Connect with us
Sunday,02-August-2026

سیاست

دس عوامی شعبہ کے بینکس کو چار بینکوں میں ضم کرنے کی خبرغلط : اے آئی بی ای اے

Published

on

دس عوامی شعبہ کے بینکس کو چار بینکوں میں ضم کرنے کے مرکزی وزیر فائنانس نرملا سیتارامن کی جانب سے کئے گئے بڑے اعلان کوآل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) نے غلط، گمراہ کن اور بے موقع قرار دیا ہے۔ اے آئی بی ای اے کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم نے یواین آئی کو بتایا کہ دس عوامی شعبوں کے بینکس کنارا بینک، یونین بینک آف انڈیا، یونائیٹیڈ بینک آف انڈیا، الہ آباد بینک، سنڈیکیٹ بینک، کارپوریشن بینک، اورینٹل بینک آف کامرس اورآندھرا بینکس کو ضم کرنے کے فیصلہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت ان بینکس کو ضم کرنا قرار دے سکتی ہے تاہم دراصل یہ 6 بینکس کا بے رحمی سے قتل ہے کیونکہ ان بینکوں کے انضمام کے بعد یہ 6 بینکس بینکنگ پس منظر سے غائب ہو جائیں گے۔ ان 6 بینکس کو بند کرنے کی تجویز کی مخالفت اے آئی ای بی اے کے بینر تلے کرنے کی بینک ملازمین سے اپیل کرتے ہوئے یونین کے سرکردہ لیڈر نے کہا کہ ہم جلد ہی احتجاج اور ہڑتال شروع کریں گے۔ اسی دوران وینکٹ چلم نے اپنے ریلیز میں کہاکہ بینکس کو 1969 میں قومیایا گیا تھااور یہ قدم معیشت کی وسیع بنیاد اوراس کی ترقی کے لئے اٹھایا گیا تھا۔ گزشتہ 50 برسوں میں قومیائے ہوئے بینکس نے مستحکم معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تقریبا 8000 برانچس آج بڑھ کر 90,000 برانچس بن گئے ہیں، جن میں تقریبا 40,000 برانچس دیہی اور نیم دیہی علاقہ میں ہیں، جن کو قبل ازیں نظرانداز کیاگیا تھا۔ حکومت ہنداور ریزرو بینک کی جانب سے ملک کی بنیادی ضروریات کے لئے اہم مانے جانے والے شعبہ کے نتیجہ میں ہماری معیشت بہتر ہوئی، جس کے سبب سبز انقلاب، سفید انقلاب، صنتعی ترقی، ملازمتوں کے مواقع، دیہی ترقی وغیرہ ممکن ہوپائے۔انہوں نے کہاکہ 2008 میں پوری دنیا مالی بحران اور بینکنگ سونامی کا شکار ہوگئی تھی۔ تاہم ہمارے عوامی شعبہ کے بینکس کے سبب ہندوستانی بینکنگ نظام محفوظ رہا۔اے آئی بی ای اے کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ حکومت تمام کے لئے خوشحالی کی بات کرتی ہے۔ تاہم 6 بینکس کو بند کرتے ہوئے بینکنگ نظام کی 6 اصل شریانوں کو کاٹا جارہا ہے۔ متاثرہ بینکس الہ آباد بینک، آندھرا بینک، کارپوریشن بینک، سنڈیکیٹ بینک، یونائیٹیڈ بینک آف انڈیا اور اورینٹل بینک آف کامرس کافی بہتر بینکس ہیں اوران بینکس نے بڑے پیمانہ پراپنے متعلقہ حدود میں معاشی ترقی میں فراہم کی ہے۔اچانک ان بینکس کو بند کرنے کا فیصلہ نامناسب اورغیر ضروری ہے۔ ملک شدید مالی سست روی اورمندی کا سامنا کررہا ہے۔ بینکس اپنے بھاری وسائل کے ذریعہ معیشت کے احیا میں فیصلہ کن رول ادا کرسکتے ہیں۔ درحقیت گزشتہ ہفتہ وزیر فائنانس نے معیشت کو بہتر بنانے کی اہم ذمہ داری بینکس کو دی تھی۔ بینکس کو ضم کرنے یا بند کرنے کے فیصلہ سے اس کام پر منفی اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ بینکس، ناقابل وصول قرض کی وجہ سے خود کئی مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان