Connect with us
Saturday,12-September-2026
تازہ خبریں

(Tech) ٹیک

چندریان 2 مشن تکنیکی خرابی کے سبب ملتوی : اسرو

Published

on

دو بجکر 51 منٹ سے کچھ منٹ پہلے چندریان 2 مشن جس کو آندھراپردیش کے ضلع نیلور کے سری ہری کوٹہ کے ستیش دھون خلائی مرکز سے چھوڑاجانے والا تھا، ہندوستانی خلائی جانچ تنظیم (اسرو) نے ملتوی کردیا۔اسرو نے اپنے مشن کنٹرول سے اعلان کیاکہ ملک کے دوسرے چاند کے مشن کو ملتوی کردیاگیا ہے۔اس خبر نے وہاں میڈیا گیلری میں موجود صحافیوں میں ہلچل مچادی۔اس میڈیا گیلری میں نہ صرف ملک بلکہ دیگر ممالک کے صحافی بھی موجود تھے تاکہ اس ہائی پروفائل لانچ کا کوریج کیاجاسکے۔اسرو نے اس خصوص میں ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی۔56 منٹ پر خلائی گاڑی میں تکنیکی خرابی محسوس کی گئی۔احتیاطی اقدام کے طورپر اس کوملتوی کردیاگیااور اگلی تاریخ کاجلد اعلان کیاجائے گا۔چند منٹ بعد ہی اسرو کے ترجمان نے یہ اعلان کیا کہ الٹی گنتی کے موقع پر یہ تکنیکی خرابی محسوس کی گئی اور احتیاطی اقدام کے طورپراس کی لانچنگ کو ملتوی کردیاگیا۔نئی تاریخ کا متعاقب اعلان کیاجائے گا۔اس مشن کے التوا سے اسرو کو دھکہ لگا ہے کیونکہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند بھی اس کی لانچنگ کا مشاہدہ کرنے کے لئے سری ہری کوٹہ میں موجود تھے تاہم اسرو نے اس ایک ہزار کروڑ روپئے والے مشن کے سلسلہ میں کوئی بھی جوکھم لینامناسب نہیں سمجھا۔اس چاند کے مشن کے لئے اسرو نے کئی برسوں محنت کی تھی۔آئندہ دنوں کب اس کوچھوڑاجائے گایہ تاریخ معلوم نہ ہوسکی۔ساتھ ہی خلائی گاڑی میں تکنیکی خرابی کی وجہ بھی معلوم نہ ہوسکی۔جاریہ سال اپریل میں اسرائیل کے لونار کرافٹ نے چاند پر کریش لینڈنگ کی تھی۔اس مشن کی ناکامی پر اسرو نے چندریان مشن کو اپریل سے جولائی تک ملتوی کردیاتھا۔اب جبکہ اس کی لانچنگ میں تکنیکی خرابی پیداہوگئی ہے، ملک کو اب چاندمشن کی نئی تاریخ کا انتظار کرنا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق سائیکرو جینک فیول کو لوڈ کرنے کے دوران تکنیکی خرابی محسوس کی گئی۔اس راکٹ کے ایندھن کو پہلے نکالا جائے گا اور اس کی بعد ازاں جانچ کی جائے گی۔اسرو کے ذرائع کے مطابق اس عمل کے لئے دس دن درکار ہوں گے جس کے بعد ہی اس کوچھوڑنے کی نئی تاریخ کے بارے میں فیصلہ کیاجائے گا۔ اس 3.85 ٹن وزنی راکٹ کو اسرو نے فیاٹ بوائے کا نام دیا تھا جسے باہو بلی بھی کہا جارہا تھا۔ وہ چندریان 2 کو زمین کے اطراف اونچے مدار میں داخل کرنے والا تھا۔ بعد میں اس مدار کو اسرو کے سائنسداں ریموٹ کے ذریعہ اپنی کوششوں سے اوراوپر اٹھانے والے تھے۔ آخر کار اسے زمین کے مدار سے نکالا جانے والا تھا اور چاند کے دائرے اثر تک پہنچایا جانے والا تھا۔ پہلی مرتبہ کوئی انسانی ساختہ شئے کو لار کے علاقہ میں سافٹ لینڈنگ کرنے والی تھی۔ یہ مشن چاند کی سطح، پانی کی دستیابی اور اس کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات بتانے والا تھا۔اس مشن کے اندازاً لاگت 978 کروڑ روپئے رہی ہے۔ ہندوستان اس مشن کی تکمیل پر چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا چوتھا ملک ہونے والا تھا تاہم اس مشن کو ملتوی کردیاگیا۔ چندریان مشن کو کے ساتھ چھوڑنے کے بعداس کو چاند کے جنوب قطب پر پہنچنے کے لئے دو ماہ درکارہونے والے تھے تاہم اس کو چھوڑنے کے اس مشن کو ملتوی کردیاگیا۔ چندریان 2اسرو کے لئےایک باوقار پروجیکٹ ہے۔اس سٹلائٹ کو چھوڑنے سے ہماراٹکنالوجی سسٹم مستحکم ہونے والاتھا۔اس مشن کے مکمل فائدے حاصل کرنے کے لئے دو ماہ درکار ہونے والے تھے۔اس کو اب نئی تاریخ کو چھوڑے جانے کے بعد اس مشن کے ذریعہ چاند کے جنوب قطب کے علاقہ کی تفصیلات معلوم ہوسکیں گی کیونکہ اس علاقہ کے بارے میں کسی نے بھی دریافت نہیں کیا ہے۔ یہ پروجیکٹ اسرو کے لئے اہم ترین اور باوقار پروجیکٹ تھا۔اس مشن کوچاند کی سطح پر پہلا قدم رکھنے والے نیل آرم اسٹرانگ کی یوم پیدائش سے چند دن پہلے ملتوی کیاگیا ہے۔سائنسدانوں کی ٹیم اب اس بات کا پتہ چلائے گی کہ اس کی لانچنگ کی الٹی گنتی کے دوران کیا گڑبڑ ہوئی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(Tech) ٹیک

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہندوستانی دفاعی صنعت کو تمام روایتی میزائل سسٹم کی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی منظوری دے دی ہے۔

Published

on

Rajnath-Singh

نئی دہلی : ہندوستان کو دفاعی شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے مرکزی حکومت نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈی آر ڈی او (ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن) کے تیار کردہ تمام روایتی میزائل سسٹمز کے لیے ٹیکنالوجی کی ہندوستانی صنعتوں کو منتقلی کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قابل ہندوستانی کمپنیاں ملک کے اندر یہ میزائل سسٹم تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔ اس اقدام سے ہندوستانی مسلح افواج کی جنگی تیاریوں کو فائدہ پہنچے گا اور مطلوبہ میزائلوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزارت دفاع کے اس فیصلے کو ہندوستان کے میزائل مینوفیکچرنگ سیکٹر کے تحقیق سے پیداوار تک کے سفر کو تیز کرنے میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ہندوستانی کمپنیوں کو جدید میزائل سسٹم تیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو ریگولیٹری اصولوں کے مطابق ہو۔ ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر حکومت نہ صرف خود انحصاری کو فروغ دے رہی ہے بلکہ ملک کے دفاعی شعبے کو بھی تقویت دے رہی ہے اور پیداواری صلاحیت کو بھی بہتر بنا رہی ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈی آر ڈی او کی طرف سے تیار کردہ تمام روایتی میزائل سسٹمز کی ٹیکنالوجی کو ہندوستانی دفاعی صنعت کو منتقل کرنے کی منظوری دی ہے، جس سے ان کی گھریلو پیداوار کو قابل بنایا جا سکے گا۔ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کا مطلب نہ صرف ملکی سطح پر ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی ہے بلکہ ملک کے اندر ان کی پیداوار اور سپلائی چین کو بھی تیار کرنا ہے۔ توقع ہے کہ میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، غیر ملکی انحصار کو کم کرنے اور ہندوستانی دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستانی صنعت ڈی آر ڈی او کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل تیار کر سکے گی۔

درحقیقت، اب تک، ڈی آر ڈی او نے جدید میزائل سسٹم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ نئے انتظام کے تحت، ڈی آر ڈی او کی طرف سے تیار کردہ ٹیکنالوجی کو ہندوستانی صنعتوں کو منتقل کیا جائے گا جو مقررہ قابلیت، سرٹیفیکیشن اور ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔ اس سے میزائل سسٹم کو ان کی ترقی اور جانچ کے بعد صنعتی پیداوار میں تبدیل کرنے کے عمل میں آسانی ہوگی۔ یعنی، آسان الفاظ میں، ڈی آر ڈی او ٹیکنالوجی کو تیار کرے گا اور ہندوستانی صنعت اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر پیداوار میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اس فیصلے کا ایک اہم ترین پہلو ہندوستانی دفاعی صنعت میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی شرکت کو بڑھانا ہے۔ میزائل مینوفیکچرنگ کے لیے پوری سپلائی چین میں وسیع پیمانے پر آلات، اجزاء، الیکٹرانک سسٹم، مواد اور دیگر تکنیکی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہندوستانی مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں یعنی ایم ایس ایم ای کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت کا مقصد دفاعی پیداوار کے لیے ایک مضبوط گھریلو صنعتی بنیاد بنانا ہے، جس میں بڑی کمپنیوں کے ساتھ ایم ایس ایم ای اور دیگر تکنیکی شراکت دار کلیدی کردار ادا کریں۔

یہ اقدام اہم ہے کیونکہ ہندوستان اپنی دفاعی پیداوار کو بڑھا رہا ہے اور خود کو جدید فوجی نظاموں کی تیاری کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر قائم کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ ڈی آر ڈی او کے کردار کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ تنظیم جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور ترقی پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکے گی، جبکہ صنعت کے ذریعے ثابت شدہ ٹیکنالوجیز کو پیداواری سطح تک لے جایا جائے گا۔ اس سے نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے اور اسے فوج کے لیے دستیاب کرنے کے درمیان وقت کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

Continue Reading

(Tech) ٹیک

وزیر اعظم مودی کی 20 خلائی اسٹارٹ اپس سے بات چیت، بھارت کو عالمی خلائی ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے پر زور

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو یہاں سیوا تیرتھ میں 20 ہندوستانی خلائی اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز اور بانیوں کے ساتھ بات چیت کی، جس میں ملک کی نجی خلائی صنعت کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اجاگر کیا اور ہندوستان کو خلائی ٹیکنالوجی کے عالمی مرکز کے طور پر پوزیشن دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون پر زور دیا۔ اس بات چیت نے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپس کے رہنماؤں کو اکٹھا کیا، بشمول راکٹ اور دوبارہ قابل استعمال سیمی کریوجینک لانچ وہیکل ڈیولپمنٹ، ایویونکس، سیٹلائٹس، جدید پروپلشن سسٹم، خلائی اور دفاعی ذہانت، خلائی ملبہ ہٹانا، اور اے آئی سے چلنے والے ہائپر لوکل موسم اور موسمیاتی انٹیلی جنس۔

اسٹارٹ اپ کے بانیوں نے ہندوستان کے نجی خلائی شعبے کی جانب سے کی گئی تیز رفتار ترقی کو اجاگر کیا اور اس کے مستقبل کے لیے اپنے وژن کا اشتراک کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنیوں نے مقامی طور پر صلاحیتوں اور ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے میں اہم وقت اور محنت کی ہے، جبکہ وزیر اعظم اور حکومت کی طرف سے دی جانے والی حمایت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ صنعت کے رہنماؤں نے حکومتی تعاون اور کمپنیوں کے درمیان تعاون کے ذریعے بنائے جانے والے مضبوط ماحولیاتی نظام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیمیں خلائی شعبے میں مہتواکانکشی اہداف کے حصول کے لیے انتہائی حوصلہ افزائی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

بانیوں نے یاد دلایا کہ خلائی شعبے کو نجی شراکت کے لیے کھولنے کے فیصلے نے اہم جوش و جذبہ پیدا کیا اور ہندوستانی صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اب کئی کمپنیاں ابھرتی ہوئی نجی خلائی صنعت کی طرف سے تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ خلائی شعبے کے لیڈروں کو ان کی ہمت اور پہل کے لیے مبارکباد دیتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ نجی کمپنیوں کے ذریعے دکھائے گئے اعتماد نے اس شعبے کو نجی شراکت کے لیے کھولنے کے وژن کو مضبوط کیا ہے۔

وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ بہت سے ممالک کے پاس یا تو خلائی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے وسائل کی کمی ہے یا وہ ایسی سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے جس سے ہندوستان کے لیے عالمی خلائی صنعت میں تیزی سے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا ایک بڑا موقع پیدا ہو رہا ہے۔پی ایم مودی نے خلائی کمپنیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی ٹیکنالوجیز کی نئی ایپلی کیشنز تلاش کریں اور ایسے حل تیار کرنے پر توجہ مرکوز کریں جو لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنا سکیں۔ وزیر اعظم نے خلائی اسٹارٹ اپس اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے درمیان زیادہ تعاون پر زور دیا۔

پی ایم مودی نے مشورہ دیا کہ خلائی ملبے پر کام کرنے والی کمپنیاں ماحولیاتی تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دے سکتی ہیں۔ اسی طرح، زراعت میں کام کرنے والی خلائی ٹیکنالوجی کمپنیاں زرعی یونیورسٹیوں اور سرکاری محکموں کے ساتھ شراکت داری کر سکتی ہیں تاکہ کسانوں کو بہتر باخبر فیصلے کرنے اور پیداوار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

Continue Reading

(Tech) ٹیک

گوگل نے ہندوستانی کالج کے طلباء کے لیے ایک سال کا مفت اے آئی پلس پلان شروع کیا۔

Published

on

امریکہ میں مقیم ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ہندوستان میں کالج کے اہل طلباء کے لیے اپنے ‘اے آئی پلس ‘ پلان کے لیے ایک سال کی مفت سبسکرپشن کا اعلان کیا ہے جو کہ بہتر مصنوعی ذہانت کے آلات تک رسائی اور سیکھنے میں مدد کے لیے استعمال کی اعلیٰ حدیں فراہم کرتا ہے۔ اپنی تازہ ترین بلاگ پوسٹ میں، ٹیک کمپنی نے کہا کہ پیشکش کے تحت اہل طلباء کو جیمنی اومنی تک رسائی حاصل ہو گی، غیر اے آئی سبسکرائبرز کے لیے دگنی استعمال کی حد، 400 جی بی سٹوریج اور دیگر خصوصیات ایک سال کے لیے بغیر کسی قیمت کے۔

یہ طلباء کو گوگل اے آئی پرو اور یوٹیوب پریمیم کا رعایتی بنڈل بھی پیش کر رہا ہے، جو اشتہارات سے پاک موسیقی اور ویڈیو سٹریمنگ کے خواہاں افراد کے لیے 70 فیصد تک کی بچت کے ساتھ۔ طلباء کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ، کمپنی جیمنی اور گوگل سرچ میں سیکھنے کے نئے اور بہتر ٹولز متعارف کروا رہی ہے۔ کمپنی نے مزید بتایا کہ طلباء کو ان کے ڈیزائن یا ڈیزائن تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ جیمنی کے سیکھنے کے اوزار۔

اس کے علاوہ، ایک نئی اسٹڈی نوٹ بک فیچر تشخیصی کوئزز کا استعمال کرتے ہوئے طالب علموں کی طاقتوں اور علمی خلاء کی شناخت کے لیے ذاتی نوعیت کی سیکھنے میں معاونت فراہم کرے گی۔ اس کے بعد یہ انفرادی سیکھنے کے اہداف کے مطابق کاٹنے کے سائز کے مطالعہ کے منصوبے تیار کرے گا، کمپنی نے کہا۔ ٹیک فرم جیمنی لائیو کو بھی وسعت دے رہی ہے تاکہ طالب علموں کو آواز پر مبنی گفتگو کے ذریعے ڈیپ ریسرچ رپورٹس کی درخواست کرنے اور ان پر تبادلہ خیال کرنے کی اجازت دی جا سکے۔

اس کے علاوہ، گوگل سرچ میں نئی ​​خصوصیات طلباء کو پیچیدہ تصورات کو سمجھنے کے لیے انٹرایکٹو ویژول تیار کرنے، معیاری ٹیسٹ سمیت تمام مضامین میں پریکٹس کوئز لینے، اور گوگل لینس کا استعمال کرتے ہوئے مرحلہ وار تصورات سیکھنے کی اجازت دیں گی۔ اس کے علاوہ، طلباء نوٹ بک کا استعمال کرتے ہوئے تعلیمی پروجیکٹس کو منظم کرنے اور اپنی پڑھائی کو ہموار کرنے کے لیے حسب ضرورت فائلیں بنانے کے قابل ہوں گے۔ گوگل نے کہا کہ تلاش، جیمنی اور یوٹیوب پر اس کے تعلیمی ٹولز حفاظت کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں اور اساتذہ کو آگے رکھتے ہوئے ذاتی نوعیت کی تعلیم کو سپورٹ کرنے کے مقصد کے ساتھ سیکھنے کی سائنس پر مبنی ہیں۔

مزید برآں، طالب علم کی پیشکش 140 سے زیادہ مارکیٹوں میں دستیاب ہے جہاں گوگل اے آئی پرو کو کچھ اخراج کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور ہندوستان میں اہل طلباء تصدیق اور قابل اطلاق شرائط کے ساتھ 31 دسمبر 2026 تک پیشکش کو بھن سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان