Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

12 سال کے بعد دھولیہ فساد سن 2008 کے تمام ملزمین کے لیے راحت، تمام ملزمین ہوے الزامات سے بری

Published

on

malegaon-suraj-mandhade- 2008

دھولیہ : (نامہ نگار)
واضح ہو کہ بد قسمتی سے 5 اکتوبر 2008، شہر دھولیہ میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا تھا۔ اس فساد میں 10مسلمان شہید ہوے اور کثیر تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔ ساتھ ہی کروڑوں کی املاک کا نقصان ہوا۔ روزِ اول سے ہی جمعیۃ علماء دھولیہ مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے نیز شہداء کے ساتھ انصاف دلانے اور زخمیوں کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تگ و دو کرتی رہی۔

فساد پھوٹ پڑنے کے بعد پولس کی جانب سے کامبنگ آپریشن کا سلسلہ ہوا اور کثیر تعداد میں بے قصور مسلمانوں پر فساد بھڑکانے کا الزام عائد کردیا گیا۔ ملزمین کی قانونی چارہ جوئی کے لیے پھر جمعیۃ علماء ہی میدان میں اتری،لوگوں کو ایف۔ آئی۔ آر درج کرنے پر آمادہ کیا اور اس مقدمے کو لڑنے کا فیصلہ کیا۔
دوسری طرف فرقہ پرست تنظیمیں اس محنت میں لگی رہیں کہ شہر کے نامور وکلاء کو مسلمانوں کے کیس کی پیروی کرنے سے روکیں۔ بڑی دقتیں پیش آئیں۔ عجیب و غریب حالات کا سامنا ہوا۔ جیسے جیسے دن گزرتا رہا نئی نئی مصیبتیں مقابلے کے لیے تیار تھیں۔
ایسے حالات میں اکابرینِ جمعیۃ بالخصوص حضرت مولانا ابوالعاص نوراللہ مرقدہ اور حضرت حافظ شمس الحق ( چھوٹے حاجی) نوراللہ مرقدہ
کی بصیرت و ذکاوت اور ان کے مشورے سے قانونی امداد کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی اور اس کیس کو لڑنے کا بیڑا اٹھایا گیا ۔ قانونی چارہ جوئی کے لیے جواں سال وکیل ایڈوکیٹ اشفاق شیخ اور ان کی ٹیم کی خدمات حاصل کی گئی ۔ وقت گزرتا رہا، حالات کے نشیب و فراز آتے رہے لیکن حالات کے ان تھپیڑوں کا مقابلہ کرتے ہوے نہایت استقامت کے ساتھ مقدمے کی کارروائیاں انجام دی گئیں ۔
نتیجتاً اللہ کے فضل اور کرم، بزرگوں ، نوجوانوں اور عورتوں کی آہ سحر گاہی ، نیز اراکینِ جمعیۃ بالخصوص قانونی امداد کمیٹی کی محنتوں سے آج وہ مبارک دن آہی گیا کہ تمام ملزمین کو سیشن کورٹ کے محترم جج ‘ سید صاحب ‘ نے بفضل اللہ الزامات سے بری کرنے کا حکم سنادیا ۔
واضح ہو کہ کل 59 ملزمین میں 42 افراد کے مقدمے جمعیۃ علماء ( مولانا ارشد مدنی) کی زیر نگرانی عدالت میں زیرِ سماعت تھے، اور الحمدللہ تمام ملزمین کو الزامات سے بری کردیا گیا ہے ۔ تقریباً 13 سال سے ذہنی کرب میں مبتلا ملزمین نے راحت کی سانس لی اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔اس سلسلے میں ایک مختصر استقبالیہ تقریب کا انعقاد دفتر جمعیۃ علماء، مدرسہ سراج العلوم، مولوی گنج میں کیا گیا ۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا ۔ قانونی امداد کمیٹی کے فعال رکن اس مقدمے میں روزِ اول سے نہایت متحرک، الحاج غلام مصطفیٰ پپو ملا نے اجمالی طور پر شرکاء کے سامنے روئیداد بیان کی ۔ نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ مفتی شفیق قاسمی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختصر، پر مغز خطاب فرمایا اور تمام ملزمین سے اللہ کی جانب رجوع ہونے اور اپنی زندگی کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنے کی تلقین کی ۔ الحاج شوال امین ، نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ نے اپنی تقریر میں جمعیۃ علماء اور اکابرین کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوے جمعیۃ کے کاموں کی سراہنا کی اور تمام شرکاء سے جمعیۃ کے ساتھ قدم ملاکر چلنے کی درخواست کی ۔۔
اخیر میں صاحبِ استقبال
ایڈوکیٹ اشفاق شیخ کا جمعیۃ کی جانب سے، باعزت بری ہونے والے تمام ملزمین کی جانب سے اور خدام مرکز مسجد، جمیل وائرمین گروپ کی جانب سے یکے بعد دیگرے علماء کرام و معززین کے ہاتھوں استقبال کیا ۔
سن 2008 فساد نے شہر کے علاوہ اطراف شہر اور دیہاتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تھا ۔ شہر کے قریب ونی نامی دیہات میں شرپسندوں نے مسجد میں گھس کر تبلیغی جماعت کے ساتھیوں پرحملہ کیا بستی کے مسلمانوں کو تکالیف پہنچائی، اسی طرح شیروڈ نامی دیہات میں ملک کی سرحدپر حفاظتی دستے میں تعینات نوجوان عارف پٹیل کے مکان کو آگ لگادی۔ دیہات کے مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر جان بچانے کے لئے شہر میں پناہ لی۔ الحمدللہ جمعیۃ علماء دھولیہ ان مقدمات کو بھی عدالت میں دیکھ رہی ہے، ان شاءاللہ بہت جلد اس کا فیصلہ بھی ہمارے حق میں آنے کی امید ہے ۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس پورے مقدمے میں اراکینِ جمعیۃ نے جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری الحاج گلزار اعظمی صاحب( ممبئی) سے مشورہ لیتی رہی اور موصوف نے قدم قدم پر اس سلسلے میں خوب رہنمائی فرمائی، جس کی برکت سے اللہ نے اس معاملے کو حل فرمادیا ۔ اللہ پاک آں محترم کو اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی خدمات انجام دینے والے تمام مخلصین و محبین کو اپنی شایان شایان دونوں جہان میں بہترین بدلہ عطا فرماے ۔ اور اپنی رضا عطا فرماے ۔ آمین
جمعیۃ علماء (ارشد مدنی ) دھولیہ کی قانونی امداد کمیٹی کے ذمے داران عبدالسلام ماسٹر ، غلام مصطفٰی پپو ملا ، محمود ربانی ، مشتاق صوفی وغیرہم نیز جمعیۃ کے تمام اراکین کی انتھک کوشش و محنت سے اللہ پاک نے یہ کامیابی عطا فرمائی ۔
اس تقریب کی صدارت
حضرت مولانا محمد عابد قاسمی دامت برکاتہم نے فرمائی ۔
نظامت کے فرائض اپنے مخصوص انداز میں محمد یوسف پاپا سر نے انجام دیے ۔
تقریب میں
حافظ حفظ الرحمن
(صدر جمعیۃ علماء، ضلع دھولیہ)
مولانا ضیاء الرحمن
( صدر جمعیۃ علماء، شہر دھولیہ)
مولانا محمد عابد
مفتی شفیق قاسمی
مولانا شعیب حنیف
مولانا غزالی
مولانا محمد ثوبان
مولانا اصغر جمیل
پپو ملا، الحاج مشتاق صوفی ،الحاج شوال امین ، شیخ پرویز ، عبدالمحیط میکانک، عارف عرش، محمد رضوان، عبدالرحمن، محمد ثوبان، سلیم بھیا ، مسعود احمد، خادمین جامع مسجد مرکز، مولوی گنج، باعزت رہا ہونے خوش نصیب افراد اور دیگر احباب موجود تھے ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان