Connect with us
Saturday,14-March-2026

جرم

نوئیڈا میں جئے شری رام نہ بولنے پر ڈرائیور کے قتل کا الزام، پولیس نے کہا-لوٹ کا معاملہ !

Published

on

murder

نوئیڈا
اتر پردیش کے نوئیڈا میں ایک مسلمان کیب ڈرائیور کے مبینہ طور پر جئے شری رام نہیں بولنے پرقتل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔الزام ہے کہ پیشہ سے کیب ڈرائیور آفتاب عالم کا ان کی کیب میں سوار دو لوگوں نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ بلند شہر سے لوٹتے وقت اتوار رات کو بادل پور تھانہ حلقہ میں ہوا۔
آفتاب عالم کے بیٹے محمد صابر (20)کاالزام ہے کہ ان کے والد کی ماب لنچنگ ہوئی ہے لیکن پولیس نے اس سے انکار کرتے ہوئے اسے لوٹ کے ارادے سے کیا گیا جرم بتایا ہے۔محمد صابر نے دی وائر کو بتایا کہ اتوار لگ بھگ آدھی رات کو پولیس نے انہیں فون کرکے بتایا کہ ان کے والد کی لاش انہی کی کیب سے برآمد کی گئی ہے۔
صابر کا کہنا ہے کہ دراصل ان کےوالد نے قتل سے کچھ گھنٹوں پہلے انہیں فون کیا تھا، تبھی انہیں شک ہو گیا تھا کہ کچھ تو غلط ہے کیونکہ انہوں نے فون کر کےایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔صابر کہتے ہیں،‘فون میں انہیں کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دیں، جنہوں نے شراب پی رکھی تھی۔ وہ لوگ میرے والد سے ان کا نام پوچھ رہے تھے تبھی میں نے فون کال ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔’
دی وائر کے پاس موجود اس 8.39 منٹ کی آڈیو کلپ میں ایک شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے، ‘جئے شری رام بول، بول جئے شری رام۔’صابر کا کہنا ہے کہ انہیں اس کے بعد ان کی کوئی بات سنائی نہیں دی اور 11 منٹ بعد رات 7.41 منٹ پر کیب میں بیٹھا ان میں سے ایک شخص کہتا ہے، ‘سانس رک گئی ہے۔’
صابر کہتے ہیں،‘میرے والد اتوارکو دوپہر لگ بھگ تین بجے اپنی ایک پرانی سواری کو بلندشہر چھوڑنے گئے تھے۔ انہوں نے انہیں شام سات بجے بلندشہر چھوڑا اور گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔ راستے سے انہوں نے مجھے فون کرکے فاسٹ ٹیگ ریچارج کرنے کو کہا۔ میں نے لگ بھگ 7.30 بجے ریچارج کیا۔’
صابر نے آگے بتایا،‘اس کے بعد مجھے دوبارہ ان کا فون آیا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ فون ٹول بوتھ کے پاس سے کیا گیا تھا۔ انہیں شاید یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کی کیب میں صحیح لوگ نہیں بیٹھے ہیں اس لیے انہوں نے مجھے فون لگاکر موبائل کو جیب میں رکھ لیا۔ اس کے بعد میں نے پاس کے میور وہار فیز1 کے پولیس تھانے جاکر پولیس سے مدد مانگی۔’
صابر کہتے ہیں،‘جب میں نے اس معاملے کے بارے میں سب انسپکٹر سنجیو سر کو بتایا تو انہوں نے میری مدد کی۔ انہوں نے میرے والد کے موبائل فون کو ٹریک کرنا شروع کیا اور ان کے سم کارڈ کی آخری لوکیشن پتہ لگائی۔’آفتاب عالم کے موبائل کی آخری لوکیشن بادل پور پولیس تھانے کے پاس تھی، جہاں پولیس کو آفتاب عالم کی لاش ملی۔ ان کے چہرے پر کئی نشان تھے۔ انہیں پاس کے اسپتال لے جایا گیا، جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔
صابر اپنے والد کے لاش کی حالت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں،‘ان کی زبان کے آس پاس کا حصہ بری طرح سے زخمی تھا۔ ان کے کان سے خون بہہ رہا تھا۔ ان کے چہرے پر بڑے کٹ کا نشان تھا۔ یہ صاف طور پر ماب لنچنگ کا معاملہ ہے۔’وہ کہتے ہیں، ‘ہم مسلمان ہیں لیکن ہمیں جینے کاحق ہے۔’
حالانکہ، بادل پور پولیس تھانہ اسٹیشن افسر نے اسے ماب لنچنگ یا ہیٹ کرائم کا معاملہ بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے فی الحال معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔حالانکہ، اسی رات کو درج ایف آئی آر میں نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 394، 302 اور 201 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ کن حالات میں ان مجرموں سے عالم کی ملاقات ہوئی اور یہ لوگ کون تھے اور کتنے تھے۔آفتاب عالم ترلوک پوری کے رہنے والے تھے۔ وہ 1996 سے ڈرائیونگ کر رہے تھے اور یہی ان کی روزگار کا اہم ذریعہ تھا۔ پسماندگان میں ان کی بیوی ، تین بیٹے، والدین اور دو بھائی ہیں، جو مالی طور پر ان پر اور صابر پرمنحصر ہیں۔
ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران آفتاب عالم کورونا وائرس کے ڈر سے گھر سے باہر نہیں نکلے تھے لیکن جب ایک فیملی فرینڈ اور ان کے پرانے کلائنٹ نے انہیں فون کرکے گڑگاؤں سے بلندشہر چھوڑنے کے لیے کہا تو وہ انکار نہیں کر سکے۔لاک ڈاؤن کے دوران پیسوں کی تنگی سے پریشان عالم نے حامی بھر دی تھی۔ صابر دہلی یونیورسٹی کے اسکول آف اوپن لرننگ میں بی کام تھرڈ ایئرکے طالبعلم ہیں۔
صابر کے علاوہ عالم کے دو چھوٹے بیٹے محمد شاہد (19)اور محمدساجد (17)ہیں، جو پڑھنے لکھنے میں اچھے ہیں اور ان کے بورڈ امتحانات میں اچھے نمبر آئے ہیں۔عالم کے والد محمد طاہر (65) کا کہنا ہے، ‘اگر یہ لوٹ کا معاملہ ہوتا تو وے کیب کیوں چھوڑکر جاتے؟ وہ کار چرا لیتے اور اس کی لاش کو سڑک پر پھینک دیتے۔ یہ صاف طور پر ماب لنچنگ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے صرف موبائل فون چرایا ہے۔’
عالم کی بیوی ریحانہ خاتون (36)کو ان کی موت کے بارے میں سوموار دوپہر کو پتہ چلا۔ خاتون کہتی ہیں کہ انہیں اپنے شوہر کے لیے انصاف چاہیے۔

جرم

ممبئی میں آن لائن فراڈ کا پردہ فاش، 300 سے زائد سم فراہم کرنے والا ایجنٹ گرفتار

Published

on

ممبئی: ممبئی پولیس کے نارتھ ریجنل ڈویژن کے سائبر سیل نے سائبر کرائم کی ایک بڑی رِنگ کا پردہ فاش کیا ہے اور ایک 25 سالہ پی او ایس (پوائنٹ آف سیل) ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان سم کارڈز کو ملک بھر میں متعدد آن لائن فراڈ میں استعمال کیا گیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان نے مختلف افراد کے آدھار کارڈ کا غلط استعمال کیا اور سائبر فراڈ کرنے والوں کو 300 سے زیادہ سم کارڈ فراہم کئے۔ گرفتار ملزم کی شناخت کمل پکھراج کلدیپ کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے نجی ٹیلی کام کمپنیوں ایرٹیل اور وی کے لئے پی او ایس ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کلدیپ نے متعدد افراد سے آدھار کارڈ کی معلومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے بڑی تعداد میں سم کارڈ حاصل کیے اور انہیں سائبر کرائمین میں تقسیم کیا۔ ان سم کارڈز کا استعمال کرتے ہوئے، جعلساز ان سم کارڈز کو لوگوں کو کال کرنے اور مختلف فراڈ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پولیس کی تفتیش کے دوران، ایک کیس کا پردہ فاش ہوا جس میں سائبر کرائمین نے کلدیپ کے ذریعہ جاری کردہ سم کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں “ڈیجیٹل گرفتاری” کے وعدے کے ساتھ لالچ دیا۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا روپ دھارنے والے جعلسازوں نے ایک بزرگ آدمی کو ڈرایا اور مبینہ تحقیقات کے نام پر آن لائن پوچھ گچھ کا بہانہ کیا۔ بزرگ کو بتایا گیا کہ اس کا نام ایک سنگین کیس میں سامنے آیا ہے اور اسے فوری تعاون کرنا چاہیے ورنہ اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ دباؤ اور خوف کے تحت متاثرہ نے تقریباً 29 لاکھ روپے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے۔ بعد میں جب اسے شک ہوا تو اس نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ تحقیقات کے بعد، پولیس نے سائبر نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی، سم کارڈ کے ماخذ کا پتہ لگایا، اور پی او ایس ایجنٹ کلدیپ کو گرفتار کر لیا۔ شکایت کنندہ ایک 66 سالہ گورگاؤں کا رہائشی ہے، جو ویسٹرن ریلوے کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائرڈ اسسٹنٹ آفیسر ہے۔ پولیس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملزم نے مزید کتنے سم کارڈ جاری کیے اور اس ریکیٹ میں اور کون کون ملوث ہے۔ پولیس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی نامعلوم کال یا آن لائن پوچھ گچھ سے نہ ڈریں اور ایسے کسی بھی واقعے کی اطلاع فوری طور پر سائبر سیل کو دیں۔

Continue Reading

جرم

ممبئی: اسکریپ بیچنے اور پیسے کے تنازع نے ایک نوجوان کی جان لے لی۔ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

Published

on

ممبئی: ممبئی میں ونرائی پولیس نے ایک بے گھر اسکریپ چننے والے کے مبینہ قتل میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں سے ایک ہریانہ کا رہنے والا بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے دونوں کو مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں سے انہیں چار دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ ونرائی پولس سے موصولہ اطلاع کے مطابق گورگاؤں میں ہنومان ٹیکری کے پاس ایک نامعلوم شخص بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا۔ اسے علاج کے لیے جوگیشوری ایسٹ کے ٹراما کیئر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا۔ ونرائی پولیس نے ابتدائی طور پر اے ڈی آر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ تاہم مقتول کے سر پر شدید چوٹیں دیکھ کر پولیس کو شک ہو گیا۔ متوفی کے پاس کوئی شناختی کاغذات نہیں تھے، اس لیے اس کی شناخت کچھ عرصے تک نامعلوم رہی۔ متاثرہ کی شناخت کے لیے، پولیس نے دو ٹیمیں تشکیل دیں اور گورگاؤں-دہیسر علاقے میں تقریباً 50 سے 70 سکریپ چننے والوں کو متوفی کی تصویریں دکھائیں۔ ان میں سے کچھ نے اس شخص کی شناخت اظہر کے طور پر کی، جو دو دیگر سریش عرف کالیا اور سلیم عرف نیپالی کے ساتھ سکریپ کلیکٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ واقعہ کے بعد سے دونوں لاپتہ تھے۔ ہسپتال سے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ متاثرہ شخص حملے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا اشارہ دیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے سریش عرف کالیا کو ہریانہ سے حراست میں لے لیا۔ تفتیش کے دوران اس نے مبینہ طور پر اپنے ساتھی سلیم عرف نیپالی کے ساتھ مل کر قتل کا اعتراف کیا۔ اس کے اعتراف کے بعد دوسرے ملزم سلیم عرف نیپالی کو ملاڈ کے پٹھان واڑی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے اسکریپ کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی تقسیم پر جھگڑے کے بعد اظہر کو سر پر پتھر مار کر قتل کیا۔

Continue Reading

جرم

ممبئی سنٹرل ریلوے اسپتال میں خاتون ڈاکٹر کی مشتبہ حالت میں موت، پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

Published

on

ممبئی: سینٹرل میں ویسٹرن ریلوے کے جگجیون رام اسپتال میں تعینات ایک خاتون ڈاکٹر کی مشتبہ حالات میں موت ہوگئی۔ ڈاکٹر کی لاش اسپتال کے احاطے میں اس کے کمرے سے ملی۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ ممبئی پولیس کے مطابق ڈاکٹر انوجا کلکرنی کی گزشتہ روز ہسپتال میں کئی طے شدہ سرجری ہوئیں تاہم وہ وقت پر آپریٹنگ تھیٹر پہنچنے میں ناکام رہیں۔ ساتھیوں نے اسے کئی بار فون کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کال کا جواب نہیں دیا۔ اس کے رابطے کی مسلسل رسائی اس کے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹروں میں شکوک کا باعث بنی۔ اس کے بعد ایک جونیئر ڈاکٹر چوتھی منزل پر اس کے کمرے میں گئی اور دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ مشکوک ہو کر اس نے اندر جھانکا اور دیکھا کہ ڈاکٹر کلکرنی اپنی کرسی کے قریب فرش پر پڑے ہیں۔ یہ دیکھ کر اس نے فوراً اسپتال انتظامیہ کو اطلاع دی۔ سینئر ڈاکٹرز جائے وقوعہ پر پہنچے اور ڈاکٹر کا معائنہ کیا۔ جانچ کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور انکوائری رپورٹ تیار کرکے تفتیش شروع کردی۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جس کمرے سے خاتون ڈاکٹر کی لاش ملی تھی اس کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ متوفی کی شناخت ڈاکٹر انوجا کلکرنی کے طور پر کی گئی ہے، جو غیر شادی شدہ تھیں اور ہسپتال کے ای این ٹی (کان، ناک اور گلے) کے شعبہ میں کام کرتی تھیں۔ ممبئی کے تاردیو پولیس اسٹیشن میں اے ڈی آر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔ ڈاکٹر کی موت کی اصل وجہ فی الحال نامعلوم ہے۔ پولیس نے اسپتال کے احاطے اور چوتھی منزل سے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ اس واقعے کے بعد اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے میں خوف و ہراس کی فضا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر زاویے سے تفتیش کی جا رہی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی وجہ واضح ہو سکے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان