Connect with us
Saturday,04-April-2026

جرم

واٹس ایپ کے ذریعے سیاسی دشمنی میں جھوٹا الزام لگا کر بدنام کرنے کے خلاف شکایت

Published

on

(پریس ریلیز)
گذشتہ ماہ سیاسی دشمنی کی بنیاد پر شوشل میڈیا واٹس ایپ پر میرے (اشتیاق احمد 42) کے خلاف جھوٹی پوسٹ بنا کر وائرل کی گئی اور باربار اشتیاق احمد 42 اور کل ھند مجلس اتحادالمسلمین کا نام لے لے کر جھوٹا الزام لگا کر مخالفین مجلس کی جانب سے بدنام کیا جارہا ہے۔ الزام ایسا لگایا جارہا ہے کہ اس پوسٹ کو دیکھنے اور سننے والا بھی اپنے آپ میں شرم محسوس کرے کہ اشتیاق احمد 42 نے کسی چھوٹی سی معصوم لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا مرتکب ہوا۔

جبکہ اس الزام کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ سب سے پہلے اس طرح کی جھوٹی پوسٹ ضیاالرحمن نامی شخص نے 9673791180 اس نمبر سے 18 اگست کو صبح 9.17 منٹ پر ایک گروپ میں واٸرل کی۔ جسکو دوسرے دن 19 اگست کو شفیق باکسر نامی شخص نے مزید مبالغہ آراٸی کے ساتھ 902846 56 86 اس نمبر سے ”لاٸف لاٸن گروپ“ اور ”ماسٹر اسٹروک“ نامی گروپوں میں واٸرل کیا۔ جس کو کچھ کانگریسی ورکروں نے خوب اچھالا اور اپنے گروپ میں اشتیاق احمد 42 کو نقصان پہنچانے سے متعلق پلاننگ کی اور اشتیاق احمد 42 اور اسکے خاندان و کل ھند مجلس اتحادالمسلمین سے متعلق بے عزتی والے جملوں کا اظہار کیا۔ حیرت انگیز طور پر گروپ کے ایڈمنوں نے اپنا فرض نہ نبھاتے ہوٸے ان افراد کو نہ ہی کسی طرح کی تنبیہ کی اور نہ ہی ایسے شرپسند وفسادی عناصر کو اپنے گروپ سے ریمو کیا بلکہ ”ماسٹراسٹروک“ کے ایڈمن نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر نہ صرف بحث میں حصہ لیا بلکہ اشتیاق احمد 42 کو نقصان پہنچانے کی سازش رچنے میں بھی شریک رہا۔ جس کے تمام تر ثبوت شہر بھر سے ہمارے خیرخواہوں نے اسکرین شاٹ کے ذریعے مجھے بتایا۔ کیونکہ کسی مجبوری کی بنیاد پر میرے پاس اینڈرائیڈ موبائیل 3 اگست 2020 سے نہیں ہے اور میں بٹن والا سادہ موبائیل استعمال کررہا ہوں۔ لیکن اسکے باوجود بھی 18 اور 19 اگست کو کچھ افراد سیاسی دشمنی کی بنیاد اس لیۓ کہ اسمبلی 2019 الیکشن میں مجلس اتحادامسلمین کے امیدوار مفتی محمد اسمعیل قاسمی کی کامیابی کے لیۓ میں نے تن من کوشش کی۔ اور شوشل میڈیا پر مجھے پارٹی کی ترجمانی کی ذمہ داری دی گئی جسے میں نے بحسن خوبی ادا کیا۔ اور شہر کی بھلائی کے لیۓ اپنی قلم کا اچھے انداز سے استعمال کیا۔ اور مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب کو اللہ نے کثیر ووٹوں سے کامیابی سے نوازا۔ تب سے لے کر آج تک میرے علاوہ سیاسی دشمنی کی بنیاد پر شہر کے کئی افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اور بنایا جا رہا ہے ۔ جس میں خود مجلس کے ایم ایل اے مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب ، ڈاکٹر خالد پرویز و عبدالمالک صاحبان بھی شامل ہیں۔ جن کو نازیبا القاب سے نوازا جاتا ہے۔ شوشل میڈیا واٹس اپ گروپوں پر یہ ایک مخصوص ٹولہ ہے اس ٹولے کے کئی افراد پر پہلے بھی کئی گناہ پولس اسٹیشنوں داخل ہوچکے ہیں جن میں سے ایک کا گناہ نمبر 144/ 2018 ہے اور وہ کئی کئی دنوں تک وہ لوگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔ لیکن وہ لوگ اپنی اس حرکت سے باز نہیں آٸے اور آج بھی یہ کانگریسی چمچے اور نام نہاد سیکولر پارٹی کے ذہنی غلام کسی کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ اور نازیبا الزامات لگاکر اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور انکی باتوں کا مدلل اور معقول جواب دینے والوں کو فون کرکے دھمکیاں دیں جاتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ اسی طریقے کے واقعات پیش آئے۔ تب دلبرادشتہ ہوکر اپنی عزت نفس کا خیال کرتے ہوۓ میں نے قانونی کاروائی کرتے ہوۓ ایسے افراد کے خلاف سائبر کرائم ناسک سے لے کر پولس کے اعلی حکام تک تمام ثبوتوں کی بنیاد پر کاروائی کرنے کا من بنایا۔ اور پولس کے اعلی حکام کو تمام ثبوت کمپلین کے ساتھ داخل کیا ۔ میرے خلاف جھوٹی پوسٹ چلانے والوں میں
نمبر 1 ضیاالرحمن جاوید احمد 9673791180
نمبر 2 شفیق باکسر 902846 56 86
نمبر 3 ریاض علی یوسف علی 9370596161
نمبر 4 رضوان ثنا 7020507313
نمبر 5 وسیم احمد 7276929271
نمبر 6 ثاقب سعید 9284355955
نمبر 7 کامران شیخ 8623894296
نمبر 8 نوید قریشی 9890332531
ان تمام افراد کے خلاف پولس کے اعلی حکام تک تحریری شکایت مع تمام ثبوت کے روانہ کرتے ہوۓ سخت کاروائی کی مانگ کی گئی۔ کاروائی نہ ہونے کی صورت میں ان افراد کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاۓ گا۔ تاکہ شہر سے ایسے شرپسند افراد جوکہ شوشل میڈیا کے ذریعے شہر کا ماحول خراب کررہے ہیں ان پر قد غن لگایا جاسکے۔ اور شہر کا ماحول پرامن و صاف ستھرا رہ سکے۔
میں عوام کے علم میں اس بات کو بھی لانا چاہتا ہوں کے وہاب شیخ رشید کے ذریعے کیۓ گٸے حملے میں زخمی ہونے کا حوالہ دے کر ضیاالرحمن نے ذوالفقار احمد ذلو سیٹھ۔ عیدی امین بھکو۔ خالد سکندر۔ اور ڈاکٹر خالد پرویز صاحبان سے روپیٶں کا مطالبہ کیا۔ پیدل اور ننگے پیر جاکر اور کھانے اور پٹرول نہ ہونے کی بات کرکے چپل ٹوٹنے کی دہاٸی دے کر یہ شخص مسلسل مجلس کے ذمہ داران سے روپیٶں کا مطالبہ کرتا رہا۔ جس کی میں نے شدید مخالفت کی اور اس سے قطع تعلق کرلیا۔ اسکا مطالبہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ شخص کانگریسیوں کا آلہ کار بن کر بلیک میلنگ کا حربہ اختیار کرنے پر آمادہ ہوگیا اور میرے خلاف ایسی جھوٹی پوسٹ واٸرل کی۔ اس سے قبل بھی یہ مکار شخص ہزارکھولی کے ایک کارپوریٹر کی ممبری رد کروانے کے معاملے میں ڈبل کراس کرچکا ہے۔
آخر میں میں شوشل میڈیا استعمال کرنے والے تمام ہی احباب سے گذراش کرتا ہوں کہ شوشل میڈیا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جس کے مثبت استعمال کریں۔ اگر آپ کسی سیاسی پارٹی سے انسیت رکھتے ہو تو یہ آپ کا حق ہے۔ مگر خدا کے لیۓ اپنے مخالف لیڈر و ورکروں کی کردار کشی نہ کریں۔ نہ ہی کسی کی ذاتیات پر لکھیں کیونکہ ہر چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے اور ہر کوٸی لکھنے کا ہنر بھی جانتا ہے-

جرم

ممبئی اے ٹی ایس نے لکڑی کی اسمگلنگ کیس میں عاقب ناچن اور دو دیگر کو گرفتار کیا۔

Published

on

ممبئی: ممبئی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کھیر کی لکڑی اسمگلنگ کیس میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں عاقب ناچن ولد ثاقب ناچن، داعش سے وابستہ دہشت گرد بھی شامل ہے۔ ممبئی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے بتایا کہ دونوں مشتبہ افراد کو 29 مارچ کو غیر قانونی اسمگلنگ کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان کی شناخت عاقب ناچن اور ساحل چکھلیکر کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں مشتبہ افراد کو خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا اور مزید تفتیش کے لیے 6 اپریل تک اے ٹی ایس کی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ یہ مقدمہ 24 جولائی 2025 کو ممبئی کے اے ٹی ایس کالاچوکی پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی کئی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں چوری، دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش، مشکوک جائیداد کا قبضہ اور دیگر متعلقہ جرائم شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں اسمگلنگ نیٹ ورک کے بارے میں جاری تحقیقات کا حصہ ہیں جو مبینہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد سے منسلک ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس کیس کے دہشت گردی کی فنڈنگ ​​سے تعلق کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عاقب ناچن کے والد ثاقب ناچن پر داعش کے کارندے ہونے کا الزام تھا۔ تاہم ثاقب ناچن کا انتقال ہو چکا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ اس اسمگلنگ ریکیٹ سے کمائی گئی رقم ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے استعمال کی گئی ہو گی۔ ایجنسیاں خیری لکڑی کی اسمگلنگ کیس اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے مشتبہ نیٹ ورکس کے درمیان ممکنہ روابط کی چھان بین کر رہی ہیں، بشمول مالی اور لاجسٹک کنکشن۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران جنگ کے درمیان، ‘گریٹر اسرائیل’ پر کام شروع؟ آئی ڈی ایف نے لبنان پر ‘قبضہ’ کرنے کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی ہے۔

Published

on

Greater Israel

تل ابیب : جہاں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں، وہیں مبینہ طور پر اسرائیل بھی “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ اسرائیل لبنان پر حملہ کر رہا ہے جس کا مقصد ایران کی پراکسی تنظیم حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔ اسرائیل اب حزب اللہ کے خلاف “بفر زون” بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے یہ سوالات اٹھے ہیں کہ آیا اسرائیل نے اپنے “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ “گریٹر اسرائیل” ایک یہودی ریاست کے قیام کا تصور کرتا ہے جو مصر میں دریائے نیل سے عراق میں دریائے فرات تک پھیلی ہوئی ہے، جس میں فلسطین، لبنان اور اردن کے ساتھ ساتھ شام، عراق، مصر اور سعودی عرب کے بڑے حصے شامل ہیں۔ یہ خیال سب سے پہلے 19ویں صدی میں یہودی اسکالر تھیوڈور ہرزل نے پیش کیا تھا، اور یہ عبرانی بائبل میں دی گئی یہودی زمین کی تعریف پر مبنی ہے، جو مصر کی سرحدوں سے لے کر دریائے فرات کے کنارے تک پھیلے ہوئے علاقے کو بیان کرتی ہے۔

مغربی کنارے پر کنٹرول سخت کرنا اور لبنان میں بفر زون بنانے کی کوششوں کو “عظیم تر اسرائیل” سے جوڑا جا رہا ہے۔ بھارت میں، کانگریس کے رہنما جیرام رمیش نے الزام لگایا ہے کہ “مغربی ایشیا میں جاری جنگ اسرائیل کو “عظیم تر اسرائیل” کے خواب کو آگے بڑھانے اور فلسطینی ریاست کی کسی بھی امید کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کور فراہم کر رہی ہے۔ “گریٹر اسرائیل” کا نظریہ بائبل کے وعدوں پر مبنی ہے، لیکن اس پر پہلی بار تھیوڈور ہرزل نے جدید سیاسی تناظر میں بحث کی تھی۔ یہ پیدائش 15:18-21 میں خدا کے وعدے کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں، خدا ابرام سے کہتا ہے، “میں یہ ملک تمہاری اولاد کو دیتا ہوں۔ مصر کے دریا سے لے کر اس عظیم دریا، فرات تک، یہ سرزمین کنیتیوں، کنیتیوں، قدمونیوں، حِتّیوں، فرزّیوں، رفائیوں، اموریوں، کنعانیوں، گرگاشیوں اور یبوسیوں کی ہے۔” گریٹر اسرائیل کے خیال نے 1967 کی جنگ کے دوران اہم کرشن حاصل کیا۔ اس میں چھ عرب ممالک، بنیادی طور پر مصر، شام اور اردن کے ساتھ اسرائیل کی بیک وقت جنگ شامل تھی۔ اس فتح کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی، جزیرہ نما سینائی، مغربی کنارے اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔

اگرچہ اسرائیل کے پاس “عظیم تر اسرائیل” کے قیام کے لیے کوئی سرکاری پالیسی نہیں ہے، لیکن یہ 2022 کے کنیسٹ (پارلیمنٹ) انتخابات کے بعد سے ایک عام خیال بن گیا ہے، جس میں لیکوڈ پارٹی کی قیادت میں ایک اتحاد کو اقتدار حاصل ہوا اور بینجمن نیتن یاہو کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔ 2023 میں، رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے پیرس میں ایک تقریر کے دوران ایک “گریٹر اسرائیل” کا نقشہ دکھایا جس میں اردن اور مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنایا گیا تھا۔

Continue Reading

جرم

ممبئی کے ہوٹل سے بی سی سی آئی کے براڈکاسٹ انجینئر کی لاش برآمد، پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

Published

on

ممبئی: ممبئی کے ٹرائیڈنٹ ہوٹل میں اس وقت کہرام مچ گیا جب آئی پی ایل میچ دیکھنے آئے غیر ملکی مہمان کی لاش اس کے کمرے سے ملی۔ مرنے والے کی شناخت برطانوی شہری یان ولیمز لیگفورڈ کے نام سے ہوئی ہے جو بی سی سی آئی کے براڈکاسٹ انجینئر تھے۔ یان 24 مارچ سے ٹرائیڈنٹ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور آئی پی ایل میچوں کی نشریات سے متعلق کام کے سلسلے میں ممبئی آئے تھے۔ 29 مارچ کو میچ ختم ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں واپس آیا۔ اس کے بعد، جب 30 مارچ کو ہوٹل کے عملے نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ مشکوک، ہوٹل کے عملے نے ماسٹر چابی کا استعمال کرتے ہوئے دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہونے پر انہوں نے یان کو فرش پر پڑا پایا۔ ہوٹل انتظامیہ کو فوری طور پر واقعے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد اسے قریبی اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی میرین ڈرائیو پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور معاملے کی تفتیش شروع کردی۔ پولیس نے حادثاتی موت کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر نہیں ہوا ہے کہ کوئی غیر اخلاقی کھیل یا بیرونی چوٹیں ہیں۔ تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ واقعے کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ہوٹل کے عملے اور متعلقہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد ہوٹل میں مقیم دیگر مہمانوں اور عملے میں تشویش کی فضا ہے۔ فی الحال، پولیس کیس کی ہر زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے، جس سے موت کی وجہ سامنے آسکتی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان