Connect with us
Friday,19-June-2026

(جنرل (عام

بلاسودی مائیکروفائنانس سوسائٹی استحصال اور بدعنوانی کو لگام دینے میں کامیاب ہوگی : ڈاکٹر بابو رائو گورو

Published

on

دیہو/پونے: سنت تکارام کی برسی(جسے مراٹھی میں بیج سماروہ کہتے ہیں) کے موقع پر انکے گاتھا مندر کے قریب ابھنگ منگل کاریالیہ میں بلا سود ی نظام معیشت پر ورکشاپ ہوا۔ یہ ورکشاپ شعبہ مائیکرو فائنانس جماعت اسلامی مہاراشٹرا کی جانب سے رکھا گیا ہے۔ سنت تکارام پندرھویں صدی کے مشہور صاحب دیوان شاعر اور سماجی جہت کار ہیں، مہاراشٹر میں انکے عقیدتمند وں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ یہ عقیدت مند’وارکری‘ اور ’ماڑاکری‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ سنت تکارام نے سودخوری اور ساہوکاری نظام کے خلاف بہت سی نظمیں لکھی ہیں، سنت تکارام کے والد خود ساہوکار تھے اور لوگوں کو سود پر پیسہ دیا کرتے تھے، لیکن سنت تکارام نے اپنے والد کے تمام بہی کھاتوں کو اندرائنی ندی میں دریا برد کرکے سود خوری کے خلاف خود اپنے ہی گھر سے جنگ شروع کی تھی۔
ورکشاپ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو ڈاکٹر بابو رائو گورو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا بلاسودی معیشت استحصال اور عدل کے درمیان ایک جنگ ہے۔ انہوں نے کہا اسلام کا نظام معیشت ایسا شعلہ ہے جو ہر استحصال کا خاتمہ کردے گا اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں سود کی گنجائش بالکل نہیں ہے کیوں سود غریب کو اور غریب و پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ ڈاکٹر بابو رائو نے جماعت اسلامی کے ذمہ داروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا اسے دیگر جگہوں پر بھی قائم کریں اور عوام میں اس کی مقبولیت کو عام کرنے کیلئے مراٹھی میں کتابچہ شائع کریں جو بلاسودی مائیکرو فائنانس کے فوائد سے انہیں روشناس کرائے۔ انہوں نے کہااسے مہاراشٹر کے طول وارض میں وسعت دینے کی ضرورت ہے- بلاسودی مائکروفائنانس صحرا میں نخلستان کا احساس کراتا ہے جس سے عام انسان سود کی نحوست سے بچ کر اپنی معاشی بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کرسکتا ہے۔ بابو رائو نے ایسی کم از کم ایک سوسائٹی کی مہاراشٹر کے ہر ضلع میں ضرورت پر زور دیا۔ اسکے کیلئے انہوں اپنی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ڈاکٹر بابو رائو کو یقین ہے کہ اس طرح کی بلاسودی مائیکروفائنانس سوسائٹی استحصال اور بدعنوانی کو لگام دینے میں کامیاب ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا اس سے آپ غریب اور پسماندہ لوگوں کی دعائیں لیں گے۔ آپ نے عوام کے سامنے عملی نمونہ اور اسلام کا بہترین نظام معیشت پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر بابو رائو گورو نے اسلامک فائنانس،اسلامک سوشیولوجی، اسلامک سائیکلوجی کو یونیورسٹیوں کے نصاب شامل کرنے کی بھی وکالت کی کیوں کہ ان کے مطابق اس سے معاشرہ میں مثبت تبدیلی رونما ہوگی ۔
آج کے حالات میں دیہو گائوں کے لوگ چاہتے ہیں کہ انکے گائوں میں بھی بلاسودی کوآپریٹیو سوسائٹی قائم کی جائے اسی مقصد کے تحت ایچ بی پی دیانیشور چودھری (شیلار ماما پرتیشٹھان دیہو) اور اشٹیوینائیک متر منڈل کے انیکیت پردیپ کاڑوکھے کے تعاون سے جماعت اسلامی مہاراشٹرا کے شعبہ مائیکروفائنس نے یک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں مہاراشٹر بھر میں جاری کو آپریٹیو سوسائٹیوں کی سرگرمیاں پیش کی گئیں۔ اس پروگرام میں وارکری سماج کے مرد و خواتین شریک ہوئے۔ اسکے علاوہ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمدسلیم، جماعت اسلامی مہاراشٹرا کے امیر حلقہ رضوان الرحمٰن خان، سابق امیر حلقہ انجینئر توفیق اسلم خان، معاون امیر حلقہ ضمیر قادری، اظہر علی وارثی وغیرہ شامل تھے، ورکشاپ کا تعارف اور غرض و غایت ڈاکٹر رفیق پارنیرکر نے پیش کیا۔ شیخ اشرف سیکریٹری جماعت اسلامی شعبہ مائیکرو فائنانس نے بلاسودی سوسائٹی کی ابتداء کس طرح ہوئی اسکی تفصیلات پیش کیں۔ واضح ہو کہ جماعت اسلامی مہاراشٹر کی جانب سے دس زائد غیر سودی کو آپریٹیو سوسائٹی قائم ہیں جن سے ہزاروں غربا اور چھوٹے تاجر مستفید ہورہے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

شندے کے کام پر عوامی نمائندوں کا اعتماد بلند، ادھو ٹھاکرے کے اراکین پارلیمان کو ان کی قیادت پر اعتماد نہیں تھا : ملند دیورا

Published

on

شیو سینا کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ملند دیورا نے ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی میٹنگ میں کئی ممبران پارلیمنٹ کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت ہی اس کا جواب دے سکتی ہے کہ یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کی پارٹی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو اراکین اجلاس غیر حاضر تھے ان میں اپنی پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا فقدان ہے۔

دیورا نے کہا کہ آج عوام اور عوامی نمائندوں کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے کام اور قیادت پر بھروسہ ہے۔ ایکناتھ شندے صاحب ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں جو شندے صاحب کی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔سنجے راؤت کو نشانہ بناتے ہوئے ملند دیورا نے کہا کہ انہیں پارلیمانی روایات اور قواعد کا علم نہیں ہے۔ یو بی ٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ کس قسم کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں اور وہپ کے قواعد کیا ہے ۔ وہپ کے معاملے پر دیورا نے کہا کہ وہپ صرف ایوان میں ووٹنگ کے لیے جاری کیا جاتا ہے، کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت کے لیے نہیں۔ یہ پارلیمانی قاعدہ ہے اور جو لوگ برسوں سے رکن ہیں انہیں اس کا علم ہونا چاہیے۔ملند دیورا نے مزید کہا کہ سنجے راوت کبھی اپنے ہی ممبران پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں، کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام ممبران پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان کے ممبران پارلیمنٹ کو پیسے دیے گئے، اور کبھی ممبران پارلیمنٹ پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اس کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔سنجے راوت نے اپنے ہی ایم پیز کی توہین کی۔ اس طرح کے رویے کے ساتھ، کون اس کے ساتھ کام کرنا چاہے گا؟انہوں نے کہا کہ کسی بھی رہنما کا یو بی ٹی کی قیادت پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ عوامی نمائندے چاہتے ہیں کہ ان کا لیڈر انہیں دستیاب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لیڈر اب بھی ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ شیوسینا ہر اس شخص کا خیر مقدم کرتی ہے جو اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو مضبوط کرنا ہے۔آخر میں، دیورا نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ میں ان کی خیر خواہی ہی کرسکتا ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے سلسلے میں معاہدہ و مفاہمت پر دستخط

Published

on

ممبئی ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کاتصور اس کی تاریخی خوبصورتی کو زندہ کرنا ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میونسپل کارپوریشن اس قلعے کا تحفظ کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان آج (18 جون 2026)ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے کام کے سلسلے میں ایک مفاہمت معاہدہ پر دستخط کیے گئے ہیں، جسے ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ لاس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی، محکمہ کسٹم کے پرنسپل کمشنر جناب اجے کمار پانڈے، محکمہ کسٹم کے ایڈیشنل کمشنر نتن تاگڑے، وکرم پھڑکے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائکواڑ، ڈپٹی کمشنر (جنوبی زون)پرشانت گائیکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (جنوبی زون) پرشانت گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر یوگیش دیسائی، قدیم ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری، ویرماتا جیجا بائی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر کے کے سانگلے وغیرہ موجود تھے

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی ہدایت کے مطابق ممبئی میں قدیم ڈھانچوں کا تحفظ اور تحفظ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ کے تحفظ اور احیاء کی پہل کی ہے۔ اس معاہدہ نامے کے تحت قلعہ ماہم کے خستہ حال ڈھانچے کو مضبوط اور دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ قلعہ کے علاقے میں موجود تاریخی کنویں کی تلاش اور کھدائی کی جائے گی۔ قلعہ کے اندرونی چاروں طرف پیدل چلنے کا راستہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ قلعہ کی بنیاد کی حفاظت کے لیے حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے لیے 20 کروڑ روپے بھی مختص کئے گئے ۔میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈپارٹمنٹ نے ماہم قلعہ پر سے تجاوزات کو ہٹا کر مقیم مقامی باشندوں کی بازآبادکاری کی ہے۔ لہٰذا اب اس قلعے کی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی جائے گی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ پر جو ایک تاریخی اور قدیم ورثہ ہے، پر تجاوزات کو ہٹانے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اب انتظامیہ اس قلعے کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

کسٹم ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل کمشنراجے کمار پانڈے نے کہا کہ ایک تاریخی ورثہ ہونے کے علاوہ ماہم قلعہ کو محکمہ کسٹم کے کسٹم اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے شروع کیا گیا تحفظ اور بحالی کا کام اس قلعے کو مشہور کرے گا۔ نیز، یہ قلعہ ممبئی والوں کے لیے ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی کرے گا۔ماہم ایک قدیم قلعہ ہے اور راجہ بیمب دیو کی اولاد نے 12ویں اور 13ویں صدی کے آس پاس یہ قلعہ تعمیر کیا تھا۔ ممبئی کے سات جزیروں میں سے ماہم طاقت کا مرکزی مرکز تھا اور یہ قلعہ اسی شاندار تاریخ کی علامت ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے 1975 میں قلعہ ماہم کو ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا تھا۔ قلعہ کا کل رقبہ تقریباً 3 ہزار 796.02 مربع میٹر ہے۔ فی الحال یہ قلعہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ قلعہ ماہم کے موجودہ ڈھانچے پر کچی آبادیوں کی شکل میں تجاوزات تھیں۔ پورے علاقے کا سروے کرنے کے بعد، درست دستاویزات کی تصدیق کی گئی اور 275 کچی آبادیوں کو کرلا اور ملاڈ میں پروجیکٹ متاثرین کے لیے دستیاب فلیٹوں میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں ایک مذہبی ڈھانچے کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ قلعہ کی بحالی اور تحفظ کا کام ممبئی میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈویژن آفس، کسٹم ڈپارٹمنٹ، قدیم ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری اور ویرماتا کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سانگل کے جیجا بائی کی رہنمائی میں کرنے کی تجویز ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں آپریشن ٹائیگر باغی اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے : ابوعاصم اعظمی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر میں شیوسینا کے جاری آپریشن ٹائیگر پر بات کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی ممبئی/مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “آج کے عوامی نمائندے، لیڈر، اور کارکن اب نظریے پر نہیں چلتے، وہ لالچی ہو گئے ہیں۔ جو لوگ عوام کا ووٹ لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے پارٹیاں بدلتے ہی ان کےعہدہ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ ابوعاصم اعظمی نے مزید کہا کہ اگر کوئی پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑتا ہے تو اسے پارٹی کا جھنڈا، بینر، نشان اور رقم فراہم کی جاتی ہے۔ کارکنان اپنے امیدوار کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ نمائندے پارٹی کے نظریے کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں، اور لوگ اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں ، اس لیے وہ انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ تاہم فتح کے بعد وہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہیں ۔ ایسا قانون بنایا جائے کہ اگر کوئی امیدوار فتحیابی کے بعد دوسری پارٹی میں شامل ہو جائے تو اس کا عہدہ کالعدم قراردیا جائے ۔ بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو لالچ دینے، ڈرانے دھمکانےاور اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے طاقت کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ شامل نہیں ہوتے ہیں تو انہیں کیجریوال اور سنجے سنگھ کی طرح جیل بھیج دیا جاتا ہے، لیکن وہ بے قصور ثابت ہوئے تھے۔بی جے پی دیگرپارٹی میں شگاف پیداکرنے کےلئے کوشاں ہوگئی ہے اس لئے مسلسل کئی پارٹیوں کے دو حصے ہوگئے ہیں ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان