Connect with us
Wednesday,18-March-2026
تازہ خبریں

سیاست

اگلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اقتدار میں نہیں آ سکے گی : سنجے سنگھ

Published

on

Sanjay Singh

عام آدمی پارٹی (آپ) کے راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ سال 2022 میں ہونے والے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو دوبارہ اقتدار کی واپسی کا خواب صرف خواب ہی رہے گا۔

ریاست میں جس طرح کی صورتحال ہے اس سے ایسا نہیں لگتا کہ بی جے پی ایک بار پھر واپسی کر پائے گی۔ سنجے سنگھ یہاں پارٹی کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی 8 جولائی سے 8 اگست تک یوپی میں ایک کروڑ کارکنان کو جوڑے گی۔ دہلی کا کیجریوال ماڈل ترقی کا ماڈل ہے۔ اسی نعرے کے ساتھ یوپی جوڑو مہم کے تحت اترپردیش میں بھی کیجریوال ماڈل نافذ کیا جائے گا۔ مفت بجلی، محلہ کلینک کے ذریعے لوگوں کو علاج کی مفت سہولیات، خواتین کا بس سفر مفت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اترپردیش کے انتخابات پانچ مدعوں پر لڑے جائیں گے۔ سب کو مفت تعلیم، سب کو مفت طبی سہولیات، سب کو مفت بجلی کی فراہمی، کسانوں کی فصلوں کو مناسب قیمت دلوانا، نوجوانوں کو روزگار اور بے روزگاری بھتہ دستیاب کرانا پارٹی کی ترجیحات ہوں گی۔

اترپردیش کے تمام اضلاع میں شروع ہوئے یوپی جوڑو ممبر شپ مہم کے پیش نظر عوام میں کافی جوش و خروش ہے۔ بنیادی معاملات پر سیاست کرنے والی عام آدمی پارٹی کو یوپی میں عوام کی بے پناہ حمایت حاصل ہے۔ پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کی پالیسیوں اور ان کے ترقیاتی ماڈل سے یہاں کی عوام کافی متاثر ہے، دیگر سیاسی جماعتوں کے کئی بڑے رہنما پارٹی سے رابطے میں ہیں، جو جلد ہی پارٹی کی رکنیت حاصل کریں گے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا : ہندو سکل سماج کارکن اور خوانچہ فروشوں میں تصادم، بی ایم سی آپریشن کے دوران مار پیٹ، دو مشتبہ افراد حراست میں، پولیس الرٹ

Published

on

street-vendor-police

ممبئی : ممبئی کے کرلا علاقہ میں گزشتہ شب بی ایم سی عملہ کے ہمراہ ایک ہندو سکل سماج کے رضا کار پر حملہ کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کرلا پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر معاملہ درج کر لیا ہے. اس معاملہ میں پولیس نے دو افراد کو زیر حراست بھی لیا ہے پولیس نے بتایا کہ گزشتہ شب 7 بجکر 41 منٹ پر کرلا آکاش گلی میں بی ایم سی کی کارروائی جارہی تھی اور اس رضا کار نے اس غیر قانونی خوانچہ فروش کی شکایت کی تھی, جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا فی الوقت حالات پرامن ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے۔

کرلا میں خوانچہ فروشوں کے خلاف بی ایم سی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی جاری ہے ایسے میں ہندوسکل سماج اور خوانچہ فروشوں میں تصادم کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش بھی شروع ہوگئی ہے جبکہ پولیس نے اس سے انکار کیا ہے آج بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے متاثرہ اکشے کی بھابھا اسپتال میں جاکر عیادت کی اتنا ہی نہیں اس معاملہ میں کی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا ہے انہوں نے پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کریٹ سومیا نے شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوانچہ فروش مسلم بنگلہ دیشیوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا, اتنا ہی نہیں انہوں نے کہا کہ کرلا اسٹیشن پر پولیس اور بی ایم سی کے سازباز و ملی بھگت کے سبب پھیری والوں ہاکروں خوانچہ فروشوں پر کارروائی میں تال مل کیا جاتا ہے, یہی وجہ ہے کہ یہاں ہاکرس کی غنڈہ گردی بڑھ گئی ہے. ایک ماہ قبل ہی خوانچہ فروشوں نے مل کر نوجوانوں پر حملہ کر دیا ان کے سر پر چوٹ آئی تھی. اس کے ساتھ ہی بھانڈوپ میں بی ایم سی افسران و اہلکاروں ور لوکھنڈوالا میں بھی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے. انہوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی میں مسلم بنگلہ دیشی ہاکروں کے سبب اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. اس لئے مسلم بنگلہ دیشی خوانچہ فروشوں پر سخت کارروائی ہو, انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشیوں اور پھیری والوں کے خلاف ان کی مہم جاری رہے گی۔ کریٹ سومیا نے کہا کہ اکشے اپنی بہن کے ساتھ کرلا اسٹیشن کی جانب جارہا تھا کہ اچانک پھیری والوں سے اس کی حجت ہوئی اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا, کرلا میں اس واقعہ کے بعد پولیس نے الرٹ جاری کردیا ہے. ساتھ ہی آکاش گلی میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کرلا پولیس اسٹیشن کے سنیئر انسپکٹر وکاس مہمکر نے کہا کہ آکاش گلی میں مارپیٹ کے واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کر دی ہے, حالات پرامن ہے اور سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس الرٹ ہوگئی ہے, جبکہ کشیدگی کے بعد صورتحال پرامن ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونہ لب جھیل : مسلم نوجوانوں پر تشدد، حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی ہو، ابوعاصم اعظمی کا خاطیوں پر کیس درج کرنے کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : پونہ سسورڈ لب جھیل میں مسلم نوجوانوں پر افطار کے دوران مسلح سو سے دو سو حملہ آوروں کا حملہ انتہائی تشویشناک ہے اس حملہ کے بعد پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں پر زور مطالبہ کیا ہے کہ خاطیوں شرپسندوں پر سخت کارروائی کی جائے اور ان پر اقدام قتل کا کیس درج ہو, کیونکہ ان مسلم نوجوانوں پر ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا, اس کے باوجود پولیس نے معمولی دفعات میں کیس درج کیا ہے, جو سراسر غلط ہے. آج حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں, اگر کوئی باہر نماز ادا کرتا ہے تو اس پر حملہ کیا جاتا ہے ماضی میں مسجد کے باہر ہندو عورتیں اپنے بچوں کو لے کر کھڑا ہوجایا کرتی تھی کہ نمازی سے اپنے بچوں کیلئے دعا کروائیں اور وہ بچے کے سر پر پھونک مارتے تھے, لیکن اب نماز پڑھنے پر واویلا مچایا جاتا ہے. اس کے ساتھ ہی تشدد کیا جاتا ہے انہو ں نے کہا کہ شیواجی مہاراج کے اصولوں پر ریاست کا کام کاج چلے گا یہ دعوی کیا جاتا ہے, لیکن آج حالات کچھ اس طرح سے کہ منہ میں رام بگل میں چھری والا معاملہ ہوگیا ہے. انہوں نے کہا کہ یہ غنڈہ گردی بند ہونی چاہئے اور میں یہاں اسمبلی میں ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے تو میں کہاں نماز ادا کروں گا. اسی طرح سے اگر کوئی کھیت میں ہے تو وہاں نماز ادا کرتا ہے جو جس جگہ ہے وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے, لیکن آج حالات کچھ اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کی عبادت پر اعتراضات کئے جاتے ہیں جو سراسر غلط ہے, اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور جو کوئی ماحول خراب کرتا ہے, اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں شدت! سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امریکہ کو حملے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

Published

on

Trump-Saudi

تہران : امریکا اور اسرائیل کے شدید حملوں کے درمیان ایران نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو سخت نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو پناہ دینے والے کچھ خلیجی ممالک خفیہ طور پر امریکہ کو ایرانی شہریوں کے قتل کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سعودی عرب کا حوالہ دے رہے تھے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ان خبروں پر وضاحت کا مطالبہ کیا کہ شہزادہ ایم بی ایس نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ایران پر شدید حملے جاری رکھیں۔ سعودی عرب ایک سنی ملک ہے اور ایران شیعہ ملک ہے۔ دونوں کی دہائیوں پرانی دشمنی ہے۔ اس جنگ سے پہلے چین نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو پروان چڑھایا تھا لیکن اب کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی میڈیا کی رپورٹ پر ردعمل ظاہر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی شہزادے نے نجی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران پر حملے جاری رکھیں۔ سعودی عرب ان حملوں کی کھلے عام مخالفت کر رہا ہے۔ عباس اراغچی نے ایکس پر کہا کہ اس معاملے پر پوزیشن فوری طور پر واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں 200 بچوں سمیت سینکڑوں ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل ایران کے حال ہی میں قتل ہونے والے طاقتور رہنما علی لاریجانی نے بھی خلیجی ممالک کی مسلم آبادی سے اپیل کی تھی کہ وہ جنگ میں اپنے فریق کی نشاندہی کریں اور بتائیں کہ کوئی اسلامی ملک ایرانی عوام کے ساتھ کیوں نہیں کھڑا ہے۔ خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے علی لاریجانی نے سوال کیا کہ آپ کے ملک میں موجود امریکی فوجی اڈے ہم پر حملے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور ہم صرف خالی بیٹھے ہیں؟ واضح رہے کہ ایران نے متعدد بار سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور تیل کی اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جس سے کافی نقصان پہنچا ہے۔ پیر اور منگل کو ایران نے بحرین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات پر اپنے حملے تیز کر دیے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ سب سے بڑا حملہ بتایا جاتا ہے۔ ایران نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو ان ممالک کے لیے بند کرنا جاری رکھے گا جو جارحین کی حمایت کرتے ہیں اور دشمن ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کور (آئی سی آر جی) ملک پر اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔ محسن رضائی، جنہیں حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر مقرر کیا گیا ہے، اس کے پیچھے سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ابتدائی تنازع کے بعد سعودی شہزادے نے اس سے دوستی کرنا دانشمندی سمجھا۔ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ خطے میں امن ملکی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بعد، چین نے 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی راہ ہموار ہوئی۔ سعودی عرب نے ویژن 2030 پر کام تیز کر دیا ہے۔حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے۔ ایران نے راس تنورہ میں سعودی عرب کی بڑی آئل ریفائنری پر حملہ کیا۔ ان ایرانی حملوں نے سعودی عرب کے ویژن 2030 کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ سعودی عرب غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا، لیکن ایرانی حملوں نے ریاض کی کوششوں کو ناکام بنا دیا، شہزادہ ایم بی ایس کو مشتعل کر دیا۔ سعودی عرب نے سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اگر جنگ جاری رہی تو سعودی عرب کے لیے ان منصوبوں کو جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اب پاکستان میں پناہ مانگ رہا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ عاصم منیر اور شہباز شریف دونوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان