Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

اردوکتابوں کی ترویج و اشاعت کے لیے جدید ٹکنالوجی سے ہم آہنگی ضروری:ڈاکٹر عقیل احمد

Published

on

اردو زبان و ادب کے فروغ جدید تکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہاکہ اگر آج کے دور میں اردو زبان کو فروغ دیناہے اور اردو کتابیں عوام تک پہنچانی ہیں تو ہمیں ٹکنالوجی فرینڈلی بننا ہوگا اورسائنس و ٹکنالوجی کے ذریعے دستیاب جدید ذرائع کا استعمال کرنا ہوگا۔
انہوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام کورونا کے دور میں اردو کتابوں کی اشاعت کے موضوع پر آن لائن میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں وبائی دور میں اردو کتابوں کی اشاعت اور ان کی خریدو فروخت کے نئے طریقوں کو اختیار کرنے پر زور دیا۔ انھوں نے کہاکہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سی صنعتیں متاثر ہوئی ہیں، جن میں کتابوں کی صنعت بھی شامل ہے، مگریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ایک راستہ بند ہوتا ہے تودوسرے کئی راستے کھل جاتے ہیں، چنانچہ اگر کورونا کی وجہ سے انسانوں کی باہمی ملاقات اور سمینار و میٹنگ وغیرہ کا انعقاد ممکن نہیں رہا،تو اس کے متبادل کے طورپر ہمارے سامنے آن لائن ویبینار اور میٹنگ کی صورتیں آگئیں، خود کونسل کی جانب سے اب تک بہت ساری آن لائن میٹنگز،عالمی ویبینار اور مذاکرے کیے جاچکے ہیں،اسی طرح اگر کورونا کی وجہ سے روایتی انداز میں کتابوں کی فروخت اور ترسیل میں دشواریوں کا سامنا ہے تو ہم اس کے لیے جدید ٹکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے آن لائن پلیٹ فارمز،سوشل میڈیا اور ای کامرس کمپنیوں جیسے امیزون،فلپ کارٹ وغیرہ کے ذریعے اپنی کتابوں کی تشہیرا ور فروخت کرسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اردو والوں کو کسی بھی حال میں ہار نہیں ماننا چاہیے،ہمیں بحران کو موقعے میں بدلنا چاہیے اوراردو کتابوں کی نشرواشاعت وفروخت کے لیے نئے پلیٹ فارم سے جڑنا چاہیے۔ اگر آج کے دور میں اردو زبان کو فروغ دیناہے اور اردو کتابیں عوام تک پہنچانی ہیں تو ہمیں ٹکنالوجی فرینڈلی بننا ہوگا اورسائنس و ٹکنالوجی کے ذریعے دستیاب جدید ذرائع کا استعمال کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں گرچہ اسکول،کالجز اور تعلیمی ادارے بند رہے مگر اس دوران بھی لوگوں نے بہت مطالعہ کیاہے اور کتابوں کے بہت سے ایسے ناشرین ہیں جنھوں نے بڑی مقدار میں آن لائن یا ای بکس کی شکل میں کتابیں فروخت کی ہیں، ہمیں اس میڈیم کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اسے استعمال کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر عقیل نے اردو ناشرین سے یہ بھی کہا کہ اردو کونسل اس مہم میں آپ کے ساتھ ہے اور اردو کتابوں کی تشہیر و اشاعت اور قارئین تک پہنچانے کے لیے آپ کا ہر ممکن تعاون کیا جائے گا،آپ اپنی کتابوں کے ساتھ کونسل کی کتابوں کی بھی تشہیر کیجیے۔انھوں نے بچوں کے ادب اور بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ کتابوں کی اشاعت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے اندر اردو زبان سے دلچسپی پیدا کرنا ضروری ہے اس لیے کہ اگر ہم نے آج ایسا نہیں کیاتو مستقبل میں اردو ادب کی اہم اور کلاسیکل کتابیں پڑھنے والا کوئی نہیں ملے گا اور اس طرح ہماری زبان غیر معمولی خسارے سے دوچار ہوجائے گی۔آپ اس سلسلے میں خود بھی کوشش کیجیے،کونسل کو بھی اپنے مشورے اور تجاویز دیجیے،کونسل کی جانب سے بچوں کے لیے ہر ماہ شائع ہونے والے رسالے”بچوں کی دنیا“کے علاوہ بچوں کے ادب پر بہت سی کتابیں شائع کی گئی ہیں،ہم آپ کے مشوروں اور تجاویز پر عمل کرتے ہوئے اس سلسلے کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔
انھوں نے یہ بھی کہاکہ حالات بہتر ہونے کے بعد ہم جلدہی اردو ناشرین کے مشورے سے قومی کتاب میلے کا انعقاد کریں گے۔اس موقعے پر دہلی، ممبئی،مالیگاؤں،حیدرآباد،کشمیر،علی گڑھ،اعظم گڑھ اور دیگر مقامات کے دودرجن سے زائد اردو پبلشرز شریک رہے۔انھوں نے کئی اہم تجاویز بھی پیش کیں، جن کا خیر مقدم کیاگیا اور ڈاکٹر عقیل نے کہا کہ انھیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔انھوں نے ناشرین سے اپنی تجاویز تحریری شکل میں ارسال کرنے کی بھی اپیل کی تاکہ ان پر اچھی طرح غور کرکے عملدرآمد کیا جاسکے۔اخیر میں کونسل کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر(اکیڈمک) محترمہ شمع کوثر یزدانی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس میٹنگ میں کونسل کی جانب سے جناب شاہنواز محمدخرم(ریسرچ آفیسر)جناب اجمل سعید (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)،ذاکرنقوی،سنجے سنگھ،گلشن آننداور محمد افضل خان شریک رہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان