سیاست
عصمت دری جیسے گھنا ؤنے جرم پر رحم کی درخواست قانون کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں ہے
(وفا ناہید)
نربھیا عصمت دری کے مجرموں کو 22 جنوری کو پھانسی دی جانے والی تھی. ان چاروں مجرمین میں سے ایک مجرم مکیش کی رحم کی درخواست ابھی صدر جمہوریہ ہند کے پاس زیر غور ہے لہذا نربھیا عصمت دری کے ان چاروں مجرمین کو 22 جنوری کو دی جانے والی پھانسی کی سزا منسوخ کردی گئی. کیا یہ قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہے. ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ عصمت دری کے کیس کو فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلاکر جلد سے جلد سے انہیں پھانسی کی سزا دی جانی چاہیے کہ ایسے گھناؤنے فعل پر قابو پایا جاسکیں. پھانسی کے ڈر سے ہوسکتا ہے کہ عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پایا جاسکیں . دسمبر 2012 میں نربھیا عصمت دری کی واردات انجام دی گئی تھی. 7 سال کے طویل عرصے کے بعد نربھیا عصمت ریزی کے مجرمین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی. پورا ملک سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے خوش ہوگیا. نربھیا کے والدین نے یہاں تک کہہ دیا کہ اب ہماری بیٹی کی آتما کو شانتی ملے گی. 22 جنوری 2020 کو دی جانے والی اس پھانسی کی سزا کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی تھی. جس جلاد کو ان وحشی درندوں کو موت کے گھاٹ اتارنا تھا اس نے ایک ایسا جملہ کہا کہ واقعی روح کانپ اٹھی. اس جلاد کا کہنا تھا کہ میں نے آج تک بہت سے مجرموں کو پھانسی دے کر موت کی نیند سلایا ہوں مگر میں نربھیا کے والدین کا سامنا کرنے سے کانپ جاتا ہوں. جنوری کے پہلے ہفتے میں نربھیا عصمت دری کے ایک مجرم مکیش کی جانب سے صدر جمہوریہ کے پاس رحم کی ایک اور درخواست روانہ کی گئی اور یہی سے شروع ہوا نربھیا عصمت دری کیس میں قانون سے کھلواڑ کا سلسلہ. آج جب ہم یہ سطور تحریر کررہے ہیں. 17 جنوری 2020 رات کے ساڑھے 12 بجے ہیں . کیا صدرجمہوریہ 2 دنوں میں رحم کی درخواست پر اپنے فیصلے سے پھانسی کی اس سزا پر اپنی مہر ثبت نہیں کر سکتے ؟ یا جس طرح 7 سال کا یہ طویل عرصہ نربھیا کے والدین اور ملک میں بسنے والی انصاف پسند عوام نے جس کرب میں گذرا ہے. انہیں انصاف کے نام پر لالی پاپ تھمایا جارہا ہے. یہ بلاوجہ عدلیہ کی کاروائی میں رخنہ اندازی ہے تاکہ پھانسی کی سزا کو باربار ملتوی کرکے ان وحشی درندوں کو سزا سے بچایا جا سکے. اس طرح عصمت دری کے اس طوفان کو روکا تو نہیں جاسکتا ہے. کیونکہ یہ گدھ نما درندے اسی طرح بیٹیوں کی عزتوں کو تار تار کرتے رہیں گے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ کیس چلے گا اس میں سالوں بیت جائینگے اور جب فیصلہ آنے گا تب صدر جمہوریہ تو ہے ان سے رحم کی درخواست کریں گے. تاکہ اگر رحم کی درخواست خارج بھی ہوگئی تو کیا سزا تو ملتوی ہوسکتی ہے. پہلی بات تو ایسے درندوں کا کیس کسی وکیل نے نہیں لینا چاہیے اور دوسری اہم بات ایسے درندوں کے لئے رحم کی درخواست جیسا کوئی آپشن نہیں ہونا چاہئے کہ جہاں یہ قانون کی دھجیاں اڑا کر اس کی گرفت سے بچ سکیں. بس ایک ہی پوائنٹ پر مستقل مزاجی دکھانی ہے کہ ان شیطان کے چیلوں نے کسی کی عزت کا جنازہ نکالا ہے. وہ لڑکی جس کی عفت کا موتی چرا کر اسے موت کے گھات اتار کر یہ درندے دندناتے پھرنا چاہتے ہیں. وہ معصوم جس کی عصمت لوٹی گئی وہ کسی کی بیٹی , کسی کی بہن تھی. شاید ایسے کمینے اپنی ماں بہن کی بھی عزت نہیں کرتے ہونگے. یا ان کے والدین نے انہیں کسی دوسرے کی بیٹی کی عزت کرنا سکھایا ہی نہیں. یا ان کے والدین کی تربیت میں کمی تھی جو ایسا بدکار بیٹا جنم دیا ہے کہ وہ کسی عورت کی عزت کرنا ہی نہیں جانتا.
بین الاقوامی خبریں
ایران نے بڑی جنگی کامیابیاں حاصل کیں۔ امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا۔ پائلٹ کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

تہران : ایران نے مبینہ طور پر ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ طیارے کو نشانہ بنانے کے بعد پائلٹ باہر نکل گیا۔ ایران میں طیارے کے عملے کے دو ارکان کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے کامیابی سے امریکی طیارے کو مار گرایا ہے۔ ایران اور امریکی اسرائیلی اتحاد کے درمیان 28 فروری سے لڑائی جاری ہے۔ Axios کے مطابق، ایرانی میڈیا اور واقعے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران نے امریکی جیٹ کو مار گرانے کے بعد عملے کے دو ارکان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا۔ امریکی فوج اور وائٹ ہاؤس نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، جس سے صورتحال غیر واضح ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعہ کو گرائے گئے طیارے کے ملبے کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کیں۔ ان تصاویر اور ویڈیوز میں مبینہ طور پر گرائے گئے طیارے کے کچھ حصے اور ایک انجیکشن سیٹ دکھائی گئی ہے۔ ان تصاویر اور ویڈیوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایف-15 لڑاکا طیارہ تھا۔ ایرانی میڈیا نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ آیا گرایا گیا طیارہ ایف-35 تھا یا ایف-15۔ اس سے قبل، 2 مارچ کو، کویت کے اوپر تین امریکی ایف-15ای اسٹرائیک ایگل جیٹ طیاروں کو مبینہ طور پر فرینڈلی فائر کے ذریعے مار گرایا گیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے کئی امریکی طیاروں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی سرزمین پر کوئی طیارہ مکمل طور پر تباہ اور گر کر تباہ ہوا ہے۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی اور کئی اوپن سورس انٹیلی جنس اداروں کا خیال ہے کہ امریکی ایف-15 لڑاکا طیارے کا پائلٹ ایرانی حراست میں ہو سکتا ہے۔ ایف-15 کو اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے جنوبی ایران میں مار گرایا۔ امریکی پائلٹ کو نکال کر ایرانی سرزمین پر اتارا۔ تسنیم کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ امریکی فوج نے پائلٹ کے زندہ ہونے پر یقین کرتے ہوئے اسے ایرانی علاقے سے نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ نتیجتاً پائلٹ کو ایرانی فورسز نے پکڑ لیا ہے۔ دریں اثنا، ایرانی فوج نے پائلٹ کے ٹھکانے کی اطلاع دینے والے کو انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایف-15 کا شمار نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے سب سے طاقتور اور مہلک لڑاکا طیاروں میں ہوتا ہے۔ یہ اپنے ناقابل شکست ریکارڈ کے لیے جانا جاتا ہے، یعنی اسے کبھی بھی دشمن کے طیارے نے مار گرایا نہیں ہے۔ ایران میں اس طیارے کا گرانا اس کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ امریکی ایف-15 ماچ 2.5 (2,800 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے اڑ سکتا ہے اور 13,000 کلوگرام سے زیادہ ہتھیار لے جا سکتا ہے۔ اسے امریکی کمپنی میکڈونلڈ ڈگلس نے تیار کیا ہے۔ امریکی فضائیہ ایک طویل عرصے سے اس طیارے کو استعمال کر رہی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی میں آلودہ پانی کی فراہمی کی شکایات کو فوری اور ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت : ایڈیشنل میونسپل کمشنر

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن، اہلیان ممبئی کو مختلف شہری خدمات اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔شہریوں کو روزانہ پینے کا صاف پانی فراہم کرتی ہے۔ اس سلسلے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی بھی وقتاً فوقتاً مختلف سطحوں پر ستائش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم فی الحال کچھ جگہوں سے پانی کی فراہمی سے متعلق شکایات آرہی ہیں۔ متعلقہ حکام ان شکایات کو فوری طور پر حل کریں اور پانی سے متعلق تمام شکایات کو سنجیدگی سے لیں اور بروقت حل کریں۔ اس کے ساتھ ہی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹ) ابھیجیت بنگر نے واضح ہدایات دی ہیں کہ آلودہ پانی کی سپلائی کی شکایات کو فوری اور اولین ترجیح پر حل کیا جائے۔
اس کے علاوہ، پانی کے چینلز میں رساؤ کا فوری طور پر پتہ لگایا جانا چاہئے اور لیکس رساؤ کا پتہ لگانے کے لئے ٹیموں کو مطلوبہ جگہوں پر تعینات کیا جانا چاہئے، بنگر نے جمعرات کی شام کو منعقدہ واٹر انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی ایک خصوصی جائزہ میٹنگ کے دوران بھی ہدایات دی ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹ) ابھیجیت بنگر نے اس میٹنگ کے دوران حاضرین کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی ناکافی فراہمی اور کم پریشر والے پانی کی فراہمی کی شکایات گزشتہ چند دنوں سے کچھ جگہوں سے موصول ہوئی ہیں۔ اس لئے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ بلا تاخیر اس جگہ کا معائنہ کریں۔ اگر اس معائنہ کے دوران موصول ہونے والی شکایت درست پائی جاتی ہے تو فوری طور پر بلا تاخیر مناسب اقدامات کئے جائیں۔ پانی کی فراہمی کے موجودہ نظامِ تقسیم میں، جہاں ضروری ہو، ان اقدامات میں کچھ تبدیلیاں کر کے کوئی راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، پانی کی فراہمی کے ‘زوننگ’ نظام میں مناسب بہتری، اگر پانی کے پائپ میں رساؤ ہے، تو اسے بلا تاخیر ٹھیک کیا جانا چاہیے، جبکہ کچھ جگہوں پر، نظام میں ساختی تبدیلیاں؛ ضرورت کے مطابق بغیر کسی تاخیر کے اضافی ‘بوسٹنگ’ ایسی چیزوں کو اقدامات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا کے مطابق مقامی عوامی نمائندوں کو پانی کی ناکافی فراہمی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔ اگر ممکن ہو تو عوامی نمائندوں کے ساتھ معائنہ کے دورے کرائے جائیں، تاکہ ان سے جو معلومات حاصل کرنے کی توقع ہے وہ براہ راست حاصل کی جا سکے، بنگر نے جائزہ میٹنگ کے دوران یہ بھی تجویز کیا۔ میٹنگ کے دوران آلودہ پانی کی شکایات کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں بنگر نے حکم دیا کہ آلودہ پانی سے متعلق شکایات کو بہت سنجیدگی سے لیا جائے۔ ان شکایات پر کارروائی کرتے وقت انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ آلودہ پانی کی شکایات کے حوالے سے بلاتاخیر کارروائی نہ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، متعلقہ حکام کو ان معاملات کا نوٹس لینا ضروری ہے۔ سینئر افسران کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ تمام ادارے اس حوالے سے انتہائی حساس رہیں۔ اسی میٹنگ کے دوران سینئر افسران کو حکم دیا گیا کہ وہ آلودہ پانی کے منبع کا پتہ لگانے کے لیے بلا تاخیر اور بغیر کسی رکاوٹ کے ’24×7′ طریقے سے کارروائی کریں۔ اس کارروائی کو کرتے ہوئے ضروری افرادی قوت کا دستیاب ہونا بھی ضروری ہے۔ آلودہ پانی کی شکایات کو بروقت حل کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ ان ٹیموں کو زون کے لحاظ سے دستیاب کرایا جائے۔ تاکہ شکایات موصول ہونے کے بعد بلا تاخیر کارروائی کی جاسکے۔ اگر اس کے لیے اضافی افرادی قوت کی ضرورت ہو تو محکمہ کو اس کی درخواست کرنی چاہیے۔ اس کے مطابق افرادی قوت کو ترجیحی بنیادوں پر دستیاب کرایا جائے گا۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن کے واٹر انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے بڑے ذیلی محکموں یعنی پانی کی فراہمی، تعمیرات، منصوبہ بندی اور دیکھ بھال کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ رابطہ قائم رکھنا ضروری ہے۔ نیز اس سلسلے میں محکمہ واٹر انجینئرنگ کے ذیلی محکموں کو ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنا چاہیے۔ واٹر انجینئر کو اس کو یقینی بنانا چاہئے اور اس سلسلے میں ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے میں مشکلات پیش آئے تو انجینئرز کو ضرورت کے مطابق سینئر افسران سے تعاون اور مدد فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی جان بوجھ کر کوتاہی کر رہا ہے تو سب کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ اس سلسلے میں ذمہ داری کا تعین کرنے کے ساتھ متعلقہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بنگر نے آج کی میٹنگ کے دوران اس کا ذکر بھی کیا۔ واٹر انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی اس میٹنگ کے دوران موجود سینئر افسران کو ہدایت دیتے ہوئے مسٹر بنگر نے کہا کہ جلد ہی واٹر سپلائی پلاننگ کا وارڈ سطح پرجائزہ لیا جائے گا۔ اس تناظر میں، ہر محکمے کے اسسٹنٹ انجینئرز (واٹر ورکس) اپنے اپنے کام کے شعبوں اور اپنے کام کے علاقوں میں ہونے والے کام کا جائزہ لیں اور جائزہ اجلاس کے دوران اس کے بارے میں پریزنٹیشن دیں۔ ممبئی میٹرو پولیٹن علاقہ میں میونسپل کارپوریشن اور دیگر حکام کے ذریعہ سڑکوں کی ترقی اور دیگر کام بڑے پیمانے پر کئے جارہے ہیں۔ ان کاموں کی وجہ سے کچھ جگہوں پر واٹر سپلائی چینلز کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا ہے، جب کہ کچھ جگہوں پر واٹر چینلز خراب ہو سکتے ہیں۔ اس سے متعلقہ علاقے کی پانی کی فراہمی میں وقتی طور پر خلل پڑ سکتا ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو علاقے میں پانی کی نالیوں کی فوری مرمت کی جائے یا ضرورت کے مطابق نئے واٹر چینل بچھائے جائیں۔ ان تمام کاموں کو انجام دینے کے دوران، واٹر انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے مختلف ذیلی ڈویژنوں کے ساتھ ساتھ میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں کو قریب سے مربوط کرنا چاہئے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی مضافات سے ۵۰ غنڈے شہر بدر, گھاٹکوپر سمیت زون ۷ کے کئی غنڈوں پر پولس کا ایکشن

ممبئی: ممبئی پولس نے غنڈوں بدمعاشوں کےخلاف سخت کاروائی شروع کردی ہے اس لیے اب جرائم میں ملوث غنڈوں کی خیر نہیں ہے پولس نے علاقہ میں دہشت پیدا کرکے جرائم کی وارداتیں انجام دینے والے غنڈوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اسی کے مناسبت سے خطرناک غنڈے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ممبئی پولس کے زون ۷ میں تقریبا ۵۰ غنڈوں کو شہر بدر کردیا گیا ہے۔ ان پچاس غنڈوں پر نئی ممبئی، ممبئی، تھانہ کی حدود میں تڑی پار شہربدری کے دوران داخلہ ممنوعہ ہے ممبئی پولس نے اپیل کی ہے کہ ان غنڈوں کے خلا ف اگر کوئی شکایت کرنا چاہتا ہے تو اس کی شکایت وہ پولس اسٹیشن میں کرسکتا ہے اس پر کارروائی ہو گی یہ کارروائی ممبئی زون ۷ کے ڈی سی پی ہیمراج راجپوت کی ۲۰۲۶ کی رپورٹ پر کی گئی ہے ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر یہ کارروائی کی گئی ہے جس میں گھاٹکوپر، پنتھ نگر، وکرولی، بھانڈوپ، کانجورمارگ، ملنڈ اور نوگھر کے پچاس غنڈوں کو شامل کیا گیا ہے ان تمام غنڈوں پر سنگین جرائم اور علاقہ میں دہشت پیدا کرنے سمیت دیگر الزامات ہے۔ ممبئی پولس نے ممبئی میں امن وامان کی بقا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کےلئے ایسے غنڈوں پرکارروائی کی ہے جس میں گھاٹکو پر پولس اسٹینش میں سورج عرف کنچا دلوی، جتیش رام کھیرنار، جعفر برکت علی ونت راؤ اسی طرح گھاٹکوپر سے ۱۰ ،پنتھ نگر سے ۸ ، وکرولی سے ۴، پارک سائٹ سے ۲ ، بھانڈوپ سے ۸ کانجورمارگ سے ۳ ، ملنڈ سے ۱۰ نوگھر سے ۶ ملزمین اور غنڈوں کو شہر بدر کیا گیا ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
