Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

جرم

اسپتال کی لاپرواہی کی وجہ سے مالیگاوں میں اپنی کوکھ میں دو جڑواں بچوں کو لیے ایک خاتون نے توڈا دم

Published

on

اسپشیل اسٹوری:
(خیال اثر)
انتہائی تیزی سے شہر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے تو صرف 4 اموات ہوئی ہیں مگر لاک ڈاؤن اور مسلمانوں سے تعصب اور خود مسلمانوں کی خودغرضی نے نجانے کتنی جانوں کی قربانی لی ہیں. اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے. ساری دنیا گھومنے کے بعد بھی کورونا کو کوئی لیبل نہیں ملا تھا مگر ہندوستان میں قدم رکھتے ہی اسے زبردستی مسلمان کردیا گیا. تعصب اور نفرت کے گہرے اندھیرے میں کورونا کا دم گھٹنے لگا. جبکہ وہ بغیر کسی لیبل یا مذہبی شناخت کے ایک اچھی زندگی گذار رہا تھا. اب مالیگاؤں میں کورونا کا جو قہر ہے وہ صرف مسلم علاقوں میں ہیں. کیونکہ غیر مسلم علاقے کورونا کے لئے بالکل بند ہیں. ارے بھئی کورونا کیا مسلمانوں کے لئے بھی بند ہیں. لاک ڈاؤن کے تین ہفتے مکمل ہوگئے. ساتھ ہی کرفیو, شٹ ڈاؤن اور اس کے بعد ہاٹ اسپاٹ ڈکلیئر کرکے تمام علاقوں کو سیل کردیا گیا ہے. مالیگاؤں شہر محنت کشوں کی بستی ہے. یہ مزدوروں کا شہر ہے. جہاں آہنی مشینوں سے نبزد آزما ہوکر خون پسینہ ایک کرکے روزی کمائی جاتی ہیں. اس شہر کے تعلق سے مشہور تھا کہ مالیگاؤں میں کوئی بھوکا نہیں سوتا. آج کورونا کا قہر اور لاک ڈاؤن میں پولس کا تعصب ہے کہ نہ جانے کتنے گھروں میں چولھا نہیں جل رہا ہے. مسلم اکثریتی شہر ہونے کی مار مالیگاؤں ہمیشہ ہی جھیلتا ہے. لاک ڈاؤن میں گیس ایجنسی مسلمانوں کے ساتھ جو تعصب کا گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے جس کی وجہ سے صارفین کو جونا بس اسٹینڈ سے سلینڈر حاصل کرنے کو کہا جارہا ہے جب صارفین وہاں پہنچ رہے ہیں تو پولس ڈنڈوں سے استقبال کررہی ہیں. شہر کے علاقوں کو پولس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے. 7 سے 12 بجے کا وقت کرفیو کھل جاتا ہے مگر کہیں 8 بجے تو کہیں 9 بجے سے ہی ہولس ڈنڈے لے کر میدان میں اتر جاتی ہیں اور طبیعت سے پٹائی کی جارہی ہیں- یہاں تک کہ ایک جگہ تو پولس نے اس قدر زور سے ڈنڈا مارا کہ وہ ڈنڈا ہی ٹوٹ گیا. اس کے علاوہ صرف اموات کورونا سے ہوئی ہے مگر ایسے کتنے کیس سامنے آرہے ہیں جہاں لاک ڈاؤن اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے عوام اپنی قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں- کورونا سے زیادہ لوگ طبعی موت سے مرررہے ہیں. آج ملکی اور شہری حالات میں کورونا نے ایک خوف کا ماحول پیدا کررکھاھے روز روز نت نئی خبریں موصول ہورہی ھے مگر یہ خبریں کہاں تک صحیح ہیں کچھ کہانہیں جاسکتا.
آج حالات ایسی ڈگر پر آگئے ہیں کہ نجی ہسپتال بھی لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے دمہ؛ شوگر؛ ہارٹ اٹیک اور خاص کر ڈیلیوری کیسیس میں ہماری ماؤں اور بہنوں کی جانیں بھی تلف ہورہی ہیں کون ہے اس کا ذمہ دار؟ ؟؟؟؟
پولس انتظامیہ؟ نجی ہسپتالوں کے انچارج؟؟سیاسی لیڈران؟ ؟؟ یا عوام؟ ؟؟؟ آخر کب تک کورونا کا ڈر بتاکر عوامی زندگی سے کھلواڑ ہوتارہیگا. کمال پورہ کا ساکن نعیم احمد کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کتنے ہاسپٹل لے جایا گیا. مگر سب کے سب بند تھے. آخر نعیم احمد کو بھی بروقت طبی امداد نہ ملی اور وہ بھی اپنے خالق حقیقی سے جاملے. ابھی گذشتہ دنوں ملت کی رہائشی ایک خاتون خانہ جو ڈیلیوری کے لئے پورے شہر میں لے کر گھومتے رہے ایک ڈاکٹر نے 30 ہزار روپئے لے کر سیزر کردیا مگر نوزائیدہ بچی کو عمل تنفس میں دشواری کی وجہ سے ویلنٹی لیٹر کی ضرورت تھی. اہل خانہ بچی کو لے کر پورے شہر میں گھومتے رہے. یہاں تک کہ ندی کے اس پار بھی گئے مگر دوارکا منی اور سمرتھ ہاسپٹل بند تھے. اس طرح 6 گھنٹے بیت گئے اور وہ نوزائیدہ بچی بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے زندگی کی جنگ ہار گئی. اس نوزائیدہ بچی کو ابھی شہریان بھولیں بھی نہیں تھے کہ مورخہ 17 اپریل 2020 بروز جمعہ صبح 11 بجے مچھلی بازار نوری ٹاور کے پاس کی رہائشی 22 سالہ زیبا وسیم احمد کو پیٹ میں درد ہونا شروع ہوا تو اس کے شوہر وسیم احمد نے زیبا کو ایک مسلم ڈاکٹر کے پاس لے گئے تمام چیک کے بعد اس ڈاکٹر نے کہا کہ اسے کسی بڑے ہاسپٹل لے جایا جائے کیونکہ اس کی کوکھ میں دو جڑواں بچے ہیں اس کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہے اور اس کا خون بھی بی نیگیٹو ہے تب شوہر وسیم احمد زیبا کو لیکر دوسرے ڈاکٹر کے پاس پہنچے وہاں بھی یہی جواب ملا شوہر وسیم احمد صبح 11 بجے سے اس ہاسپٹل سے اُس ہوسپٹل بھٹکتے بھٹکتے رہے. اس طرح رات ہوگئی مگر کوئی طبی امداد ان کی بیوی کو نہیں ملی خوف دہشت کے عالم میں شوہر وسیم احمد زیبا کو لیے آئی ایس پلازہ بھکو چوک میں واقع مریم ہاسپٹل لے کر پہنچے جہاں ڈاکٹر شمینہ نے چیک اپ کیا اور کہا کی میں بذریعہ سیزر (آپریشن) کرکے دونوں جڑواں بچوں کو اور ماں کو بچا سکتی ہوں مگر سیزر کے بعد ارجنٹ میں آئی سی یو وارڈ کی ضرورت پڑیگی آپ لوگ آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل سے رابطہ کرو اگر وہ ہاسپٹل مل جائے تو میں خود وہاں آکر سیزر کردونگی-
تب انصاری ضیاء الرحمن مسکان اور زیبا کے گھر والوں نے آئی سی یو وارڈ والے ہوسپٹلوں سے رابطہ کرنا شروع کیا ندی کے اس پار تو آپ بھی جانتے ہو کوئی ہوسپٹل میں مسلم پیسنٹ کو ایڈمیٹ نہیں کیا جارہا ہے مگر مسلم اکثریتی والے ندی کے اِس پار چند نامور آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل ہیں جہاں رابطہ کرنے پر صاف جواب ملا کہ ہمارے پاس آئی سی یو وارڈ میں کام کرنے والا اسٹاف نہیں ہے ادھر جڑواں بچوں کو اپنی کوکھ میں لیے تڑپتی ہوئی زیبا کبھی مریم ہاسپٹل تو کبھی سول ہاسپٹل تو کبھی یشفین ہاسپٹل میں گھومتی رہی. زندگی اور موت کے درمیان جنگ جاری تھی مگر کسی بھی مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہوسپٹل میں زیبا کو نہیں لیا گیا. تب زندگی اور موت کی اس جنگ میں 3 زندگیاں ہار گئیں اور موت جیت گئی.
ہم لوگ مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل کے ذمہ داران سے گزارش کرتے رہیں ایک جڑواں بچوں کی والدین ایمان والے مسلم ڈاکٹروں سے مدد کی پکار لگاتے رہے مگر جن کے اختیارات میں تھا وہ بہانہ کرکے ماں زیبا کو بے یار و مددگار چھوڑگئے. اگر یہ چند مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل کے ذمہ داران چاہتے تو بنا ہلاکانی کے یہ کام یہی ہوجاتا مگر بہانا کرکے لوٹا دیا گیا تقریباً رات تین بجے تک بجے جب مالیگاوں کے ان بے ضمیر مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل سے امید ختم ہوگئی تو اسے ناسک سول ہاسپٹل میں داخل کیا گیا مگر وہاں سے بھی اس کو نکال دیا گیا پھر ناسک آڑ گاؤں میڈیکل کالج میں داخل کیا گیا مگر جب تک بہت دیر ہوچکی تھی. ایک ماں اپنی کوکھ میں جڑواں بچوں کے ساتھ دم توڑ گئی. ادھر ان دونوں جڑواں بچوں کو آکسیجن نہیں ملا ادھر ماں کو فوراً طبی مدد نہیں ملی کچھ مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہا سپٹل کے جارحانہ قہر کی وجہ سے ماں زیبا نے اپنی اور اپنے دونوں بچوں کی جان گنوا دی. مگر وقت کے ان درندوں کو رحم نہیں آیا.
ضیاء الرحمن مسکان کے مطابق اس سلگتے ہوئے دور میں ایک ماں کو اس طرح تڑپتے دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے. دل کانپ اٹھا کہ سابق ایم ایل اے شیخ آصف اور موجودہ ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی کی بھی فریاد ان آئی سی یو وارڈ والے مسلم ہا سپٹلس نے ٹھکرا دی زیبا کی موت کے ذمہ دار یہی ہیں اگر چاہتے تو زیبا بچ سکتی تھی اسباب کے درجے میں میں تھی مگر آئی سی یو اسٹاف کا جھوٹا بہانا بنایا گیا اور بالآخر ایک ماں نے تڑپتے تڑپتے اپنی زندگی کو الوداع کہہ دیا اور ہی اس کے کوکھ میں پلنے والی ننھی جانیں بھی تلف ہوگئیں.

بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فوج کا غزہ میں بڑا فوجی آپریشن، آئی ڈی ایف کے حملے میں 50 فلسطینی ہلاک، نیتن یاہو نے بتایا موراگ راہداری منصوبے کے بارے میں

Published

on

Netanyahu-orders-army

تل ابیب : اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل غزہ میں ایک طویل اور وسیع مہم کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج دو متوازی کارروائیاں شروع کرنے جا رہی ہے۔ ایک شمالی غزہ میں اور دوسرا وسطی غزہ میں۔ اس تازہ ترین مہم کا مقصد پورے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں حماس کا اثر کم ہے۔ دوسرا علاقہ وہ ہے جہاں حماس کے دہشت گردوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیلی فوج غزہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے جا رہی ہے۔

دریں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایک نیا سکیورٹی کوریڈور قائم کر رہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے اسے موراگ کوریڈور کا نام دیا۔ راہداری کا نام رفح اور خان یونس کے درمیان واقع یہودی بستی کے نام پر رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور دونوں جنوبی شہروں کے درمیان تعمیر کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں “بڑے علاقوں” پر قبضہ کرنے کے مقصد سے اپنے فوجی آپریشن کو بڑھا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اسرائیل غزہ کی پٹی میں ‘بڑے علاقوں’ پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا رہا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ دریں اثنا، غزہ کی پٹی میں حکام نے بتایا کہ منگل کی رات اور بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً ایک درجن بچوں سمیت کم از کم 50 فلسطینی مارے گئے۔ کاٹز نے بدھ کے روز ایک تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی آپریشن کو “عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو کچلنے” اور “فلسطینی سرزمین کے بڑے حصوں کو ضم کرنے اور انہیں اسرائیل کے سیکیورٹی علاقوں سے جوڑنے کے لیے بڑھا رہا ہے۔”

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں کے ساتھ سرحد پر اپنی حفاظتی باڑ کے پار غزہ میں ایک “بفر زون” کو طویل عرصے سے برقرار رکھا ہوا ہے اور 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے کے بعد سے اس میں وسیع پیمانے پر توسیع کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بفر زون اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جب کہ فلسطینی اسے زمینی الحاق کی مشق کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے چھوٹے خطے کو مزید سکڑنا پڑے گا۔ غزہ کی پٹی کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے۔ کاٹز نے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ فوجی آپریشن میں توسیع کے دوران غزہ کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے جنوبی شہر رفح اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کاٹز نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں سے ‘حماس کو نکالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے’ کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا، ‘جنگ ختم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔’ اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 59 اسرائیلی یرغمال ہیں جن میں سے 24 کے زندہ ہونے کا اندازہ ہے۔ شدت پسند گروپ نے جنگ بندی معاہدے اور دیگر معاہدوں کے تحت متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کیا ہے۔

Continue Reading

جرم

پونے : لڑکی میوری ڈانگڈے نے اپنے دولہے ساگر جے سنگھ کدم پر حملہ کیا، شادی سے پہلے دولہے کو مارنے کا دیا ٹھیکہ

Published

on

Ahlianagar-Issue

پونے : اہلیہ نگر کی ایک لڑکی کی شادی 12 مارچ کو طے ہے۔ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ لڑکے کے گھر والوں نے اسے روک دیا۔ پھر دونوں کی منگنی ہوگئی اور پری ویڈنگ شوٹ بھی خوبصورت جگہوں پر ہوا۔ اب شادی کی تیاریاں زوروں پر ہونے لگیں۔ اس دوران دولہا پر جان سے مارنے کے ارادے سے حملہ کیا گیا۔ اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ معاملہ پولیس تک پہنچا اور جو انکشاف ہوا سب کو چونکا دیا۔ ہونے والے دولہے پر اس کی ہونے والی دلہن نے حملہ کیا۔ اس نے نوجوان کو مارنے کے لیے حملے کا حکم دیا تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گیا۔ اس سازش میں لڑکی کا 40 سالہ بوائے فرینڈ بھی شامل تھا۔

پولیس نے بتایا کہ دلہن کا نام میوری ڈانگڈے (20) ہے۔ اس کی شادی ساگر جے سنگھ کدم کے ساتھ طے ہوئی تھی۔ وہ بنیر میں ایک فاسٹ فوڈ کی دکان میں باورچی کے طور پر کام کرتا ہے۔ 27 فروری کو ساگر نے لڑکی کو کھمگاؤں گاؤں کے قریب اس کے رشتہ دار کے گھر چھوڑ دیا۔ ساگر پر اسی راستے سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے ساگر کو بری طرح مارا۔ اسے شدید چوٹیں آئیں اور اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ساگر کدم نے یکم مارچ کو یاوت پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں اس نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے ایک نے دوسرے لوگوں سے اس کی ٹانگیں توڑنے کو کہا تاکہ وہ شادی میں شرکت نہ کرسکے۔ ساگر نے یہ بھی کہا کہ انہیں 21 اور 22 فروری کو ایک نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہوئیں۔

پولیس نے ابتدائی طور پر تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 118 (جان بوجھ کر شدید چوٹ پہنچانا)، 351 (مجرمانہ دھمکی) اور 352 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا اور تحقیقات شروع کی۔ یاوتمال پولیس کی ایک ٹیم نے 28 مارچ کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی جانچ کی مدد سے حملہ آوروں میں سے ایک کا سراغ لگایا۔ یاوت پولیس کے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر مہیش مانے نے بتایا کہ گرفتار نوجوان (19 سال) لڑکی کا کزن ہے۔ اس نے ساری سازش بتائی اور چار اور لوگوں کے نام بتائے۔ جس میں لڑکی کا عاشق (40 سال) بھی شامل ہے، جو اہلیہ نگر کے شری گونڈہ میں ایک گیراج کا مالک ہے۔ اسے دو دن کے اندر حراست میں لے لیا گیا۔ خاتون (23 سال) ابھی تک مفرور ہے۔

مانے نے کہا کہ لڑکی اور قدم نے 21 فروری کو ساسواڑ کے قریب شادی سے پہلے کا فوٹو شوٹ کروایا تھا۔ لڑکی نے قدم سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بتائے کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن کدم نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اور اس کے عاشق نے قدم کو ختم کرنے کی سازش رچی۔ اہلکار نے بتایا کہ قدم کی منگیتر نے 27 فروری کو ان سے رابطہ کیا اور پونے میں فلم دیکھنے کے لیے اس کے ساتھ جانے کو کہا۔ نوجوان نے موٹر سائیکل پر یاوت کے قریب کھامگاؤں میں اپنے رشتہ دار کے گھر اٹھایا اور پونے میں فلم دیکھی۔ اس نے اسے شام 7.30 بجے کے قریب کھامگاؤں میں واپس چھوڑ دیا۔

جب قدم پونے واپس آ رہے تھے تو ایک کار میں سوار چار آدمیوں نے اسے زبردستی روکا۔ انہوں نے اسے لاٹھیوں سے مارا اور پھر دھمکی دی کہ اگر اس نے عورت سے شادی کی تو وہ اسے جان سے مار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ خاتون اور اس کے عاشق نے ضلع اہلیانگر کے تین مردوں کو نوکری پر رکھا تھا۔ خاتون کا کزن بھی ساتھ تھا۔ خاتون اور اس کے عاشق نے اسے 1.25 لاکھ روپے ایڈوانس دیے تھے۔

Continue Reading

جرم

بابا صدیق قتل کیس : این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا

Published

on

baba siddiqi

 ممبئی : مرحوم این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا ہے، اور التجا کی ہے کہ انہیں اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس کا خاندان ملزم کے فعل کا حتمی شکار ہے۔ چونکہ عدالت نے ابھی مقدمے کی سماعت شروع کرنا ہے، بابا کی اہلیہ شہزین نے جمعہ کو اپنے وکیل تروین کمار کرنانی کے ذریعے ایک درخواست جمع کرائی ہے، جس میں اسے مقدمے کی سماعت کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس نے استدعا کی کہ ملزمان نے مقتول کا پہلے سے منصوبہ بند اور سوچے سمجھے طریقے سے سرد خون، بہیمانہ قتل کیا ہے۔ شہزین نے اپنی درخواست میں کہا، “اسے ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اور یہ کہ مداخلت کرنے والے کے لیے سچے اور درست حقائق کو ریکارڈ پر رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ اس عدالت کو معاملے میں آزادانہ اور منصفانہ نتیجے پر پہنچنے میں مدد ملے،” شہزین نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ کئی اہم پہلو ہیں جن کے لیے مناسب وزن کی ضرورت ہے۔

درخواست میں متاثرہ کے سننے کے حق پر زور دیا گیا ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے متعدد درخواستوں میں رکھا ہے۔ “یہ خیال کیا گیا ہے کہ متاثرہ فرد جرم کا حقیقی طور پر شکار ہوا ہے۔ جرم کی روک تھام اور سزا دینے کے لئے فوجداری انصاف کی فراہمی کے اخلاق کو شکار کی طرف سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ متاثرین کے سننے اور مجرمانہ کارروائی میں حصہ لینے کے حقوق کے حوالے سے فقہ مثبت طور پر تیار ہونا شروع ہوئی ہے”۔66 سالہ صدیق کو 12 اکتوبر 2014 کو باندرہ میں ان کے بیٹے ذیشان صدیق کے دفتر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔ بشنوئی کے گینگ کے مبینہ طور پر تین حملہ آوروں نے اس کار پر فائرنگ کی جہاں بابا دفتر سے نکلنے کے لیے بیٹھا تھا۔ جیسے ہی وہ کار میں آیا، ملزم نے اس پر گولی چلا دی، جس سے اس کے گارڈز کو رد عمل کا اظہار کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملی۔ تاہم حملہ آور فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔

پولیس اب تک قتل کے الزام میں 26 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ ممبئی پولیس نے دسمبر میں این سی پی لیڈر کے قتل میں ملوث 26 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ قتل کا حکم بشنوئی نے دیا تھا، جو اس گروہ کا سربراہ ہے۔اپنی چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ گینگ کے ارکان بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے خلاف نفرت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ، صدیق اداکار کے بہت قریب تھا، اور اس کے علاوہ، گینگ دہشت گردی اور بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا. صدیق کے قتل کی سازش کے پیچھے یہی بنیادی محرکات تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com