Connect with us
Friday,07-August-2026

(جنرل (عام

کولکتہ کیس میں بڑا اپ ڈیٹ، لیڈی ڈاکٹر کا گینگ ریپ نہیں ہوا، سی بی آئی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف

Published

on

CBI

کولکتہ نئی دہلی : کیا آر جی کار اسپتال میں خاتون ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی؟ یہ سوال مختلف حلقوں میں گردش کر رہا ہے۔ اس معاملے میں اب تک صرف ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اگر زیادتی کے واقعے میں ایک سے زیادہ افراد ملوث ہیں تو کسی کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔ سی بی آئی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر کا ‘گینگ ریپ’ نہیں ہوا تھا۔ جرم میں صرف ایک شخص ملوث تھا۔ سی بی آئی نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں تحقیقات کی اسٹیٹس رپورٹ پیش کی۔ سی بی آئی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گرفتار سنجے کا تعلق اس واقعہ سے ہے۔

سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق متوفی ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری نہیں کی گئی تھی۔ گرفتار شخص سنجے رائے اس واقعہ سے جڑا ہوا ہے۔ فرانزک رپورٹ میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا ہے۔ ڈی این اے رپورٹ میں عصمت دری میں ایک شخص ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ دراصل اس واقعہ میں سنجے رائے کو 10 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔

آر جی واقعہ کے سامنے آنے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ امکان ہے کہ اس واقعہ میں صرف ایک شخص ملوث نہیں ہے۔ متوفی ڈاکٹر کے جسم سے تقریباً 150 گرام منی ملی ہے جس کی وجہ سے کئی ڈاکٹر اس واقعے میں ایک سے زائد افراد کے ملوث ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 150 گرام منی حاصل کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کے اینڈو سرویکل کینال میں گہرا سفید سیال پایا گیا۔ متوفی ڈاکٹر کے جسم پر 16 زخموں کے نشانات ہیں۔ سر، گال، ناک، اندرونی ہونٹوں، بائیں کندھے اور ہاتھ، بائیں گھٹنے اور شرمگاہ پر نشانات پائے گئے۔ پھیپھڑوں میں خون کا جمنا تھا۔

تاہم سی بی آئی اس رپورٹ کو حتمی نہیں مان رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سی بی آئی اس فارنسک رپورٹ کو کئی ماہرین سے تصدیق کرائے گی۔ 13 اگست کو سی بی آئی نے اس معاملے کی جانچ اپنے ہاتھ میں لے لی۔ ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کیس میں کوئی دوسری گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ تاہم، آر جی ٹیکس کے لیے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں سے لے کر متاثرہ کے والدین تک ہر ایک نے بارہا شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس واقعے میں ایک سے زیادہ افراد ملوث ہیں۔

سنجے نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، رضا کار سنجے کو کولکتہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر کئی شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں سنجے کو واقعے کے دن کئی بار اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی عمارت میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ ڈاکٹر کی موت کے وقت سنجے اسپتال کے اندر ہی تھے۔ اس کے علاوہ کولکتہ پولیس نے دعویٰ کیا کہ سنجے نے پوچھ گچھ کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان