Connect with us
Thursday,10-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

کرناٹک میں دو گاڑیوں کی ٹکر میں کم از کم 6 افراد کی موت اور9 دیگر زخمی

Published

on

Road-Accident

کرناٹک کے ضلع مانڈیا میں دو گاڑیوں کی ٹکر میں کم از کم 6 افراد کی موت ہوگئی اور 9 دیگر زخمی ہوگئے ۔
پولیس ذرائع کے مطابق جمعرات کی رات ضلع مانڈیا میں ناگمنگلا کے پاس شری رنگا پٹنہ -بیدر شاہراہ پرٹاٹا سومو اور ٹیمپو کی ٹکر میں کم از کم 6 افرادکی موت اور 9 دیگر زخمی ہوگئے۔
پولیس کےمطابق یہ حادثہ اسوقت ہوا جب ناگامندلا سے بولیرو جارہی ٹاٹا سوموکی ٹیمپو سے ٹکر ہوگئی جس سے سوموکار میں سوار چار مسافر وں کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ دو دیگر زخمیوں نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔
حادثہ کے بعد ٹیمپو ڈرائیور سمیت دیگر زخمی افراد کو فوراً اسپتال لےجایا گیا ۔ بیلورو پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر معاملہ درج کرلیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی گھاٹکوپر نیو لائف اسپتال کے ڈاکٹر دیپک بید کے خلاف اسسٹنٹ نرس کے ساتھ چھیڑخانی کا مقدمہ درج

Published

on

FIR

ممبئی گھاٹکوپر پولس نے دیپک بیدکے خلاف اسسٹنٹ نرس سے دست درازی اور جنسی استحصال کا کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ گھاٹکوپر پولس نے ڈاکٹر کے خلاف ۲ ستمبر کو کیس درج کر لیا ہے متاثرہ ۱۹ سالہ اسسٹنٹ نرس جو گھاٹکوپر نیو لائف اسپتال میں زیر ملازمت تھی اس کی صبح کی شفت تھی اس دوران وہ استقبالیہ پر بیٹھی تھی تو دوپہر ساڑھے تین بجے اسے ایک عملہ نے یہ کہہ کر بلایا ہے کہ انہیں اسپتال کے ڈاکٹر بید نے طلب کیا ہے جس پر جب وہ ڈاکٹر کی کیبن میں داخل ہوئی تھی وہاں خالہ نے ڈاکٹر کا ڈبہ رکھا اور پھر وہ وہاں سے رخصت ہو گئی پھر ڈاکٹر نے دروازے کو اندر سے بند کر کے متاثرہ کے ساتھ نازیبا حرکتیں شروع کر دی جس سے متاثرہ کو پریشانی ہوئی اور اس نے اس معاملہ میں گھاٹکوپر پولس اسٹیشن میں بیان درج کروایا اور پھر پولس نے متاثرہ کے بیان کی بنیاد پر ملزم ڈاکٹر کے خلاف ۷۴ اور ۷۹ بی این ایس کی دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے ۔اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ٹروم گلوبل ایگزیکٹو ایم بی اے کا آغاز ایل ایس ای داخلہ پر ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمے پر شری کانت شندے کا جذباتی خراج عقیدت

Published

on

ممبئی : لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس (ایل ایس ای) کا کیمپس اس وقت ایک خاص وجہ سے منظر عام پر ہے۔ وہ ادارہ جہاں بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے تقریباً ایک صدی قبل اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اب وہی مقام پرکلیان سے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) ڈاکٹر شریکانت شندے ایک طالب علم کے طور پر ایک نئے تعلیمی سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شری کانت شندے نے ایل ایس ای میں ٹروم گلوبل ایگزیکٹو ایم بی اے پروگرام کے پہلے ماڈیول کا آغاز کیا ہے۔ اس سے پہلے میڈیکل کے شعبے میں آرتھوپیڈکس میں ایم ایس مکمل کرنے کے بعد، اس نے اب اس بین الاقوامی کورس کا انتخاب کیا ہے تاکہ معاشیات، عوامی پالیسی اور قیادت جیسے مضامین میں بصیرت حاصل کی جا سکے۔ ایل ایس ای میں اپنے پہلے دن کے تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے، ڈاکٹر شندے نے تبصرہ کیا کہ جہاں افتتاحی لیکچر اہم تھا، وہ لمحہ جس نے انہیں حقیقی معنوں میں جذباتی کر دیا وہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ وہ کلیان، مہاراشٹر کے ایم پی کے طور پر وہاں موجود تھے، لیکن اس وقت ان کی بنیادی شناخت ایک طالب علم کی تھی۔ بابا صاحب کے تعلیمی سفر پر غور کرتے ہوئے، انہوں نے اظہار کیا کہ کس طرح اس لمحے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ تعلیم، نظریات اور عزم کے ذریعے ایک فرد ان عظیم بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے ایل ایس ای میں معاشیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کے مطالعے اور تحقیق نے بعد میں ہندوستان کی اقتصادی اور مالیاتی سوچ کو متاثر کیا۔ مالی مسائل ان کے اہم تحقیقی کاموں میں شامل ہے بابا صاحب نے آزاد ہندوستان کے آئین کے مسودے میں بھی تاریخی کردار ادا کیا۔ کیمپس پہنچنے پر، ڈاکٹر شندے نے بابا صاحب کے تعلیمی سفر اور ان کی جدوجہد پر غور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ محض ایک غیر ملکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں تھا بلکہ ایک تاریخی ورثے سے جڑنے کا تجربہ بھی تھا۔

ڈاکٹر سے لے کر معاشیات اور پالیسی کے طالب علم تک ڈاکٹر شریکانت شندے کے لیے یہ دوسری ماسٹر ڈگری ہوگی۔ اس نے پہلے آرتھوپیڈکس میں ایم ایس مکمل کیا تھا۔ اب، عوامی زندگی میں اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ، وہ معیشت، پالیسی سازی اور قیادت کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شندے کے مطابق، ان کی طبی تعلیم نے انھیں مریضوں کا علاج کرنے کا طریقہ سکھایا، جب کہ اب وہ معاشی اور پالیسی کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے نئے مضامین کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ وہ نوٹ کرتا ہے کہ اگرچہ مضامین مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن سیکھنے کا ان کا تجسس بدستور برقرار ہے۔ نوجوانوں کے لیے پیغام عمر بھر طالب علم رہیں ایل ایس ای کے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے ڈاکٹر شری کانت شندے نے کہا کہ سیکھنے کا عمل ڈگری، نوکری، یا عہدہ حاصل کرنے پر ختم نہیں ہوتا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں، مسلسل نئی چیزیں سیکھنا اور اپ ڈیٹ رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود وہ خود کو سب سے پہلے ایک طالب علم سمجھتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ بنام لؤ جہاد قانون بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج

Published

on

ممبئی : صوبہ مہاراشٹر میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہورہے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیئے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے لؤ جہاد قانون بنام مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ 2026 کی آئینی حیثیت کو آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ یہ قانون حالانکہ پورے مہاراشٹر میں 28/ اگست سے نافذالعمل ہے لیکن قانون کتابی شکل میں پرنٹ نہیں ہونے کی وجہ سے وہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھی جس کی وجہ سے پٹیشن داخل کرنے میں تاخیر ہوئی۔ اب جبکہ مراٹھی اور انگریزی زبانوں میں قانون کتاب کی شکل میں شائع ہوچکا ہے اسے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے بامبے ہائی کورٹ میں مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے پٹیشن داخل کی ہے جس پر جلد سماعت متوقع ہے، بامبے ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن کو ایڈوکیٹ آن ریکارڈ سپریم کورٹ آف انڈیا اعجاز مقبول نے حتمی شکل دی ہے جبکہ ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء نے اسے تیار کیا ہے۔ پٹیشن میں تحریر ہے کہ جرم ثابت ہونے پر بہت سخت سزاؤں اور جرمانہ عائد کرنے کی شق شامل کی گئی ہے جو کہ غیر آئینی ہے کیونکہ آئین ہند نے ہندوستانی شہریوں کو مذہب پر قائم رہنے اور اپنے مذہب کی ترویج و اشاعت کی اجازت دی ہے۔ عرض داشت میں مزید تحریر ہے کہ لو جہاد قانون کو بنانے کا مقصد درحقیقت ہندو اور مسلمان کے درمیان ہونے والی بین المذہب شادیوں کو روکنا ہے جو کہ آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور اس سے شخصی آزادی بھی مجروح ہوتی ہے، جس کا التزام آئین میں موجود ہے۔

عرضداشت میں مزید کہا گیا ہیکہ کہ ان قوانین کے ذریعہ مذہبی اور ذاتی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی ہے اور برادران وطن میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے لہذا عدالت کو اس قانون پر فوری اسٹے دینا چاہئے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے داخل کی گئی پٹیشن میں مزید تحریر ہے کہ یہ قانون غیر آئینی بنیادوں پر بنا ہوا ہے کیونکہ آئین ہند میں دیئے گئے بنیاد حقوق کو بالائے طاق رکھ کر اسے اقلیت دشمنی میں اکثریت کو خوش کرنے کے لیئے بنایا گیا ہے۔ پٹیشن میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے حق رازداری پر دیئے گئے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے حق رازداری کے تحفظ کے لئے رہنمایانہ اصول واضح کیئے ہیں جبکہ اس قانون میں مذہب تبدیل کرنے والے کو مجسٹریٹ سے اجازت لینا اور پبلک نوٹس کی بات کہی گئی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کیئے جانے کے بعد ممبئی میں مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے اوراس قانون کے نفاذ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں شدید بے چینی ہے کیونکہ یہ قانون بغیر کسی ریسرچ یا اجتماعی مذہب تبدیلی کی خفیہ رپورٹ کے محض اقلیت دشمنی میں بنایا گیا ہے جس کی مہاراشٹر جیسی پر امن ریاست میں ضرورت نہیں۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ یہ قانون اتنا غیرآئینی ہے کہ اس نے ایف درج کرانے کا اختیار تیسرے فریق کو دے دیا ہے جو نا تو مذہب تبدیل کررہا ہے اور نا ہی کسی کا کرا رہاہے اسی طرح الزام ثابت کرنے کا بوجھ بھی ملزم پر ہی ڈال دیا گیا ہے جب فوجداری مقدمات میں الزام ثابت کرنے کا بوجھ پولس پر ہوتا ہے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ ہندوستان کی 12/ ریاستوں کی جانب سے بنائے گئے تبدیلی مذہب قانون کی آئینی حیثیت کو جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا ہے نیز مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون کو آج بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ابتک مبینہ جبراً تبدیلی مذہب کے خلاف اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ، اروناچل پردیش، ہریانہ، کرناٹک، اڑیسہ، ہماچل پردیش اور مہاراشٹر حکومتوں نے قانون بنائے ہیں۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند نے آئین ہند کے آرٹیکل 32/ کے تحت مفاد عامہ کی پٹیشن سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کی ہے جو زیر سماعت ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں پہلے گلزار اعظمی عرض گذار بنے تھے، گلزار اعظمی کے انتقال کے بعد نائب صد ر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید اسجد مدنی عرض گذار ہیں۔ اس اہم آئینی مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کررہی ہے۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت سول رٹ پٹیشن 40/2023/ پر ستمبر کے ماہ میں 2026 کو چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی بینچ سماعت کرسکتی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے بامبے ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن کا نمبر رٹ پٹیشن 76759/2026ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان