلی ٰ بھجن لال شرما میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ماہرین فکرمند ہیں کہ اس بار شمالی ہندوستان کی ریاستوں میں کووڈ کے معاملے بڑھ رہے ہیں، جبکہ جنوبی ریاستوں میں کیسز میں کمی آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق راجدھانی میں گزشتہ 15 دنوں میں کووڈ 19 کے کل 459 معاملے سامنے آئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 15 دنوں میں 191 اور اس سے پہلے صرف 73 کیسز سامنے آئے تھے۔ یعنی پچھلے ڈیڑھ مہینے سے دہلی میں کورونا کے معاملوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ دہلی کے علاوہ راجستھان میں بھی کووڈ کی وجہ سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ راجستھان میں گزشتہ 15 دنوں میں 226 معاملے سامنے آئے ہیں۔ جبکہ پہلے 15 دنوں میں 96 اور اس سے پہلے یہ تعداد صرف 27 تھی۔

دہلی اور راجستھان کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ یوپی میں ۲۰ جنوری سے ۴ فروری کے درمیان کووڈ کے صرف ۱۲ معاملے درج کیے گئے تھے۔ لیکن اگلے ۱۵ دنوں میں، کووڈ کے معاملے تین گنا بڑھ گئے۔ 4 فروری سے 19 فروری کے درمیان یہ تعداد بڑھ کر 36 ہوگئی۔ وہیں، پچھلے 15 دنوں یعنی 19 فروری سے 5 مارچ کے درمیان، یہ معاملے بڑھ کر 164 ہو گئے۔ بہار کا بھی یہی حال ہے۔ بہار میں گزشتہ 15 دنوں کے مقابلے اس بار کورونا کیسز کی تعداد 14 سے بڑھ کر 103 ہوگئی ہے۔

ماہرین دہلی، راجستھان سمیت شمالی ہندوستان کی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں کووڈ کیسز کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے لیکن کم ٹیسٹنگ کی وجہ سے زیادہ کیسز رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں۔ فی الحال کووڈ کی صورتحال قابو میں ہے، لیکن اگر جانچ میں اضافہ ہوا تو ایک بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

راجدھانی دہلی میں ایک سال کے بعد کووڈ کے اتنے سارے معاملے سامنے آئے ہیں۔ پچھلے سال مئی میں بھی ایسی ہی صورتحال تھی، جب روزانہ کووڈ کے ۵۰ سے زیادہ معاملے سامنے آ رہے تھے۔ اس سال دسمبر اور جنوری میں بھی کورونا کیسز میں اضافہ ہوا لیکن یومیہ کیسز 50 سے بھی کم تھے۔ لیکن اس سال یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پچھلے برسوں میں، یہ دیکھا گیا ہے کہ جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں کووڈ کے زیادہ معاملے بڑھ رہے ہیں، لیکن اس بار شمالی ہندوستان میں کیسز میں اضافہ ہوا ہے جبکہ جنوب میں کیسز میں کمی آئی ہے۔ واضح رہے کہ سال 2020 میں ہندوستان میں پہلی بار کورونا نے ہولی کے بعد ہی اپنی تباہی دکھانا شروع کر دی تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی کریٹ سومیا کے دباؤ میں کیس درج, خوانچہ فروشوں سمیت دیگر پر کارروائی

Published

on

ممبئی: ملا ڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی پر پولس نے کریٹ سومیا کی شکایت کے بعد کیس درج کرلیا ہے اور اس معاملہ ریلوے کی ملکیت پر نماز ادا کرنے پر ملزمین کو نوٹس بھی ارسال کردی ہے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے ریلوے اسٹیشن پر نماز کی ادائیگی پر اعتراض کرتے ہوئے فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا تھا اتنا ہی نہیں ہے اسے مراٹھی ممبئی کو مسلم ممبئی قرار دینے کی سازش بھی قرار دیا تھا اس کے بعد کریٹ سومیا نے جائے وقوع کا بھی معائنہ کیا اور پھر ریلوے پولس میں شکایت درج کروانے کےلیے ایک تحریری شکایت بھی کی تھی ایک مسافر نے سوشل میڈیا پرنماز کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد کریٹ سومیا نے اس پر نوٹس لیا اور پھر کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ممبئی میں جس طرح سے نماز پر کریٹ سومیا نے اعتراض درج کرایا ہے اسی طرز پر کیا وہ ریلوے میں بھجن منڈلی اور دیگر خرافات پر بھی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ ریلوے پولس نے ملاڈریلوے اسٹیشن پر نماز
کے خلاف کارروائی شروع کردی پولس نے اس معاملے میں اسٹیشن ماسٹر کی شکایت کے بعد مشتاق بابو لون (عمر 35) ہاکر، صہیب صداقت ساہا (عمر 25) ہاکر، بسم اللہ دین انصاری (عمر 43) ہاکر اور دیگرکے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ریلوے پروٹیکشن فورس آر پی ایف نے ریلوے ایکٹ کی دفعہ 147 کے تحت شکایت درج کی ہے۔ریلوے پولیس جی آر پی نے بی این ایس کی دفعہ 168 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ پولس کی اس کارروائی کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریلوے پولس نے جس طرح کریٹ سومیا کے دباؤ میں کارروائی کرتے ہوئے کیس درج کر لیا ہے کیا اسی طرز پر ریلوے میں غیر قانونی بھجن منڈلیوں کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ اس معاملہ میں جن ملزمین پر کیس درج کیا گیا ہے وہ خوانچہ فروش ہے اور اس کے ساتھ پولس اس معاملہ مزید تفیش میں مشغول ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان