Connect with us
Monday,05-October-2026
تازہ خبریں

سیاست

وزیر اعظم کے دل میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیلئے خاص جگہ ہے

Published

on

modi

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کے دل میں خاص جگہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معاملے میں وہ ذاتی طور پر دلچسپی لیتے ہیں، اور وہ اس وقت بے چین ہوگئے تھے، جب اے ایم یو میں کورونا سے فوت ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کے بارے سنا تھا، تو فوراً صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو بھیجا تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی ذاتی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے، کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کیمپس میں کورونا کی وجہ سے کئی موجودہ اور سابق پروفیسر کی موت سے وزیر اعظم پریشان ہو کر وہاں خاص توجہ مبذول کی تھی۔

وزیر اعظم نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے وائس چانسلر سے بات کی، اور صحیح صورت حال جائزہ لینے کے لئے فورا ہی ریاستی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو بھیجا، تاکہ وہ کیمپس میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کر سکیں۔ کورونا کے علاج کے بنائے گئے سنٹر کا معائنہ کر سکیں، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر اور کوورنا مریض کے لئے جو سہولت ہے، اس کی مانیٹر کرسکیں اور وزیر اعلی نے کورونا مثبت مریض کو حاصل موجودہ سہولت کا خود سے جائزہ لیا، اور اس کی جانچ کی۔ اس کے علاوہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے وائس چانسلر اور باقی ممبر سے بھی ملاقات کی، اور صحیح صورت جاننے کی کوشش کی۔

وزیر اعظم کو جورپورٹ ملی تھی وہ مبالغہ آمیز اور گمراہ کن تھی۔ وائس چانسلر نے وزیر اعظم کو حقیقی تصویر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے، کہ اموات کی اخباری اطلاعات میں طویل عرصے سے ریٹائرڈ پروفیسرز کے نام شامل تھے، جو علی گڑھ میں نہیں رہتے تھے۔ وہ زیادہ تر دل کے دورے اور فالج کے باعث فوت ہوئے تھے۔ صرف 16 اموات کی تصدیق کووڈ سے ہوئی۔ ان میں سے نو جواہر لال نہرو میڈیکل کالج اسپتال، اے ایم یو میں انتقال کر گئے، تین شہر کے نجی اسپتالوں میں اور چار شہر کے باہر فوت ہوئے۔ وزیر اعظم نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم کی مداخلت کے بعد کیمپس میں موجود سہولت میں اضافہ کیا گیا اور یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کیمپس میں ذاتی طور پر سہولتوں کی بہتری کو یقینی بنانے پر وزیر اعظم کے مشکور ہیں۔

پی ایم مودی نے اے ایم یو کو یقین دلایا کہ یونیورسٹی کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی کو مکمل مدد فراہم کی علاوہ ازیں وائس چانسلر نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے عملی طور پر کئی اہم اقدامات کئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے دل میں یونیورسٹی کے لئے ایک خاص جگہ ہے۔ در حقیقت وہ دسمبر میں اے ایم یو تاسیس صد سالہ تقریبات میں مہمان خصوصی تھے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم کو موصولہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا، کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کووڈ سے متعلق صورت حال خراب ہے، اور بہت سے اساتذہ اور کارکنوں کی کورونا سے جان چلی گئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

ایم پی اودھیش پرساد کا دعویٰ: ’’صرف سماج وادی پارٹی ہی بی جے پی کو شکست دے سکتی ہے۔‘‘

Published

on

ایودھیا : سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے منگل کو کہا کہ واحد پارٹی جو بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دے سکتی ہے وہ سماج وادی پارٹی ہے، اور واحد لیڈر جو یہ کر سکتا ہے، وہ پارٹی کے سپریمو اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو تھے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرساد نے کہا، “یہ پوری طرح سے واضح ہو گیا ہے کہ اگر بھارت میں کوئی بھی پارٹی ہے تو صرف بھا رت پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے اور بھا رت پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے کی صلاحیت ہے۔ وہ سماج وادی پارٹی ہے، اکھلیش یادو کے علاوہ، ملک میں کوئی دوسری پارٹی یا لیڈر نہیں ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دے سکے۔ سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کوئی پریشانی یا کسی قسم کی بے چینی نہیں ہے تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہے۔

“انڈی اتحاد ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہے، اور ہمارے لیڈر اکھلیش یادو سیٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت بنتی ہے، تو وہ سیٹوں کی تعداد پر مبنی ہوگی جو ہم جیتتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ سبھی اس سے متفق ہوں گے؛ کوئی تنازعہ نہیں ہے،” انہوں نے مزید کہا۔ پرساد نے کہا کہ تقریباً ہزاروں ایس پی کارکنان اور یو ایس پی کے حمایتی ‘سی ای سی’ پردیش میں استعفیٰ دینے کا مطالبہ کریں گے۔ گیانیش کمار منگل کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اکھلیش یادو کی قیادت میں بدھ کو دہلی میں پارلیمنٹ کے مکر دوار سے الیکشن کمیشن تک مارچ بھی کریں گے۔”جمہوریت خطرے میں ہے، ایک ہی طریقہ یہ ہے کہ کوئی قوم کتنی مضبوط ہے، جمہوریت کتنی مضبوط ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک کا الیکشن کمیشن کتنا آزاد ہے، الیکشن کمیشن کتنا شفاف اور ایماندار ہے۔” الیکشن کمیشن جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا.

Continue Reading

سیاست

’’مجرموں میں خوف پیدا کریں‘‘: حالیہ عصمت دری کے واقعات پر ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کی دہلی پولیس کو ہدایت۔

Published

on

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے پیر کو دہلی پولس اور مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کو دہلی-این سی آر میں حالیہ عصمت دری اور جنسی زیادتی کے واقعات سے متعلق اپنی ازخود کارروائی میں چار ہفتوں کے اندر اپنے جوابات ریکارڈ پر رکھنے کی ہدایت دی، زبانی طور پر یہ مشاہدہ کیا کہ فالو اپ کارروائی کرنے کے بجائے جرائم کو روکنا ضروری ہے۔ خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات اور کمزور عوامی مقامات کی مسلسل نگرانی۔ عدالت عظمیٰ نے زبانی طور پر ریمارک کیا کہ محض کاغذوں پر اقدامات کرنا کافی نہیں ہوگا اور کہا کہ حکام کو جرائم کی روک تھام کے لیے ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے، “ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ دہلی-این سی آر میں ہر عورت محفوظ محسوس کرے، چاہے وہ رات 11 بجے سڑک پر سفر کر رہے ہوں یا جسٹس بینچ نے کہا۔ اس نے مزید کہا کہ جرم ہونے کے بعد محض کارروائی کرنے کے بجائے جرائم کی روک تھام پر توجہ دی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ “جرائم کو روکنے کے لیے کیا ضروری ہے، نہ کہ آپ جرم کے ارتکاب کے بعد کیا کرتے ہیں،” سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو “گنڈے اور سماج دشمن عناصر” کے درمیان خوف پیدا کرنا چاہیے جو اس طرح کے جرائم کے ارتکاب کا شکار ہیں۔ واقعات کی نگرانی اور جواب دینے کے لیے وقف “وار روم”، یہ پوچھتے ہوئے کہ ایسے طریقہ کار کے بغیر جرم کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔” آپ کو ایک ایسے شخص کے ذہن میں خوف پیدا کرنا ہوگا جو جرم کرنے کے لیے تیار ہو،” بنچ نے مشاہدہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو یہ خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے جرائم کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ دہلی-این سی آر میں عصمت دری اور جنسی زیادتی۔ 28 ستمبر کو منظور کیے گئے اپنے حکم میں، عدالت عظمیٰ نے پارکوں، سڑکوں، بسوں، میٹرو اسٹیشنوں، سب ویز اور فٹ برجوں سمیت عوامی مقامات کی حفاظت پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا، اور مشاہدہ کیا تھا کہ ناکافی روشنی، ناقص نگرانی، نگرانی کے نظام کی وجہ سے ایسی جگہوں کو ہائی رسک زون بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

بنچ نے عوامی مقامات پر حفاظتی انتظامات، جنسی مجرموں کے بارے میں قومی ڈیٹا بیس (این ڈی ایس او)، جنسی جرائم کے لیے تفتیشی ٹریکنگ سسٹم (آئی ٹی ایس ایس او)، مشن شکتی پروگرام، ایمرجنسی رسپانس سسٹم، خواتین کی ہیلپ لائنز، سی سی ٹی وی کوریج، دہلی پولیس کے ایک مرکز اور خواتین کی مدد کرنے والے اداروں کے لیے ایک جامع رپورٹ بھی طلب کی تھی۔ ہر پولیس ضلع کے لیے مختص ٹیمیں جو کمزور مقامات کی نشاندہی کرتی ہیں اور ضلع وار خطرے کے نقشے تیار کرتی ہیں۔ اس نے روشنی اور سی سی ٹی وی کے بنیادی ڈھانچے کے آڈٹ اور شناخت شدہ کمزور علاقوں میں گشت تیز کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ کارروائی کئی رپورٹ شدہ جنسی جرائم کے پس منظر میں ہوئی، جس میں آستھا کنج پارک میں ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری اور ایک چلتی ہوئی سلیپر بس کے اندر ایک نابالغ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی شامل ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مشاہدہ کیا تھا کہ مؤخر الذکر واقعہ 2012 کے نربھیا کیس کے ساتھ دردناک مماثلت پیدا کرتا ہے۔ اب یہ معاملہ عارضی طور پر 16 نومبر کو مزید سماعت کے لیے درج ہے۔

Continue Reading

سیاست

’’ہمیشہ ہندوؤں کو بدنام کرتے ہیں‘‘: سناتن دھرم کو ’’مسخ‘‘ کرنے پر بی جے پی کی کانگریس پر تنقید

Published

on

ممبئی : بی جے پی کے ایم ایل اے رام کدم نے پیر کو کانگریس کے سینئر لیڈر ڈگ وجئے سنگھ پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ بار بار ہندو مذہب کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سناتن دھرم پر سنگھ کے ریمارکس پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ “ہندوتوا” کے فروغ کے ذریعے لائنیں سنگھ کے تبصروں پر بی جے پی کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔”اس ملک میں بات چیت ہندومت پر مسلسل تنقید کرنے کی طرف مائل ہو گئی ہے، آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے ذریعہ چلائی گئی ‘ہندوتوا’ کو فروغ دینے والی ایک اصطلاح، جسے ساورکر نے وضع کیا تھا۔ اس کی وجہ سے پورے ملک میں ہندوؤں اور سکھوں، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان، ہندوؤں اور سکھوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ تنوع میں اتحاد ہماری طاقت ہے،” سنگھ نے ایکس پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں کہا۔

79 سالہ کانگریس لیڈر ‘سناتن سوابھیمان یاترا’ شروع کرنے والے ہیں، جو کہ اجین سے ایودھیا تک پیدل مارچ ہے جس کو انہوں نے مذہب کے مبینہ استحصال کے طور پر بیان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لفظ “ہندو” مذہبی صحیفوں میں موجود نہیں ہے۔”آج کوئی ہندو مذہب کی بات نہیں کرتا، لوگ سناتن دھرم کی بات کرتے ہیں۔ ہندو لفظ ہمارے صحیفوں میں کہیں نظر نہیں آتا، خواہ وہ وید ہوں، اپنشد ہوں یا پران۔ یہ سناتن دھرم ہے جسے وی ایچ پی اور آر ایس ایس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،” سنگھ نے ریمارک کو ریمارک کو بتایا۔ “یہ وہی دگ وجے سنگھ ہے جس نے ہمیشہ ہندوؤں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے ہمارے مقدس بھگوا رنگ کو دہشت گردی سے جوڑ دیا۔” قدم نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور تقدس کی طرف بھی رجوع کیا۔ “جب ایودھیا میں رام للا کی تقدیس کی تقریب منعقد ہوئی اور مورتی نصب کی گئی تو اس نے کانگریسی لیڈروں کے ایسے ظالمانہ انداز پر سوالات اٹھائے کہ رام مندر کی تعمیر اور تقدس کے بارے میں سوچا۔ ایودھیا میں مندر نہیں بننا چاہیے، تاکہ فیصلہ ہندوؤں کے حق میں نہ آئے، اور اگر آیا تو دیر سے آنا چاہیے،‘‘ انہوں نے الزام لگایا۔

کدم نے مزید کہا، “وہ اب بھی اس طرح کے خیالات رکھتے ہیں، اور اسی وجہ سے انہوں نے ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ میں اپنے وکلاء کا تقرر کیا۔” بی جے پی ایم ایل اے نے پھر شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے کی قیادت میں اتوار کو برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ہیڈ کوارٹر کی طرف مشترکہ احتجاجی مارچ پر ردعمل ظاہر کیا۔ احتجاج نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نشانہ بنایا۔ قدم نے احتجاج کی نوعیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، “کیا ٹھاکرے برادران کا احتجاج احتجاج تھا یا فینسی ڈریس مقابلہ؟ کوئی گبر سنگھ، کسی نے الیکشن کمشنر، اور بہت سے دوسرے نقالی کا لباس پہن کر آیا۔

“رہنما ایک کے بعد ایک جھوٹ بول رہے تھے، ایک سال پہلے، درست کہا جائے تو، 11 ماہ پہلے، نومبر 2025 میں، یہی لوگ سڑکوں پر آئے اور احتجاج کیا، ووٹر لسٹ سے دو تین بار آنے والے ناموں اور جعلی ووٹروں کے ناموں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا،” انہوں نے کہا کہ “یہ کس کا مطالبہ تھا؟ یہ مطالبہ الیکشن کمیشن نے کیا، جو احتجاج کر رہے ہیں، وہی کام شروع کر رہے ہیں، جو الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ کیا وہ اپنے مطالبات بھول گئے؟ کدم نے پوچھا۔ انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) پر اعتراضات پر اپوزیشن لیڈروں پر بھی تنقید کی۔” وہ جس ای وی ایم کی بات کر رہے تھے وہ کانگریس کے دور حکومت میں متعارف کروائی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ کانگریس کے ممبران بھی ان کے خلاف بول رہے تھے، جو کہ حیرت انگیز ہے۔ ادھو ٹھاکرے گزشتہ 30 سالوں سے ان ہی ای وی ایم کا استعمال کرتے ہوئے میونسپل انتخابات جیت رہے ہیں۔” پونے میں امیدواروں، کدم نے کہا کہ ریاستی حکومت طلباء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا، “ہم ایم پی ایس سی طلباء کے ساتھ کھڑے ہیں، اور مہاراشٹر حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے، جس میں وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کی 100 فیصد حمایت بھی شامل ہے۔” تاہم، کدم نے الزام لگایا کہ شرد پوار دھڑے سے وابستہ لیڈر طلباء کے احتجاج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”اب، اگر شرد پوار دھڑے کے رہنما ان کارکنوں کو دانستہ طور پر سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طلباء، یہ بدقسمتی ہے،” انہوں نے کہا، “مہاراشٹر حکومت کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان مطالبات کو پورا کرے جو صدر کے پاس ہے، یہ شرد پوار کے دھڑے کا نہیں ہے،” کدم نے الزام لگایا۔ اس ایجی ٹیشن نے خواہشمندوں کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف مطالبات پر اختلافات کے درمیان تین گروہوں کو ابھرتے دیکھا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان