Connect with us
Tuesday,26-May-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کو ایک اور جھٹکا

Published

on

alama

مالیگاؤں: ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہ جمہوریت کی اس ملک کی پہچان ہے، حالانکہ لگاتار فرقہ پرست عناصراس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ہندوستان کی جمہوریت کو ختم کر کے اسے ہندو راشٹر بنادیا جائے، شیوشینا ، بی جے پی، بجرنگ دل ، آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں ہر وقت مسلمانوں کے خلاف شازشیں رچتی رہتی ہیں. اکھنڈ بھارت کا سپنا دکھا کر بی جے پی اقتدار پر قابض ہوگئی، اقتدار سنبھالتے ہی بی جے پی نے مسلماںوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا، جہاں بی جے پی کے قہر سے مسلمان محفوظ نہیں ہے وہی ملک کے ہندوؤں میں بھی بی جے پی کے خلاف ناراضگی پائی جارہی ہیں،وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کی سالمیت کو اقتصادی نقصان پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے،گزرے 5 سالوں سے لے کر 2019 کے ان 6 ماہ میں مودی جی نے صرف اپنے اصول بنائے ہیں، کالا دھن واپس لانے کے نام پر ملک کو نوٹ بندی کے نام پر لائن میں کھڑا کیا گیا، اس کے بعد بھی کالا دھن تو واپس نہیں آیا البتہ نوٹ بندی میں سینکڑوں جانیں تلف ہوئیں، ابھی نوٹ بندی کے قہر سے ابھرا بھی نہیں تھا کہ جی ایس ٹی کے کوڑے نے عوام کو جینا محال کر دیا، یہ جی ایس ٹی صرف غریب عوام کی روز مرہ استعمال میں آنے والی اشیاء پر نافذ ہیں، جی ایس ٹی کا پورا فائدہ تو ملک کی کارپوریٹ سیکٹر اٹھارہی ہیں، جس کی واضح مثال کھانے کے بسکٹ پر 18 فی صد جی ایس ٹی اور سونے کے بسکٹ پر 3 فی صد ہے، ملک کی غریب عوام مزید غریب ہوتی جا رہی ہے اور ٹاٹا برلا ،امبانی عیش کر رہے ہیں ، نیرو مودی اور وجئے مالیا کروڑوں کا گھوٹالا کرکے ملک سے فرار ہے، ملک کو بدعنوان اور بدعنوانی سے پاک کرنے ، مہنگائی پر قابو پانے اور اچھے دنوں کی آس کا نعرہ دے ، سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نام پر الیکشن جیتا گیا، آج عالم یہ ہے کہ ملک کا کسان خودکشی کررہا ہے، وعدوں کی بارات بغیر دلہن کے لوٹ گئی ہے، ٹریفک چالان کے نام پر عوام کو لوٹنے کا نیا ہتھکنڈا میدان عمل میں لایا گیا ہے، جس سے عوام اور بپھر گئی،اس وقت اگر ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پہلے چور ڈاکوؤں کے خوف سے اپنی جمع پونجی اور زیورات بینکوں میں رکھے جاتے تھے، اب تو صاحب بینکوں میں ڈاکہ پڑ گیا ہے، تو اب بتائیں جائے تو جائے کہاں ؟سمجھے گا کون یہاں ؟ اب مسلمانوں کی بھی سنیں، جب سے نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں، پورے ملک کو مسلمانوں کے لیے گجرات بنانا چاہتے ہیں، آج بھی گجرات کے گودھرا کانڈ کے 2 ہزار مسلمانوں کی روحیں انصاف کے لیے ترس رہی ہیں، یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کا شہروں کا نام کرن یوپی فساد میں مسلمانوں کا قتل عام ، طلاق ثلاثہ بل کے نام پر اسلام میں مداخلت گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں کی مآب لنچنگ، وندے ماترم اور اس ملک میں رہنا ہے تو جئے شری رام بولنا ہوگا، جب دیکھا گیا کہ اتنے قتل عام کے بعد بھی مسلمان ڈٹ کر ہند کی سرزمین پر کھڑا ہے تو این آر سی کے نام پر مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی شازش، اس وقت یہ سنگھی ٹولہ بھول جاتا ہے کہ مسلمان اس ملک میں کرائے دار نہیں حصے دار ہے،یہ ملک جتنا ہندوؤں کا ہے اتنا ہی مسلمانوں کا ہے، مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اس ملک کو آزاد کرایا تھا،آج بھی ہند کی سرزمین مسلمانوں کے خون سے لالہ زار ہیں، اس طرح سنگھی ٹولہ اپنی زعفرانی ذہینیت کا مظاہرہ کرتا ہی رہتا ہے، اتر پردیش کے پیلی بھیت میں ایک سرکاری اسکول کے صدر معلم فرقان سر کو اسمبلی میں شاعر مشرق علامہ اقبال کی لکھی لب پہ آتی ہے دعا پڑھانے کی پاداش میں معطل کر دیا گیا ہے۔، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ کے اراکین کی شکایت پر بیسک ایجوکیشن آفیسر سرینڈر کمار نے تحقیقات کی ، عام طور پر اسکولوں کی اسمبلی میں لب پہ آتی ہے دعا پڑھائی جاتی ہے،ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکنان کے مطابق آیا اسکول میں قومی ترانہ پڑھایا جاتا ہے یا نہیں بلکہ انہیں علامہ اقبال کی نظم پڑھائے جانے پر اعتراض ہے، کیونکہ سنگھی ٹولہ پرائمری اسکولوں کی اسمبلی میں سرسوتی وندنا پڑھانے کی مانگ کر رہے تھے، لہذا وی ایچ پی اور بجرنگ دل کارکنان کی شکایت پر اسکول کے صدر معلم فرقان سر کو معطلل کردیا گیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی اور آئی آئی ایم ممبئی کے درمیان ثبوت پر مبنی شہری حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت نامے تحقیق، ڈیٹا تجزیہ، صلاحیت کی ترقی پر زور

Published

on

ممبئی میونسپل کارپوریشن اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، ممبئی کے درمیان آج (25 مئی 2026) کو شہری نظم و نسق، تحقیق، اختراعات اور صلاحیت کی ترقی کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کی بنیاد رکھنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ میونسپل کارپوریشن کمشنر اشونی بھیڈے اور آئی آئی ایم ممبئی کے ڈائریکٹر منوج کمار تیواری نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش دھکنے، جوائنٹ کمشنر (اصلاحات) سنجوگ کابرے، ڈپٹی کمشنر (دفتر میونسپل کمشنر) پرشانت گائکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (ایس ایس پی) پرشانت گائکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (ایس ایس پی) پرشانت گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ الکا ساسانے، میونسپل کارپوریشن کے بزنس ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ششی بالا، ڈپٹی ہیڈ ڈاکٹر ستیش ریوتکر، آئی آئی ایم ممبئی کی چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسرنیشا سنگھ موجود تھے۔

ممبئی آئی آئی ایم ممبئی جیسے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے شہر کو درپیش پیچیدہ شہری مسائل کے موثر حل تلاش کرنے کے لیے مینجمنٹ، ڈیٹا تجزیہ، عوامی پالیسی وغیرہ کا مطالعہ کرے گا۔ تعلیمی علم اور عملی انتظامی کام کو ملا کر شہر کی انتظامیہ کو مزید موثر اور موثر بنانے پر زور دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہری انتظامیہ، میونسپل فنانس، انفراسٹرکچر پلاننگ اور پبلک ایڈمنسٹریشن پر ایک مشترکہ مطالعہ کیا جائے گا۔ اس سے پالیسی سفارشات اور گائیڈ لائن رپورٹس تیار کی جائیں گی۔ یہ معاہدہ میونسپل کارپوریشن میں پیپر لیس ایڈمنسٹریشن اور ڈیجیٹل ورک فلو کو تیز کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔میونسپل افسران کے لیے شہری نظم و نسق، پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے ساتھ منسلک جغرافیائی بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) گورننس اور رسک مینجمنٹ، اور پبلک پروکیورمنٹ اور کنٹریکٹ مینجمنٹ پر خصوصی تربیتی پروگرام لاگو کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ میونسپل سروسز جیسے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، واٹر سپلائی سسٹم، صحت، شہریوں پر مبنی خدمات کی کارکردگی کو بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔اس معاہدے کے تحت سیلاب کے انتظام، موسمیاتی تبدیلیوں کے موافقت، کاربن کے اخراج میں کمی، ماحولیاتی پائیداری اور سرکلر اکانومی پر مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ آئی آئی ایم ممبئی کے طلباء کو ہینڈ آن پروجیکٹس، انٹرن شپ، فیلڈ وزٹ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔اس پہل کے تحت، ایک ’ممبئی میونسپل کارپوریشن اور آئی آئی ایم ممبئی اربن انوویشن سینٹر آف ایکسی لینس‘ کے قیام کا تصور بھی تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نقل و حرکت، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، واٹر سپلائی اور ڈیجیٹل گورننس میں اختراعی حل کی جانچ کی جائے گی اس معاہدے کے موثر نفاذ کے لیے آئی آئی ایم ممبئی کے ڈائریکٹر اور میونسپل کمشنر کی صدارت میں ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی، پیشرفت کی نگرانی اور سہ ماہی جائزے کے لیے کام کرے گی۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے یقین ظاہر کیا کہ تعلیمی اداروں اور شہری بلدیاتی اداروں کے درمیان بامعنی تعاون کا یہ ماڈل، بشمول ممبئی کے شہریوں کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق پائیدار شہری حل تیار کرنا، قومی سطح پر ایک ماڈل بن جائے گا۔ آئی آئی ایم ممبئی کے ڈائرکٹر جناب منوج کمار تیواری نے کہا کہ یہ مفاہمت نامہ علمی فضیلت اور شہری قیادت کا ایک موثر سنگم ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی : ابو عاصم اعظمی کی قیادت میں ایک عظیم الشان “ویمنز مارٹ” ایونٹ : “میڈ اِن گوونڈی”، خواتین کی بااختیاری کا ایک نیا پلیٹ فارم

Published

on

Abu Asim..

ممبئی : مشرقی مضافات کے گوونڈی علاقے میں خواتین کو بااختیار بنانے اور خود انحصاری کو فروغ دینے کے لیے اے اے اے فاؤنڈیشن (ابو عاصم اعظمی فاؤنڈیشن) کے زیر اہتمام دو روزہ “گوونڈی ویمن مارٹ” نمائش بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ یہ تقریب محض ایک نمائش نہیں تھی بلکہ گوونڈی کی ہنرمند خواتین کے خوابوں، محنت اور خود انحصاری کی ایک نئی صبح تھی۔ اس کامیاب اقدام کے بعد اس مہم کو مزید وسعت دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ مستقبل میں، “گوونڈی ویمنز مارٹ” کو “میڈ ان گوونڈی” کے نام سے ایک بڑے برانڈ اور پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ یہ نہ صرف گھریلو خواتین کو ایک نئی شناخت اور عالمی مارکیٹ فراہم کرے گا بلکہ چھوٹے کاروباریوں، گھریلو صنعتوں اور علاقے میں فیکٹریوں میں تیار ہونے والی مقامی مصنوعات کو بھی۔

مشہور مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی اس عظیم الشان تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے اے اے اے فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پورے پروگرام کی تعریف کی۔ خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “گوونڈی کی خواتین میں حیرت انگیز ٹیلنٹ ہے، انہیں صرف صحیح پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ AAA فاؤنڈیشن کے بینر تلے منعقد ہونے والے اس مہیلا مارٹ نے ثابت کیا ہے کہ جب ہماری ماؤں اور بہنوں کو مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، وہ خود انحصاری کا ایک نیا باب لکھتی ہیں۔” انہوں نے منتظمین کو ہدایت کی کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مستقبل میں اس طرح کے مزید بڑے پیمانے پر پروگرام گوونڈی اور گردونواح میں منعقد کیے جائیں اور وہ ان کی بھرپور حمایت کریں گے۔ خواتین کے گھریلو اور ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے، اس دو روزہ نمائش کو اب گوونڈی میں ایک باقاعدہ اور مستقل تقریب بنایا جائے گا، جو ان چھوٹے کاروباروں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

تقریب کی سب سے بڑی کامیابی مقامی آبادی کی غیر متزلزل حمایت سے حاصل ہوئی۔ گوونڈی کے باشندوں نے بڑی تعداد میں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نہ صرف مقامی لوگ بلکہ ممبئی کے مختلف حصوں اور دور دراز کے شہروں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے مارٹ میں آئے۔ صارفین کے زبردست ردعمل کو دیکھتے ہوئے عوام نے خصوصی طور پر درخواست کی ہے کہ اس ایونٹ کو مستقل کیا جائے۔

اس خصوصی موقع پر بی ایم سی خواتین اور بچوں کی بہبود کمیٹی کی چیئرپرسن مینل تردے نے بھی بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ نمائش کا معائنہ کرنے کے بعد انہوں نے اس منفرد اقدام کی بھرپور تعریف کی اور سٹالز لگانے والی خواتین سے بات چیت کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

اس تاریخی اور کامیاب تقریب کے لیے سماج وادی پارٹی، اے اے اے فاؤنڈیشن، ریان شیخ اعظمی، اور گوونڈی کے تمام باشندوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات۔ علاقے کے لوگوں کا خیال ہے کہ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کی رہنمائی میں شروع کیا گیا یہ اقدام گوونڈی کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قربانی پر شرعی تقاضوں خیال جائے، صفائی پر توجہ کی اپیل، سوشل میڈیا پر دل آزاری سے گریز کرنے کی اپیل : معین میاں

Published

on

Moin-Mian

ممبئی : حضرت معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے قومی صدر آل انڈیا سنی جمعیت العلماء سجادگان کچھوچہ مقدّسہ یوپی کی قربانی پر خصوصی رہنمایانہ اصول و ضوابط جاری کئے ہیں اور مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید الاضحی پر کسی کی دل آزاری نہ کرے ساتھ ہی قربانی کا ویڈیو نہ بنائیں۔

عیدالاضحی کے پیش نظر حضرت معین میاں نے امت مسلمہ سے قربانی کے دوران ضروری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس لیے قربانی کرتے وقت شرعی تقاضوں، صفائی اور بھائی چارگی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ حضرت معین میاں نے فرمایا کہ قربانی کا جانور فربہ اور شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ بیمار، کمزور یا عیب دار جانوروں کی قربانی سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کا مقصد دکھاوا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی نیت صاف رکھیں اور غریبوں، ناداروں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ اسلام میں پاکیزگی نصف ایمان ہے اور یہی اس کا اہم جز بھی ہے, قربانی کا گوشت ضرورت مندوں میں تقسیم کرنا احسان عظیم ہے, جس سے اخوت، محبت اور انسانیت کو تقویت ملتی ہے۔ حضرت معین میاں نے صفائی ستھرائی اور امن و امان برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان