Connect with us
Tuesday,16-June-2026

سیاست

کانگریس اقلیتی سیل کے قومی صدر کے ٹویٹر ہینڈل سے شیئر کئے گئے شعر پر اردو کے ادبی حلقوں میں چھڑی بحث

Published

on

Congress

بھوپال : سوشل میڈیا پر بنے رہنے اور سستی شہرت کے لئے لوگ کیا کیا نہیں کرتے ہیں۔ کبھی دوسروں کے شعر کو اپنے نام سے ٹویٹ کرکے شہرت حاصل کی جاتی ہے تو کبھی کسی کے تحقیقی مقالے کو بھی نام اڑا کر اپنے نام سے پیش کردیا جاتا ہے تو کبھی کسی کے شعر کو کسی دوسرے کے نام سے پیش کرنے کی کوشش کرکے خود کو سرخیوں میں بنائے رکھنے کا عمل کیا جاتا ہے۔ نیا معاملہ کانگریس اقلیتی سیل کے قومی صدر کے ٹوئیٹر ہینڈل سے ممتاز شاعر خمار بارہ بنکوی کے شعر کو غالب کے نام سے شیئر کئے جانے کا ہے۔ اس معاملہ کولے کر اردو کے ادبی حلقے کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی بحث چھڑ گئی ہے ۔ اردو کے ادیب و شاعر جہاں اسے کانگریس اقلیتی سیل کے قومی صدر کی کم علمی اور اخلاقیات سے گری ہوئی بات سے تعبیر کرتے ہیں تو وہیں سیاست دانوں نے بھی اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کانگریس اقلیتی سیل کے قومی صدر کا خود بھی شاعری سے تعلق ہے اور ان کے ٹوئیٹر ہینڈل سے جس طرح سے ممتاز شاعر خمار بارہ بنکوی کا مشہور زمانہ شعر غالب کے نام سے پیش کیا گیا ہے، اسے لیکر ادبی حلقوں میں بحث کا اٹھنا لازمی ہے۔ کانگریس اقلیتی سیل کے قومی صدر کے ٹوئیٹر ہینڈل سے شعر اس طرح شیئر کیا گیا ہے۔

حیرت ہوئی غالب تمہیں مسجد میں دیکھ کر
ایسا بھی کیا ہوا کہ خدا یاد آگیا

اب آپ خمار بارہ بنکوی کا مشہور زمانہ شعر بھی ملاحظہ کیجئے، جو ان کے مجموعہ میں بھی ہے اور ریختہ پر بھی ان کے نام سے موجود ہے۔

حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ

کیا بات ہوگئی جو خدا یاد آگیا

مشہور شاعر عمران سیفی کہتے ہیں کہ اسے سستی شہرت کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ جو فنکار ہوتا ہے اس کا اپنا مطالعہ بھی ہوتا ہے اور وہ کسی کے شعر کو کسی دوسرے کے نام سے شیئر نہیں کرتا ہے۔ اگر آپ کو کسی کی اولاد اچھی لگ رہی ہے تو آپ اس سے پیار کرسکتے ہیں، لیکن اس کی ولدیت بدلنے کا آپ کو کوئی حق نہیں ہے ۔کانگریس اقلیتی سیل کے قومی صدر کے ذریعہ جو عمل کیا گیا ہے وہ غیر مہذب اور غیرمناسب ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں اس کی خبر بھی نہ ہو اور جو شخص ان کا ٹوئیٹر ہینڈل کر رہا ہو، اس سے یہ عمل سرزد ہوا ہو۔ جو بھی ہو ایسے عمل کی کبھی ستائش نہیں کی جاسکتی ہے ۔وہیں نوجوان شاعر راہل شرما کہتے ہیں کہ ایسا عمل تو ہم جیسے نئے لکھنے والے بھی کبھی نہیں کرتے ہیں، جو کانگریس اقلیتی سیل کے قومی صدر کے ٹویٹر ہینڈل سے کیاگیا ہے۔ وجہ جو بھی ہو اس کی مذمت کی جانا چاہئے۔ جبکہ بی جے پی کے سینئر لیڈر محمد توفیق کہتے ہیں کہ کانگریس اقلیتی سیل کے قومی صدر کے ٹویٹر ہینڈل سے خمار صاحب کے شعر کو جس طرح سے دوسرے کے نام سے پیش کیا گیا ہے اس کو دیکھ کر اور پڑھ کر ان کی شاعری پر بھی شک ہوتا ہے ۔ اور ایسے کام تو کانگریس لیڈروں کا کیریکٹر بتاتے ہیں۔ یہ غالب جیسے عظیم شاعر کو بدنام کرنے کی بھی ایک سازش ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جانا چاہئے۔

جرم

سی آئی ڈی نے ابھیشیک بنرجی سے انتخابات سے قبل تشدد بھڑکانے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی۔

Published

on

کولکتہ: ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی منگل کو کولکتہ کے بھوانی بھون میں مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی ڈی) کے سامنے پیش ہوئے جس میں ان کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات دینے اور اسمبلی انتخابات سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف دھمکیاں دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

یہ رپورٹ لکھے جانے کے وقت، کیس کی تفتیش کرنے والے سی آئی ڈی کے اہلکار تقریباً دو گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔

ابھیشیک بنرجی کو منگل کی دوپہر تک جنوبی کولکتہ کے بھوانی بھون میں سی آئی ڈی ہیڈکوارٹر میں پیش ہونا تھا۔ تاہم، وہ مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے بھوانی بھون پہنچے، داخلی دروازے پر مہمانوں کے رجسٹر پر دستخط کیے، اور پوچھ گچھ کے لیے اندر چلے گئے۔

یہ لگاتار تیسرا دن ہے کہ کسی معاملے کے سلسلے میں تفتیشی ایجنسی نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ پیر کے روز، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے اہلکاروں نے مغربی بنگال میں کروڑوں روپے کے “اسکول-نوکری-کیش” گھوٹالے کے سلسلے میں 11 گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کی۔

اس سے پہلے اتوار کو سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے بنرجی سے سی آئی ڈی کی تفتیش کے سلسلے میں ساڑھے آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ معاملہ ریاستی اسمبلی میں سووندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کرنے والی قرارداد پر ترنمول کانگریس کے اراکین اسمبلی کے جعلی دستخطوں سے متعلق ہے۔ جمع کرائے گئے دستاویزات میں تضاد کی وجہ سے سی آئی ڈی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

اس کے بعد، سی آئی ڈی منگل کو ایک ایسے معاملے میں ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کر رہی ہے جس میں ان پر حالیہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل تشدد بھڑکانے اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو دھمکی دینے کا الزام ہے۔

اس معاملے میں، بنرجی کے خلاف گزشتہ ماہ بیدھا نگر سٹی پولس کے تحت بدھ نگر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سائبر کرائم تھانے کے اہلکار ابتدائی طور پر تفتیش کر رہے تھے لیکن بعد میں 11 جون کو تفتیش سی آئی ڈی کو منتقل کر دی گئی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اندھیری ۶۰ لاکھ سے زائد کے زیورات چوری کا ڈرامہ تیار کرنے والے دو ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس دو ایسے شاطر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے, جنہوں نے چوری اور سڑک حادثہ کی من گھڑت کہانی بنا کر ۶۰ لاکھ کے زیورات چوری ہونے کا ڈرامہ تیار کیا تھا, لیکن پولس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ سونے کے زیورات کی ڈیلیوری کرنے والا ہی چور ہے اور اس نے اپنے ساتھی دوست کے ساتھ مل کر یہ چوری کی تھی۔ ایم آئی ڈی سی پولس نے گولڈ اسٹار کمپنی کے کنچن پوار کی شکایت پر چوری کا کیس درج کر لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے ملازم اویناش گنگادھر کدم ۲۶ سالہ کو سونے کے زیورات ڈیلیوری کے لئے بھیجا تھا۔ اسی دوران اس نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل ایکٹیوا کو حادثہ پیش آیا ہے اور اسی دوران سونے کے زیورات و بیگ بھی چوری ہو گئے۔ اس نے بلا کسی چوٹ اور زخم کے اسپتال میں داخلہ کےلئے ڈرامہ کیا, اس دوران پولس نے متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ اس مشتبہ شخص حادثہ سے قبل یہاں مشتبہ حالت میں گشت کر رہا تھا۔ جس کا نام منوج ہیمنت جوگڈنڈ ۴۱ سالہ ہے۔ اس سے تفتیش میں پولس کو یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے ہی چوری کا ڈرامہ کیا تھا اور اس واقعہ کو حادثہ بتا کر لوٹ مار کی منصوبہ بندی تیار کی تھی۔ اس کے بعد پولس نے اویناش کو بھی زیر حراست لیا اس معاملہ میں پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے معمہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بی ایم سی نے مانسون سے پہلے ہیلپ لائن ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم’ شروع کی، گڑھے بھرنے پر توجہ مرکوز کی

Published

on

ممبئی ممبئی میں گڑھوں کو بھرنے کےلئے بی ایم سی نے خصوصی ہیلپ لائن جاری کیا ہے شہریوں کی شکایات کا فوری اور مؤثر طریقے سے ازالہ کرنے کے مقصد کے ساتھ، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال ایک مربوط شکایتی انتظامی نظام‘مائی بی ایم سی مارگ’ (شکایات کے انتظام اور ازالے کانظام) نافذ کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے شہری میونسپل کارپوریشن سے متعلق 114 مختلف قسم کی شکایات کو ایک ہی درخواست کے ذریعے درج کر سکیں گے اور وہ ان کی پیروی بھی کر سکیں گے۔ اس کے تحت ‘مائی بی ایم سی مارگ’ سسٹم پر سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کرنے کی سہولت شہریوں کو فراہم کی گئی ہے۔

مانسون کے موسم میں سڑکوں پر بعض اوقات گڑھے بن جاتے ہیں۔ اس تناظر میں میونسپل کارپوریشن شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری نوٹس لینے اور ضروری اصلاحی کارروائی کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ شہریوں کے لیے گڑھوں کی شکایات کے اندراج کے عمل کو آسان اور موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے سڑکوں پر گڑھوں کے بارے میں شکایات درج کرنے کے لیے ایک الگ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ شروع کی تھی۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے شہری معلومات، تصاویر اور سڑکوں پر گڑھوں کی جگہ کے ساتھ شکایات درج کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے اچھا رسپانس ملا۔اس دوران شہریوں کو میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں سے متعلق شکایات کے لیے مختلف سسٹم استعمال کرنا پڑا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مزید جامع اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے اس سال سے ایک جامع نظام ‘مائی بی ایم سی مارگ’ شروع کیا ہے۔ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ کو اس سسٹم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں بشمول گڑھے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج کے مسائل، پانی کی فراہمی، سڑک کی دیکھ بھال، پارکس، صحت عامہ، پیسٹ کنٹرول، تجاوزات، لائٹنگ سے متعلق کل 114 قسم کی شکایات درج کرنے کی سہولت ’مائی بی ایم سی مارگ‘ پر دستیاب ہے۔

‘مائی بی ایم سی مارگ’سسٹم خصوصیت یہ ہے کہ شہریوں کےلیے ایک پلیٹ فارم سے شکایات کا اندراج کرنا، متعلقہ تصاویر اپ لوڈ کرنا، شکایت کی موجودہ صورتحال کی جانچ کرنا، متعلقہ محکمے کی طرف سے کی گئی کارروائی کا پتہ لگانا اور شکایت کے حل ہونے کے بعد اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس لیے شکایت کے اندراج سے لے کر ازالے تک کا پورا عمل زیادہ شفاف اور شہریوں پر مبنی ہو گیا ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام نے شکایت کے اندراج کے عمل کو آسان، شفاف اور موثر بنا دیا ہے اور شہریوں کو شکایات کے ازالے پر عمل کرنے کے لیے ایک واحد جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔خاص طور پر جب شہری سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کراتے ہیں تو متعلقہ محکمے کے لیے فوری کارروائی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے گڑھے کی مرمت کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین اپنے اسمارٹ فونز پر مائی بی ایم سی مارگ ایپلیکیشن کو مائی بی ایم سی مارگ – گوگل پلے پر ایپس کا استعمال کرکے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور آئی فون کے صارفین مائی بی ایم سی مارگ ایپ – ایپ اسٹور کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ممبئی کے لوگ میونسپل کارپوریشن سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر گڑھوں سے متعلق تمام شکایات ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم پر درج کریں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان