Connect with us
Thursday,06-August-2026

سیاست

ڈاکٹروں اور پولیس پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے، ریاستی سرکار کی جاری کردہ ہدایات پرعمل کریں ورنہ ریاست کو فوج کے حوالے کیا جائے گا :اجیت پوار

Published

on

(محمد یوسف رانا)
نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اپنے کابینی وزراء اور اعلیٰ افسران کی موجودگی میں آج ہونے والی میٹنگ کے بعد کہا کہ لاک ڈائون اور کرفیو کے باوجود عوام بڑی تعداد میں آزادی کے ساتھ نہ صرف گھوم رہے ہیں بلکہ پولس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے علاوہ طبی عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کے واقعات سامنے آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کہ اس ان حالات پر قابو نہیں پایا گیا تو ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر کو فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔ انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس، طبی افسران اور ایسے لوگ جو کرونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ڈیوٹی کررہے ہیں اگر ان پر حملہ یا ان کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی ہے تو ان پر فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ پولیس اورعوام دونوں ہی صبر وضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرونا کے خلاف جاری جنگ میں ریاستی سرکار کا ساتھ دیں۔ اجیت پوار نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے لاک ڈاؤن کو عملی جامہ پہنانے میں فوجی مدد طلب کی ہے۔ اس لئے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ سرکار ایسا کوئی فیصلہ نہ کرے کہ ریاست میں فوج طلب کر لی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ریاست میں 21 دن کا لاک ڈاؤن ہے، اس کے باوجود دودھ، سبزیاں، پھل، دوائیں، اناج، کھانا پکانے گیس اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ کی فراہمی جاری ہے۔ اس کے باوجود، بازار میں خریداری کرنے والے لوگوں کا ہجوم تشویش ناک ہے۔ اس پس منظر میں، انہوں نے تجویز پیش کی کہ مقامی انتظامیہ کو ضروری اشیاء گھر یا سوسائٹی میں مہیا کرنے کا منصوبہ بنانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بارا متی اور وائی میں اس طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ عوام اور این جی اوز کو چاہئے کہ وہ بزرگ شہریوں، طلباء، گلیوں میں رہنے والے غریب افراد اور بے گھر لوگوں کو کھانا مہیا کرنے کے لئے آگے آئیں۔ دودھ کے ٹینکر میں کچھ لوگوں کے سفر کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ تشویش ناک بات ہے ۔وسئی میں پولیس اہلکار کو موٹر سائیکل سے ٹکر مارنے سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ بیڑ میں بھی پولیس پر حملہ ہوا۔ مالیگاؤں میں طبی حکام کو عوامی نمائندوں نے مارا پیٹا۔ اس طرح کے واقعات کرونا کے خلاف لڑائی کو کمزور کررہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ کرونا کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حکومت اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔
مدھیہ پردیش میں وزیر اعلی کی آخری پریس کانفرنس میں شریک ایک صحافی کو مبینہ طور پر کرونا سے متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس پس منظر میں نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے بھی اپیل کی کہ ان کی ریاست میں موجود عوامی نمائندوں اور صحافیوں کو ‘آن لائن بات چیت کے ذریعے سلامتی برقرار رکھنی چاہئے۔
نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے اہم بیان
ڈاکٹروں اور پولیس پر حملے تشویش ناک ہیں۔ اس طرح کے حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
ڈاکٹروں اور پولیس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات کا اندراج کیا جائے گا۔ · پولیس اور عوام کو صبر و ضبط کے ساتھ کرونا کے خلاف جاری جنگ میں حصہ لینا چاہئے۔
بازاروں اور سڑکوں پر جس طرح سے لوگوں کا ہجوم ہےاور وہ محفوظ فاصلہ بھی نہیں رکھتے ان کی وجہ سے سے کرونا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتاہے۔
کرونا کے خاتمے کے لئے سرکار کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات اور پابندیوں پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے اگر ایسا نہیں ہوا تو مجبوراً ریاست کو فوج کے حوالے کرنا ہوگا۔
دودھ کے ٹینکر اور دیگر جاری سواریوں کے ذریعے عوام کا سفر کرنا کرونا وائرس کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
دودھ، سبزیاں، پھل، دوائیں، اناج، ضروری اشیاء فراہم کرنے کے لئے مقامی انتظامیہ کو منصوبہ بندی کرنی ہوگی-

بین الاقوامی خبریں

ہرمز نہ کھولا گیا تو ایران کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا : صدر ٹرمپ

Published

on

D.-Trump

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو جلد نہ کھولا گیا تو ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم تہران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اوول آفس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو ایک آخری موقع دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “وہ جلد ہی کوئی فیصلہ لیں گے، چاہے کیسے بھی ہو۔ یہ کوئی زیادہ پیچیدہ معاملہ نہیں ہے۔ ہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات کر رہے ہیں۔”

لیکن ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عراق کے دورے پر ہیں۔ باقی تمام مذاکرات کار ایران میں ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جوابی حملہ کیا۔ انھوں نے لکھا، “ایرانی قیادت انتہائی دوغلی ہے، پہلے وہ ملاقات کی بھیک مانگتے ہیں اور پھر کھل کر کہتے ہیں کہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔”

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے پار واقع عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، یہ ایک عارضی انتظام ہے جس کا مقصد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مسقط تہران مذاکرات میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران حملے کی اطلاعات سے گھبرا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا اور شدید ترین حملہ ہوگا۔ “ہم آبنائے ہرمز کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

حوثی گروپ بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں پر حملے تیز کرے گا، آئل ٹینکر پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

Published

on

Red-Sea

صنعاء : شمالی بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یمن کے حوثی گروپ نے کہا کہ وہ سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف اپنی مہم تیز کرے گا۔ حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساریہ نے کہا کہ “وفا” نامی آئل ٹینکر کو سعودی بحیرہ احمر کے ایک بڑے بندرگاہی شہر ینبو کے ساحل پر بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ساریا نے کہا کہ حملہ درست تھا، لیکن اس نے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جسے انہوں نے “ایک ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی” قرار دیا۔ ساریہ کے مطابق، حوثی فورسز نے مہم کے آغاز سے اب تک آٹھ سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ 29 دیگر کو اپنے راستوں کا رخ موڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ جولائی میں، حوثی گروپ نے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں پر بحری پابندی کا اعلان کیا، اور دعویٰ کیا کہ یہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی سعودی ناکہ بندی کے جواب میں ہے۔ ان نئی کشیدگیوں نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے جو دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

دریں اثنا، یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور نے بدھ کو بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حملے کی شدید مذمت کی۔ وزارت نے اسے “دہشت گردانہ حملہ” اور “بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں، وزارت نے ہندوستان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ہندوستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اس نے جہاز کے عملے کو تمام ضروری مدد اور مدد فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے کہا، “جمہوریہ یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار بحری جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حوثی دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملہ دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتی کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جب کہ یہ کشتی بحیرہ احمر میں حملہ کر رہی تھی۔ یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں سمندری ٹریفک، محفوظ نیویگیشن اور تجارت کی آزادی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔” یہ بیان منگل کی شام ہندوستان کی وزارت خارجہ (ایم ای اے) کی طرف سے جاری کردہ ایک ردعمل کے بعد آیا ہے۔ ہندوستان نے ‘ایم ایس وی فیض نور اولیا’ پر حملے کی مذمت کی تھی اور تصدیق کی تھی کہ جہاز میں سوار تمام 13 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان