Connect with us
Thursday,04-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

کیش لیس نظام غیر منظم شعبے کے خلاف سازش: راہل

Published

on

rahul

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعرات کو نوٹ بندی کے بعد کیش لیس نظام کو فروغ دینےکو ’’غیر منظم شعبے کے خاتمے کی منصوبہ بند سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 90 فیصد آبادی کو روزگار دینے والے اس شعبے کی معیشت کو بچانے کے لئے سب کو مل کر لڑنے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مودی سرکار نے پہلے نوٹ بندی نافذ کرکے غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے دکانداروں پر وار کیا اور اب کیش لیس ہندوستان بنانے کی بات کرکے ملک کی غیر منظم معیشت کو تباہ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ’’مودی جی کا ’کیش لیس‘ ہندوستان دراصل ’مزدور کسان، چھوٹے کاروبار سے پاک ہندوستان‘ ہے۔ جو پیسہ 8 نومبر 2016 کو پھینکا گیا تھا، اس کا بھیانک نتیجہ اس سال 31 اگست کو سامنے آیا۔ جی ڈی پی میں گراوٹ کے علاوہ نوٹ بندی نے ملک کی غیر منظم معیشت کو کیسے برباد کیا یہ جاننے کے لئے میرا ویڈیو دیکھیں‘‘۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ نوٹ بندی ہندوستان کی غیر منظم معیشت پر حملہ وار تھی اور اب کیش لیس سسٹم کو اپنا کر پوری معیشت کو تباہ کیا جارہا ہے۔ اس سازش کو پہچاننا ہوگا اور اس کے خلاف پورے ملک کو مل کر لڑنا ہوگا۔
انہوں نے کہا ’’8 نومبر 2016 کو رات آٹھ بجے وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا اور 500 اور 1000 روپے کے نوٹ کو منسوخ کردیا، پورا ہندوستان بینک کے سامنے کھڑا ہوا، اپنے اپنا، اپنی آمدنی بینک کے اندر ڈالی،اس سے کالا دھن ختم نہیں ہوا اور غریب لوگوں کونوٹ بندی کا فائدہ نہیں ملا۔ ہندوستان کے سب سے بڑے ارب پتیوں کو اس کا فائدہ ہوا‘‘۔

سیاست

بی جے پی شیوسینا کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ایکناتھ شندے دوبارہ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ بنیں گے، عبدالستار کا بڑا دعویٰ

Published

on

Abdul-Sattar

ممبئی : شیوسینا کے ایم ایل اے عبدالستار نے بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شیوسینا کو تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شیوسینا کے ایم ایل اے نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے نچلے درجے کے کارکن ضلع میں شیوسینا کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک سست زہر قرار دیا جو اتحاد کو اندر سے ختم کر رہا ہے۔ عبدالستار نے کہا کہ ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ آج بی جے پی ہماری اتحادی ہے اور وزیر اعلیٰ بھی بی جے پی سے ہے، لیکن اس کے کچھ ضلعی سطح کے کارکن شیوسینا کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ مل کر کام کرنے کے بجائے شیوسینا کو دور کر رہے ہیں اور اپنے لیے اقتدار کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ہمیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہم ان کے اتحادی ہیں، ان کے مخالف نہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر پارٹی کارکنوں کے سامنے بحث ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود ضلع میں ان کی پارٹی کے کارکن شیوسینا کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے میونسپل کارپوریشن، ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن، اور دیگر بلدیاتی اداروں پر قبضہ کر لیا ہے جن پر پہلے شیو سینا کا غلبہ تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس طاقت کا صحیح استعمال کیا جائے، غلط استعمال نہ کیا جائے۔ اگر اہم اتحادی پارٹی شیوسینا کو تباہ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ غلط ہے۔ انہیں ہماری پارٹی کا احترام کرنا چاہیے۔ بی جے پی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں نے پہلے ایسا محسوس نہیں کیا، پہلے ڈھائی سالوں میں میں اسے ٹھیک سے سمجھ بھی نہیں پایا تھا۔ جب ہم اقتدار میں تھے اور ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ تھے، تو ان چیزوں کو سمجھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، لیکن گزشتہ 18 مہینوں میں، میں نے اسے واضح طور پر سمجھا ہے۔ میں جس رویہ اور کام کرنے کا طریقہ دیکھ رہا ہوں، وہ گزشتہ مہینوں سے جاری ہونے والے کسی حکم نامے کو واپس لینے کے لیے درست نہیں ہے۔ انتخابات کے لیے، جس کے بعد کیا جائے گا۔”

عبدالستار نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور شیوسینا کے سربراہ ایکناتھ شندے سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور شیوسینا کو انصاف فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کی مضبوطی کو برقرار رکھنے کے لیے اس معاملے پر کھل کر بات کی جانی چاہیے۔ “ہمارے لیڈر نے صرف چند الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ ایک بہت اہم پیغام دیتا ہے کہ کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا، اور چیزوں کو کیسے سمجھنا چاہیے۔ یہ صرف دو الفاظ سے زیادہ ہے؛ یہ بہت بڑی چیز کی نمائندگی کرتا ہے۔ کیونکہ جب ایکناتھ شندے کوئی فیصلہ کریں گے تو طوفان برپا ہوگا۔” عبدالستار نے دعویٰ کیا کہ ممکنہ طور پر ڈھائی سال بعد ایک ناتھ شندے ایک بار پھر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ انہوں نے پوچھا، “ماتوشری کی باگ ڈور کس کے پاس ہے؟ یہ ادھو بالا صاحب ٹھاکرے ہیں۔ اور ہماری پارٹی کی باگ ڈور کس کے پاس ہے؟ یہ ایکناتھ شندے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کے مستقبل کے بارے میں آج کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیا کل کسی نے کہا تھا کہ راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے ایک ساتھ آ سکتے ہیں؟”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام کا سامان نہ ملنے سے افراتفری، حج کمیٹی کی لاپروائی کا نتیجہ، ائیرپورٹ پر حجاج کرام کو سامان بھیجنے کی یقین دہانی

Published

on

Air-Port

ممبئی : ممبئی حج کمیٹی آف انڈیا کی لاپروائی کے سبب ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مکہ معظمہ جدہ میں حجاج کرام کا سامان بیگیج کو جمع کرنے کے بعد ان کا سامان اب غائب ہے جس کے سبب ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام نے حج کمیٹی کے انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ یکم مئی کو حج کمیٹی نے سامان جمع کیا تھا لیکن اب تک ممبئی سامان نہیں پہنچا ہے۔ حج کمیٹی کی بدنظمی کے سبب مہاراشٹر اور ملک کے حجاج کرام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ بھوپال، بھساول، اورنگ آباد، مالیگاؤں سمیت ممبئی کے حجاج کرام کو سامان میسر نہ ہونے کے سبب ائیر پورٹ پر افراتفری کے ساتھ حاجیوں میں اضطراب پایا جا رہا ہے, جبکہ حجاج کرام نے حج کمیٹی پر بدنظمی کا الزام عائد کیا۔

حاجی نذر عا لم نے کہا کہ یکم مئی کو ہی حجاج کا سامان جمع کر لیا گیا تھا لیکن جب ہم ائیر پورٹ پہنچے کو سامان نہیں پہنچا ہمیں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ سامان ائیر پورٹ پہنچ جائے گا, لیکن اب تک سامان کا کوئی پتہ ٹھکانہ نہیں ہے۔ سامان نہ ملنے کی وجہ سے حجاج کرام افراتفری کا شکار ہو گئے اور ممبئی ایئرپورٹ پر ہنگامہ بپا ہو گیا۔ اللہ کی مہمانوں کا سامان نہ ملنے سے ممبئی میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے یکم مئی کو ان کا سامان جمع کیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ ان کا سامان انہیں ممبئی ایئرپورٹ پر پہنچا دیا جائے گا۔ جب حجاج کرام ممبئی ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا سامان ابھی نہیں پہنچا اور ان کا سامان ان کے گھروں تک پہنچا دیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے مختلف حصوں مثلاً مالیگاؤں، اورنگ آباد، دھولیہ، جالنا، امراوتی، ناگپور سے حجاج کرام ممبئی کے ہوائی اڈے پر پہنچے تھے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا سامان محفوظ ہے اور انہیں کب ملے گا؟ ممبئی ایئرپورٹ پر حاجیوں کا ہنگامہ بدستور جاری ہے۔ حج کمیٹی انتظامیہ نے ائیر پورٹ پر حجاج کرام کو بتایا ہے کہ ان کا بیگیج محفوظ ہے اور جلد ہی سامان انہیں موصول ہوگا ممبئی میں حجاج کرام کاُ سامان نہ ملنے پر حجاج کرام میں ناراضگی ہے جبکہ حج کمیٹی کی بدنظمی کے سبب ہزاروں حجاج کرام پریشان ہے۔

Continue Reading

(Monsoon) مانسون

اس مانسون کے دوران سمندر میں 24 اونچی لہریں اٹھیں گی، ہائی ٹائیڈز کے حوالے سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل

Published

on

hightide

ممبئی : اس مانسون کے دوران یعنی جون سے ستمبر تک 4 ماہ کے دوران سمندر میں 24 اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اونچی لہر کا مطلب ہے کہ اس جوار کے دوران سمندر میں ساڑھے چار میٹر سے زیادہ اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اس میں جوار کی تاریخ اور وقت کے ساتھ ساتھ سمندر میں اٹھنے والی لہروں کی اونچائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، اس مانسون میں سب سے زیادہ لہریں 16 جولائی 2026 کو اٹھیں گی۔ میونسپل انتظامیہ نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام دنوں میں تیز لہر کے دوران ساحلوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور اس سلسلے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

جون 2026

  1. اتوار، 14.06.2026 اے ایم – 11.24 AM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.65
  2. پیر، 15.06.2026 پی ایم – 12.14 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.80
  3. منگل، 16.06.2026 پی ایم – 01.05 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.87
  4. بدھ، 17.06.2026 پی ایم – 01.55 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.86
  5. جمعرات، 16.06.2026 پی ایم – 01.55 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.86 18.06.2026 پی ایم – 02.44 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.79
  6. جمعہ، 19.06.2026 پی ایم – 03.32 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.64

جولائی 2026

  1. پیر، 13.07.2026 اے ایم – 11.14 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.53
  2. منگل، 14.07.2026 پی ایم – 12.04 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.73
  3. بدھ، 15.07.2026 پی ایم – 12.51 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.85
  4. جمعرات، 16.07.2026 پی ایم – 01.36 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.89
  5. جمعہ، 17.07.2026 پی ایم – 02.19 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.83
  6. ہفتہ، 18.07.2026 پی ایم – 03.00 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.66

اگست 2026

  1. بدھ، 12.08.2026 اے ایم – 11.48 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.68
  2. جمعرات، 13.08.2026 پی ایم – 12.28 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.81
  3. جمعہ، 14.08.2026 پی ایم – 01.07 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.83
  4. ہفتہ، 15.08.2026 پی ایم – 01.44 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.73
  5. اتوار، 16.08.2026 پی ایم – 02.19 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.50

ستمبر 2026

  1. جمعرات، 10.09.2026 اے ایم – 11.26 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.57
  2. جمعہ، 11.09.2026 پی ایم – 12.00 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.65
  3. ہفتہ، 12.09.2026 پی ایم – 12.34 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.61
  4. اتوار، 13.09.2026 آدھی رات – 01.02 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.51
  5. پیر، 28.09.2026 آدھی رات – 00.38 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.51
  6. منگل، 29.09.2026 آدھی رات – 01.14 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.59
  7. بدھ، 30.09.2026 آدھی رات – 01.53 بجے۔ لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.56
Continue Reading
Advertisement

رجحان