(جنرل (عام
شیو بھوجن تھالی جون آخر تک اب صرف پانچ روپئے میں، مزدور طبقہ کو بڑی راحت ملنے کا امکان
(محمد یوسف رانا)
کرونا وائرس سے ہونے والی تباہی کی صورت میں ، ریاست میں غریبوں ، مزدوروں، کسانوں، مزدوروں اور طلباء کو کھانا مہیا کرنے کے لئے شیو بھوجن منصوبے کو وسیع کرتے ہوئے تعلقہ سطح پر کیا جارہا ہے- وزیر اغذیہ چھگن بھجبل کے مطابق نے کہا کہ روزآنہ صبح۸ بجے سے دوپہر ۳ بجے تک ۱ ؍ لاکھ شیو بھوجن تھالی تقسیم کرنے کے فیصلے سے ضرورت مندوں کو بڑی راحت ملے گی۔ اس اہم فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لئے، ہر ضلع میں دی جانے والی شیو بھوجن تھالی کی تعداد میں پانچ گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت شہری علاقوں کے لئے فی پلیٹ ۴۵ ؍ روپے اور دیہی علاقوں کے لئے ۳۰ ؍روپے فی تھالی ادا کرے گی۔ اس کے لئے حکومت نے۱۶۰ ؍ کروڑ روپیہ فراہم کیا ہے۔اس فیصلے کی وجہ سے ایسے بے روگار مزدوروں کو بڑی راحت ملے گی۔ مذکورہ اسکیم جون مہینہ تک لاگو رہے گی ۔مرکزی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے۱۴ ؍اپریل تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے غیر منظم مزدوروں، دسوری ریاستوں سے آئے لوگ ، ہاسٹل میں رہنے والے طلباء، سڑک پر موجود غریب، بے گھر افراد وغیرہ کو اس اسکیم سے راحت پہنچے گی۔ ضلع کلکٹر اور محکمہ اغذیہ کو اس ضمن میں ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ تعلقہ سطح پر نئے شیو بھوجن مراکز جلد سے جلد شروع کریں۔ اس فیصلے کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے جو لوگ اپنے کھانے کا انتظام نہیں کر سکتے ایسے لوگوں کے لئے یہ اسکیم کافی فائدہ مند ہے۔ اس کی تشہیر کے لئے ضلع میں انتظامیہ اور پولیسکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ صارفین کو ہاتھ دھونے کے لئے صابن مہیا کرنا، شیو بھوجن مرکز کی روزآنہ جراثیم کش اشیاء سے صفائی، گاہک کو ایک پیکنگ میں کھانا مہیا کرنا، کھانا تیار کرنے سے پہلے کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا، مرکز کے تمام برتنوں کو جراثیم کش کرنا، کھانے کی تیاری اور تقسیم کرنے والوں کو بار بار ہاتھ دھونا، مرکز میں تمام عملہ کا ماسک پہننا،اسی طرح گراہکوں کے درمیان کم از کم تین فٹ کا فاصلہ رکھنا ضروری ہوگا-
(جنرل (عام
سپریم کورٹ کا بھوج شالہ تنازعہ پر بڑا حکم، نماز جمعہ کے لیے درگاہ کی زمین دینے کی ہدایت

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جمعرات کو مدھیہ پردیش کے دھار میں متنازع بھوج شالا-کمل مولا کمپلیکس میں ایک اہم عبوری حکم جاری کیا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ کمپلیکس سے متصل درگاہ اراضی (کھسرا نمبر 596) پر مسلم کمیونٹی کے لیے نماز جمعہ کے انتظامات کرے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ مسلم کمیونٹی ہر جمعہ کو دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک اس جگہ پر نماز ادا کر سکے گی اور ریاستی حکومت ضروری انتظامات کو یقینی بنائے گی۔ رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے نوٹ کیا کہ کھسرا نمبر 596، جس کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ زمین درگاہ کی ہے، متنازعہ کمپلیکس کے بہت قریب ہے اور اس تک رسائی کی علیحدہ سڑک ہے۔ عدالت نے اسے نماز کے لیے موزوں جگہ سمجھا اور مدھیہ پردیش حکومت کو فوری طور پر ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت دی۔ یہ حکم مسلم فریق کی درخواست پر آیا ہے جس میں پہلے سے متفقہ متبادل جگہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
مسلم فریق نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ کی طرف سے قبل ازیں نماز کے لیے جو جگہ مختص کی گئی تھی وہ بھوج شالہ کمپلیکس سے تقریباً ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر دور تھی، جس سے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کا مقصد ختم ہو گیا۔ سماعت کے دوران سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے دلیل دی کہ انتظامیہ کی جانب سے تجویز کردہ نئے آپشنز بھی متنازعہ کمپلیکس سے بہت دور ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے کمپلیکس سے متصل درگاہ کی اراضی کو مناسب متبادل کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے نیا حکم جاری کیا۔ یہ معاملہ فی الحال اپیلوں کے ذریعے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جس میں مسلم فریق نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 15 مئی 2026 کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ اپنے فیصلے میں، ہائی کورٹ نے بھوج شالا-کمل مولا کمپلیکس کو دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندر کے طور پر تسلیم کیا اور 2003 کے اے ایس آئی کے حکم کو بھی پلٹ دیا جس میں مسلم کمیونٹی کو کمپلیکس میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت تھی۔ سپریم کورٹ نے فی الحال ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے، لیکن عبوری اقدام کے طور پر کسی دوسرے مقام پر نماز پڑھنے کی اجازت دے دی ہے۔
تنازعہ 2022 میں ایک عرضی دائر کرنے کے بعد شدت اختیار کر گیا، جس میں ہندو فریق نے یادگار کی مذہبی نوعیت کے سائنسی سروے کا مطالبہ کیا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے یہ سروے کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ موجودہ ڈھانچہ پہلے سے موجود مندروں کی باقیات کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا، اور یہ کہ مسجد بعد میں بنائی گئی تھی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے بھوج شالا کو سرسوتی مندر کے طور پر تسلیم کیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف ایک عبوری انتظام ہے، اور کیس کی حتمی سماعت ابھی باقی ہے۔ عدالت نے اے ایس آئی کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر متنازعہ یادگار میں کوئی ساختی تبدیلیاں نہ کرے۔ اب تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ اس تاریخی اور حساس تنازعہ پر اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شہر و مضافاتی علاقوں سے الیکٹرک موٹر سائیکل چوری کرنے والا گروہ بے نقاب، دو ملزمین گرفتار، ۱۱ موٹر سائیکلیں برآمد

ممبئی اندھیری ایم آئی ڈی سی پولس اسٹیشن نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو الیکٹرک موٹر سائیکل اور اسکوٹی چوری کیا کرتا تھا اس گروہ کے دو افراد کو پولس نے گرفتار کر کے ممبئی شہر میں اسکوٹی اور موٹر سائیکل چوری کرنے والے گینگ کو بے نقاب کردیا ہے ان کے قبضے سے شہر و مضافات سے چوری شدہ الیکٹرک موٹر سائیکل بھی برآمد کی ہے کہ ۱۱ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہے ۔ ۲۰ جولائی کو دوپہر ۱۲ بجے شکایت کنندہ ویبھو گپتا کی موٹر سائیکل چوری ہو گئی تھی اس کی شکایت پر پولس نے معاملہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی اور ۴۰ سے ۵۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ملزم کی شناخت ہوئی جس کے بعد اسے زیر حراست لیا گیا اور پھر بعد میں اس نے انکشاف کیا کہ اس کے ساتھ دوسرا ملزم بھی تھا اس کے بعد پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے ان کی شناخت محسن اکبر شیخ ۲۵ سالہ جوگیشوری کا ساکن اور عرفات حافظ شیخ ۲۲ کرلا کپاڈیہ نگر کا ساکن کے طور پر ہوئی ہے ملزمین نے ممبئی سینٹر، چاندیولی، چرنی روڈ، دادر، واکولہ، اندھیری ورلی اور متعدد مقامات پر چوری کی واردات انجام دی تھیں ان کے قبضے سے ۱۱ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں جبکہ ایم آئی ڈی سی میں ان پر دو کیس درج کئے گئے ہیں اور دو موٹر سائیکل بھی برآمد ہوئی ہے بقیہ ۹ موٹر سائیکل دیگر کیس میں ہے یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : فرضی لیٹر ایڈ کا استعمال کر کے ٹکٹ کنفرم کرنے والے ۶ اراکین گرفتار، لیٹر ایڈ مہریں اور موبائل فون سمیت دیگر دستاویزات ضبط

ممبئی : ممبئی میں وی آئی پی کوٹے سے ٹکٹ کنفرم کرنے والے گروہ کو ممبئی پولس نے بے نقاب کیا ہے ملبار ہل پولس کو ریلوے انتظامیہ سے شکایت موصول ہوئی کہ لوک بھون دفتر کے نام پر فرضی لیٹر ایڈ سفارشی خط تیار کر کے اس پر مہر اور دستخط ثبت کرنے کے بعد اسے ریلوے ٹکٹ کنفرم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور وی آئی پی کوٹے سے ٹکٹ کی کالا بازاری کی جارہی ہے, جس پر پولس نے تفتیش کی اور معاملہ درج کر لیا اور فرضی لیٹر ایڈ اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کے بعد اس ریکیٹ میں ملوث ۶ ملزمین کو گرفتار کیا گیا ان کی شناخت امریش ایشور لال ٹھکر۴۱ سالہ، طارق محفوظ خان ۳۳ سالہ، دیپک کمار کنہیا لال یادو ۲۷ سالہ، ونائک وکرم سنگھ راؤت ۲۴ سالہ ساگر ایشور لال ٹھاکر ۳۲ سالہ میتھونجے کمار یادو ۳۴ سالہ کے طور پر ہوئی ہے ان کے قبضے سے ۱۲ موبائل فون ایک لیپ ٹاپ، ۱۶ سم کارڈ، ۷۰ کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ ۴۰۰ سے زائد وی آئی پی ریلوے بکنگ کا ڈیٹا بیس پانچ آدھار کارڈ، ۲ ربر اسٹامپ مہریں برآمد کی گئی ہے. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی راگسودھا نے انجام دی ہے اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام12 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
