Connect with us
Monday,25-May-2026
تازہ خبریں

سیاست

آندھرا حکومت نے شروع کیا سماجی پنشن اسکیم، جنوری کیلئے 1,765 کروڑ روپے جاری، 64 لاکھ لوگوں کو ہوگافائدہ

Published

on

آندھرا پردیش حکومت نے سماجی پنشن کو موجودہ 2500 روپے سے بڑھا کر 2,750 روپے ماہانہ کر دیا ہے۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے منگل کو راجمہندراورم شہر میں اس اسکیم کا باضابطہ آغاز کیا اور جنوری کے مہینے کے لئے 1,765 کروڑ روپے جاری کئے۔اس موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنشن سکیم میں اضافے سے پسماندہ افراد بشمول معذوروں، بیواؤں اور معمر افراد کو فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کا ہر طبقہ بشمول خواتین، پسماندہ ذاتیں،ایس سی،ایس ٹی اور تقریباً تمام طبقات ماہی گیر، ہینڈ لوم ورکرز، تاڈی ٹیپر اور یہاں تک کہ گردے کے ڈائیلاسز سے گزرنے والے مریض بھی پنشن میں اضافے سے خوش ہیں جس پر حکومت نے اب تک 62,500 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے موجودہ وائی ایس آر سی پی حکومت اور پچھلی تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) حکومت کے درمیان قابلیت کے فرق کو دیکھنے کی بھی اپیل کی۔

اے پی کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ لوگوں کو ان کی فلاحی حکمرانی کے درمیان فرق دیکھنا چاہیے جو 2,750 روپے سے لے کر 10,000 روپے تک کی ماہانہ پنشن لوگوں کے مختلف طبقوں کو تقسیم کر رہی ہے، جس کے تحت ریاست بھر میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر نفع پہنچ رہا ہے۔ریڈی نے مزید کہا کہ وائی ایس آر سی پی حکومت میں پنشنرز کی تعداد 64 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو ٹی ڈی پی کے دور حکومت میں 39 لاکھ تھی۔

انہوں نے کہا کہ ماہانہ پنشن بل میں بھی ٹی ڈی پی کے دور حکومت میں 400 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1,765 کروڑ روپے فی الحال اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 21,180 کروڑ روپے سالانہ پنشن خرچ ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے 44,543 نئے کارڈز شامل کرکے چاول کے راشن کارڈوں کی کل تعداد 145,88,539 تک لے گئی۔

نھوں نے کہا کہ آروگیاسری کارڈز 141,48249 تک 144,100 کارڈز نئے شامل کر کے؛اور مختلف فلاحی اسکیموں کو انتہائی شفاف طریقے سے نافذ کرتے ہوئے مزید 14,531 اراضی کی تقسیم کرکے 30,29,171 کو ہاؤس سائٹ پٹا بنا دیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

قربانی پر شرعی تقاضوں خیال جائے، صفائی پر توجہ کی اپیل، سوشل میڈیا پر دل آزاری سے گریز کرنے کی اپیل : معین میاں

Published

on

Moin-Mian

ممبئی :حضرت معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے قومی صدر آل انڈیا سنی جمعیت العلماء سجادگان کچھوچہ مقدّسہ یوپی کی قربانی پر خصوصی رہنمایانہ اصول و ضوابط جاری کئے ہیں اور مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید الاضحی پر کسی کی دل آزاری نہ کرے ساتھ ہی قربانی کا ویڈیو نہ بنائیں۔

عیدالاضحی کے پیش نظر حضرت معین میاں نے امت مسلمہ سے قربانی کے دوران ضروری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس لیے قربانی کرتے وقت شرعی تقاضوں، صفائی اور بھائی چارگی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ حضرت معین میاں نے فرمایا کہ قربانی کا جانور فربہ اور شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ بیمار، کمزور یا عیب دار جانوروں کی قربانی سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کا مقصد دکھاوا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی نیت صاف رکھیں اور غریبوں، ناداروں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ اسلام میں پاکیزگی نصف ایمان ہے اور یہی اس کا اہم جز بھی ہے, قربانی کا گوشت ضرورت مندوں میں تقسیم کرنا احسان عظیم ہے, جس سے اخوت، محبت اور انسانیت کو تقویت ملتی ہے۔ حضرت معین میاں نے صفائی ستھرائی اور امن و امان برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

عیدالاضحی پر قربانی کے لئے ہائی الرٹ، شرپسندوں پر کارروائی کا انتباہ، سوشل میڈیا پر قربانی کی ویڈیو وائرل نہ کرنے کی تھانہ پولیس کمشنر کی اپیل

Published

on

Police-Commitional

ممبئی : ممبئی عید الاضحی کے پیش نظر تھانہ میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اگر کوئی بھی شرپسند عناصر عید الاضحی کے دوران شرپسندی کرتا ہے تو اس پر سخت کارروائی ہوگی۔ یہ انتباہ تھانہ کے پولیس کمشنر آشوتوش ڈومبرے نے ایک خاص ملاقات میں دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہے کہ گئو کشی ممنوعہ ہے اگر کوئی قانون شکنی کرتا ہے یا ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہوگی, جبکہ شاہراہوں اور چیک ناکوں پر خصوصی نگرانی رکھی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عید الاضحی ایثار و قربانی کا درس دیتا ہے اور یہ سنت ابراہیمی بھی ہے فریضہ قربانی کی ادائیگی کے دوران سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور ویڈیو وائرل نہ کی جائے اس کے ساتھ ہی قربانی کے بعد گوشت کی تقسیم کے دوران گوشت کو اچھی طرح سے ڈھانپ کر لیجایا جائے, سہ روزہ قربانی کے دوران خون آلود کپڑوں میں گشت کرنے سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ہی چاقو اور ہتھیار کی نمائش نہ کی جائے, قربانی کے دوران صاف صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے عمل سے گریز کریں جس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہو, کیونکہ قربانی ہمیں اپنی سب سے قیمتی چیز قربان کرنا کا درس دیتی ہے۔

آشوتوش ڈومبرے نے کہا کہ تھانہ، ممبرا، بھیونڈی، الہاس نگر، رابوڑی سمیت دیگر مقامات پر خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جانوروں کی منڈی پر بھی پولیس کی خاص نظر ہے۔ اعلی افسران کو سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ نگرانی رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ آشوتوش ڈومبرے نے کہا ہے کہ اگر کوئی بھی ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے یا مذہبی منافرت پھیلانے میں ملوث پایا جاتا ہے اس پر سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تھانہ کمشنریٹ میں بھائی چارگی اور یکجہتی کے ساتھ تہوار منائے جاتے ہیں ایسے میں شرپسندوں پر بھی نگرانی رکھی جارہی ہے۔ ماضی میں قربانی کے دوران جن علاقوں میں چھوٹی موٹی گڑ بڑی یا واردات ہوئی ہے اس پر بھی پولیس نظر رکھ رہی ہے۔ تھانہ کمشنر نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جن سوسائیٹیوں میں قربانی کی اجازت میونسپل انتظامیہ نے فراہم کی ہے وہاں قربانی کے دوران ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اگر قربانی کے اجازت نامہ کے بعد بھی شرپسند عناصر گڑ بڑی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس پر کارروائی ہوگی انہوں نے کہا کہ قربانی سے قبل سوسائیٹیوں میں قربانی کی اجازت لازمی ہے اس کے ساتھ ہی بلا وجہ اگر کوئی افواہ پھیلا کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر بھی قانونی کارروائی ہوگی اس کے ساتھ ہی سوسائیٹیوں میں قربانی کے نظم کے دوران عارضی سلاٹر پر بھی پولیس کا بندوبست ہوگا۔ پولیس کمشنر نے اپیل کی ہے کہ عارضی سلاٹر میں صاف صفائی کا خاص خیال رکھنے ساتھ قربانی کے دوران شیامیانہ تیار کر کے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھلے میں قربانی نہ کی جائے جن مقامات پر قربانی کی اجازت ہے, وہیں قربانی ہو جن سوسائیٹیوں میں تنازعات جاری ہے یہاں پر بھی پولیس کی نگرانی رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی سوسائٹیوں میں عارضی قربانی کی اجازت دی جاتی ہے, ایسی صورتحال میں اگر کوئی بلا وجہ حالات خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر پولیس کارروائی کرے گی۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پاکستان اور بھارت کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں, لکین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور مذاکرات پر بات چیت شروع ہوگئی ہیں۔

Published

on

shahbaz-sharif-&-modi

اسلام آباد : پہلگام دہشت گردانہ حملے اور بھارتی فوج کے آپریشن سندھور کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں، مئی 2025 میں چار روزہ فوجی تنازعے کے ایک سال مکمل ہونے پر دونوں طرف سے جارحانہ بیان بازی دیکھنے میں آئی۔ دریں اثنا، ایک نئی پیشرفت نے پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے اور بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں بات چیت کو جنم دیا۔ اس کا اشارہ آر ایس ایس کے ایک لیڈر کے ایک بیان سے ہوا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک تجزیے میں، الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیا ہندوستان اور پاکستان طویل عرصے کی کشیدگی کے بعد بات چیت کے دروازے کھول رہے ہیں۔

دتاتریہ ہوسابلے کے تبصروں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر توجہ مبذول کرائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نریندر مودی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی کیونکہ وہ دہشت گردی کو پناہ دیتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے ہوسابلے کے تبصروں کا نہ صرف جواب دیا بلکہ ان کا خیرمقدم بھی کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد اس بات کا انتظار کرے گا کہ آیا مذاکرات کی اس کال پر بھارت کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل آتا ہے۔ تاہم نئی دہلی نے اس معاملے کو ٹالنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے ہوسابلے کے تبصروں پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے دلائل مضبوط ہو رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ کام کیا گیا ہو، لیکن ایک مکمل رسمی مکالمے کو ٹریک پر واپس لانا آسان نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ ہوسابلے کے علاوہ سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے نے بھی ایسا ہی موقف ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ عام لوگوں کے درمیان دوستی قدرتی طور پر ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر کرتی ہے۔ طاہر اندرابی نے جواب دیا، “ہمیں امید ہے کہ حالات بہتر ہوں گے۔”

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ہندوستانی سیاست کے پروفیسر عرفان نورالدین نے الجزیرہ کو بتایا، “آر ایس ایس اور نروانے جیسے ریٹائرڈ جنرل ایک خاص وجہ کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ درحقیقت نریندر مودی حکومت نے پاکستان مخالف بیانات دے کر خود کو ایک مشکل پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔” عرفان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس اور سابق فوجی افسران کے بیانات بات چیت کے لیے زمین تیار کر رہے ہیں۔ اس سے دہلی میں حکومت کو سیاسی دفاع کا موقع ملتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ بات چیت معاشرے کے مطالبات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہے۔

سابق پاکستانی سفارت کار جوہر سلیم کا دعویٰ ہے کہ سابق ہندوستانی اور پاکستانی حکام، ریٹائرڈ جنرلز، انٹیلی جنس حکام اور اراکین پارلیمنٹ کے درمیان تقریباً چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ یہ ملاقاتیں مسقط، دوحہ، تھائی لینڈ اور لندن میں ہوئیں۔ انہیں “ٹریک 2” اور “ٹریک 1.5” فارمیٹس میں تقسیم کیا گیا تھا، جس میں دونوں اطراف کے اہلکار شامل تھے۔ جوہر کے مطابق، “ٹریک 1.5 فارمیٹ میں دونوں طرف سے موجودہ حکام، ریٹائرڈ بیوروکریٹس، فوجی افسران، اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں۔ ٹریک 2 کے واقعات دونوں طرف سے سول سوسائٹی کے اراکین اور ریٹائرڈ سرکاری اور فوجی افسران کو اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ طریقے تعلقات کو پگھلانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔” برونائی میں پاکستان کے سابق سفیر طارق رشید خان کا کہنا ہے کہ ٹریک 1.5 اور ٹریک 2 مذاکرات رسمی سفارت کاری کا متبادل نہیں ہیں۔ اس کے بجائے، وہ حفاظتی والو کے طور پر کام کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان