Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں شہر کی تمام میڈیم کی اسکولوں کو 9 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ، پریس کانفرنس سے میئر طاہرہ شیخ و ڈپٹی کمشنر کاپڑنیس کا اظہار خیال

Published

on

مالیگاؤں : (نامہ نگار )
ناسک سمیت مہاراشٹر بھر میں کورونا کی دوسری لہر انتہائی تشویشناک صورتحال تک پہنچ گئی ہے ۔اور اس صورت حال سے مالیگاؤں بھی محفوظ نہیں رہا ہے ۔آج شہر میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ سے انتظامیہ سمیت عوام کو بیدار رہنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں مالیگاؤں شہر کے تمام سرکاری محکمہ جات کی میٹنگ لی گئی جس میں ایڈیشنل کلکٹر، پرانت آفیسر ،تحصیلدار، ایڈنشل ایس پی اور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی مشترکہ نمائندوں نے شرکت کی، اسی طرح شہر کے ڈاکٹر، سماجی اداروں کے ذمہ داران نے حالات کا جائزہ لیا ۔اس میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ 9 مارچ بروز منگل سے 31 مارچ تک شہر کی تمام میڈیم کی KG سے PG تک اسکول کالج بند رہیں گے ۔اسطرح کا اعلان آج میونسپل کارپوریشن میں میئر طاہرہ شیخ رشید کی آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ڈپٹی کمشنر و کورونا انسیڈنٹ کمانڈر نتن کاپڑنیس اور میئر طاہرہ شیخ رشید نے کیا ہے۔اس پریس کانفرنس میں میئر طاہرہ شیخ نے کہا ہمارے شہر میں آباد عوام کی جان کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔بچوں کا جان کی حفاظت کرنا بھی ہم سب کا اولین فرض ہے ۔میئر طاہرہ شیخ نے کہا کہ پورے مہاراشٹر میں کورونا کے مریض بڑھ رہے ہیں ۔ہم احتیاط برتیں اور اپنے شہر کی حفاظت کریں ۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اسکولوں اور کوچنگ کلاس میں سوشل ڈسٹنسنگ کا پالن نہیں ہورہا ہے ۔ہمارے شہر کو بچانا ہے تو ہمیں احتیاط کرنا ضروری ہے ۔یہ کارپوریشن کا فیصلہ عوام کے حق میں ہیں۔میئر طاہرہ شیخ نے کہا کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔مریضوں کی نشاندہی کرائیں اور اپنا علاج کروائیں ۔سہارا ہاسپٹل، سول ہاسپٹل اور حج ہاؤس کووڈ سینٹر رہیں گے ۔میئر طاہرہ شیخ نے کہا کہ عوام کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن احتیاط کرنا ضروری ہے ۔صرف اسکولوں اور کوچنگ کلاس کو کیوں بند کیا جارہا ہے؟ کیا شہر میں اسکولی بچوں کو کورونا ہوا ہے؟ اسکی تفصیلات کیا ہیں؟ اسطرح کا سوال نمائندہ بیباک نے ڈپٹی کمشنر سے کیا تو موصوف نے کہا ایوریج تعداد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس پر میئر طاہرہ شیخ نے کہا کہ جب بچہ صحت مند اور تندرست رہیگا تو ہی وہ پڑھائی کریگا ۔اس لئے عوام کو گھر پر پانے بچوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے ۔اساتذہ آن لائن تعلم پر دھیان دیں اور ورک فراہم ہوم کریں ۔اس معاملہ میں دس روز قبل اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے ساجد نثاع احمد اور رئیس کلرک نے اسکولوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔اس ضمن میں نائب کمشنر نے کہا کہ اسکولوں کو بند کرنے کی منصوبہ سماجی اداروں کی جانب سے کی گئی مانگ کے مطابق بھی لی جارہی ہے ۔دسویں اور بارہویں جماعت کو جاری رکھنے کا فیصلہ لیا گیا لیکن سوشل ڈسٹنسنگ کے ساتھ ۔کورونا کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا اسکولوں کی ذمہ داری ہے ۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ اب شہر میں کسی بھی شادی بیاہ کی تقریبات کیلئے کارپوریشن سے اجازت لینا ضروری ہوگا ۔اسکے لئے وارڈ کمیٹی سے رابطہ کیا جائے ورنہ قانونی کاروائی ہوگی ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان