Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

سیاست

بی جے پی اب تک شکست کو ہضم نہیں کر سکی اس لئے حکومت گرانے کی باتیں کرتی ہے: شرد پوار

Published

on

pawar

( محمد یوسف رانا)
مہاراشٹر میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا عدم استحکام محض ایک افواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی میں شامل دوست پارٹیاں آپس میں متحد ہو کرریاست میں کرونا کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہی ہیں۔ ریاست میں چونکہ کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جوکہ تشویش ناک صورتحال بنی ہوئی ہے لیکن اس پر جلد ہی قابو پالینے میں مہاراشٹر سرکار کامیاب ہو جائے گی۔ شرد پوار نے دیئے گئے ایک انٹرویو دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کی بطور وزیر اعلی کو کامیاب ترین کہتے ہوئے تعریف کی۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا نام لئے بغیر کہا کہ اگھاڑی میں رنجش کی باتیں بی جے پی کے ایک لیڈر کی جانب سے آئی ہیں اور اسے ہوا دینے کا م میڈیا کے چندلوگوں نے کیا۔
شرد پوار نے مزید کہا کہ سب سے بڑی پارٹی ہو کر بھی اقتدار سے دور رہنے والی بی جے پی ابھی تک شکست کی شرمندگی سے دوچار ہے اس پر طرہ امتیاز یہ کہ اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت بنانے کی غیرآئینی، غیر قانونی اور ناکام کوشش کی وجہ سے گہرا دھچکا لگا ہے۔ بی جے پی کو چاہئے کہ وہ سچائی کو قبول کرتے ہوئے کرونا کے خلاف جاری جنگ میں حکومت کا ساتھ دیں۔ کرونا کا قہر نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں جاری ہے۔ ملک کے تمام صوبے اس سے لڑ رہے ہیں۔ مہا وکاس اگھاڑی سرکار کرونا سے پوری قوت کے ساتھ جنگ کر رہی ہے ریاستی حکومت کو کسی بھی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ عوام سیاسی اور انتظامی استحکام چاہتے ہیں جو ہماری حکومت دے رہی ہے۔
پوار نےادھو ٹھاکرے کے تعلق سے کہا کہ وہ حکومت اور مقننہ کے لئے نئے ہیں اس کے باوجود بہت ہی اچھے ڈھنگ سے حکومت چلانے کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ جبکہ وہ پہلی بار قانون ساز کونسل کے رکن بننے کے ساتھ ایک مخلوط اور مستحکم حکومت بھی چلا رہے ہیں۔ شیوسینا سے لے کر این سی پی اور کانگریس تک ان کی کابینہ میں بہت سے سینئر وزرائ ہیں۔اس کے باوجود میں یہ ضرور کہوں گا کہ ٹھاکرے اچھے وزیر اعلی اور ٹیم لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں اور ان کے کام کرنے کا اندازنہ صرف سب سے جدا ہے بلکہ مثبت بھی ہے۔ وہ اپنے اتحادی سے باقاعدگی سے صلاح و مشورہ بھی کرتے ہیں۔ وزیر اعلی کی حیثیت سے کئی گھنٹوں تک کام کرتے ہیں۔
ریاست سے کرونا کے خاتمے کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی کچھ مخصوص خصوصیات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارے پاس گنجان آبادی والے ممبئی جیسے بڑے بڑے کئی شہر ہیں۔کچی آبادی اور قصبے کی تعداد بھی زیادہ ہیں۔ شردپوار نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاورلوم کا شہرمالیگاؤں جہاں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد جو پاور لوم صنعت سے منسلک ہیں ان کے کارخانے اور مکان ایک ہی جگہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ہی جگہ کام اور رہائش رکھتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرتی دوری مشکل ہوچکی ہے اور یہاں انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے، لیکن ماضی سے کچھ مثبت رجحانات بھی سامنے آئے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔
ریاست میں جاری لاک ڈائون کے خاتمے کے تعلق سے کہا کہ دو ماہ تک لاک ڈاؤن باقی رہے گا۔ اس تعلق سے مرکزی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ مجھے نہیں معلوم مگر لاک ڈائون کی چوتھی مدت تک ریاست کی معاشی حالت بہت خراب ہو چکی ہے اس لئے کاروبار کو آہستہ آہستہ شروع کرنا چاہئے ۔ کرونا کی اس وبائ سے لڑتے ہوئے کاروبار، صنعت، فیکٹری اور معیشت کو دوبارہ شروع کرنا ضروری ہے۔ یقینا ہمیں کام کے ساتھ ساتھ معاشرتی دوری، صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھنا ہوگا ۔
شردپوار نے مزید کہا کہ ‘مہاراشٹر ایک ایسی ریاست ہے جہاں یوپی، بہار، شمالی ریاستوں اور ہندوستان کے دیگر حصوں کے لوگوں کو بھی روزگار مہیا کراتی ہے۔ یہاں سے روزانہ 40 سے زیادہ ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں۔ مجھے یاد ہے اسمبلی انتخابات کی تشہیری مہم کے دوران ، بی جے پی کے ایک رہنما (امیت شاہ) ہر جلسے میں پوچھتے تھے کہ’’ شرد پوار نے مہاراشٹر کے لئے کیا کیا؟‘‘تب میں نے کہا تھا شرد پوار اور مہاراشٹرا نے یہی کیا ہے کہ ہم ہندوستان بھر میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ بی جے پی نہ تو اسے سمجھ سکتی ہے اور نہ ہی اس کی تعریف کر سکتی ہے۔ ‘

سیاست

’بی جے پی گیانیش کمار کو بچا رہی ہے،‘ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ای سی آئی کے معاملے پر انڈیا بلاک پارٹیاں متحد ہے۔

Published

on

ملاپورم : کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا نے ہفتہ کے روز بی جے پی قیادت پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو “بچانے” کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی “قیادت کے تعاون کے بغیر جمہوریت کے خلاف جرائم کا ارتکاب نہیں کر سکتا”۔ واڈرا نے یہ بھی کہا کہ انڈیا بلاک پارٹیاں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف الزامات پر متحد ہیں۔ کیرالہ کے ملاپورم کے دورے کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے واڈرا نے کہا: “انڈیا اتحاد بہت واضح ہے۔ اتحاد کا ہر ایک لیڈر، ہر ایک پارٹی اس بات پر پوری طرح متفق ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بالکل غیر قانونی، خلاف آئین اور ہماری قوم اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ کہ الیکشن کمشنر کو فراہم کردہ قانونی تحفظات، جو اس بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے قائم کیے ہیں، کو ہٹانے کی ضرورت ہے، اگر کوئی ہمارے ملک کے خلاف، اس آئین کے خلاف غیر قانونی کام کر رہا ہے، تو ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔” اس دوران، 30 ستمبر کو انڈیا بلاک پارٹیوں کی ای سی آئی اختلاف رائے اور دیگر مسائل پر ملاقات ہونے کا امکان ہے۔

سی ای سی گیانیش کمار پر “غداری” کا الزام لگاتے ہوئے، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا: “ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔” “بی جے پی چیف الیکشن کمشنر کی حفاظت کر رہی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی قیادت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اگر سی ای سی جمہوریت کے خلاف اتنا سنگین جرم کر رہا ہے، تو یہ عملی طور پر ناممکن ہے کہ وہ قیادت کی مکمل حمایت کے بغیر ایسا کر رہا ہو”۔ لوک سبھا، راہول گاندھی کے مطالبے پر، انہوں نے بھی سی ای سی کمار کا استعفیٰ طلب کیا۔ مزید برآں، واڈرا نے بی جے پی کے خلاف اپنے سابقہ ​​الزامات کو دہرایا، پارٹی کو “اوور کنفیڈنٹ” قرار دیا۔” لوگوں نے ہر الیکشن سے پہلے ان کے (بی جے پی) کے حد سے زیادہ پراعتماد بیانات دیکھے ہیں، جو انہیں ملنے والی سیٹوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ وہ کہاں سے خوش ہیں کہ وہ ہندوستان سے اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ آپ اس سے خوش ہیں۔ لوگوں سے زمین پر سننا کچھ اور ہے، اور جو آپ انتخابی نتائج کے طور پر دیکھ رہے ہیں وہ کچھ اور ہے،” انہوں نے دعویٰ کیا۔

Continue Reading

سیاست

ٹھاکرے برادران نے ایس آئی آر عمل کے خلاف 4 اکتوبر کو ممبئی میں احتجاجی ریلی کا کیا اعلان، اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کیا۔

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے ہفتہ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا پر بندوقیں چلائیں، مہاراشٹر کے لوگوں کو ایک مشترکہ کال جاری کی اور 4 اکتوبر کو ممبئی میں ایک عظیم عوامی احتجاجی ریلی کا اعلان کیا۔ مرکز میں حکمراں جماعت کا ونگ۔ جب کہ ایم این ایس اور شیوسینا یو بی ٹی مظاہرے کے لیے تنظیمی بنیادوں کی قیادت کر رہے ہیں، رہنماؤں نے زور دیا کہ یہ احتجاج متعصبانہ سیاست سے بالاتر ہے۔ 4 اکتوبر کی ریلی کو ایک عوامی عوامی تحریک کے طور پر وضع کرتے ہوئے، منتظمین نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے منصوبے کی تصدیق کی۔

“یہ عوام کی ریلی ہے۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ یہ کسی ایک پارٹی تک محدود نہ رہے بلکہ پورے سیاسی نظام اور شہریوں کی اجتماعی آواز بن جائے، ہم اس محاذ میں شامل ہونے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں تک پہنچیں گے۔” بیان میں کہا گیا کہ آنے والے ایجی ٹیشن کو ملک کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن جنگ کے طور پر بنایا گیا ہے۔ ایس آئی آر کے عمل کے تحت قائدین ادارہ جاتی تعصب اور ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کے خلاف سخت احتجاج درج کریں۔ 4 اکتوبر کی ممبئی ریلی کے مقام اور صحیح وقت کا باضابطہ طور پر جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔ c کہ “بڑی تعداد میں اس ریلی میں شرکت کریں۔ اس ملک کی جمہوریت اور اس ملک کے آئین کو بچانے کے لیے ایک ساتھ آئیں!” اس سے قبل، بی جے پی اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے، راجیش کمار کے جاری کردہ کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا عمل۔ اس نے حکمراں جماعت پر الزام لگایا کہ وہ “اقتدار پر نہ ختم ہونے والی گرفت” کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ادارہ جاتی شخصیات کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ملک بھر کی تمام اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کاغذی بیلٹ واپس لانے کے لیے بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن کے لیے متحد ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان