Connect with us
Saturday,14-March-2026

(جنرل (عام

گیان واپی معاملے میں فرائض کی ادائیگی میں لاپرواہی برتنے کی وجہ سے ہٹائے گئے ایڈوکیٹ کمشنر

Published

on

Gyan Vapi case

اترپردیش کے ضلع وارانسی میں گیان واپی مسجد احاطے کی ویڈیو گرافی سروے کرائے جانے کے معاملے میں مقامی عدالت نے منگل کو ایڈوکیٹ کمشنر اجئے مشرا کو کام میں لاپرواہی برنتے کے الزام میں فوری اثر سے ہٹا دیا۔

سروے رپورٹ اب خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ اپنے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کمشنر کے تعاون سے عدالت میں پیش کریں گے۔ اس کے لئے انہیں دو دنوں کا اضافی وقت دیا گیا ہے۔ سول جج (سینئر ڈویژن) روی کمار دیواکر کی عدالت نے ویڈیو گرافی سروے کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ اور اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کمشنر اجئے پرتاپ سنگھ کو دو دن کا وقت دیا ہے۔ عدالت نے دونوں کو یہ سروے رپورٹ 19 مئی تک عدالت کے سامنے پیش کرنے کو کہا ہے۔

آج سماعت میں عدالت نے وشا سنگھ کے ذریعہ پیش کی گئی عرضٰ میں مشرا کے ذریعہ تعاون نہ کرنے اور ذاتی کیمرہ مین رکھ کر اس کے ذریعہ سے ویڈیو گرافی کی جانکاریاں میڈیا کو دینے کی شکایت پر مشرا کو عہدے سے ہٹا دیا۔ آج کی سماعت میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے سرکاری وکیل اور مدعی فریق کے وکیل نے اپنی عرضیاں پیش کیں جن پر عدالت نے متعلقہ فریقین سے ان کا موقف طلب کیا ہے۔

سرکاری وکیل نے اپنی عرضی میں وضو خانے (حوض) میں پانی کی دستیابی اور پاس میں واقع بیت الخلاء کا راستہ بند ہونے کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ وضو خانہ (حوض) میں پانی کی کمی سے مچھلیوں کے مرنے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں عدالت سے ضروری احکامات جاری کرنے کی اپیل کی۔

دوسری جانب مدعی فریق کی جانب سے نندی کے سامنے اور وضو خانہ (حوض) کے نزدیک روکاٹ ہٹانے کے لئے عدالت میں عرضی دی گئی۔ مدعی نے عدالت کو بتایا کہ وضوخانہ کے نزیک ایک اور تہہ خانہ ہے اور وہاں ملبہ جمع ہے۔ فریق نے مبینہ شیولنگ اور اس کے آس پاس کے مقام کا نیا سروے کرائے جانے کی بھی اپیل کی۔ ان درخواستوں پر عدالت نے دوسرے فریق سے اپنا اعتراض داخل کرنے کو کہا ہے۔سماعت کی اگلی تاریخ 18 مئی مقرر کی گئی ہے۔

عدالت نے اس سے پہلے نامز کئے گئے ایڈوکیٹ کمشنر اجئے کمار مشرا کے طرز عمل پر تلخ تبصرہ کیا۔ اسپیشل ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ نے بھی اجئے مشرا کے طرز عمل پر اعترا ض کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے اجئے مشرا کو عہدے سے ہٹا دیا۔عدالت کے حکم کے مطابق 12 مئی کے بعد کے تمام سروے کاروائی کی رپورٹ خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر اپنے دستخط سے داخل کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ مسلم فریق نے اجئے مشرا پر تفریق برتنے کا الزام لگایا تھا۔ جس کے بعد عدالت نے 12 مئی کو خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ کو نامزد کیا تھا۔ ان کے معاون کے طور پر اجئے پرتاپ سنگھ کو معاون ایڈوکیٹ کمشنر نامزد کیا گیا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بجٹ میں اقلیتیں نظر انداز : منوج جامستکر

Published

on

ممبئی: ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں شیوسینا لیڈر اور رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹھیکیداروں کا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے بڑے پروجیکٹ کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ ہے کہ یہ بجٹ عام عوام کی بجائے ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے کسانوں کے قرض معافی پر بھی شبہات برقرار ہے دو لاکھ روپے کی قرض معافی کا اعلان تو کیا گیا ہے اس کے نفاذ پر اب بھی شبہ ہے ریاستی سرکار نے کسانوں سے متعلق جو اسکیمات کا نفاذ کی ہے اس کا استفادہ اس کو ہو گا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ان کے لیے کوئی بھی نئی اسکیمات کو متعارف نہیں کروایا گیا ہے بجٹ میں نندوربار میں کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی یافتہ مہاراشٹرمیں بڑے بجٹ کو منظوری دی گئی ہے صحت سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اس لیے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے اور اقلیتوں کو بجٹ میں حصہ داری دینے کا مطالبہ بھی جامستکر نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

تبدیلی مذہب مخالف، مذہبی آزادی بل ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے, بل پر عوامی سماعت کی جانی چاہیے : رئیس شیخ

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی طرف سے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف مذہبی آزادی بل 2026 پیش کیے جانے کے ایک دن بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے قانون ساز رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ بل کو ریاستی مقننہ کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سماعت کی جائے تاکہ اس بل کے خلاف اعتراضات اٹھائے جا سکیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ عام لوگوں کو اس وقت گیس میسر نہیں ، ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ان مسائل پر بحث کرنے کے بجائے، مقننہ آزادی مذہب بل جیسے بل پر بحث کر رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو گی۔ موجودہ قوانین پہلے ہی جبری مذہب کی تبدیلی پر توجہ دیتے ہیں، اور یہ بل اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے،” ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریمارکس دیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث کے پاس نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہےلہذا، اس بل کو دونوں ایوانوں کے اراکین کے ساتھ ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بل کو منظور کرنے سے پہلے مکمل بحث ضروری ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مقننہ میں اقلیتوں کی نمائندگی ناکافی ہے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپس اور اقلیتی تنظیموں کو بل پر اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا،اس مقصد کے لیے، ایک عوامی سماعت ہونی چاہیے۔ حکومت کو اعتراضات اور تجاویز کو مدعو کرتے ہوئے ایک عوامی نوٹس جاری کرنا چاہیے اور ان پر سماعت کرنی چاہیے،ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ ریاست کی کل 35 سول اور اقلیتی تنظیموں نے بل کی مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رازداری، مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ مذہبی آزادی کے حق میں تبدیلی کا حق بھی شامل ہےگزشتہ سال اس بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مجوزہ قانون کے مطابق مذہب کی تبدیلی سے قبل 60 دن کا نوٹس لازمی ہوگا جس کے دوران اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں اور پولیس انکوائری بھی کی جاسکتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیاں غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اس بل میں غیر قانونی تبدیلی مذہب میں ملوث اداروں یا افراد کے لیے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مینارہ مسجد کی ۷۶ لاکھ کی پراپرٹی ٹیکس کی نوٹس واپس لی جائے, یہ کوئی کمرشل ادارہ نہیں ہے : اعظمی

Published

on

یہ مسجد میں مدرسہ ہے یہاں بچے دینی تعلیم سے بہرور ہوتے ہیں اس لئے اس ٹیکس نوٹس کو واپس لیا جائے کیونکہ اتنی خطیر رقم ادائیگی مشکل ہے اور مسجد کو اتنی بڑی رقم کی نوٹس ارسال کرنا درست نہیں ہے ۔ سماجی انصاف میں اقلیتوں کے بجٹ میں ناانصافی ، سماجی انصاف بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایوان میں رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ پہلے محکہ کا بجٹ ۶ سو دو کروڑ روپیہ تھا بعد میں اس میں تخفیف ہو گئی اور ۲۰۲۴۔۲۵ میں بجٹ میں صرف ۲۸ ہزار طلبا کو تعلیمی وظائف ملے ہیں لیکن اب اس میں مزید تخفیف ہو کر صرف ۷ ہزار طلبا کو ہی تعلیمی وظائف کی فراہمی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے اس لئے اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اتنا ہی نہیں اقلیتوں کے سہولیات کے مطابق بجٹ فراہم ہو انہوں نے ایوان میں اپنی بات اس شعر پر ختم کی۔ کبھی روزی کبھی آشیانہ چھین لیتا ہے جہاں ملتا ہے موقع آب و دانا چھین لیتا ہے، ہمیں اپنی تباہی کی خبر ہو ہی نہیں پاتی سب یہ خوشیاں ہماری غائبانہ چھین لیتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان