Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

پارلیمانی واسمبلی انتخابات میں غداری کرنے والوں کے خلاف کانگریس اعلیٰ کمان کرے قانونی کارروائی : سہراب خان

Published

on

بھیونڈی (فہیم انصاری)
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب سے متعلق اپنے پارٹی کارکنان اور اپنے کارپوریٹروں کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں سے ناراض کانگریس پارٹی کے بھیونڈی شہر ضلع نائب صدر سہراب خان نے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات واکتوبر میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بہت سے پارٹی کے عہدیداروں وکارکنان کے ساتھ ہی کچھ پارٹی کے کارپوریٹروں نے آپسی اختلافات واقتصادی فائدے کے لئے کانگریس پارٹی کے امیدواروں کے خلاف کام کیا ہے، جس کے نتیجے میں مذکورہ دونوں انتخابات میں پارٹی کے امیدواروں کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر پارٹی اعلیٰ کمان کی جانب سے پارٹی مخالف کام کرنے کی پاداش میں ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہوتی تو ممکن ہے کہ مستقبل میں پھر کوئی بھی عہدیدار، کارکن وکارپوریٹر پارٹی اعلیٰ کمان کے احکامات کے خلاف کسی قسم کی کوئی بھی حکم عدولی کرنے کی جرآت نہیں کرتا، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج تک پارٹی مخالف کام کرنے کے پاداش میں ان لوگوں کے خلاف کوئی بھی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے، اسی لئے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ واضح ہوکہ بھیونڈی پارلیمانی انتخابات میں کانگریس پارٹی کے شکست کی وجہ بھی کانگریس کے کچھ کارپوریٹروں اور عہدیداروں کی پارٹی مخالف کام کرنے کی وجہ سے ہی پارٹی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا، تعجب کی بات تو یہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں شکست ہونے کے باوجود بھی کانگریس اعلیٰ کمان نے پارٹی مخالف کام کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جس کے نتیجے میں غداری کرنے والے لوگوں کے حوصلے اور بلند ہوگئے اور اسمبلی انتخابات میں بھی ایک مرتبہ پھر کانگریس کے کچھ کارپوریٹروں اور عہدیداروں کے ذریعے پارٹی مخالف کام کرنے کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آخران پارٹی مخالف کام کرنے والوں کی سرپرستی کون کررہا ہے؟ کانگریس پارٹی کے اعلیٰ کمان کو چاہئیے کہ وہ ان پارٹی کے غداروں کی سرپرستی کرنے والوں کی انکوائری کرکے قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کریں، ورنہ کانگریس پارٹی کو مستقبل میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔
اسی لئے جب بھی موقع آتا ہے پارٹی کے احکامات کو مان کراس پر عمل کرنے کے بجائے یہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے پارٹی کو شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس لئے اب لازمی ہے کہ پارٹی مخالف کام کرنے والوں کے خلاف اعلیٰ کمان ضرور با ضرور قانونی کارروائی کرے تاکہ پھر کوئی پارٹی مخالف کام کرنے کی جرآت نہ کرسکے۔ جب کہ سماج وادی پارٹی کے نو منتخب رکن اسمبلی رئیس قاسم شیخ وبھیونڈی سماجوادی پارٹی کے ضلع صدر عرفات شیخ نے انتخابات کے نتائج آنے کے تیسرے دن ہی انہوں نے پارٹی مخالف کام کرنے کی پاداش میں اپنے دو عہدیداروں کو فوری طور پر پارٹی سے ہی برخاست کردیا تھا۔ اسے کہتے ہیں ڈسیپلین، اگر کانگریس پارٹی نے بھی فوری ایکشن لیا ہوتا تو شاید نتائج کچھ اور ہوتے۔ اس طرح سے کی گئی کارروائی سے اب کوئی مستقبل میں پارٹی مخالف کام کرنے کی جرآت نہیں کرسکے گا۔ میں سماجوادی پارٹی کو ان کے اس اقدام پر انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔
واضح ہو کہ آئندہ ۵ دسمبر کو بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے میئر کا انتخاب ہونے والا ہے اوراس وقت بھی کچھ نام نہاد عہدیدار وکارپوریٹر پارٹی کے تائید کردہ میئر کے بجائے دوسرے خیمے میں جاکر اپنا مستقبل سنوارنے میں مصروف ہو گئے ہیں جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ ایک بات تو صاف ظاہر ہے کے بھیونڈی میونسپل کارپوریشن میں کل 90 کارپوریٹروں میں سے کانگریس پارٹی کے کل 47 کارپوریٹر ہیں اس کے باوجود اگر ہماری شکست ہوتی ہے تو یہ ہمارے لئے بڑے ہی افسوس کی بات ہے۔ اس لئے جو لوگ کسی کے بہکاوے میں آگئے ہیں وہ برائے مہربانی اپنے گھر میں واپس آجائیں اور اپنے قلع کو مضبوطی سے تھام لیں، یہی وقت کا تقاضہ ہے ورنہ کل سوائے پچھتاوے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان