جرم
ٹاورکی تعمیرکے نام پرمدن پورہ کی عیسی سمنارچال کے مکینوں سے بلڈرعبدالکریم کی دھوکہ دہی

جعلسازی اور بدعنوانی تو اب جیسے حضرت انسان کے خون کے ساتھ گردش کر رہی ہیں. جہاں ہر طرف رشوت کا بازار گرم ہے، وہیں ٹھگی اور جعلسازی کے معاملات سر اٹھائے کھڑے ہیں. جنوبی ممبئی میں مدن پورہ جو کہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے. اس علاقے کی بات کی جائے، تو انگریزی دور حکومت میں بھی اس علاقے کی آن بان شان قائم تھی۔ کہتے ہیں کہ خلافت ہاؤس کا پہلا جلوس جس میں مہاتما گاندھی نے شرکت کی تھی۔ جب وہ جلوس مدن پورہ سے گزرا، تو یہاں کی عوام نے بڑے ہی پرتپاک انداز میں اس جلوس کا استقبال کیا تھا۔
یہاں کے عوام چال میں چھوٹے چھوٹے کمرے میں رہ کر اپنی زندگی سے جدوجہد کرتے تھے۔ انگریزی دور میں بنائی گئی یہ چال آج بھی مدن پورہ میں موجود ہے۔ ان میں سے کچھ چال تو ۱۲۰ سال پرانی ہے۔ اور بیشتر چال از سر ٹو تعمیر (پاور) کے نام پر صفحہ ستی سے مٹا دی گئی۔ عروس البلاد میں اپنا آشیانہ بنانا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے. ایک چھوٹے سے جھونپڑے کی قیمت بھی یہاں لاکھوں میں ہے. ایسے میں ایک ایسی ہی چال کو ۲۰۰۸ میں ایک بلڈر عبدالکریم نے ازسر ٹو تعمیر کے نام پر ڈھا دیا۔ بلڈر نے وہاں کے مکینوں کو ہتھیلی پر چاند دکھایا. اپنے آشیانے کا خواب آنکھوں میں سجائے چال کے مکینوں نے چال خالی کر کے بلڈر کو سونپ دی. مگر ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا.
آج ۲۰۲۱ء میں بھی وہ خواب خواب ہی ہے۔ دراصل تقریباً ۲۰ سالوں سے مدن پورہ کی قدیم عمارت کے بدلے جدید بلڈنگ بنانے کا کام شروع ہوا تھا۔ اور بہت سی چالوں کو توڑ کر ٹارو بھی بتائے گئے ہیں، مگر بچارے عیسی سمار چال کے مکینوں کے ساتھ دھوکہ ہوگیا. اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کا سوچ کر اپنے آباء و اجداد کے گھروں کو چھوڑنے راضی ہوگئے. اس طویل عرصے میں ان میں سے بیشتر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ بلڈر نے اپنی سست رفتاری کا مظاہرہ کیا کہ جو بچے تھے، وہ اب جوان ہو چکے تھے۔
دراصل عبدالکریم نے یہاں کے مکینوں کے ساتھ جعلسازی کی۔ نہ وقت پر کرایہ ادا کیا اور نہ ہی اپنے قول فعل کے مطابق بلڈنگ تعمیر کی سالوں گزر گئے، تب کہیں جا کر بلڈنگ کا کام شروع ہوا۔ جب فلیٹس کی بکنگ شروع ہوئی۔ بلڈر صاحب نے اپنے ایمان اور تمام قاعدے قانون کو بالائے طاق رکھ کر ایک فلیٹ دو یا اس سے مزید افراد کو فروخت کیا، تو کہیں ایسا بھی ہوا کہ ایک فلیٹ کا رجسٹریشن دو لوگوں کے نام پر ہوا۔ حد تو تب ہوگئی، جب .B.M.C میں دیا گیا نقشہ ہی بدل دیا گیا، اور مکین اس بات سے لاعلم رہے۔ اب دس سال گزر چکے تھے۔ کرایہ مل رہا تھا۔ اور نہ ہی فلیٹ اب لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ ۲۰۱۷ میں نیاز احمد انصاری (نجو بھائی) نے ہمت کر کے مکینوں کو جمع کیا، ان سے پیسے جمع کر کے نجو بھائی کی کاوش سے پرائیوٹ انجیر کو مقرر کر کے لفٹ لگوائی گئی۔ لائٹ کا کنیکشن جوڑا گیا۔ پانی کی لائن لائی گئی۔ اور بیشتر مکینوں نے جو صرف چار دیواری بلڈر نے بنائی تھی، جسے لوگوں نے اپنے ذاتی خرچ سے لاکھوں روپے خرچ کر کے فلیٹ کی شکل دی۔ اب معاملہ یہی ختم نہیں ہوا۔ ایسے بہت سے حضرات اب بھی موجود ہیں، جنھیں نہ تو گھر ملا ہے، اور نہ ہی گھر کے بدلے رقم۔ عبدالکریم اور اس کے دوست ظفر دونوں نے عوام کی گاڑھی کمائی کو پانی کی طرح بہا کر برباد کر دیے۔ اور لوگوں کو صرف جھوٹے دلاسے اور تسلی دیتے رہے۔ بہت سے لوگوں کو پارکنگ میں فلیٹ دے دیا گیا۔ پارکنگ کی جگہ بیچ دی گئی۔ سات منزلہ پارکنگ میں پہلے منزلے سے ہی بلڈر نے گودام کی شکل میں جگہ فروخت کرنا شروع کر دی۔ پرانے مکینوں کو پانجویں منزل پر فلیٹ دے دیا گیا، کسی کو اوپر کا فلیٹ بول کر نیچے کا فلیٹ دے دیا گیا، تو کسی کو آج تک صرف تسلی مل رہی ہے۔
نیاز احمد انصاری (نجو بھائی) نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے والدین نے ہمیں ایک لیگل گھر دیا تھا، مگر ہم ہمارے بچوں کو غیر قانونی گھر دینے پر مجبور ہیں. کیونکہ بلڈر نے کسی کو پارکنگ ایریا میں فلیٹ دیا، تو کسی کو رفیوجی ایریا میں جو کہ سراسر غیر قانونی ہے۔ انھوں نے اور بھی خلاصہ کیا کہ نلڈنگ میں پائی لائٹ بھی غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہے۔ لوگوں کی مجبوری تھی کہ وہ مزید کرائے سے نہیں رہ سکتے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا ک عبدالکریم بلڈر کے علاوہ اس کے دو اور پارٹنر تھے، اتم پروہت اور منوج پروہت. یہ دونوں پاٹنر عبدالکریم بلڈر کے فائنانسر تھے، جنہیں بعد میں عبدالکریم نے دھوکہ دیا، اور جو فلیٹس ان حضرات کے نام تھے، جیسا معاہدہ لوگوں کے درمیان ہوا تھا۔ عبدالکریم نے ان حضرات (فائنانسر) کے فلیٹ بھی ان کے علم میں لائے بغیر دیے۔ اور جب لوگوں نے اپنے پیسے کا تقاضہ کیا تو عبدالکریم نے ہاتھ اٹھا دیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ منوج پروہت اور اتم پروہت نے کورٹ کی مدد سے بلڈنگ کے 24 فلیٹس کو سیل کروا دیا اور پہ شرط رکھی، کہ جب تک ہماری قم ہمیں نہیں ملتی، ہم کورٹ کیس واپس نہیں لیں گے، اور فلیٹس ایسے ہی سیل رہیں گے۔ اب وہ ۲۳ فیمیلی جنھوں نے موٹی رقم دے کر فلیٹس خریدا تھا، اور اسے سجایا تھا، ان کے سروں پر سے چھت غائب تھی۔ وہ سبب ایک عجیب سے کرب میں مبتلا تھے۔ اب تو عبدالکریم سامنے آ رہا تھا اور نہ ہی اس کا ساتھی ظفر نہ ہی کسی کا فون ریسیو ہو رہا تھا۔ بڑی مشکل سے عبدالکریم نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ ان کا گھر جلد ہی کورٹ کے ذریعے آزاد کرا لیا جائے گا۔
عبدالکریم نے نیا پانسہ پھینکا اور ڈونگری کے رہنے والے فراز مستری اور ان کے بھائی سے رابطہ کر کے یہ کہا کہ آپ لوگ یہ بلڈنگ کے مالکانا حق حاصل کر سکتے ہیں، اگر آپ لوگ منوج اور اتم کے پیسے ادا کرو تو، یہ بلڈنگ آپ کی ملکیت ہوگی۔ آپ لوگ اسکو مزید ڈیولپ بھی کر سکتے ہو، اور آٹھ ماہ قبل فراز مستری جو کہ ایک بزنسں مین بھی ہے۔ اس نے بلڈنگ کے مالکانہ حق حاصل کر لیے۔ اور عبدالکریم کے پرانے فنائنسر کا پہیہ ادا کر دیا۔ اب کہانی میں نیا موڑ آ گیا۔
فراز اینڈ کمپنی نے بلڈنگ میں آتے ہی بڑے بڑے وعدے اور دعوت شروع کروادی. خود فراز مستری نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے B.M.C کے (ای) وارڈ میں شکایت کر کے بلڈنگ کے کئی غیر قانونی فلیٹس کو تڑوا دیا، کہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل جائے۔ پھر شروع ہوا وصولی کا دھندہ، لوگوں کو ڈرایا کہ تمہارا فلیٹ بھی توڑ دیا جائے گا، یہ فلیٹ بھی غیر قانونی ہے۔ لہذا آپ لوگ ۵ لاکھ فی فلیٹ کے حساب سے مجھے ادا کریں تاکہ میں .B.M.C آفیسروں سے اس معاملے کو آگے بڑھنے سے روک سکوں۔ مزید دشواری نہ ہوئی کہ پوری بلڈنگ کو کلر کرنے کے نام پر ڈھانک دیا گیا. 5 ماہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی خاص کام نہیں ہوا۔ صرف وعدے اور دلاسے کا دوسرا دور بھی جاری ہے. فراز مستری نے باونسرس کے ذریعے بھی لوگوں کو ہراساں کرنا شروع کیا۔ اور اپنے اثر رسوخ اور پیسے کا بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لوگوں سے کہا گیا کہ : Stamp Duty کے پیسے ادا کرو. کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے Stamp Duty کا رجسٹریشن، آج تک نہیں ہوا۔ لوگ اسی طرح پریشان ہیں، اور خوفزدہ بھی۔
بلڈنگ کے چوتھے اور پانچویں منزلے پر فراز مستری نے مکمل طور پر اپنا قبضہ جما دیا ہے۔ اور پارکنگ کی جگہ پر فلیٹ بنوا کر لوگوں کو خود فروخت کرنا چاہتا ہے۔ مزید یہ بھی کوشش کی گئی کہ ٹیرس پر دو فلیٹ اور بنا کر اسے بھی بیچ دیا جائے، جس کی مزمت اجمل ہائٹس کی سوسائٹی نے کی، اور قانونی چارہ جوئی کا بھی سہارا لیا، مگر اب بھی دور تک کہیں خوش آئندہ مستقبل لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ہے۔ یہ وہی مثل ہے کہ دیکھیں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ فراز مستری نے ٹاور کے لوگوں کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہیں، (Purchese یہ Tenants) تاکہ وہ جو چاہے کرتا پھرے۔ اور لوگ آپس میں لڑتے رہیں. نجو بھائی نے مزید بتایا کہ بلڈنگ کا ازسر نو تعمیر کے لیے .R. M. K ریالٹی کمپنی سے معاہدہ ہوا تھا۔ اس نے مقامی حضرات کے ساتھ دھوکہ کیا۔ آج بھی 6 فلیٹس پرانے مقامی لوگوں کو نہیں ملے ہیں، جس میں 6 فیملی ہے۔ ایک جونی مسجد کا روم ہے، اور ایک پنچو تعزیہ کا روم ہے۔ بلڈر عبدالکریم اینڈ کمپنی .M.R.K ریالٹی نے GYM کے ساتھ ریڈنگ روم، میت کو غسل دینے کی جگہ اور بڑے پیمانے پر بلڈنگ میں جدید کاری کے خواب لوگوں کو دکھائے تھے، جو آج بھی خواب ہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ .G.S.T کے نام پر Purcheser حضرات سے 5 سے 6 لاکھ روپے لیے گئے، جب کے .M.R.K ریالٹی کا اپنا .G.S.T اکاونٹ ہے ہی نہیں. وہ لیتے وقت .G.S.T کے نام پر پیسے وصولے ہیں، اور دیتے وقت کہتے ہیں کیسی .G.S.T.
یہی وجہ ہے کہ آج تک لفٹ کمپنی کا 7 لاکھ .G.S.T بقایا ہے، اب وہ 4 فیمیلی مسجد کا فلیٹ اور پنچا تعزیہ کا روم کون دے گا؟ کب دے گا؟ کہاں سے دے گا؟ یہ سوال آج بھی سوال ہی ہے۔ فراز مستری نے ہاتھ اٹھا دیا ہیں۔ تو یہ 6 فلیٹس کون دے گا.
بین الاقوامی خبریں
اسرائیلی فوج کا غزہ میں بڑا فوجی آپریشن، آئی ڈی ایف کے حملے میں 50 فلسطینی ہلاک، نیتن یاہو نے بتایا موراگ راہداری منصوبے کے بارے میں

تل ابیب : اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل غزہ میں ایک طویل اور وسیع مہم کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج دو متوازی کارروائیاں شروع کرنے جا رہی ہے۔ ایک شمالی غزہ میں اور دوسرا وسطی غزہ میں۔ اس تازہ ترین مہم کا مقصد پورے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں حماس کا اثر کم ہے۔ دوسرا علاقہ وہ ہے جہاں حماس کے دہشت گردوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیلی فوج غزہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے جا رہی ہے۔
دریں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایک نیا سکیورٹی کوریڈور قائم کر رہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے اسے موراگ کوریڈور کا نام دیا۔ راہداری کا نام رفح اور خان یونس کے درمیان واقع یہودی بستی کے نام پر رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور دونوں جنوبی شہروں کے درمیان تعمیر کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں “بڑے علاقوں” پر قبضہ کرنے کے مقصد سے اپنے فوجی آپریشن کو بڑھا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
اسرائیل غزہ کی پٹی میں ‘بڑے علاقوں’ پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا رہا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ دریں اثنا، غزہ کی پٹی میں حکام نے بتایا کہ منگل کی رات اور بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً ایک درجن بچوں سمیت کم از کم 50 فلسطینی مارے گئے۔ کاٹز نے بدھ کے روز ایک تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی آپریشن کو “عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو کچلنے” اور “فلسطینی سرزمین کے بڑے حصوں کو ضم کرنے اور انہیں اسرائیل کے سیکیورٹی علاقوں سے جوڑنے کے لیے بڑھا رہا ہے۔”
اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں کے ساتھ سرحد پر اپنی حفاظتی باڑ کے پار غزہ میں ایک “بفر زون” کو طویل عرصے سے برقرار رکھا ہوا ہے اور 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس میں وسیع پیمانے پر توسیع کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بفر زون اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جب کہ فلسطینی اسے زمینی الحاق کی مشق کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے چھوٹے خطے کو مزید سکڑنا پڑے گا۔ غزہ کی پٹی کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے۔ کاٹز نے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ فوجی آپریشن میں توسیع کے دوران غزہ کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے جنوبی شہر رفح اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کاٹز نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں سے ‘حماس کو نکالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے’ کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا، ‘جنگ ختم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔’ اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 59 اسرائیلی یرغمال ہیں جن میں سے 24 کے زندہ ہونے کا اندازہ ہے۔ شدت پسند گروپ نے جنگ بندی معاہدے اور دیگر معاہدوں کے تحت متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کیا ہے۔
جرم
پونے : لڑکی میوری ڈانگڈے نے اپنے دولہے ساگر جے سنگھ کدم پر حملہ کیا، شادی سے پہلے دولہے کو مارنے کا دیا ٹھیکہ

پونے : اہلیہ نگر کی ایک لڑکی کی شادی 12 مارچ کو طے ہے۔ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ لڑکے کے گھر والوں نے اسے روک دیا۔ پھر دونوں کی منگنی ہوگئی اور پری ویڈنگ شوٹ بھی خوبصورت جگہوں پر ہوا۔ اب شادی کی تیاریاں زوروں پر ہونے لگیں۔ اس دوران دولہا پر جان سے مارنے کے ارادے سے حملہ کیا گیا۔ اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ معاملہ پولیس تک پہنچا اور جو انکشاف ہوا سب کو چونکا دیا۔ ہونے والے دولہے پر اس کی ہونے والی دلہن نے حملہ کیا۔ اس نے نوجوان کو مارنے کے لیے حملے کا حکم دیا تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گیا۔ اس سازش میں لڑکی کا 40 سالہ بوائے فرینڈ بھی شامل تھا۔
پولیس نے بتایا کہ دلہن کا نام میوری ڈانگڈے (20) ہے۔ اس کی شادی ساگر جے سنگھ کدم کے ساتھ طے ہوئی تھی۔ وہ بنیر میں ایک فاسٹ فوڈ کی دکان میں باورچی کے طور پر کام کرتا ہے۔ 27 فروری کو ساگر نے لڑکی کو کھمگاؤں گاؤں کے قریب اس کے رشتہ دار کے گھر چھوڑ دیا۔ ساگر پر اسی راستے سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے ساگر کو بری طرح مارا۔ اسے شدید چوٹیں آئیں اور اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ساگر کدم نے یکم مارچ کو یاوت پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں اس نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے ایک نے دوسرے لوگوں سے اس کی ٹانگیں توڑنے کو کہا تاکہ وہ شادی میں شرکت نہ کرسکے۔ ساگر نے یہ بھی کہا کہ انہیں 21 اور 22 فروری کو ایک نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہوئیں۔
پولیس نے ابتدائی طور پر تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 118 (جان بوجھ کر شدید چوٹ پہنچانا)، 351 (مجرمانہ دھمکی) اور 352 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا اور تحقیقات شروع کی۔ یاوتمال پولیس کی ایک ٹیم نے 28 مارچ کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی جانچ کی مدد سے حملہ آوروں میں سے ایک کا سراغ لگایا۔ یاوت پولیس کے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر مہیش مانے نے بتایا کہ گرفتار نوجوان (19 سال) لڑکی کا کزن ہے۔ اس نے ساری سازش بتائی اور چار اور لوگوں کے نام بتائے۔ جس میں لڑکی کا عاشق (40 سال) بھی شامل ہے، جو اہلیہ نگر کے شری گونڈہ میں ایک گیراج کا مالک ہے۔ اسے دو دن کے اندر حراست میں لے لیا گیا۔ خاتون (23 سال) ابھی تک مفرور ہے۔
مانے نے کہا کہ لڑکی اور قدم نے 21 فروری کو ساسواڑ کے قریب شادی سے پہلے کا فوٹو شوٹ کروایا تھا۔ لڑکی نے قدم سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بتائے کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن کدم نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اور اس کے عاشق نے قدم کو ختم کرنے کی سازش رچی۔ اہلکار نے بتایا کہ قدم کی منگیتر نے 27 فروری کو ان سے رابطہ کیا اور پونے میں فلم دیکھنے کے لیے اس کے ساتھ جانے کو کہا۔ نوجوان نے موٹر سائیکل پر یاوت کے قریب کھامگاؤں میں اپنے رشتہ دار کے گھر اٹھایا اور پونے میں فلم دیکھی۔ اس نے اسے شام 7.30 بجے کے قریب کھامگاؤں میں واپس چھوڑ دیا۔
جب قدم پونے واپس آ رہے تھے تو ایک کار میں سوار چار آدمیوں نے اسے زبردستی روکا۔ انہوں نے اسے لاٹھیوں سے مارا اور پھر دھمکی دی کہ اگر اس نے عورت سے شادی کی تو وہ اسے جان سے مار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ خاتون اور اس کے عاشق نے ضلع اہلیانگر کے تین مردوں کو نوکری پر رکھا تھا۔ خاتون کا کزن بھی ساتھ تھا۔ خاتون اور اس کے عاشق نے اسے 1.25 لاکھ روپے ایڈوانس دیے تھے۔
جرم
بابا صدیق قتل کیس : این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا

ممبئی : مرحوم این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا ہے، اور التجا کی ہے کہ انہیں اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس کا خاندان ملزم کے فعل کا حتمی شکار ہے۔ چونکہ عدالت نے ابھی مقدمے کی سماعت شروع کرنا ہے، بابا کی اہلیہ شہزین نے جمعہ کو اپنے وکیل تروین کمار کرنانی کے ذریعے ایک درخواست جمع کرائی ہے، جس میں اسے مقدمے کی سماعت کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس نے استدعا کی کہ ملزمان نے مقتول کا پہلے سے منصوبہ بند اور سوچے سمجھے طریقے سے سرد خون، بہیمانہ قتل کیا ہے۔ شہزین نے اپنی درخواست میں کہا، “اسے ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اور یہ کہ مداخلت کرنے والے کے لیے سچے اور درست حقائق کو ریکارڈ پر رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ اس عدالت کو معاملے میں آزادانہ اور منصفانہ نتیجے پر پہنچنے میں مدد ملے،” شہزین نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ کئی اہم پہلو ہیں جن کے لیے مناسب وزن کی ضرورت ہے۔
درخواست میں متاثرہ کے سننے کے حق پر زور دیا گیا ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے متعدد درخواستوں میں رکھا ہے۔ “یہ خیال کیا گیا ہے کہ متاثرہ فرد جرم کا حقیقی طور پر شکار ہوا ہے۔ جرم کی روک تھام اور سزا دینے کے لئے فوجداری انصاف کی فراہمی کے اخلاق کو شکار کی طرف سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ متاثرین کے سننے اور مجرمانہ کارروائی میں حصہ لینے کے حقوق کے حوالے سے فقہ مثبت طور پر تیار ہونا شروع ہوئی ہے”۔66 سالہ صدیق کو 12 اکتوبر 2014 کو باندرہ میں ان کے بیٹے ذیشان صدیق کے دفتر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔ بشنوئی کے گینگ کے مبینہ طور پر تین حملہ آوروں نے اس کار پر فائرنگ کی جہاں بابا دفتر سے نکلنے کے لیے بیٹھا تھا۔ جیسے ہی وہ کار میں آیا، ملزم نے اس پر گولی چلا دی، جس سے اس کے گارڈز کو رد عمل کا اظہار کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملی۔ تاہم حملہ آور فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔
پولیس اب تک قتل کے الزام میں 26 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ ممبئی پولیس نے دسمبر میں این سی پی لیڈر کے قتل میں ملوث 26 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ قتل کا حکم بشنوئی نے دیا تھا، جو اس گروہ کا سربراہ ہے۔اپنی چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ گینگ کے ارکان بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے خلاف نفرت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ، صدیق اداکار کے بہت قریب تھا، اور اس کے علاوہ، گینگ دہشت گردی اور بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا. صدیق کے قتل کی سازش کے پیچھے یہی بنیادی محرکات تھے۔
-
سیاست6 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا