Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

کورونا سے مہاراشٹر اور کیرالہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں

Published

on

Corona infection

ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس (کووڈ-19) سے 123 مریضوں کی موت ہوئی ہے اور اس معاملہ میں مہاراشٹر اور کیرالہ کے لوگوں کے لئے زیادہ مہلک ثابت ہوا۔

اس عرصے کے دوران مہاراشٹر میں 32 افراد کی موت ہوئی، جبکہ کیرالہ میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔ ان دونوں ریاستوں کو چھوڑ کر کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر کنٹرول علاقوں میں مرنے والوں کے اعداد و شمار دوہرے ہند سے تک نہیں پہنچ سکے۔

جمعرات کی صبح مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 11،666 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ملک میں متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سات لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران 14،301 مریض صحت مند ہوئے اور اب یہ تعداد ایک کروڑ تین لاکھ 73 ہزار 606 ہوگئی۔ فعال کیسز 2،758 سے گھٹ کر 1،73،740 رہ گئے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران 123 مریض فوت ہوئے جس سے ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 53 ہزار 847 ہوگئی۔ ملک میں شفایابی کی شرح 96.94 فیصد، فعال کیسز کی شرح 1.62 فیصد جبکہ اموات کی شرح اب بھی 1.44 فیصد ہے۔

ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکزکے زیر کنٹرول علاقوں میں کورونا متاثرین کی تعداد مندرجہ ذیل ہے:
ریاست …………….ایکٹیو کیسز ……شفایاب ………… ہلاکتیں
انڈمان نکوبار ۔10 —- -4922 ——– 62
آندھرا پردیش —— 1369 —- 878828 —— 7152
اروناچل پردیش – 15 —— 16753 ——– 56
آسام ———- 2104 —- 213857 —— 1081
بہار ———- 1645 —- 256014 —— 1490
چنڈی گڑھ ——– 146 —— 20339 ——- 334
چھتیس گڑھ —— 4513 —– 289708 —— 3647
دادر نگر نگر حویلی دمن دیو —— 6 ——- 3388 ——— 2
دہلی ——— 1501 —– 621995 ——- 10829
گوا ———– 737 —– 51600 ——– 763
گجرات ——— 3976 —– 251862 ——- 4382
ہریانہ ——– 1254 —– 263236 ——- 3014
ہماچل پردیش —- 331 ——- 55991 ——- 974
جموں وکشمیر —– 1050 —– 121253 ——– 1931
جھارکھنڈ ——— 723 —— 116706 ——– 1066
کرناٹک ——— 6317 —– 918859 —— 12207
کیرالہ ———- 72476 —– 829452 ——- 3663
لداخ ——— 48 ——– 9511 ———- 129
لکش دیپ ——— 69 ——– 0 ———— 0
مدھیہ پردیش —— 3053 ——- 247418 ——- 3799
مہاراشٹر ——– 44624 —– 1920006 —— 50894
منی پور ——— 161 ——– 28476 ——– 370
میگھالیہ ——– 89 ——— 13506 ——– 146
میزورم ——– 42 ———- 4311 ——— 9
ناگالینڈ ——- 57 ——— 11938 ——– 88
اوڈیشہ ——- 1226 ——- 331535 —— 1906
پڈوچیری ——— 282 ——– 38006 ——- 646
پنجاب ———- 2080 —— 164745 ——– 5581
راجستھان ——– 2664 —— 311679 ——- 2761
سکم ——– 102 ——— 5844 ——– 133
تمل ناڈو —— 4676 ——– 819306 ——– 12333
تلنگانہ ——– 2698 ——– 289631 ——– 1594
تری پورہ ———- 21 ———- 32934 ——– 391
اتراکھنڈ —— 1439 ——— 92748 ——– 1639
اترپردیش —— 6368 ——— 584372 —— 8636
مغربی بنگال —– 5868 ——– 552877 —– 10139
مجموعی ————- 173740 —— 10373606 —- 153847

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com