Connect with us
Friday,24-July-2026

سیاست

مزدوروں کی واپسی کا ایکش پلان تیار کیا جائے:یوگی

Published

on

YOGI

اترپردیش کے وزیرا علی یوگی آدتیہ ناتھ نے دیگر ریاستوں میں 14دن کا قرنطینہ کی مدت مکمل کر چکے اپنی ریاست کے کارکنوں اور مزدوروں کو مرحلہ وار طریقے سے واپس لانے کے لئے ایکش پلان تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سنیچر کو یہاں کورونا وائرس کے کنٹرول اور لاک ڈاؤن بندوبست کاجائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ مزدوروں کی واپسی کے لئے ایکشن پلان تیار کرتے ہوئے اس سلسلے میں فہرست تیار کی جائے، جس میں متعلقہ ریاست میں واقع ریاست کے مزدوروں کی تفصیلات درج ہو۔ایسے لوگوں کی اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کراتے ہوئے متعلقہ ریاستی حکومت کو انہیں واپس بھیجنے کا عمل شروع کرنا ہوگا۔
وزیر اعلی نےسوشل ڈسٹنسنگ کو ہر حال میں برقرار رکھنے کی تلقین کرتےہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے کنٹرول کے لئے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کی دنیا میں تعریف ہو رہی ہے۔ ہاٹ اسپاٹ کا ‘یو پی ماڈل’کافی مقبول ہوا ہے۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ینی بنایا جائے کہ ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں صرف میڈیکل، سینٹیشن اورہوم ڈیلوری ٹیمیں ہی جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے 20یا اس سے زیادہ کورونا پازیٹو کیس والے اضلاع میں انتظامیہ کے سینئر افسرڈاکٹر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ افسر ضلع میں ایک ہفتے کیمپ لگا کر انفیکشن کے پھیلاؤ اور کنٹرول کی کارروائی پر نگرانی رکھیں گے۔انہوں نے اسپتالوں میں پی پی ای، این 95ماسک، سینٹائز کی وافر فراہمی سمیت سبھی تحفظاتی بندوبست کونافذ کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ نے پول ٹیسٹنگ کو بڑھانے اور ایل 1، ایل 2اور ایل 3اسپتالوں میں بیڈ کی تعداد میں اضافہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوے کہا کہ ہ کورونا کے مریض علاج کے لئے صرف کووڈاسپتال میں ہی بھرتی کئے جائیں۔اسی طرح دیگر مریضوں کے علاج کے لئےایمرجنسی خدمات شروع کرتے ہوئے انہیں نان-کووڈاسپتال میں داخل کرایا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلع سطح پر انتظامیہ، پولیس اور میڈیکل کی ٹیم باہمی تال میل بناتے ہوئے کام کریں۔کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ٹیم جذبے کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ضلع سطح پر صحت و صفائی، ضروری اشیاء کی فراہمی،کوارنٹین میں رکھے گئے لوگوں کے ٹھہرنے اور کھانے وغیرہ کی ذمہ داری سمیت مختلف کام الگ الگ افسران کو سونپتے ہوئے بہتربندوبست یقینی بنایا جائے۔
کمیونٹی کچن کو مزید مستحکم بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے مسٹر یوگی نے کہا کوئی بھوکا نہ رہے اس کے لئے کمیونٹی کچن کے ساتھ ساتھ ضرور ت مندوں کو غذائی اجناس تقسیم کی جا رہی ہے۔اور ریاستی حکومت آئندہ ماہ بھی مفت اناج کی تقسیم کو جا رکھے گی ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

جوہر یونیورسٹی پر یوپی سرکار کی کارروائی پر عوامی تحریک کا انتباہ! اسلام جمخانہ میں علمائے کرام اور دانشوروں کا اجلاس، ریاستی گورنر سے مداخلت کی اپیل

Published

on

Abu-Asim

ممبئی رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے کچھ حصوں کو منہدم کرنے کے اتر پردیش حکومت کے حکم پر ممبئی میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف آج ممبئی کے معروف ‘اسلام جم خانہ’ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شرکاء نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے لیے نئے مراکز قائم کرنے کے بجائے ایک ایسے ادارے کو تباہ کر رہی ہے جو ہزاروں طلباء کے مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔

اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک عمارت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، تعلیمی نظام اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یونیورسٹی کے آپریشنز یا تعمیرات کے حوالے سے کوئی تکنیکی بے ضابطگی تھی تو حکومت کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی اور ادارے کو بچانا چاہیے تھا۔ کوئی تعمیری حل تلاش کرنے کے بجائے یہ کارروائی صرف اور صرف سیاسی انتقام کے جذبے سے کی جارہی ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس غیر منصفانہ پالیسی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک وفد فوری طور پر مہاراشٹر کے گورنر سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کرے گا، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ اتر پردیش حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ وارننگ بھی جاری کی گئی کہ اگر حکومت نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف مزید کارروائی کی تو ممبئی میں زبردست عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس اہم اجلاس میں ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی، یوسف ابراہانی، معراج صدیقی، مولانا انیس اشرفی، عامر ادریسی، سلیم الوار، سعید حامد، سرفراز آرزو، اور ڈاکٹر زیبا ملک سمیت ممبئی کے ممتاز علمائے کرام، سماجی کارکنان، اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بند کا اثر : ممبئی میں طلبا کے احتجاج میں شدت، چمبور اور کرلا میں سڑک روکو آندولن، پولس الرٹ، وزیر اعلیٰ کی کارروائی کا حکم

Published

on

bandh

ممبئی : ممبئی شیواجی پارک سمیت کرلا، چمبور، چونا بھٹی، مانخورد، و دیگر مضافاتی علاقوں میں مہاراشٹر بند کے سبب ونچت بہوجن اگھاڑی وی بی اے نے مورچہ نکال کر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اسی دوران پولس نے چمبور کرلا اور دیگر علاقوں سے مظاہرین کو زیر حراست لیا اور بعد ازاں مظاہرین کو رہا بھی کردیا گیا۔ ممبئی میں مہاراشٹر بند سے عام نظام متاثر رہا لیکن اسکول، کالج، اور عوامی ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق ہی رواں دواں تھے اس کے ساتھ ہی ممبئی کے کرلا علاقہ میں خواتین مظاہرین نے سڑکوں پر اتر کر نیٹ پرچہ لیک کے معاملہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک جام کردیا جس کے سبب ٹریفک نظام متاثر ہو گیا بعد ازاں پولس نے خواتین کو سڑک پر ہٹایا اور معمولات زندگی پٹری پر آگئی۔ ممبئی کے مختلف علاقوں میں مہاراشٹر بند سے عام نظام متاثر ہوا شیواجی پارک میں ٹھاکرے برادران اور امیت اور ادیتہ ٹھاکرے نے بھی احتجاجی مظاہرین کی حمایت کی ہے جبکہ اب ٹھاکرے براداران نے پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ ۲۶ جولائی کو مارچ کریں گے اگر اس دوران کسی نے بھی گڑبڑی پیدا کرنے یا دلی کے طرز پر پتھراؤ یا تشدد برپا کرنے کی کوشش کی تو انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایم این ایس اسے جواب دے گی اس کے ساتھ ہی راج ٹھاکرے نے پرامن احتجاج نکالنے کا اعلان کیا ہے اور سرکار کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس احتجاج میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ آج احتجاجی مظاہرہ کے دوران کئی مظاہرین اور لیڈران کو زیر حراست لیا گیا۔

طلبا کو ڈرگس کیس میں پھنسانے کی پولس ڈرائیور کی دھمکی :
طلبا کو ڈرگس کیس میں پھنسانے کی شیواجی پارک میں دھمکی کی ویڈیوُ وائرل ہونے کے بعد اس معاملہ میں کانسیٹل کے خلاف انکوائری شروع ہو گئی ہے اور اس معاملہ میں وزیر اعلیٰ دیویندرفڑنویس نے کہا ہے کہ کانسٹبل کے انکوائری جاری ہے اور اسے یہاں سے ہٹا دیا گیا ہے اس معاملہ میں ویڈیو وائرل ہوا ہے وہ افسوسناک ہے۔ دیویندرفڑنویس نے کہا کہ اس احتجاجی مظاہرہ کی آڑ میں ادھو ٹھاکرے اپنے وجود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی ادھو ٹھاکرے کی سرکار میں پرچہ لیک ہوا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی مودک ساگر جھیل بھی چھلک گئی، تمام 7 جھیلوں میں 69.74 فیصد کی گنجائش کے ساتھ پانی کا کل ذخیرہ ہے۔

Published

on

Modak Sagar Lake

ممبئی : مودک ساگر جھیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے ایک، آج (23 جولائی 2026) کو صبح 2:07 بجے بہنا شروع ہوئی۔ بی ایم سی کے ہائیڈرولک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ جھیل کا ایک گیٹ کھول دیا گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے جھیلوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مسلسل، شدید بارش کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مودک ساگر جھیل کی زیادہ سے زیادہ پانی رکھنے کی گنجائش جو آج رات سے بہنے لگی 12,892.5 کروڑ لیٹر (128,925 ملین لیٹر) ہے۔ پچھلے سالوں میں مودک ساگر جھیل 9 جولائی 2025، 25 جولائی 2024 اور 27 جولائی 2023 کو بہنے لگی۔

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے سات ڈیموں کی کل زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 1,44,736.3 کروڑ لیٹر (1,447,363 ملین لیٹر) ہے۔ آج صبح 6:00 بجے پڑھنے تک، تمام سات جھیلوں میں پانی کا کل ذخیرہ 1,00,943.2 کروڑ لیٹر (1,009,432 ملین لیٹر) ہے۔ پانی کا یہ ذخیرہ جھیلوں کی زیادہ سے زیادہ پانی رکھنے کی صلاحیت کا 69.74 فیصد ہے، جو کہ 1,447,363 ملین لیٹر ہے۔

اضافی معلومات
1) مودک ساگر پروجیکٹ، تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں دریائے ویترنا پر تعمیر کیا گیا، ممبئی میٹروپولیٹن علاقے کی پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے والا ایک کلیدی پانی کا ذریعہ ہے۔
2) اس پروجیکٹ کی تعمیر 1954 میں مکمل ہوئی تھی، اور اس کا انتظام ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتظامیہ کرتا ہے۔
3) ممبئی سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس پروجیکٹ کے ڈھانچے کی لمبائی 548.64 میٹر اور اونچائی 82.296 میٹر ہے۔
4) کل کیچمنٹ ایریا 450.625 مربع کلومیٹر ہے، اور یہ ممبئی کو فراہم کی جانے والی کل پانی کی فراہمی میں 11.22 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔
5) بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے مودک ساگر جھیل آج سے بہنے لگی ہے۔ اس مون سون کے موسم سے پہلے، تانسا جھیل 22 جولائی، 2026 کو صبح 8:51 پر بہنا شروع ہوئی۔ ‘وہار’ جھیل 7 جولائی، 2026 کو رات 9:00 بجے چھلکنا شروع ہوئی، اور ‘تلسی’ جھیل بھی اسی دن رات 11:43 پر بہنے لگی (2026) اس طرح، 23 جولائی 2026 تک، بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے چار بھری ہوئی اور بہہ چکی ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان