Connect with us
Tuesday,30-June-2026

سیاست

کرناٹک انتخابات سے پہلےBJP کو بڑا جھٹکا! سابق سی ایم جگدیش شیٹر کانگریس میں ہوئے شامل، ملیکا ارجن کھڑگے نے دلائی رکنیت

Published

on

CONGRESS

بنگلور۔ کرناٹک انتخابات سے عین قبل ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ جگدیش شیٹر حکمراں بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے کانگریس میں شامل ہو گئے۔ جگدیش شیٹر پیر کی صبح بنگلور میں کانگریس کے دفتر میں کانگریس میں شامل ہوئے۔

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ جگدیش شیٹر، کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار اور کانگریس لیڈر رندیپ سرجیوالا سدارامیا کے ساتھ بنگلورو میں پارٹی دفتر پہنچے ، جہاں انہیں کانگریس کی رکنیت دلائی گئی۔

وہیں جگدیش شیٹر کے کانگریس میں شامل ہونے کے بارے میں پارٹی کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا، ‘جگدیش شیٹر کی جانب سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، ہم کچھ بھی نہیں دے رہے ہیں۔ انہیں (جگدیش شیٹر) کو پارٹی کے اصولوں اور قیادت سے اتفاق کرنا ہوگا۔ ہم ملک کو متحد رکھنا چاہتے ہیں اور یہ کام صرف کانگریس ہی کر سکتی ہے۔

وہیں کانگریس ذرائع کے مطابق جگدیش شیٹر کی جانب سے کوئی بڑا مطالبہ نہیں ہے۔ کانگریس نے بس شیٹر کو ہبلی دھارواڑ سنٹرل حلقہ سے ٹکٹ کا یقین دلایا ہے۔ پارٹی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ انہیں وہ تمام عزت و احترام دیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ سینئر لنگایت لیڈر ایم بی پاٹل نے بھی شیٹر کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیا۔ پارٹی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ پارٹی کی لنگایت قیادت کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہو۔ پارٹی کا خیال ہے کہ اس سے لنگایت ووٹ حاصل کرنے کی کانگریس کی کوششوں کو بڑا فروغ ملے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیسٹ کمپنئ دیوالیہ، 5000 اسامیاں خالی، رکن اسمبلی امین پٹیل کا سنگین الزامات

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی میں، جنوبی ممبئی کے ایم ایل اے امین پٹیل نے ممبئی میں بجلی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر حکومت اور بیسٹ انتظامیہ پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پورے جنوبی ممبئی میں صرف 1,200 جمپر نصب ہیں، جو مانسون کے موسم میں کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتے ہیں۔ کئی مقامات پر آگ لگنے کی بھی اطلاع ہے۔ امین پٹیل نے الزام لگایا کہ بیسٹ ممبئی والوں کو بہتر بجلی فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیسٹ کے جی ایم سے کئی ملاقاتوں کے باوجود کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکا۔ایم ایل اے نے ایوان میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ بیسٹ میں تقریباً 5000 عہدے خالی ہیں، لیکن حکومت کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ ان عہدوں کو کب بھرا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت نظام کو بہتر نہ کیا گیا تو مانسون کے موسم میں بڑے حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔ “جب 5000 عہدے خالی ہیں اور پورا جنوبی ممبئی صرف 1200 جمپروں پر منحصر ہیں، تو ممبئی والوں کی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا؟

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

آدتیہ ٹھاکرے نے سچن اہیر کے جانے پر کہا کہ یہ آپریشن ٹائیگر نہیں بلکہ آپریشن فڑنویس ہے۔

Published

on

ٹی ایم سی کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو ہمارے ساتھ پہلے ہوا تھا۔ اگر ہمارے کیس میں پہلے انصاف ہو جاتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ یہ صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں ہے، بلکہ پورا آئین بنایا گیا ہے۔ بی جے پی آئین کی توہین کر رہی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ عدالتی نظام اس کا احترام کرے گا۔ یہ آپریشن ٹائیگر نہیں، یہ آپریشن دیویندر فڈنویس ہے۔ ان کا پپو کاٹا جا رہا ہے۔ آر سی ایم کی باڈی لینگویج دیکھیں، اس کی طاقت پر غور کریں۔ یہ ان کی آخری مدت ہوسکتی ہے۔ اب انہیں مرکزی کابینہ میں بھیجا جا سکتا ہے۔

جب بھی بغاوت ہوتی ہے تو بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کی پوزیشن کیا تھی۔ اگر آپ کو ایم ایل اے بنایا گیا، آپ کی بیٹی کو کمیٹی میں جگہ دی گئی، آپ کے بھائی کو بہترین کمیٹی دی گئی، تو اخلاقی بنیادوں پر آپ کو اپنی پارٹی کے ساتھ رہنا چاہیے۔ اتنی بھی اخلاقیات کیسے نہیں ہوسکتی؟ ایسے لوگ ہیں جو اپنے دل بدل دیتے ہیں۔ وہ کیا وجہ دیں گے؟ آئیے اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ ہم کیا کمی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں یہاں مدعو کیا جانا چاہیے۔ ہم توہم پرستی میں یقین رکھنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ہم آئین پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔

2029 کا الیکشن بی جے پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بی جے پی نے ہمارے خلاف ہندوتوا کی سیاست کھیلی۔ بی جے پی نے فسادات بھڑکائے۔ بی جے پی نے رام مندر کے مسئلہ پر رتھ یاترا نکالی۔ دریں اثنا، بی جے پی اور اس کے ارکان ایودھیا میں زمین چوری کر رہے ہیں اور دھوکہ دہی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ آج اس بی جے پی سے کوئی امیدیں نہیں ہیں۔ ان کے وزیر اعلیٰ خود اجین میں ماسٹر پلان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اور بدعنوانی کر رہے ہیں۔

ان تمام ایم ایل اے اور ایم پیز سے جو آج بی جے پی کے ساتھ بیٹھے ہیں، میں ان سے آئندہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اجین میں بدعنوانی کیسے ہوئی، ایودھیا میں کیا بدعنوانی ہوئی، اور گھوٹالہ کیوں ہوا؟ ہمارے ہندوؤں کے جذبات سے کیوں کھیلا گیا؟ آج میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو بی جے پی کے ساتھ جانا چاہتے ہیں کہ لوگ پوچھیں گے کہ آپ نے انہی بڑے لیڈروں کو ایم پی اور وزیر کیوں بنایا جن پر کرپشن کے الزامات تھے۔ کیا یہ وہی بی جے پی ہے جو کبھی کرپشن کے خلاف ہونے کا دعویٰ کرتی تھی؟

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر : ادھو ٹھاکرے کو دوسرا بڑا جھٹکا… سچن اہیر شندے سینا میں شامل, نائب چیئرپرسن کے عہدہ کے لئے پرچہ نامزدگی داخل

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر میں شیوسینا ادھو ٹھاکرے کو دوسری مرتبہ بھی زبردست جھٹکالگاہے یو بی ٹی لیڈر اور ادھو ٹھاکرے کے معتمد خاص سچن اہیر نے اس مرتبہ ادھو گروپ سے بغاوت کر کے شیوسینا ایکناتھ شندے میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور ایکناتھ شندے سینا نے انہیں قانون ساز کونسل میں ڈپٹی چیئر پرسن کی امیدواری دی ہے اور اس لئے انہوں نے آج اپنے امیدواری کا پرچہ نامزدگی بھی داخل کیا اس دوران شیوسینا سر براہ ایکناتھ شندے , ریاستی وزیر اعلی دیویندر فڑنویس ,نیلم گوہے بھی شریک تھے اس سے قبل یہ ذمہ داری نیلم گوہے کے سپرد تھی سچن اہیر کے شیوسینا میں شمولیت کے بعد نیلم گوہے بھی ناراض ہیں ۔ شیوسینا یو بی ٹی کے لئے اراکین پارلیمان کی بغاوت کے بعد یہ ریاست میں سب سے بڑی بغاوت ہے ۔

سچن اہیر ادھوٹھاکرے کے قریبی اور اکثر رکن اسمبلی ادیتہ ٹھاکرے کے ساتھ ہی نظر آتے تھے سچن اہیر نے این سی پی سے اپنے کیرئیر کاآغاز کیا تھا اور ان کا علاقہ گرگائوں میں ہے انہوں نے بطور مزدور لیڈر کے طور پر سیاست میں قدم رکھا تھا اور نیشنلسٹ کانگریس شرد پوار گروپ کے بعد انہوں نے ادھو ٹھاکرے گروپ شیوسینا میں شمولیت حاصل کی تھی انہیں یہاں سے قانون ساز کونسل کی رکنیت حاصل ہوئی تھی ایک مرتبہ پھر سچن اہیر نے شیوسینا ادھو ٹھاکرے سے ایکناتھ شندے سینا میں شمولیت اختیار کرلی ہے ورلی سے ادیتہ ٹھاکرے کی فتحیابی کے بعد ادھو ٹھاکرے گروپ نے سچن اہیر کو قانون ساز کونسل کی رکنیت کےلئے منتخب کیا تھا ۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ جلد ہی مزید اراکین اسمبلی بھی ادھو ٹھاکرے گروپ سے بغاوت کر کے شندے سینا میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان