Connect with us
Friday,19-June-2026

کھیل

ملک کے لئے کھیلنے کے بعد اب جموں و کشمیر کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں: سریش رینہ

Published

on

سابق بھارتی کرکٹر سریش رینہ نے کہا ہے کہ ملک کی پندرہ برس تک نمائندگی کرنے کے بعد میں اب جموں و کشمیر کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے جس کو نکھارنا میرا خواب ہے۔
موصوف نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز یہاں یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کے سکریٹری سرمد حفیظ کے ہمراہ منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں سریش رینہ کرکٹ اکیڈیمی اور جموں و کشمیر سپورٹس کونسل کے درمیان ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے۔ اس موقع پر چیف سکریٹری بی وی آر سبھرامنیم اور لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سکریٹری نتیشور کمار بھی موجود تھے۔
مسٹر رینہ نے کہا کہ ملک کے لئے پندرہ برس کھیلنے کے بعد میں جموں و کشمیر کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا: ‘ملک کے لئے پندرہ برس کھیلا ہوں اب جموں و کشمیر کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں، یہاں کے کھلاڑیوں میں کافی ٹیلنٹ ہے جیسا کہ حال ہی میں یہاں کے ایک کھلاڑی نے آئی پی ایل کے میچوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ بچے آئیں تاکہ ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جاسکے’۔
موصوف سابق کرکٹر نے کہا کہ یہ میرا خواب ہے کہ جموں وکشمیر کے بچے آگے بڑھیں اور ملک کی نمائندگی کریں۔
انہوں نے کہا کہ میں جی لگا کر محنت کر کے یہاں کے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھاروں گا تاکہ اگلے چند برسوں کے دوران آئی پی ایل میں جموں وکشمیر کی خود کی ایک ٹیم ہو۔
سریش رینہ نے کہا کہ یہاں تمام سہولیات دستیاب ہیں میں چاہتا ہوں کہ اگلے دس پندرہ برسوں میں جموں و کشمیر کے کھلاڑی ملک کی نمائندگی کر سکیں جو ہمارے لئے خوشی کی بات ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سری نگر اور جموں میں تین تین کھیل کے میدانوں کو آئیڈنٹیفائی کیا ہے دھیرے دھیرے تربیتی سیشنز کا انعقاد ہوگا جس میں کھلاڑی حصہ لیں گے۔
موصوف نے ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘جو بچے نشے میں ڈوب گئے ہیں اگر وہ اپنی فٹنس کی طرف توجہ دیں گے تو وہ نشہ کرنا بھول جائیں گے، اس پر بھی کام ہوگا’۔
انہوں نے کہا کہ میرے والد سری نگر سے ہیں میری کوشش ہے کہ پہلے جموں و کشمیر کے کھلاڑی جموں و کشمیر کے لئے کھیلیں، رانجی کھیلیں اور پھر ملک کی نمائندگی کریں اور پھر آئی پی ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹس کا بھی سوچیں۔
خواتین کھلاڑیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر رینہ نے کہا کہ ان کی سیفٹی کے امور کو یقینی بنانے کے بعد ایک خاتون کوچ کو بھی لائیں گے جو یہاں خواتین کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ہماری اس پہل میں بھر پور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
اس موقع سرمد حفیظ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ابھی شروعات ہی ہیں کرکٹ کے علاوہ اسپورٹس کے باقی شعبوں میں بھی ایسے ہی اقدام کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سریش رینہ، جن کا تعلق ہمارے جموں و کشمیر سے ہی ہے، مخلصانہ طور پر یہاں کے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے آرزو مند ہیں۔
موصوف نے کہا کہ سریش رینہ ایک بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی رہے ہیں اور انہوں نے کئی بیروںی ممالک میں کھیلا ہے اس طرح ہمارے کھلاڑیوں کو اتنے بڑے کوچ کے ساتھ کام کرنے کا موقع نصیب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی کھلاڑی، جنہوں نے رانجی میں کھیلا ہے، بھی اپنی اپنی سطح پر کام کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی

ایران ورلڈ کپ 2026 کے دوران سفری پابندیوں کے بارے میں فیفا سے شکایت کرے گا۔

Published

on

تہران: ایرانی فٹبال فیڈریشن نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران شریک میزبان امریکہ کی جانب سے ایرانی ٹیم پر عائد سفری پابندیوں پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ گورننگ باڈی نے اس معاملے پر فیفا سے باضابطہ شکایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایرانی کھلاڑیوں کو میچ سے ایک دن پہلے ہی امریکہ پہنچنے کی اجازت ہے۔ ان کے ویزوں کی شرائط کے تحت، انہیں میچ کے دن ملک چھوڑنا ہوگا۔ یہ شرط ایران کے آئندہ بیلجیم کے خلاف میچ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا، “ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی پابندیاں تمام شریک ٹیموں کو یکساں شرائط فراہم کرنے کے اصول کے خلاف ہیں اور ٹیموں کی تیاری کے عمل کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ فیڈریشن باضابطہ طور پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرے گی اور مناسب چینلز کے ذریعے فیفا کو باضابطہ شکایت درج کرائے گی۔”

فیڈریشن نے مزید کہا کہ “ان مشکلات کے باوجود، ایرانی قومی ٹیم اپنی تیاریوں کو جاری رکھے گی اور بیلجیم کے خلاف اپنے آئندہ میچ پر پوری توجہ مرکوز رکھے گی۔”

اس سے قبل ایرانی کوچ امیر غلینوئی نے کہا تھا کہ لاس اینجلس میں اپنے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے ساتھ 2-2 سے ڈرا ہونے کے بعد وہ ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ دباؤ میں تھے۔

میچ کے بعد کی پریس کانفرنس میں گالنوئی نے کہا، “ہماری ٹیم کو اچانک بتایا گیا کہ انہیں لاس اینجلس میں میچ کے فوراً بعد میکسیکو واپس جانا ہے، ہمیں کہا گیا کہ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر تیجوانا میں اپنے کیمپ میں واپس آجائیں، اور ہم اس سے بہت پریشان ہیں۔ وہ ہمیں جلد واپس جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ وہ صورتحال کو مزید مشکل بنا رہے ہیں، ہمیں مزید مشکلات پیدا کرنے سے باز نہیں آنے دیں گے۔”

کوچ نے کہا، “ہمیں کھیل سے دو رات قبل پہنچنا تھا، لیکن ہمیں اجازت نہیں دی گئی۔ میرے خیال میں ہماری ٹیم پورے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ ہماری فیڈریشن یہاں نہیں ہے، ہمارا میڈیا یہاں نہیں ہے، ہماری انتظامیہ یہاں نہیں ہے۔”

Continue Reading

بین الاقوامی

“ٹیم کی کارکردگی میں کوئی کمی نہیں تھی،” رونالڈو نے ڈی آر کانگو کے خلاف ڈرا کے بعد پرتگال کا دفاع کیا

Published

on

ہیوسٹن، پرتگال کی فٹبال ٹیم کا فیفا ورلڈ کپ 2026 میں مایوس کن آغاز ہوا ہے۔ ٹورنامنٹ کے اپنے ابتدائی میچ میں پرتگال کو ڈی آر کانگو کے خلاف 1-1 سے ڈرا کھیلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم پرتگال کے اسٹار کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو نے ٹیم کا دفاع کیا ہے۔

رونالڈو نے کہا کہ ڈی آر کانگو کے خلاف ٹیم کی کارکردگی میں کوئی کمی نہیں تھی۔ وہ خود بھی گول کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے تینوں شاٹس میچ کے بعد کے ہدف سے چوڑے تھے۔ میچ کے بعد پرتگال کے اسپورٹ ٹی وی سے مختصر بات چیت میں رونالڈو نے کہا کہ کسی چیز کی کمی نہیں تھی، فٹبال ایسا ہی ہے، ہم جیت سکتے تھے۔

اپنے چھٹے ورلڈ کپ کیریئر کے پہلے میچ میں رونالڈو کا ایک بھی شاٹ گول پوسٹ تک نہیں پہنچا۔ یہ دوسرا موقع بھی ہے جب اس نے ورلڈ کپ کے میچ میں 90 منٹ تک ہدف کو نشانہ نہیں بنایا۔ یہ رونالڈو کا ورلڈ کپ کا 23 واں میچ تھا۔ اب وہ فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ رونالڈو پرتگال کے لیے 10 بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ (ورلڈ کپ اور یورو کپ) کھیل چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے 33 شاٹس کھیلے ہیں جن میں سے 11 نشانے پر تھے۔

پرتگال نے ڈی آر کانگو کے خلاف 75 فیصد سے زیادہ وقت تک قبضہ برقرار رکھا، لیکن دوسرا گول کرنے میں ناکام رہا۔ پرتگال نے اپنا پہلا گول میچ کے چھٹے منٹ میں کیا۔ ٹیم کی جانب سے پہلا گول جواؤ نیویس نے کیا۔ تاہم، جواؤ ویزا نے پہلے ہاف کے اختتام پر ڈی آر کانگو کے لیے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلا گول کرتے ہوئے اسکور کو برابر کردیا۔ اس کے بعد ڈی آر کانگو کے دفاع نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرتگال کو گول کرنے کے کسی بھی مواقع سے انکار کردیا۔

پرتگال کے کوچ رابرٹو مارٹنیز نے رونالڈو کی خراب کارکردگی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کو گول کی ضرورت ہو تو رونالڈو جیسے کھلاڑی کو بینچ پر چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رونالڈو محافظوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، جس سے دوسرے کھلاڑیوں کو وہ جگہ بنانے کی اجازت ملتی ہے جس کی انہیں گول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پرتگال کا اگلا مقابلہ منگل کو ازبکستان سے ہوگا۔

Continue Reading

بین الاقوامی

ایرانی کوچ نے فیفا، امریکا پر طعنہ زنی کی، کہتے ہیں ہمیں فوری طور پر نکل جانے کا کہا گیا تھا۔

Published

on

لاس اینجلس : ایران کے ہیڈ کوچ امیر غلینوئی نے فیفا ورلڈ کپ گروپ جی کے اپنے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے ساتھ 2-2 سے ڈرا ہونے کے بعد اپنی ٹیم کے سفری منصوبوں میں اچانک تبدیلی پر مایوسی کا اظہار کیا۔

میچ کے بعد کی ایک پریس کانفرنس میں گھلینوئی نے کہا، “ان کی ٹیم کو اچانک بتایا گیا کہ انہیں لاس اینجلس میں میچ کے فوراً بعد میکسیکو واپس جانا ہے۔ ٹیم کو ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ وہ منگل کے کھانے کے وقت تک امریکہ میں رہ سکتی ہیں، لیکن جیسے ہی میچ ختم ہوا، سفری منصوبے بدل گئے۔”

غلینوئی نے کہا، “میچ کے بعد، انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر روانہ ہونا پڑے گا۔ ہمیں کہا گیا کہ ہوائی جہاز میں بیٹھیں اور تیجوانا میں اپنے کیمپ میں واپس جائیں، اور ہم اس سے پریشان ہیں، وہ ہمیں جلد واپس آنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ وہ حالات کو مزید مشکل اور مشکلات پیدا کر رہے ہیں، لیکن ہم اسے اپنی پوری کوشش کرنے سے باز نہیں آنے دیں گے۔”

کوچ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کو ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے دوران متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا، “ہمیں میچ سے دو رات قبل پہنچنا تھا، لیکن انہوں نے ہمیں اجازت نہیں دی۔ ہمیں آج رات یہاں ٹھہرنا تھا اور کھانے کے وقت واپس آنا تھا۔ میرے خیال میں ہماری ٹیم پورے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ پریشان ہے۔ ہماری فیڈریشن یہاں نہیں، ہمارا میڈیا یہاں نہیں، ہماری انتظامیہ یہاں نہیں ہے۔”

ایرانی اسٹرائیکر مہدی ترینی نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا، “یہ کھلاڑیوں اور عملے کے لیے بہت تشویشناک ہے۔ ہم صرف اس صورت حال سے تھک چکے ہیں۔ یہ بہت برا ہے، اور اس سے ہماری ٹیم متاثر ہوتی ہے۔”

عالمی کپ میں ایران کی شرکت مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور متعلقہ سیکورٹی خدشات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ ادھر فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے بعد ایرانی ٹیم کے ڈریسنگ روم کا دورہ کیا اور کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔

ایران کے سفری خدشات گروپ مرحلے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ان کا اگلا گروپ جی میچ اتوار کو سوفی اسٹیڈیم میں بیلجیم کے خلاف ہے

Continue Reading
Advertisement

رجحان