Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

ممبئی کے کے ای ایم اسپتال میں دو کوویڈ پازیٹو مریضوں کی موت سے تشویش، اسپتال انتظامیہ نے واضح کیا کہ اموات کینسر اور گردے کی بیماری کی وجہ سے ہوئیں۔

Published

on

death

ممبئی : کوویڈ کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان، کے ای ایم اسپتال سے دو اموات کی اطلاع ملی ہے۔ ان دونوں مریضوں کی کووڈ رپورٹس بھی مثبت آئی ہیں تاہم اسپتال انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایک مریض کی موت کینسر اور دوسرے کی گردے کی سنگین بیماری کے باعث ہوئی۔ ڈاکٹروں اور بی ایم سی حکام نے احتیاط برتنے کو کہا ہے اور لوگوں سے گھبرانے کی اپیل کی ہے۔ ممبئی میں بھی کوویڈ کے معاملات میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بی ایم سی محکمہ صحت کے مطابق عام طور پر ایک ماہ میں 8 سے 9 کیسز سامنے آتے ہیں لیکن موسم کی تبدیلی کی وجہ سے ان میں قدرے اضافہ ہوا ہے۔

پریل کی رہنے والی 59 سالہ خاتون کی کے ای ایم اسپتال میں موت ہوگئی۔ خاتون کینسر میں مبتلا تھی، ہسپتال نے لاش لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ خاندان نے سابق کارپوریٹر انیل کوکل سے رابطہ کیا۔ انیل کوکل نے کہا کہ خاتون کینسر میں مبتلا تھی، لیکن اس کی رپورٹ کووڈ پازیٹو آئی۔ ایسے میں ہسپتال نے پروٹوکول کے مطابق لاش لواحقین کے حوالے نہیں کی۔ اس حوالے سے ہسپتال انتظامیہ سے بات کرنے کے بعد پروٹوکول کے مطابق متوفی کو صرف دو کنبہ کے افراد کے ساتھ بھوواڈا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مرنے والے کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں موت کی وجہ کووڈ نہیں بتائی گئی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کووڈ ٹیسٹ کیوں کیا گیا؟ ایک اور کیس میں 14 سالہ لڑکی جو کہ گردے کی سنگین بیماری میں مبتلا تھی انتقال کر گئی۔ اس لڑکی کی کووڈ رپورٹ بھی مثبت آئی ہے۔ ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر موہن دیسائی نے کہا کہ دونوں مریضوں کی موت کی وجہ دیگر سنگین بیماریاں تھیں۔ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، اس حوالے سے مزید معلومات ہسپتال انتظامیہ پیر کو شیئر کرے گی۔ بی ایم سی کی ایگزیکٹیو ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر دکشا شاہ نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کوویڈ کیسز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے انفیکشن کا خدشہ ہے۔ مئی میں کوویڈ کیسز میں اضافہ ہوا ہے، لیکن مریضوں میں ہلکی علامات ہیں۔

ڈاکٹر بہرام پردی والا، ڈائرکٹر، ڈپارٹمنٹ آف انٹرنل میڈیسن، ووکارڈ ہسپتال، ممبئی سینٹرل نے کہا کہ اپریل تک ایک ہفتے میں ایک مریض کووڈ سے متاثر پایا گیا تھا، لیکن مئی میں ایک ہفتے میں 3 سے 4 مریض کووڈ سے متاثر پائے جا رہے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ بیماری عام فلو کی طرح ہے اور اس میں داخلے کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ 5 سے 6 دن میں ٹھیک ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جن لوگوں کی قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے انہیں اپنی صحت کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر بوڑھے اور وہ لوگ جو پہلے ہی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹروں نے ماسک پہننے، حفظان صحت کو برقرار رکھنے اور بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو اپنا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان