Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مغربی بنگال میں او بی سی فہرست پر ہنگامہ جاری، سپریم کورٹ نے او بی سی لسٹ پر حکومت سے جواب طلب کیا۔

Published

on

supreme-court

نئی دہلی : مغربی بنگال حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ او بی سی کی فہرست میں 77 ذاتوں کو شامل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تین مراحل کے عمل کے بعد لیا گیا جس میں دو سروے اور پسماندہ طبقات کمیشن کی سماعت شامل تھی۔ تاہم حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کچھ مسلم کمیونٹیز کے معاملے میں یہ عمل 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہو گیا تھا۔

کھوٹا مسلم کمیونٹی نے 13 نومبر 2009 کو درخواست دی تھی اور اسی دن مغربی بنگال پسماندہ طبقات کمیشن نے اسے او بی سی کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔ اسی طرح درخواست کے اسی دن (21 اپریل 2010) کو فہرست میں مسلم جمعدار برادری کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔ حکومتی مشینری کی رفتار اور کام کی پیچیدہ نوعیت کے پیش نظر یہ ایک کامیابی ہے۔ او بی سی کمیشن نے بھی حیران کن رفتار دکھائی اور گیان (مسلم) اور بھاٹیہ مسلم برادریوں کو فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کرنے میں صرف ایک دن کا وقت لیا، مسلم چتور مستری برادری کے لیے چار دن اور او بی سی کی فہرست میں ایک درجن سے زیادہ دیگر مسلم برادریوں کو شامل کیا گیا۔ ایسا کرنے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت لگا۔

جو بات چونکا دینے والی تھی وہ مغربی بنگال حکومت کا حلف نامہ تھا، جس پر مبینہ طور پر 77 ذاتوں کو شامل کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے، جن میں سے 75 مسلمان ہیں۔ کچھ معاملات میں، کمیونٹیز کی ذیلی زمرہ بندی کے لیے سروے کیے گئے، اس سے پہلے کہ کمیونٹی ممبران نے کمیشن کے سامنے او بی سی کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے درخواستیں داخل کیں۔ کچھ مسلم کمیونٹیز جیسے قاضی، کوتل، ہزاری، لائک اور خاص کے لیے جون 2015 میں سروے کیے گئے تھے، لیکن انھوں نے بہت بعد میں درخواستیں داخل کیں، کچھ معاملات میں تقریباً ایک یا دو سال بعد۔

ریاست نے سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کی زیرقیادت بنچ کے 5 اگست کے حکم کے جواب میں کہا کہ او بی سی فہرست میں شامل کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کے بارے میں معلومات مانگی گئی تھیں۔ اس سے پہلے کے مواد کی تفصیلی چھان بین اور غور کرنے کے بعد ہی، خواہ زبانی ہو یا دستاویزی نوعیت، کمیشن کی طرف سے 34 کمیونٹیز میں سے ہر ایک پر حتمی سفارش کے ساتھ ایک حتمی رپورٹ تیار کی گئی۔

5 اگست کو سپریم کورٹ نے مغربی بنگال سے 2010 اور 2012 کے درمیان 77 کمیونٹیز (جن میں سے 75 مسلمان) کو او بی سی کے طور پر نامزد کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کرنے کو کہا اور سماجی اور تعلیمی پسماندگی کے دو پہلوؤں پر کیے گئے سروے کی نوعیت کے بارے میں پوچھا۔ ممتا بنرجی حکومت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جس نے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر او بی سی کی فہرست میں اس طرح کی شمولیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔

پسماندہ طبقات کے بہبود کے محکمے کے ایڈیشنل سکریٹری ابھیجیت مکھرجی کے ذریعہ داخل کردہ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل او بی سی فہرست میں شامل کرنے کے خواہشمند افراد کی درخواست سے شروع ہوتا ہے، جس میں طبقے کا نام، اس کی آبادی کا سائز، اس کی جگہ ہے۔ سماجی، تعلیمی، ازدواجی، پیشہ ورانہ اور معاشی ڈیٹا کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی طرف سے تین سطحی عمل کی سختی سے پیروی کی گئی ہے۔ ایسی درخواست جمع کرنے کے بعد، کمیشن اپنے اراکین (2012 سے پہلے) یا ریاستی حکومت کے ثقافتی تحقیقی ادارے (سی آر آئی) کے ذریعے اور ماہر بشریات (2012 کے بعد) کے ساتھ فیلڈ سروے کرتا ہے۔ ایسے سروے کے دوران کمیشن درخواست پر سماعت کے ساتھ ساتھ دعوے پر اعتراضات کے حوالے سے پبلک نوٹس جاری کرتا ہے۔

سماعت کے دوران، کمیشن درخواست کو قبول یا مسترد کرنے کے لیے عوامی سماعت کے دوران شامل کیے گئے ریکارڈ، سروے کے ان پٹ، انکوائریوں اور مواد کا جائزہ لیتا ہے۔ منظوری کے بعد، یہ او بی سی کی فہرست میں ایک کمیونٹی کو شامل کرنے کی سفارش کرتا ہے، جس کے بارے میں ریاست نے کہا کہ یہ عام طور پر حکومت پر پابند ہے۔ اس کے بعد اسے کابینہ کی منظوری کے لیے رکھا جائے گا۔ اس طرح کی منظوری کے بعد اسے سرکاری گزٹ میں شائع کیا جاتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان