Connect with us
Tuesday,16-June-2026

جرم

واٹس ایپ کے ذریعے سیاسی دشمنی میں جھوٹا الزام لگا کر بدنام کرنے کے خلاف شکایت

Published

on

(پریس ریلیز)
گذشتہ ماہ سیاسی دشمنی کی بنیاد پر شوشل میڈیا واٹس ایپ پر میرے (اشتیاق احمد 42) کے خلاف جھوٹی پوسٹ بنا کر وائرل کی گئی اور باربار اشتیاق احمد 42 اور کل ھند مجلس اتحادالمسلمین کا نام لے لے کر جھوٹا الزام لگا کر مخالفین مجلس کی جانب سے بدنام کیا جارہا ہے۔ الزام ایسا لگایا جارہا ہے کہ اس پوسٹ کو دیکھنے اور سننے والا بھی اپنے آپ میں شرم محسوس کرے کہ اشتیاق احمد 42 نے کسی چھوٹی سی معصوم لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا مرتکب ہوا۔

جبکہ اس الزام کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ سب سے پہلے اس طرح کی جھوٹی پوسٹ ضیاالرحمن نامی شخص نے 9673791180 اس نمبر سے 18 اگست کو صبح 9.17 منٹ پر ایک گروپ میں واٸرل کی۔ جسکو دوسرے دن 19 اگست کو شفیق باکسر نامی شخص نے مزید مبالغہ آراٸی کے ساتھ 902846 56 86 اس نمبر سے ”لاٸف لاٸن گروپ“ اور ”ماسٹر اسٹروک“ نامی گروپوں میں واٸرل کیا۔ جس کو کچھ کانگریسی ورکروں نے خوب اچھالا اور اپنے گروپ میں اشتیاق احمد 42 کو نقصان پہنچانے سے متعلق پلاننگ کی اور اشتیاق احمد 42 اور اسکے خاندان و کل ھند مجلس اتحادالمسلمین سے متعلق بے عزتی والے جملوں کا اظہار کیا۔ حیرت انگیز طور پر گروپ کے ایڈمنوں نے اپنا فرض نہ نبھاتے ہوٸے ان افراد کو نہ ہی کسی طرح کی تنبیہ کی اور نہ ہی ایسے شرپسند وفسادی عناصر کو اپنے گروپ سے ریمو کیا بلکہ ”ماسٹراسٹروک“ کے ایڈمن نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر نہ صرف بحث میں حصہ لیا بلکہ اشتیاق احمد 42 کو نقصان پہنچانے کی سازش رچنے میں بھی شریک رہا۔ جس کے تمام تر ثبوت شہر بھر سے ہمارے خیرخواہوں نے اسکرین شاٹ کے ذریعے مجھے بتایا۔ کیونکہ کسی مجبوری کی بنیاد پر میرے پاس اینڈرائیڈ موبائیل 3 اگست 2020 سے نہیں ہے اور میں بٹن والا سادہ موبائیل استعمال کررہا ہوں۔ لیکن اسکے باوجود بھی 18 اور 19 اگست کو کچھ افراد سیاسی دشمنی کی بنیاد اس لیۓ کہ اسمبلی 2019 الیکشن میں مجلس اتحادامسلمین کے امیدوار مفتی محمد اسمعیل قاسمی کی کامیابی کے لیۓ میں نے تن من کوشش کی۔ اور شوشل میڈیا پر مجھے پارٹی کی ترجمانی کی ذمہ داری دی گئی جسے میں نے بحسن خوبی ادا کیا۔ اور شہر کی بھلائی کے لیۓ اپنی قلم کا اچھے انداز سے استعمال کیا۔ اور مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب کو اللہ نے کثیر ووٹوں سے کامیابی سے نوازا۔ تب سے لے کر آج تک میرے علاوہ سیاسی دشمنی کی بنیاد پر شہر کے کئی افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اور بنایا جا رہا ہے ۔ جس میں خود مجلس کے ایم ایل اے مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب ، ڈاکٹر خالد پرویز و عبدالمالک صاحبان بھی شامل ہیں۔ جن کو نازیبا القاب سے نوازا جاتا ہے۔ شوشل میڈیا واٹس اپ گروپوں پر یہ ایک مخصوص ٹولہ ہے اس ٹولے کے کئی افراد پر پہلے بھی کئی گناہ پولس اسٹیشنوں داخل ہوچکے ہیں جن میں سے ایک کا گناہ نمبر 144/ 2018 ہے اور وہ کئی کئی دنوں تک وہ لوگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔ لیکن وہ لوگ اپنی اس حرکت سے باز نہیں آٸے اور آج بھی یہ کانگریسی چمچے اور نام نہاد سیکولر پارٹی کے ذہنی غلام کسی کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ اور نازیبا الزامات لگاکر اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور انکی باتوں کا مدلل اور معقول جواب دینے والوں کو فون کرکے دھمکیاں دیں جاتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ اسی طریقے کے واقعات پیش آئے۔ تب دلبرادشتہ ہوکر اپنی عزت نفس کا خیال کرتے ہوۓ میں نے قانونی کاروائی کرتے ہوۓ ایسے افراد کے خلاف سائبر کرائم ناسک سے لے کر پولس کے اعلی حکام تک تمام ثبوتوں کی بنیاد پر کاروائی کرنے کا من بنایا۔ اور پولس کے اعلی حکام کو تمام ثبوت کمپلین کے ساتھ داخل کیا ۔ میرے خلاف جھوٹی پوسٹ چلانے والوں میں
نمبر 1 ضیاالرحمن جاوید احمد 9673791180
نمبر 2 شفیق باکسر 902846 56 86
نمبر 3 ریاض علی یوسف علی 9370596161
نمبر 4 رضوان ثنا 7020507313
نمبر 5 وسیم احمد 7276929271
نمبر 6 ثاقب سعید 9284355955
نمبر 7 کامران شیخ 8623894296
نمبر 8 نوید قریشی 9890332531
ان تمام افراد کے خلاف پولس کے اعلی حکام تک تحریری شکایت مع تمام ثبوت کے روانہ کرتے ہوۓ سخت کاروائی کی مانگ کی گئی۔ کاروائی نہ ہونے کی صورت میں ان افراد کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاۓ گا۔ تاکہ شہر سے ایسے شرپسند افراد جوکہ شوشل میڈیا کے ذریعے شہر کا ماحول خراب کررہے ہیں ان پر قد غن لگایا جاسکے۔ اور شہر کا ماحول پرامن و صاف ستھرا رہ سکے۔
میں عوام کے علم میں اس بات کو بھی لانا چاہتا ہوں کے وہاب شیخ رشید کے ذریعے کیۓ گٸے حملے میں زخمی ہونے کا حوالہ دے کر ضیاالرحمن نے ذوالفقار احمد ذلو سیٹھ۔ عیدی امین بھکو۔ خالد سکندر۔ اور ڈاکٹر خالد پرویز صاحبان سے روپیٶں کا مطالبہ کیا۔ پیدل اور ننگے پیر جاکر اور کھانے اور پٹرول نہ ہونے کی بات کرکے چپل ٹوٹنے کی دہاٸی دے کر یہ شخص مسلسل مجلس کے ذمہ داران سے روپیٶں کا مطالبہ کرتا رہا۔ جس کی میں نے شدید مخالفت کی اور اس سے قطع تعلق کرلیا۔ اسکا مطالبہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ شخص کانگریسیوں کا آلہ کار بن کر بلیک میلنگ کا حربہ اختیار کرنے پر آمادہ ہوگیا اور میرے خلاف ایسی جھوٹی پوسٹ واٸرل کی۔ اس سے قبل بھی یہ مکار شخص ہزارکھولی کے ایک کارپوریٹر کی ممبری رد کروانے کے معاملے میں ڈبل کراس کرچکا ہے۔
آخر میں میں شوشل میڈیا استعمال کرنے والے تمام ہی احباب سے گذراش کرتا ہوں کہ شوشل میڈیا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جس کے مثبت استعمال کریں۔ اگر آپ کسی سیاسی پارٹی سے انسیت رکھتے ہو تو یہ آپ کا حق ہے۔ مگر خدا کے لیۓ اپنے مخالف لیڈر و ورکروں کی کردار کشی نہ کریں۔ نہ ہی کسی کی ذاتیات پر لکھیں کیونکہ ہر چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے اور ہر کوٸی لکھنے کا ہنر بھی جانتا ہے-

جرم

سی آئی ڈی نے ابھیشیک بنرجی سے انتخابات سے قبل تشدد بھڑکانے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی۔

Published

on

کولکتہ: ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی منگل کو کولکتہ کے بھوانی بھون میں مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی ڈی) کے سامنے پیش ہوئے جس میں ان کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات دینے اور اسمبلی انتخابات سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف دھمکیاں دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

یہ رپورٹ لکھے جانے کے وقت، کیس کی تفتیش کرنے والے سی آئی ڈی کے اہلکار تقریباً دو گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔

ابھیشیک بنرجی کو منگل کی دوپہر تک جنوبی کولکتہ کے بھوانی بھون میں سی آئی ڈی ہیڈکوارٹر میں پیش ہونا تھا۔ تاہم، وہ مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے بھوانی بھون پہنچے، داخلی دروازے پر مہمانوں کے رجسٹر پر دستخط کیے، اور پوچھ گچھ کے لیے اندر چلے گئے۔

یہ لگاتار تیسرا دن ہے کہ کسی معاملے کے سلسلے میں تفتیشی ایجنسی نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ پیر کے روز، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے اہلکاروں نے مغربی بنگال میں کروڑوں روپے کے “اسکول-نوکری-کیش” گھوٹالے کے سلسلے میں 11 گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کی۔

اس سے پہلے اتوار کو سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے بنرجی سے سی آئی ڈی کی تفتیش کے سلسلے میں ساڑھے آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ معاملہ ریاستی اسمبلی میں سووندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کرنے والی قرارداد پر ترنمول کانگریس کے اراکین اسمبلی کے جعلی دستخطوں سے متعلق ہے۔ جمع کرائے گئے دستاویزات میں تضاد کی وجہ سے سی آئی ڈی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

اس کے بعد، سی آئی ڈی منگل کو ایک ایسے معاملے میں ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کر رہی ہے جس میں ان پر حالیہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل تشدد بھڑکانے اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو دھمکی دینے کا الزام ہے۔

اس معاملے میں، بنرجی کے خلاف گزشتہ ماہ بیدھا نگر سٹی پولس کے تحت بدھ نگر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سائبر کرائم تھانے کے اہلکار ابتدائی طور پر تفتیش کر رہے تھے لیکن بعد میں 11 جون کو تفتیش سی آئی ڈی کو منتقل کر دی گئی۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پاکستان: پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، دو پولیس اہلکار ہلاک، چھ زخمی

Published

on

پاکستان کے شہر اسلام آباد میں پنجاب-خیبر پختونخواہ سرحد کے قریب واہوا کے علاقے میں پولیس چیک پوسٹ پر پیر کو خودکش حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے۔

پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ حکام کے مطابق، نامعلوم حملہ آوروں نے اتوار کو بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں ایک زبردست دھماکہ ہوا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد صادق بلوچ نے بتایا کہ حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور چھ دیگر شدید زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو اسپتال لے جایا گیا۔

حکام نے بتایا کہ دھماکے سے چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ حملے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ دھماکے سے کئی قریبی مکانوں کی چھتیں اور دیواریں بھی گر گئیں۔ اس کے علاوہ اس حملے میں ایک درجن سے زائد مقامی افراد زخمی بھی ہوئے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ڈی پی او صادق بلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں خودکش حملہ آور بھی مارا گیا اور حملے کی مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

قبل ازیں مقامی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ مسلح حملہ آوروں نے گزشتہ ہفتے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں میں الگ الگ واقعات میں دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار دی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دونوں پولیس اہلکار مارے گئے۔

ایک پولیس کانسٹیبل 12 جون کو ایک اجتماع سے گھر واپس جا رہا تھا جب اس پر بنوں میران شاہ روڈ پر حملہ کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے ان پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ گھر واپس جا رہے تھے۔ پاکستانی اخبار ڈان نے اطلاع دی ہے کہ کانسٹیبل حملے میں شدید زخمی ہوا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

ایک الگ واقعے میں، ایک پولیس کانسٹیبل کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس کے گھر کے باہر گولی مار دی۔ اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

Continue Reading

جرم

ممبئی لوکل ٹرین میں سیٹ پر جھگڑا پرتشدد ہو گیا، نوجوان کو چاقو سے وار کر دیا گیا۔ تین ملزمان گرفتار۔

Published

on

ممبئی، مہاراشٹر میں لوکل ٹرین میں ایک نوجوان پر حملہ کے سلسلے میں جی آر پی نے تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس سے کھوپولی جانے والی ٹرین میں پیش آیا۔

کرجت جی آر پی کے ایک افسر نے بتایا کہ چلتی ممبئی لوکل ٹرین میں سیٹ کو لے کر جھگڑا ہوا۔ ایک نوجوان پر پہلے لوگوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا، اور بعد میں ملزموں نے اسے چاقو سے مارا۔ افسر نے بتایا کہ ٹرین ونگانی ریلوے اسٹیشن سے گزری تھی جب نوجوان اور کچھ دوسرے نوجوان سامان کے ڈبے میں ایک سیٹ پر بحث کرنے لگے۔ یہ جھگڑا جسمانی جھگڑے میں بدل گیا۔

افسر نے بتایا کہ ملزم نے نوجوان کے پیٹ میں چھرا گھونپا۔ اس حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور اس وقت ان کا علاج جاری ہے۔ مقتول کی شناخت ستیش پاٹھک (26) کے طور پر کی گئی ہے جو مسجد بندر، ممبئی کا رہنے والا ہے۔

واقعہ کے بعد کرجت جی آر پی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ملزم کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کو سکین کیا گیا اور لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد جی آر پی نے ابتدائی طور پر دو ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

ملزمان کی شناخت عمران ادریس انصاری (18) اور کرن کنہیا لال اگروال (22) کے طور پر کی گئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ جی آر پی نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔

تاہم اس وقت ایک نوجوان فرار ہو گیا تھا۔ جی آر پی نے تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔ تاہم جی آر پی تیسرے ملزم کو بھی حراست میں لینے میں کامیاب رہی۔ تیسرا ملزم نابالغ ہے اور اسے جوینائل ہوم میں بھیج دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان