Connect with us
Wednesday,05-August-2026

(جنرل (عام

بھیونڈی :کورونا بحران میں مزدور جس پل صراط سے گزر کر گاؤں گئے تھے, ان ہی مشکلات کا سامنا کرکے واپس لوٹ رہے ہیں

Published

on

بھیونڈی: یوپی, بہار, جھاڑ کھنڈ اور کرناٹک کے مزدور مہاراشٹر میں تلاش معاش میں سرگرداں رہتے ہیں. یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ پیٹ کا جہنم بھرنے اور اپنے اہل و اعیال کی کفالت انہیں اپنے گھر سے کئی سو کلو میٹر دور مہاراشٹر لے آتی ہے. لیکن کورونا کے وبائی بحران کو قابو کرنے کے لئے جب لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور جس کے باعث تمام کاروبار مکمل طور پر بند ہو گئے تو یہ مزدور بے روزگار ہوگئے ۔ یہاں تک کہ بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی تھی . بس یہی وجہ تھی کہ بڑی تعداد میں مزدور یہاں سے اپنے آبائی وطن ہجرت کرگئے تھے ۔ اترپردیش اور بہار سمیت دیگر ریاستوں کے مختلف اضلاع میں جانے کے لئے ٹرین وغیرہ کے کوئی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے مزدور مئی اور جون مہینے کی تپتی دھوپ میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ پیدل ہی روانہ ہوگئے تھے۔ اور جن مزدوروں کے پاس کرایہ دینے کے لئے کچھ رقم تھی وہ مزدور 3 سے 4 ہزار روپیہ کرایہ ادا کر کے بھاری پریشانیوں کو جھیلتے ہوئے جانوروں کی طرح ٹرکوں اور ٹیمپو میں بیٹھ کر گئے تھے لیکن وہ مزدور اب دوبارہ واپس آرہے ہیں۔ اترپردیش سے آنے کے لئے ٹرینوں کی کافی کم سہولیات ہونے کی وجہ سے مزدور کئی طرح کی پریشانی اٹھاتے ہوئے گئے تھے دوبارہ انہی پریشانیوں کے ساتھ پھر واپس آرہے ہیں۔
واضح ہو کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب مزدوروں نے یہاں سے پیدل جانا شروع کیا تو حکومت کی طرف سے خصوصی ٹرین شروع کرکے انہیں ان کے آبائی وطن ، اتر پردیش ، بہار ، راجستھان اور کرناٹک وغیرہ پہنچایا گیا تھا۔ اس وقت ریاستی حکومت کے ذریعے مہاراشٹر کی سرحد تک ایس ٹی مہامنڈل کی بسوں سے بھی مزدوروں کو پہنچایا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن میں کام دھندہ بند ہونے کی وجہ سے جو مزدور چلے گئے تھے وہ مزدور کام شروع ہونے کی اطلاع موصول ہوتے ہی اب دوبارہ واپس آنا شروع ہوگئے ہیں۔ کورونا انفیکشن کی وجہ سے لکھنؤ ، گورکھپور اور وارانسی وغیرہ اسٹیشنوں سے کافی کم تعداد میں ٹرینیں آرہی ہیں جس کی وجہ سے وہاں سے آنے والے لوگوں خصوصاً مزدوروں کو ٹرین کے ذریعے آنے کے لئے ٹکٹ نہیں مل پارہا ہے۔ جانے کے لئے ٹرین بند ہونے کی وجہ سے مزدوروں کے یہاں سے جاتے وقت ، بس، ٹرک اور ٹیمپو والوں نے ان کا خوب فائدہ اٹھایا تھا۔
آس پاس کے علاقوں کے گوداموں اور کمپنیوں کے مالکان کے ذریعے کچھ مزدوروں کو بسوں کے ذریعے واپس بلایا جارہا ہے لیکن جن مزدوروں کو بسیں نہیں مل رہی ہیں مجبور ہوکر وہ مزدور ٹرکوں اور ٹیمپو میں جانوروں کی طرح بیٹھ کر واپس آرہے ہیں۔ اس طرح سے سینکڑوں کی تعداد میں مزدور روزانہ آ رہے ہیں لیکن بسوں سے آنے والے مزدوروں کو بھی ان کی منزل تک نہیں چھوڑا جارہا ہے۔ پولیس اور آر ٹی او کے خوف کی وجہ سے بسوں سے آنے والے مزدوروں کو بھیونڈی بائی پاس ، مانکولی ناکہ یا پڑگھا ٹول ناکے کے قریب ہی چھوڑدیا جارہا ہے۔ بس سے آنے والے مزدوروں سے 3 سے 4 ہزار روپے کرایہ وصول کئے جانے کے باوجود انہیں بھیونڈی بائی پاس پر چھوڑ دیا جارہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق زیادہ تر بسیں اور ٹرک ، ٹیمپو وغیرہ رات کے اندھیرے میں ہی یہاں آرہے ہیں۔ جھارکھنڈ سے آنے والے ایک مزدور پریم کمار نے بتایا کہ وہ ڈومبیولی کے پلاوا میں کارپینٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ان کے مالک نے انہیں بس کے ذریعے بلایا ہے میں 6 ماہ بعد واپس آیا ہوں۔ انہیں بس والے نے بھیونڈی بائی پاس کے قریب چھوڑ دیا تھا۔
اسی طرح کاندیولی اور بوریولی سمیت دیگر علاقوں میں جانے والے مزدور یہاں سے پیدل ہی جارہے ہیں۔ بلرام پور سے آنے والے مزدور نے بتایا کہ اسے بھیونڈی بائی پاس پر چھوڑ دیا گیا تھا کاندیولی جانے کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ پیدل ہی جارہا ہے۔ اسی طرح جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے اقبال انصاری نے بتایا کہ انہیں بھی بھیونڈی میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ کاندیولی میں بھنگار کا کاروبار کرنے والے نارائن نے بتایا کہ وہ 7 ماہ بعد واپس آرہے ہیں انہیں بھی بھیونڈی بائی پاس پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ لہذا وہ یہاں سے پیدل ہی جارہے ہیں۔ اپنی آبائی ریاست سے آنے والے مزدوروں کو آج بھی اسی قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے , جو نہایت کسمپرسی کی حالت میں انہیں یہاں لے گئی تھی جو باعث تشویش ہے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد شیواجی نگر میں غیر استعمال شدہ بیت الخلاء اور وہاں مفت ادویات کی دکان، خواتین کا جم اور کنڈرگارڈن بنایا جائے گا : ابو اعظمی

Published

on

asim

ممبئی : مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں بہت سے عوامی بیت الخلاء انتہائی خستہ حال (مرمت سے باہر) حالت میں ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی شہریوں کو ان بیت الخلاء کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام غیر استعمال شدہ اور خستہ حال بیت الخلاء کو جلد از جلد بلڈوز کیا جائے اور اس زمین کو عوامی فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایم ایل اے اعظمی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ان زمینوں پر ایک ‘جنرک میڈیکل شاپ’، صرف خواتین کے لیے ایک جدید ‘جم’ اور بچوں کے لیے ‘کنڈرگارٹن’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اور ‘ایم ایسٹ’ وارڈ کے انتظامی افسران سے خط و کتابت کی گئی ہے اور اس تجویز کو جلد از جلد منظور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی مقامات کو لوگوں کے براہ راست فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر استعمال شدہ بیت الخلاء کو ہٹانے اور وہاں طبی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اگر انتظامیہ فوری اجازت دے تو ہم اصل کام شروع کر دیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ٹائیگر گروپ سربراہ سنجے کھنڈاکلے کے حامیوں پر ایم آئی ڈی میں کیس درج، نظم ونسق خراب و غیر قانونی طریقے سے مورچہ نکالنے کا الزام

Published

on

police case

ممبئی ٹائیگر گروپ کے سر براہ اور آر پی آئی لیڈر سنجے کھنڈاکلے کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے. سنجے کھنڈاکلے کی حمایت میں مورچہ نکالنے والے مظاہرین کے خلاف بھی پولیس نے غیر قانونی طریقے سے مورچہ نکالنے, ٹریفک نظام میں خلل پیدا کرنے, سرکاری حکم کی حکم عدولی, حکم امتناعی کی خلاف ورزی سمیت بھارتیہ نیائے سنہتا بی این ایس کی دفعات 189(1),189(2),223,285,37,135 ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے اس میں پولیس نے مفرور ملزمین گوتم مورے, چھایا کھنڈاکلے, راجو سون کامبلے,جتیندر سونانونے, صدام ملانی, ریشماں خان, دلیپ کامبلے, گورکھ کامبلے, سجیت کامبلے سمیت 40 سے 50 افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے بلا اجازت مورچہ نکال کر نظم و نسق کا مسئلہ پیدا کیا اور ٹریفک میں خلل پیدا کی اسی لئے پولیس نے یہ معاملہ درج کیا ہے. سنجے کھنڈاکلے کی حمایت میں مورچہ نکال کر مظاہرین پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے, لیکن اس مورچہ کے بعد اب پولیس نے سنجے کھنڈاکلے کی تلاش میں شدت پیدا کر دی ہے, کیونکہ سنجے کھنڈاکلے پر زمین قبضہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کیا گیا ہے اور وہ اس معاملہ میں مطلوب ملزم ہے, ایسے میں مورچہ نکالنے کے بعد پولیس نے مفرور ملزم کی تلاش تیز کر دی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولیس نے دی ہے,

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مئیر بنگلہ ٹینڈر سے مئیر بھی لاعلم، بنگلہ کے احاطہ گارڈن پر محیط ہے اور یہ کام گارڈن اور مینٹیننس محکمہ کے زیر اختیار میں ہے

Published

on

Mayor Ritu Tawde

ممبئی مئیر بنگلہ کے ٹینڈر سے متعلق مئیر ریتو تاؤڑے نے صفائی پیش کرتے ہوئے اس ٹینڈر سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے مئیر بنگلہ آثار قدیمہ کے زیر اثر ہے اور جو ٹینڈر طلب کیا گیا ہے وہ بنگلہ سے متعلق نہیں ہے اور اس سے مئیر بھی لاعلم ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ ممبئی میئر کی رہائش گاہ سے متعلق خدمات اور سہولیات کے لیے ایک نیا ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔ ذیل میں اس معاملے کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔

ممبئی کے میئر کی رہائش گاہ ویرماتا جیجا بائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کے احاطے میں واقع ہے۔ پورے باغ اور چڑیا گھر کے احاطے کی دیکھ بھال، مرمت اور دیکھ بھال کا کام متعلقہ گارڈن اینڈ زو ڈپارٹمنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ میئر کی رہائش گاہ ایک ہیریٹیج ڈھانچہ ہے، اور اس سے متعلق کام ہیریٹیج مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ ٹینڈر مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان