Connect with us
Tuesday,13-October-2026

تفریح

اداکارہ کاجول نے اپنی بااثر اداکاری سے مضبوط شناخت بنائی

Published

on

یوم پیدائش 5 اگست کے موقع پر
ممبئی 4 اگست (یو این آئی) ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ کاجول نے اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کا دل جیت لیا اور اداکاراؤں کو محض ’شوپيس‘ کے طور استعمال کیے جانے کے نظریات کو بدل کر سلور اسکرین پر اپنی ایک مضبوط شناخت بنالی ۔
کاجول کی پیدائش .5 اگست 1974 کو ممبئی میں ہوئی۔ اداکاری کا فن انہیں وراثت میں ملا۔ ان کے والد سومو مکھرجی پروڈیوسر جبکہ ماں تنوجا جانی مانی فلم اداکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ کاجول اکثراپنی ماں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتی تھیں اسی وجہ سے ان کا بھی رجحان فلموں کی جانب ہو گیا اور وہ بھی اداکارہ بننے کے خواب دیکھنے لگیں۔
کاجول نے بطور اداکارہ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز سال 1992 میں آئی فلم ’بے خودی‘ سے کیا تھا ۔ اس فلم میں ان کے ہیرو کا کردار کمل سدانا نے نبھایا لیکن کمزور اسکرپٹ اور ہدایت کی وجہ سے فلم باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی۔1993 میں انہیں عباس-مستان کی فلم ’بازیگر‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔حالانکہ پوری فلم شاہ رخ خان پر مرکوز تھی لیکن کاجول نے اپنی زبردست اداکاری کے جوہر دکھاکر ناظرین کومسحور کردیا۔یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔
سال 1994 کاجول کے فلمی کیریئر میں اہم ثابت ہوا۔ اس سال ان کی ’ادھار کی زندگی، یہ دل لگی اور کرن ارجن‘ جیسی فلمیں جلوہ گر ہوئیں۔ ان فلموں میں اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کا دل جیتنے والی کاجول بامبے فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازی گیئں۔
سال 1994 میں کاجول کو یش چوپڑا کے بینر تلے بنی فلم ’یہ دل لگی‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم میں ان کے ہیرو کا کردار اکشے کمار اور سیف علی خان نے نبھایا۔ اس فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ پہلی مرتبہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئیں۔
سال 1995 میں یش چوپڑا کی ہی فلم’دل والے دلهنيا لے جائیں گے‘ کاجول کے فلمی کیریئر کے لئے سنگ میل ثابت ہوئی۔ کاجول اور شاہ رخ خان کی بہترین اداکاری سے آراستہ یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔
سال 1997 میں انہیں پروڈیوسر ۔ ڈائرکٹر راجیو رائے کی فلم ’گپت‘ میں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ فلم بھی سپر ہٹ ثابت ہوئی حالانکہ فلم میں کاجول کا کردار گرے شیڈس لئے ہوئے تھا۔فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین ویمپ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی گیئں۔ فلم انڈسٹری کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب کسی اداکارہ کو بہترین ویمپ کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا تھا۔
سال 1998 میں ریلیز فلم دشمن میں کاجول نے اپنے فلمی کیریئر میں پہلی بار دوہرا کردار نبھا کر ناظرین کو محظوظ کر دیا۔اس فلم میں وہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئیں۔
اسی سال ان کی ’پیار تو ہونا ہی تھا اور کچھ کچھ ہوتا ہے‘ جیسی فلمیں پردہ سمیں پر جلوہ گر ہوئیں۔ ان دونوں فلموں کے لیے بھی وہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئیں۔ یہ ان کے سنےکیریئر میں پہلا موقع تھا جب ایک سال میں تین فلموں کے لیے انہیں فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
سال 1999 میں کاجول نے اداکار اجے دیوگن کے ساتھ شادی کر لی اور فلموں میں کام کرنا کافی حد تک کم کر دیا۔ 2001 میں فلم’کبھی خوشی کبھی غم‘کے بعد کاجول نے فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا تھا۔
لیکن 2006 میں کاجول نے یش چوپڑا کے بینر تلے بنی فلم ’فنا‘ کے ذریعے فلم انڈسٹری میں اپنی زبردست واپسی کی۔ اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی جوڑی خوب پسند کی گئی۔ اپنے فلمی کیریئر میں وہ چار مرتبہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی جا چکی ہیں۔ 2011 میں وہ پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازی گئی ہیں۔
کاجول نے سال 2015 میں جلوہ گر ہوئی فلم ’دلوالے‘ سے کم بیک کیا۔ روہت شیٹی کی ہدایت میں بنی اس فلم میں شاہ رخ کے ساتھ ان کی کیمسٹري کو ناظرین نے بے حد پسند کیا ۔یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔

بالی ووڈ

رنویر شوری کا سی جے آئی کو مشورہ : جمہوریت کے لیے عدالتوں میں لڑیں، سڑکوں پر قبضہ نہ کریں

Published

on

ممبئی : اداکار رنویر شورے نے بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبات پر جاری احتجاج اور سیاسی ہلچل پر رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو اداکار نے اپنے ایکس، جو پہلے ٹویٹر پر تھا، کا حوالہ دیا اور ایک ویڈیو ٹویٹ کی جس میں کاکروچ جنتا پارٹی کے چیف ترجمان سورو داس کہہ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کے کارکنان کے احتجاج کو جیت کر دیکھا جا سکتا ہے۔ مطالبہ کیا، اور شہریوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔ اس پر جواب دیتے ہوئے اداکار نے لکھا، “پارلیمنٹ اور بیلٹ میں اپنے نمبر دکھائیں، سڑکوں پر نہیں! اور اگر ان کا راستہ ناانصافی لگے تو عدالتوں کو دکھائیں”۔ “یہی جمہوری طریقہ ہے! سڑکوں کو ہائی جیک کرنا اور عوامی انفراسٹرکچر کو روکنا جمہوریت، قانون اور نظام کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔” شامل کیا

پریشر گروپ، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی ایجی ٹیشن کو تیز کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی دہلی میں 11 اکتوبر 2026 کو احتجاج اپنے دوسرے دن میں داخل ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کی قیادت والی تحریک انتخابی فہرستوں کے الیکشن کمیشن کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کی مخالفت کر رہی ہے، اور الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن نے لاکھوں ووٹروں کو بے دخل کیا ہے۔ بی جے پی نے ہیرا پھیری کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ 10 اکتوبر کو، سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور ساتھی لیڈر سورو داس اور آشوتوش رانکا کو جنتر منتر پر ایک منصوبہ بند مظاہرے کے لیے دہلی پہنچنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔ بہت سے مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا کیونکہ حکام نے وسیع حفاظتی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تینوں رہنماؤں کو 11 اکتوبر کو رہا کیا گیا، مبینہ طور پر ایک سال کے لیے عوامی امن برقرار رکھنے کی شرط کے ساتھ۔ ڈپکے نے بعد ازاں ایجی ٹیشن جاری رکھنے کا عزم کیا۔ چیف جسٹس نے انتخابی اصلاحات اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ انکوائری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اتوار کو اپنی خصوصی سماعت کے دوران نوٹ کیا کہ مظاہرین کو حراست میں نہیں لیا جائے گا، اور پبلک ٹرانسپورٹ معمول پر آجائے گی۔

Continue Reading

بالی ووڈ

نانا پاٹیکر کی موت، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا

Published

on

ممبئی : معروف اداکار نانا پاٹیکر کی موت کے معاملے کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ قدرتی ہونے کی وضاحت کردی گئی ہے۔ گوا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (جی ایم سی ایچ) کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ان کی موت قدرتی موت تھی، جو کہ دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔ اس کی تصدیق گوا پولیس نے میڈیا کو کی ہے۔ پولیس کے مطابق لواحقین کو بھی رپورٹ سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور لواحقین نے بھی میڈیکل رپورٹ پر رضامندی ظاہر کی ہے اور ابھی تک کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔ جی ایم سی کی جانب سے حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مرکزی کورونری شریان میں خون جمنے کی وجہ سے دل کو خون کی سپلائی بند ہو گئی تھی، جس سے دل کا دورہ پڑا۔ 8 اکتوبر کی صبح تقریباً 2:30 بجے اداکار نے اپنے خاندانی دوست کو واٹس ایپ پر اپنی خرابی کی اطلاع دی جس کے بعد انہیں منی پال ہسپتال ڈونا پاؤلا لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے سی پی آر کے تقریباً 45 منٹ بعد بھی انہیں مردہ قرار دے دیا۔

ان کے لیے، پنجی پولیس نے یو ڈی نمبر 62/2026 کے تحت بی این ایس ایس کی دفعہ 194 کے تحت غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اب جب کہ پوسٹ مارٹم نے قدرتی موت کی تصدیق کر دی ہے اور بیٹے ملہار پاٹیکر اور بھتیجے پرساد پاٹیکر کی طرف سے کسی بھی قسم کی بدتمیزی کو مسترد کر دیا ہے، کیس جلد ہی بند کر دیا جائے گا۔ آنجہانی اداکار نانا پاٹیکر کی جمعرات کو پونے ضلع کے ڈونجے میں واقع ان کے فارم ہاؤس میں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اداکار کو 3 توپوں کی سلامی دی گئی۔ آنجہانی اداکار کے دوست اور فلمی برادری کے ارکان بشمول جیکی شراف، ہدایت کار انیل شرما، انیز بزمی اور پروڈیوسر فیروز ناڈیا والا نانا پاٹیکر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے دونجے گاؤں پہنچے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے بھی ممبئی روانگی سے قبل پونے ہوائی اڈے پر نانا پاٹیکر کو آخری خراج عقیدت پیش کیا۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اداکار کے پونے فارم ہاؤس پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

Continue Reading

بالی ووڈ

راجت بیدی کا بیٹیوں کے باپ کے لیے جذباتی پیغام: ہر لڑکی کو یہ موقع ملنا چاہیے۔

Published

on

ممبئی : اداکار رجت بیدی کا بچیوں کے عالمی دن پر تمام بچیوں کے والدین کے لیے خصوصی پیغام ہے۔ بالی ووڈ کے اداکار نے سب پر زور دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں اور انہیں اپنی مرضی کا انتخاب کرنے کی آزادی دیں۔ تمام لڑکیوں کے باپوں سے خطاب کرتے ہوئے رجت نے مزید کہا، “میں کہوں گا کہ بیٹی کو کبھی بھی یہ ثابت نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ایک بیٹے کی طرح قابل ہے۔ اسے وہی آزادی، وہی تعلیم اور وہی حوصلہ دیں۔ فیصلہ نہ کریں کہ وہ لڑکی سے کیا سیکھ سکتی ہے یا نہیں کر سکتی، اس سے یہ فیصلہ نہ کریں کہ وہ لڑکی کیا کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ والدین کس طرح لڑکیوں کو زیادہ پراعتماد اور خودمختار بننے میں مدد کر سکتے ہیں۔” اور وہاں موجود تمام باپوں سے، میں یہ کہوں گا کہ آپ کی بیٹی کو سپورٹ کرنا صرف اس پر بھروسہ کرنا اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا اعتماد دینا ہے،” اس نے مزید کہا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کسی فلم میں کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ کس موضوع کا انتخاب کریں گے، تو انھوں نے کہا کہ میں ایک ایسی لڑکی کی کہانی کا حصہ بننا چاہوں گا جو پڑھنا چاہتی ہے لیکن اسے اپنے آس پاس کے لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”میں ایک ایسی لڑکی کے بارے میں کہانی کا حصہ بننا چاہوں گا جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے اور اپنا مستقبل بنانا چاہتی ہے، لیکن جب مجھے اپنے اردگرد کے لوگوں کی ذہنیت سے لڑنا پڑتا ہے تو اس لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت موقع ملتا ہے۔ مطالعہ کرتے ہوئے، وہ اپنی زندگی کے لیے مزید امکانات کو دیکھنے لگتی ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ کہانی نہ صرف اس کی جدوجہد کو دکھائے بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگ اپنی سوچ کو کیسے بدل سکتے ہیں، اگر کوئی فلم چند والدین کو اپنی بیٹیوں کے بارے میں مختلف سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان