Connect with us
Tuesday,29-September-2026

(جنرل (عام

12 سال کے بعد دھولیہ فساد سن 2008 کے تمام ملزمین کے لیے راحت، تمام ملزمین ہوے الزامات سے بری

Published

on

malegaon-suraj-mandhade- 2008

دھولیہ : (نامہ نگار)
واضح ہو کہ بد قسمتی سے 5 اکتوبر 2008، شہر دھولیہ میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا تھا۔ اس فساد میں 10مسلمان شہید ہوے اور کثیر تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔ ساتھ ہی کروڑوں کی املاک کا نقصان ہوا۔ روزِ اول سے ہی جمعیۃ علماء دھولیہ مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے نیز شہداء کے ساتھ انصاف دلانے اور زخمیوں کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تگ و دو کرتی رہی۔

فساد پھوٹ پڑنے کے بعد پولس کی جانب سے کامبنگ آپریشن کا سلسلہ ہوا اور کثیر تعداد میں بے قصور مسلمانوں پر فساد بھڑکانے کا الزام عائد کردیا گیا۔ ملزمین کی قانونی چارہ جوئی کے لیے پھر جمعیۃ علماء ہی میدان میں اتری،لوگوں کو ایف۔ آئی۔ آر درج کرنے پر آمادہ کیا اور اس مقدمے کو لڑنے کا فیصلہ کیا۔
دوسری طرف فرقہ پرست تنظیمیں اس محنت میں لگی رہیں کہ شہر کے نامور وکلاء کو مسلمانوں کے کیس کی پیروی کرنے سے روکیں۔ بڑی دقتیں پیش آئیں۔ عجیب و غریب حالات کا سامنا ہوا۔ جیسے جیسے دن گزرتا رہا نئی نئی مصیبتیں مقابلے کے لیے تیار تھیں۔
ایسے حالات میں اکابرینِ جمعیۃ بالخصوص حضرت مولانا ابوالعاص نوراللہ مرقدہ اور حضرت حافظ شمس الحق ( چھوٹے حاجی) نوراللہ مرقدہ
کی بصیرت و ذکاوت اور ان کے مشورے سے قانونی امداد کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی اور اس کیس کو لڑنے کا بیڑا اٹھایا گیا ۔ قانونی چارہ جوئی کے لیے جواں سال وکیل ایڈوکیٹ اشفاق شیخ اور ان کی ٹیم کی خدمات حاصل کی گئی ۔ وقت گزرتا رہا، حالات کے نشیب و فراز آتے رہے لیکن حالات کے ان تھپیڑوں کا مقابلہ کرتے ہوے نہایت استقامت کے ساتھ مقدمے کی کارروائیاں انجام دی گئیں ۔
نتیجتاً اللہ کے فضل اور کرم، بزرگوں ، نوجوانوں اور عورتوں کی آہ سحر گاہی ، نیز اراکینِ جمعیۃ بالخصوص قانونی امداد کمیٹی کی محنتوں سے آج وہ مبارک دن آہی گیا کہ تمام ملزمین کو سیشن کورٹ کے محترم جج ‘ سید صاحب ‘ نے بفضل اللہ الزامات سے بری کرنے کا حکم سنادیا ۔
واضح ہو کہ کل 59 ملزمین میں 42 افراد کے مقدمے جمعیۃ علماء ( مولانا ارشد مدنی) کی زیر نگرانی عدالت میں زیرِ سماعت تھے، اور الحمدللہ تمام ملزمین کو الزامات سے بری کردیا گیا ہے ۔ تقریباً 13 سال سے ذہنی کرب میں مبتلا ملزمین نے راحت کی سانس لی اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔اس سلسلے میں ایک مختصر استقبالیہ تقریب کا انعقاد دفتر جمعیۃ علماء، مدرسہ سراج العلوم، مولوی گنج میں کیا گیا ۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا ۔ قانونی امداد کمیٹی کے فعال رکن اس مقدمے میں روزِ اول سے نہایت متحرک، الحاج غلام مصطفیٰ پپو ملا نے اجمالی طور پر شرکاء کے سامنے روئیداد بیان کی ۔ نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ مفتی شفیق قاسمی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختصر، پر مغز خطاب فرمایا اور تمام ملزمین سے اللہ کی جانب رجوع ہونے اور اپنی زندگی کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنے کی تلقین کی ۔ الحاج شوال امین ، نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ نے اپنی تقریر میں جمعیۃ علماء اور اکابرین کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوے جمعیۃ کے کاموں کی سراہنا کی اور تمام شرکاء سے جمعیۃ کے ساتھ قدم ملاکر چلنے کی درخواست کی ۔۔
اخیر میں صاحبِ استقبال
ایڈوکیٹ اشفاق شیخ کا جمعیۃ کی جانب سے، باعزت بری ہونے والے تمام ملزمین کی جانب سے اور خدام مرکز مسجد، جمیل وائرمین گروپ کی جانب سے یکے بعد دیگرے علماء کرام و معززین کے ہاتھوں استقبال کیا ۔
سن 2008 فساد نے شہر کے علاوہ اطراف شہر اور دیہاتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تھا ۔ شہر کے قریب ونی نامی دیہات میں شرپسندوں نے مسجد میں گھس کر تبلیغی جماعت کے ساتھیوں پرحملہ کیا بستی کے مسلمانوں کو تکالیف پہنچائی، اسی طرح شیروڈ نامی دیہات میں ملک کی سرحدپر حفاظتی دستے میں تعینات نوجوان عارف پٹیل کے مکان کو آگ لگادی۔ دیہات کے مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر جان بچانے کے لئے شہر میں پناہ لی۔ الحمدللہ جمعیۃ علماء دھولیہ ان مقدمات کو بھی عدالت میں دیکھ رہی ہے، ان شاءاللہ بہت جلد اس کا فیصلہ بھی ہمارے حق میں آنے کی امید ہے ۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس پورے مقدمے میں اراکینِ جمعیۃ نے جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری الحاج گلزار اعظمی صاحب( ممبئی) سے مشورہ لیتی رہی اور موصوف نے قدم قدم پر اس سلسلے میں خوب رہنمائی فرمائی، جس کی برکت سے اللہ نے اس معاملے کو حل فرمادیا ۔ اللہ پاک آں محترم کو اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی خدمات انجام دینے والے تمام مخلصین و محبین کو اپنی شایان شایان دونوں جہان میں بہترین بدلہ عطا فرماے ۔ اور اپنی رضا عطا فرماے ۔ آمین
جمعیۃ علماء (ارشد مدنی ) دھولیہ کی قانونی امداد کمیٹی کے ذمے داران عبدالسلام ماسٹر ، غلام مصطفٰی پپو ملا ، محمود ربانی ، مشتاق صوفی وغیرہم نیز جمعیۃ کے تمام اراکین کی انتھک کوشش و محنت سے اللہ پاک نے یہ کامیابی عطا فرمائی ۔
اس تقریب کی صدارت
حضرت مولانا محمد عابد قاسمی دامت برکاتہم نے فرمائی ۔
نظامت کے فرائض اپنے مخصوص انداز میں محمد یوسف پاپا سر نے انجام دیے ۔
تقریب میں
حافظ حفظ الرحمن
(صدر جمعیۃ علماء، ضلع دھولیہ)
مولانا ضیاء الرحمن
( صدر جمعیۃ علماء، شہر دھولیہ)
مولانا محمد عابد
مفتی شفیق قاسمی
مولانا شعیب حنیف
مولانا غزالی
مولانا محمد ثوبان
مولانا اصغر جمیل
پپو ملا، الحاج مشتاق صوفی ،الحاج شوال امین ، شیخ پرویز ، عبدالمحیط میکانک، عارف عرش، محمد رضوان، عبدالرحمن، محمد ثوبان، سلیم بھیا ، مسعود احمد، خادمین جامع مسجد مرکز، مولوی گنج، باعزت رہا ہونے خوش نصیب افراد اور دیگر احباب موجود تھے ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایم آئی ڈی سی کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، بین الاقوامی اسمگلنگ کے گروہ کا پردہ فاش، 37 کروڑ روپے مالیت کی کیٹامائن کے ساتھ دو ارکان گرفتار

Published

on

ممبئی : ایم آئی ڈی سی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس اسکواڈ نے منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کے دو ارکان کو گرفتار کر کے 12 کلو 390 گرام کیٹامائن برآمد کر لی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس برآمد شدہ منشیات کی مالیت کا تخمینہ 37 کروڑ 97 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، 24 ستمبر 2026 کی رات 11 بجے، اندھیری کرلا روڈ پر ایئرپورٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر دو مشکوک افراد ٹرالی/سامان والے بیگ اٹھائے ‘ساکئ ناکہ’کی جانب جاتے ہوئے دیکھے گئے۔ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر (اے پی آئی) کھولم اور ان کی ٹیم کو ان پر شک ہوا۔ جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو دونوں افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں موقع پر ہی پکڑ لیا گیا۔ابتدا میں انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران ٹال مٹول والے جواب دئیے، لیکن سخت تفتیش کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بیگ میں منشیات موجود ہیں۔ تلاشی لینے پر سفید رنگ کا قلمی (کرسٹل نما) پاؤڈر برآمد ہوا، جس کی شناخت کیٹامائن کے طور پر کی گئی۔

گرفتار ملزمین 1) عدنان احمد نیاز احمد صدیقی (35 سال) – گھوڑا پیڈیو، مزگاؤں (مشرقی) 2) سعود مشتاق منیار (29 سال) – گرگاؤں، ممبئی یہ ملزمین کیٹامائن کو کھانے پینے کی اشیاء میں چھپا کر ہوائی راستے سے ممبئی سے تھائی لینڈ، انڈونیشیا، میانمار اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اسمگل کیا کرتے تھے۔ این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعات 8(سی)، 22(سی) اور 29 کے تحت ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ (کیس نمبر 9075/2026) درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل کمشنر ابھیناو دیشمکھ، ڈپٹی کمشنر دتہ نلاوڑےاور اسسٹنٹ کمشنر یوگیش شنڈے کی رہنمائی میں عمل میں لائی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر انسپکٹر گھنشیام نائر، انسپکٹر سنیل کارانڈے اور یوگیش ٹانڈلے، نیز اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر الہاس کھولام شامل تھے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔یہ اطلاع آج یہا ں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرگس کے خلاف پولس کی بڑی کارروائی ہے اور مزید تفتیش بھی جاری ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان