Connect with us
Tuesday,28-July-2026

(جنرل (عام

بلڈانہ ضلع میں لاؤڈسپیکر پر اذان کی اجازت دی جائے، ضلع کلکٹر سے ڈاکٹر توصیف نے کیا مطالبہ

Published

on

(نامہ نگار )
پورے ملک میں جاری کورونا قہر کی وجہ سے حکومت اور انتظامیہ نے سخت حفاظتی انتظامات و اقدامات اٹھائے ہیں۔ اسی ضمن میں لاک ڈاون اور دفعہ 144 نافذ ہونے کی وجہ سے مجمع جمع ہونے پر پابندی عائد ہیں ۔ جس کے چلتے مسجد، سمیت تمام عبادت گاہوں پر بھی تالے لگے دیکھائی دے رہے ہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں نمازیں ادا کرہے ہیں۔ کہیں تین یا چار افراد سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے مساجد میں نمازیں ادا کررہے ہیں۔ لیکن بلڈانہ ضلع میں کچھ شہروں اور دیہاتوں میں لاؤڈسپیکر پر اذان بند ہونے کی وجہ سے نماز کے وقت کے تعین میں تکلیف ہورہی ہے۔
ماہ رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر بلڈانہ ضلع کے سماجی خدمت گار ڈاکٹر محمد توصیف نے اس ضمن میں ضلع کلکٹر سمن چندرا میڈم کو ای میل کے ذریعے ایک عرضداشت پوسٹ کرکے ماہ رمضان المبارک میں مساجد کے لاؤڈسپیکر سے اذان و سحر و افطار کے اعلانات کے لئے مائک استمال کرنے کی پورے ضلع میں اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنے مطالبہ میں انتظامیہ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اس سے لاک ڈاون کے احکامات کی پابندی کی جائے گی۔ مساجد کے مائک کا استمال صرف اذان و سحر و افطار کے اعلانات کے لئے ہوگا۔ تمام لوگ اپنے اپنے گھروں پر ہی نمازیں ادا کریں گے۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی آرڈر، ھدایت، حکم نامہ، یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ باوجود اسکے مساجد میں اذانیں بند ہے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے بیشتر مساجد کے ذمداران سے زبانی درخواست کرکے اذانیں بند رکھنے کو کہا ہے۔
دیکھنا ہے کہ ضلع کلکٹر اس ضمن میں کیا کاروائی کرتی ہے۔
اس کے علاوہ کھام گاؤں میں بھی محمد انیس جمعدار، شہرت خان، ادریس جمعدار، واثق نوید، نجیب اقبال، سلیم ملک پر مشتمل ایک وفد نے مائک استمال کرنے کی اجازت کے تعلق سے ایس ڈی پی او پردیپ پاٹل سے ملاقات کرکے تفصیلی گفتگو کی تھی۔ جس پر ایس ڈی پی او پردیپ پاٹل نے مثبت انداز بات کرتے ہوئے اعلی آفسران سے مشورہ کرکے اس مسلئے کا حل نکال کا کہا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

نوجوان آپ کے ساتھ نہیں ہیں صرف آپ سیاست کر رہے ہیں، شریکانت شندے کا اپوزیشن پر سخت حملہ

Published

on

Shrikant Shinde

عوامی امتحانات میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے مقصد سے ترمیمی بل پر لوک سبھا میں بحث کے دوران شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شریکانت شندے نے اپوزیشن پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مودی حکومت نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہی ہے وہیں اپوزیشن طلبہ کی پریشانی پر محض سیاست میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر شندے نے ریمارکس دیے کہ نوجوانوں کی طرف سے جس غصے کا اظہار کیا گیا ہے اسے محض ایک احتجاج کے طور پر نہیں بلکہ نظامی تبدیلی کی شروعات کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ کوئی ایک امتحان طالب علم کی پوری زندگی کا تعین نہیں کرتا۔ اگر کسی طالب علم کو امتحان میں کامیابی حاصل نہ ہو تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنی زندگی، اپنے خاندان اور ملک کے مستقبل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

نوجوانوں کو چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی سے تحریک حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ شیواجی مہاراج نے صرف سولہ سال کی عمر میں اپنا پہلا قلعہ فتح کرکے ہندوی سوراجیہ کی بنیاد رکھی۔ آج کے نوجوان قوم کو بدلنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ صرف صحیح سمت اور ایک مضبوط نظام کی ضرورت ہے ڈاکٹر شندے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے پیپر لیک ہونے کے واقعات کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ پورے نظام کو صاف کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کے اخلاقی جوابدہی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اور اب، اس ترمیمی بل کے ذریعے، فاسٹ ٹریک عدالتوں کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پیپر لیک کے معاملے میں ملزمان کو جلد سے جلد سزا دی جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کا مقصد صرف مجرموں کو قید کرنا نہیں ہے بلکہ لاکھوں طلباء کے ایک قیمتی سال کو بچانا ہے۔ تعلیمی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر شندے نے کہا کہ برسوں کی محنت کا نتیجہ اور خاندانوں کے خوابوں کی تعبیر تین گھنٹے کے ایک امتحان پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ طلباء کو سال میں کئی بار امتحان دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ حکومت کو سوالیہ بینک کا نظام تیار کرنے، طلباء پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کو کم کرنے اور کوچنگ انڈسٹری کے لیے موثر ضوابط کو نافذ کرنے کی طرف بھی قدم بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں مہایوتی حکومت نے معاشی طور پر کمزور طبقات اور ای سی-بی سی زمرے کی بیٹیوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایک تاریخی پہل شروع کی ہے۔ یہ حکومت محض قوانین نہیں بنا رہی بلکہ تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے۔ اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شریکانت شندے نے ریمارک کیا کہ جو لوگ اب نوجوانوں کو چیمپئن بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں وہ 37 دنوں تک جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران جنتر منتر جانے میں ناکام رہے۔ انہیں ایک نئے سیاسی متبادل کے ابھرنے کا خدشہ تھا۔ اب اپنے سیاسی میدان کو کھسکتے دیکھ کر نوجوانوں کے نام پر سیاست کرنا شروع کر دی ہے۔انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ وہ پہلے یہ واضح کریں کہ کیا واقعی نوجوان ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ طلباء کے جذبات بھڑکانا، حکومت پر گالی گلوچ کرنا، اور غلط معلومات پھیلانا مسئلے کا کوئی حل پیش نہیں کرتا۔ جمہوریت میں، حکومت نے طلباء کے ساتھ بات چیت کی، ان کے تحفظات کو سنا، اور یہاں تک کہ کئی واقعات میں ان کے خلاف درج مقدمات کو واپس لے لیا۔ اس سے جمہوریت کی مضبوطی اور مودی حکومت کی حساسیت کی مثال ملتی ہے۔ڈاکٹر شندے نے زور دے کر کہا کہ یہ ترمیمی بل صرف پیپر لیک ہونے پر روک لگانے کا قانون نہیں ہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے، امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور تعلیمی اصلاحات لانے کا پختہ عزم ہے۔ اپوزیشن سیاست کو ایک طرف رکھ کر ملک کے نوجوانوں اور ان کے مستقبل کی حمایت میں کھڑی ہو جائے۔امتحانی اصلاحات بل پر پارلیمانی بحث کے دوران شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شریکانت شندے نے کہا کہ ملک کے امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سال میں صرف ایک بار این ای ای ٹی جیسے اہم امتحانات کا انعقاد لاکھوں طلباء پر غیر ضروری دباؤ ڈالتا ہے۔

ڈاکٹر شندے نے نوٹ کیا کہ بہت سے طلباء بیماری، خاندانی وجوہات یا دیگر حالات کی وجہ سے امتحان سے محروم رہ جاتے ہیں، دیہی علاقوں کے طلباء کو خاص طور پر زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ان کا پورا ایک سال ضائع ہو جاتا ہےانہوں نے مشورہ دیا کہ سال میں ایک سے زیادہ بار این ای ای ٹی امتحان کے انعقاد پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ بہت سے ممالک میں اس طرح کے امتحانات سال میں دو بار ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں اسی طرح کے نظام کو نافذ کرنے سے طلباء کو دوسرا موقع ملے گا اور ذہنی دباؤ میں کمی آئے گی۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ نہ صرف نیٹ بلکہ دیگر مسابقتی امتحانات کو بھی کنٹرول کرنے والے نظاموں کو بدلتے ہوئے وقت کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کے لیے منصفانہ اور بہتر مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں دہشت! ذوالفقار گینگ پر بلڈر سے ہفتہ طلبی اور جان سے مارنے کا الزام، ممبئی کرائم برانچ کی کارروائی، ۱۲ غنڈے گرفتار

Published

on

Zulfiqar-Gang

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ایک بلڈر سے ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ طلب کرنے کی پاداش میں غنڈہ بدمعاش ذوالفقار بہلیم اور اس کے بھائی محسن بہلیم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دونوں نے بلڈر کو ۲۵ لاکھ روپے کا تاوان طلب کرنے کے ساتھ اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی, اس متعلق بلڈر نے غنڈہ ذوالفقار اور اس کے بھائی سمیت ۱۲ غنڈوں کے خلاف کیس درج کروایا تھا۔ کرائم برانچ یونٹ ۹ نے جال بچھا کر ان ۱۲ ملزمین کو ہفتہ کی رقم وصول کرتے ہوئے گرفتار کر لیا, ملزمین کے خلاف ہفتہ وصولی اور آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمین کو عدالت نے یہاں ۳۱ جولائی تک ریمانڈ پر رکھنے کا حکم صادر کیا ہے۔ ذوالفقار اور محسن نے ممبئی شہر و مضافات میں دہشت پیدا کی تھی اور کئی بلڈروں سے ہفتہ طلبی کی بھی کوشش کی تھی, اس لئے پولس نے اپیل کی ہے کہ اگر اس گینگ نے کسی سے ہفتہ طلب کیا ہے تو وہ پولس اور کرائم برانچ میں ان کے خلاف شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے اور کرائم یونٹ انچارج سچن پرانک نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

چونا بھٹی مکوکا اور قتل میں مطلوب ملزم نئی ممبئی سے گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی کے چونا بھٹی پولیس اسٹیشن میں قتل اور مکوکا کے تحت جرم میں مطلوب ایک ملزم کو ممبئی کرائم برانچ نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے, جو اپنی شناخت پوشیدہ رکھ کر ممبئی سے متصلہ نئی ممبئی میں روپوش تھا۔ اس متعلق ممبئی کرائم برانچ کو اطلاع ملی جس پر کرائم برانچ نے کھار گھر نئی ممبئی میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے مفرور ملزم سمیت سواستک ساونت 32 سالہ کو گرفتار کر لیا ہے اس کے خلاف چونا بھٹی پولیس اسٹیشن میں 2023 ء میں کیس درج ہوا تھا اور وہ اس کے بعد سندھودرگ, گوا, چنئی, راجستھان, دلی علاقہ میں روپوش تھا۔ کرائم برانچ یونٹ 6 نے اس متعلق ملزم کی تلاش شروع کردی اور پھر اس سے متعلق اطلاع ملی تھی کہ وہ نئی ممبئی میں روپوش ہے, جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کاروائی ممبئی کرائم برانچ کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان