Connect with us
Friday,23-October-2026

(جنرل (عام

اورنگ آباد میں مفسر قرآن مولانا عبدالکریم پاریکھ کی منائی گئی برسی

Published

on

(نامہ نگار )
مشہور و معروف مفسر قرآن،بدم بھوشن مولانا عبدالکریم پاریکھ نے قرآن کریم کے ساتھ انسانیت کی بے پناہ خدمت کی ہے،انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن اور اللہ کے بندوں کی خدمت کے لیے وقف کردی تھی،حکومت ہند ملک میں امن وامان،اخوت وبھائی چارہ کو فروغ دینے کے لیے ان کی کاوشوں کے مدنظر انہیں پدم بھوشن ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ان خیالات کا اظہارمولانا نسیم الدین مفتاحی صدر مدرس جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم اورنگ اؑباد نے مولانا پاریکھ کی ۳۱ ویں برسی پر منعقدہ مذاکرہ میں کیا۔یہ مذاکرہ مولانا کی سوانح”بحرکوثر کی آب جو“ جس کے مصنف مولانا کے بڑے فرزند عبدالغفور پاریکھ ہے اس پر منعقد کیاگیاتھا۔ شرکاء مذاکرہ مولانا محمد الیاس فلاحی (نائب صدر جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر) مولانا عبدالرحمن ندوی،مولانا قاضی نوشادالدین ندوی،عبدالجبار باغبان (صدرجامعہ اسلامیہ کاشف العلوم)ایم ڈی طیب تھے۔ مولانا الیاس فلاحی نے پاریکھ صاحب کی قرآن کی خدمت اور اسے کے پیغام نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں تک پہنچانے کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مولانا نے ناگپورشہرمیں ہزاروں افراد کو قرآن کریم کوترجمہ کے ساتھ پڑھنے والا بنایا خصوصاََانہوں نے خواتین میں نہ صرف قرآن کا شوق پیدا کیا بلکہ انہیں قرآن کی معلمہ بنایا اور انہیں محلوں میں پڑھانے کے لیے معقول مشاہرہ بھی دیا۔ان کی کتاب ”لغات القرآن“ قرآن کے معانی ومطالب کوسمجھنے کے لیے غیرمعمولی اہمیت کی حامل کتاب ہے جس سے ہزاروں لوگوں نے قرآن سمجھنے کے لیے استعمال کیا ہے۔مذاکرہ کی ابتداء میں فاؤنڈیشن ک صدر مرزاعبدالقیوم ندوی نے بتایاکہ مولانا پاریکھ صاحب نے مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن ندوی کی قائم کردہ تحریک پیام انسانیت کے ذریعہ ملک میں ہندو مسلم اتحاد اوتفاق،آپسی بھائی چارہ کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا وہ بھی ایسے وقت میں جس وقت کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا تھا ہر جگہ انسانیت کا قتل عام ہورہا تھا،انسان انسان کا دشمن بن گیا تھا،اس وقت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی رقابت انہوں نے پیام انسانیت کا کام کیا۔آج ان کی 13 ویں برسی پر انہیں خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے خدمات کا اعتراف کرنے ان کی کاموں اور کارناموں کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے یہ مذاکرہ منعقد کیاگیا ہے۔مولنا کی تمام زندگی کا نچوڑ ان کے فرزند عبدالغفور پاریکھ نے اپنے والد پرلکھی کتاب”بحرکوثر کی آب جو“ میں کردیا ہے۔یہ کتاب مولانا پاریکھ کی قرآنی خدمات ملک بھرمیں ان کے اسفار اور تقاریر،ملک کی بڑی شخصیات سے ملاقاتوں کا ذکر ہے ساتھ ہی مولانا کے انتقال کے بعدملک بھر کے تمام زبانوں کے اخبارات نے جو خبریں،اداریہ اور مضامین شائع کے ہیں ان کو بھی اس کتاب میں شامل کیا گی ہے۔ مولانا عبدالرحمن ندوی نے کہاکہ پاریکھ صاحب اکثر اورنگ ا ٓباد آیاکرتے تھے اور وہ جب بھی آتے وہ یہاں کے سربرآوردہ شخصیات خصوصاََغیر مسلم دانشوروں سے ضرور ملتے اورملک کی موجودہ صورتحال پر ان سے تبادلہ خیال کرتے تھے۔قاضی نوشاد الدین ندوی نے بھی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے طالبعلمی سے مولانا سے رابطہ کا تذکرہ کیا۔ پروگرام میں نظامت کے فرائض ایم ڈی طیب نے انجام دیئے، اظہار تشکر مرزا ابوالحسن علی نے کیا جبکہ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے مرزا طالب نے اپنا تعاون دیا.

(جنرل (عام

اسد الدین اویسی نے کہا، “مکہ اور مدینہ میں پھنسے ہوئے 4000 ہندوستانی سخت مشکلات میں ہیں،” فوری طور پر خصوصی پروازیں بھیجیں۔

Published

on

Saudi-Owesi

نئی دہلی : مشرق وسطیٰ میں بحران کی وجہ سے اس وقت چار ہزار ہندوستانی عازمین مکہ، مدینہ اور جدہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان عازمین کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔ یہ مسئلہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کرکے ہندوستانی حکومت سے ہندوستانی یاتریوں کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔ اویسی نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت جلد از جلد ان یاتریوں کو وہاں سے نکالے۔ ایم پی اسدالدین اویسی نے کہا، “گزشتہ دو تین ہفتوں سے تقریباً چار ہزار ہندوستانی عمرہ زائرین مکہ، مدینہ اور جدہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹریول ایجنٹس نے انہیں ان کے اپنے آلات پر چھوڑ دیا ہے۔ وہاں ان کی حالت تشویشناک ہے۔ ان تمام مسافروں نے انڈیگو ایئر لائنز، اکاسا ایئرلائنز، ہندوستانی پروازوں کے ڈائریکٹر اکاسائیو، اور آکاسا ایئرلائنز میں سفر کیا۔ (ڈی جی سی اے) ان تینوں ایئر لائنز کو جدہ جانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ ہم ڈی جی سی اے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تینوں ایئر لائنز کو فوری طور پر بڑا طیارہ اے321 اڑانے کی اجازت دی جائے اور ان 4000 ہندوستانی عازمین کو بحفاظت ہندوستان لایا جائے۔

اسدالدین اویسی نے مزید کہا، “ہمیں امید ہے کہ ہندوستانی حکومت اور خاص طور پر ہمارے اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو، ​​وزیر خارجہ ایس جے شنکر، اور شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو اس معاملے پر فوری توجہ دیں گے۔ اگر ڈی جی سی اے اجازت نہیں دیتا ہے، تو ہندوستانی حکومت ان خصوصی طیاروں کو واپس بھیجے جو یوراہ کے لیے گئے ہیں۔” واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ یمن کے حوثی باغی بھی ایران کی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ میں شامل ہو گئے ہیں۔ حوثی سعودی عرب کو نشانہ بنا کر ڈرون حملے کر رہے ہیں۔ حال ہی میں، حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ کیا، جس سے بڑی تعداد میں پروازیں متاثر ہوئیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

آسام ویجیلنس ڈی ایس پی ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تحقیقات جاری ہیں

Published

on

Death

گوہاٹی : آسام میں چیف منسٹر کے ویجیلنس سیل سے منسلک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کھرگیشور رابھا کی جزوی طور پر بوسیدہ لاش جمعرات کو بونگائیگاؤں کے ایک ہوٹل کے کمرے سے برآمد ہوئی، جس سے اس کی موت کے آس پاس کے حالات کی تحقیقات شروع ہوگئی، حکام نے بتایا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق رابھا کی لاش بونگائی گاؤں میں ہوٹل جاہنوی ریجنسی کے کمرہ نمبر 102 کے اندر سے ملی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جب اسے برآمد کیا گیا تو لاش جزوی طور پر گلنے والی حالت میں تھی۔ جسم کی بازیابی کی وجہ سے حالات واضح نہیں ہیں۔ موت کی وجہ سرکاری طور پر قائم نہیں ہوسکی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ پولیس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ افسر کی موت کے ارد گرد کے حالات کی تحقیقات کرے گی اور اس کی لاش کی بازیابی سے پہلے کے واقعات کی ترتیب قائم کرے گی۔

فوری طور پر اس بارے میں کوئی سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہوسکی کہ آیا کسی غلط کھیل کا شبہ تھا یا پوسٹ مارٹم کا معائنہ کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے نتائج اور طبی معائنے سمیت مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں آسام میں پولیس اہلکاروں پر مشتمل پریشان کن اقساط کی ایک سیریز کے درمیان سامنے آیا ہے، بشمول عسکریت پسندوں کے حملے، پولیس آپریشن کے دوران حملے اور سیکورٹی اداروں کے اندر مہلک فائرنگ۔ 10 ستمبر کو، ضلع ناگون کے گائوں گیرواٹی میں ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک پولیس ٹیم پر لوگوں کے ایک گروپ کی طرف سے حملہ کیا گیا جس میں کھٹووال تھانے کے انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ واقعے میں پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔

اس سے قبل 3 ستمبر کو کامروپ ضلع کے گیمریمورا پولیس چوکی پر فائرنگ میں آسام پولیس کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ ایک ساتھی پولیس اہلکار پر اے کے 47 رائفل سے فائرنگ کرنے کا الزام تھا۔ ایک اور بڑے واقعے میں، آسام پولیس کے چار اہلکار زخمی ہوئے جب مشتبہ عسکریت پسندوں نے 22 مارچ کو تینسوکیا ضلع کے جگن میں ایک پولیس کمانڈو چوکی پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، حملے میں راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ شامل تھے۔ ان واقعات نے ریاست میں پولیس اہلکاروں کو آپریشن کے دوران اور سیکورٹی اداروں کے اندر درپیش خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم، پولیس ابھی تک ان واقعات اور رابھا کی موت کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کر پائی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں مجوزہ یکساں سول کوڈ سے متعلق مسلمانوں اور اقلیتی برادریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا ابوعاصم اعظمی کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے متعلق رائے طلب کئے جانے کے ساتھ اس میں مسلمانوں اقلیتوں کے مذہبی عقائد کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے ایک میمورنڈم میں وزیر اعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام کو یہ باور کروایا کہ یو سی سی یکساں سول کوڈ سے متعلق فیصلہ میں سرکار مسلمانوں اقلیتوں کے مذہبی آزادی اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔ مہاراشٹر میں مجوزہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے مطابق شہریوں سے طلب شدہ اعتراضات اور تجاویز کے پس منظر میں، ایک نمائندگی و میمورنڈم وزیر اعلی ریاست مہاراشٹر دیویندر فڑنویس ممبئی سٹی، ممبئی مضافاتی اور بھیونڈی کے متعلقہ ڈسٹرکٹ کلکٹرس کو پیش کیا گیا اس میں مطالبے کیا گیا تمام اقلیتی برادریوں بشمول مسلم کمیونٹی کے آئین ہند کی طرف سے دی گئی مذہبی آزادی، ذاتی قوانین سے متعلق حقوق اور حقوق کے تحفظ کیا جائے اس یادداشت کے معرفت یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں فیصلہ لیتے وقت مسلم کمیونٹی کے مذہبی عقائد، روایات اور پرسنل لاز پر مکمل غور کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نکاح، مہر، طلاق، نفقہ اور وراثت کے حقوق جیسے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل مسلم کمیونٹی کے مذہبی رہنماؤں، فقہا، خواتین کے نمائندوں اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں سے وسیع تر بات چیت کی جانی چاہیے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یکساں سول کوڈ کا پورا مسودہ منظر عام پر لایا جائے، شہریوں کو اپنے اعتراضات اور تجاویز کے لیے مناسب وقت دیا جائے اور موصول ہونے والی تمام تجاویز پر منصفانہ غور کیا جائے۔ ساتھ ہی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے عمل میں آئین میں مساوات کا حق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ خواتین اور مردوں کو یکساں انصاف، وقار اور قانونی تحفظ ملنا چاہیے۔ تاہم اس کے لیے کسی بھی مذہبی طبقے کے آئینی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس میں موقف پیش کیا گیا ہے کہ حکومت کو تمام متعلقہ برادریوں کو اعتماد میں لینے، شفاف طریقے سے اور وسیع تر بات چیت کے بعد ہی آگے کی کارروائی کرنی چاہیے۔ حکومت اس بیان کا نوٹس لے، مسلم کمیونٹی سمیت تمام اقلیتی برادریوں کے اعتراضات اور تجاویز پر صحیح غور کرے اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام کرے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان