(جنرل (عام
مولانا ارشد مدنی مسلسل ساتویں مرتبہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر منتخب
ملک کے موجودہ حالات، قانون و انتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے جمعیۃ کے تعلیمی وظائف کی رقم پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی۔ یہ اعلان انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے مجلس عاملہ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
جمعیۃ کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق مرکزی مجلس عاملہ نے ریاستی جمعیتوں کی مجلس عاملہ کی سفارشات کی بنیاد پر آئندہ میعاد کی صدارت کے لئے مولانا ارشد مدنی کے نام کا اعلان کر دیا۔
مجلس عاملہ سے خطاب میں مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ حالات میں قانون و انتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی تناسب پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کے لئے وظائف کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہماری اس ادنیٰ سی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حد تک سنور سکتا ہے، جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی محاذ آرائی اب شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یاٹکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا اس سے مقابلہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کر کے اس لائق بنا دیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کو شکست سے دو چار کر کے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سر کرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طور پر محدود اور مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کر دیا، سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ یہ افسوسناک صورتحال کیوں پیدا ہوئی، اور اس کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟ اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے خود جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی، کیونکہ اگر انہیں تعلیم سے رغبت نہ ہوتی تووہ مدارس کیوں قائم کرتے۔ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ آزادی کے بعد اقتدار میں آنے والی تمام سرکاروں نے مسلمانوں کو تعلیمی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے وہ تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور روکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کر دینے کی کوششیں ہوتی رہیں، جس کے نتیجہ میں مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہوگئے۔
مولانا مدنی نے کہاکہ ہم ایک بارپھراپنی یہ بات دہرانا چاہیں گے کہ مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، اور کارزارحیات میں کامیابی کیلئے ہماری نوجوان نسل تعلیم کواپنا اصل ہتھیاربنالے۔ ہمیں ایسے اسکولوں اورکالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیا وی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں۔ انہوں نے قوم کے بااثرافرادسے یہ اپیل بھی کی کہ جن کو اللہ نے دولت دی ہے وہ ایسے اسکول قائم کریں، جہاں بچے اپنی مذہبی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، ہر شہر میں چند مسلمان مل کر کالج قائم کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بد قسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے، اس جانب ہندوستانی مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں، آج مسلمانوں کو دوسری چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے، لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے، یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور وہ ہر محاذ پر کامیابی سے کام کر رہی ہے، چنانچہ ایک طرف جہاں یہ مکاتیب ومدارس قائم کر رہی ہے وہیں اب اس نے ایسی تعلیم پر بھی زور دینا شروع کر دیا ہے جو روزگار فراہم کرتا ہے، روزگار فراہم کرنے والی تعلیم سے مراد تکنیکی اور مسابقتی تعلیم ہے تاکہ جو بچے اس طرح کی تعلیم حاصل کر کے باہر نکلیں انہیں فورا روزگار اور ملازمت مل سکے، اور وہ خود کو احساس کمتری سے بھی محفوظ رکھ سکیں۔ تعلیم کے تعلق سے جمعیۃ علماء ہند آزادی کے بعد سے ہی انتہائی حساس رہی ہے چنانچہ اس کے اکابرین نے 1954 میں ایک دینی تعلیمی بورڈ قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں تعلیمی بیداری لانا اور ملک کے طول وعرض میں مکاتب و مدارس قائم کرنا تھا چنانچہ یہ جو ہم پورے ملک میں مکاتب و مدارس کا بچھا ہوا جال دیکھ رہے ہیں یہ انہیں کوششوں کا نتیجہ ہے لیکن اب اس سلسلے میں ہمیں نئے سرے سے مہم شروع کرنی ہوگی، اسی لئے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے ملک گیر سطح پر ایک مؤثر مہم شروع کرے گی اور جہاں کہیں بھی ضرورت محسوس ہوئی تعلیمی ادارے بھی قائم کرے گی اورقوم کے تمام ذمہ اداران کو اس طرف راغب کرانے کی ہر ممکن کوشش بھی اس لئے کہ آج کے حالات میں ہمیں اچھے مدرسوں کی بھی ضرورت ہے اور اچھے اعلیٰ دنیاوی تعلیمی اداروں کی بھی جن میں قوم کے ان غریب مگر ذہین بچوں کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم ہوسکیں۔ جن کے والدین تعلیم کا خرچ اٹھا پانے سے قاصرہیں انہوں نے آگے کہاکہ قوموں کی زندگی میں گھر بیٹھے انقلاب نہیں آتے، بلکہ اس کے لئے عملی طورپر کوشش کی جاتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
اخیر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات اقلیتوں خاص طور پر مسلم اقلیت اور دلتوں کے لئے انتہائی خطرناک ہوچکے ہیں، ایک طرف جہاں آئین اور قانون کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے وہیں عدل وانصاف کی روشن روایت کو ختم کر دینے کی خطرناک روش اختیار کی جا رہی ہے۔
ہندوستان صدیوں سے اپنی مذہبی غیر جانب داری اور روا داری کے لئے مشہور ہے، سیکولرزم اور رواداری نہ صرف ہندوستان کی شناخت ہے بلکہ یہی اس کے آئین کی روح بھی ہے۔ کثیر المذاہب ملک میں کسی ایک خاص مذہب اور خاص سوچ کی حکمرانی نہیں چل سکتی۔ آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ملک کسی خاص نظریے کی بنیاد پر چلے گا یا قومیت کی بنیادپر یا سیکولرزم کے اصولوں پر؟ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے، ہندوستان ہمیشہ سے گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہاہے، اسی راہ پر چل کر ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے اخیر میں تمام مسلمانوں سے خاص طور پر یہ اپیل کی کہ وہ جہاں بھی ہوں محبت، امن واتحاد کے پیغامبر بن جائیں،نفرت سے نفرت کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتایادرکھیں نفرت کو صرف محبت سے ہی شکست دی جاسکتی ہے، ورکنگ کمیٹی نے ریاستی، ضلعی اور مقامی یونٹوں کو متوجہ کیا کہ وہ جمعیۃ علماء ہند کے تعمیری پروگرام خصوصا اصلاح معاشرہ کے پروگرام کو بطور تحریک چلائیں جس سے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا سد باب ہوسکے۔
جمعیۃ علماء ہند کی توجہ روز اول ہی سے رہی ہے، مکاتب ومدارس کا قیام کے ساتھ ساتھ عصری و ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے غریب اور ضرورت مند طلبہ کے لئے تعلیمی وظائف دینے کا مسلسل کام جاری ہے، اور اس کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس تسلسل کو باقی رکھتے ہوئے اس سال پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپئے کی رقم تعلیمی وظائف کے لئے مختص کی گئی تھی، جس کے لئے پورے ملک سے تقریبا 600 طلبہ منتخب کئے گئے ہیں، جن میں سے اب تک تقریبا 500 طلبہ کو وظیفہ جاری کر دیا گیا ہے، تا ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ ہر دو سال میں جمعیۃ کی ممبر سازی ہوتی ہے، پچھلے ٹرم میں جمعیۃ کے ممبران کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ پندرہ لاکھ تھی جبکہ اس سال اس تعداد میں اضافے کے قوی امکانات ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے آج سے 31/ جولائی تک اس ٹرم کی ممبر سازی کا اعلان کیا ہے۔ شرکاء اجلاس میں صدر محترم مدظلہٗ کے علاوہ مفتی سید معصوم ثاقب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا حبیب الرحمن قاسمی، مولانا سید اسجد مدنی، مولانا اشہد رشیدی، مولانا مشتاق عنفر، مفتی غیاث الدین، مولانا عبداللہ ناصر، حاجی حسن احمد قادری، حاجی سلامت اللہ، وغیرہ اور مدعوئیین خصوصی بھی شریک ہوئے۔
(جنرل (عام
ساکی ناکہ اسلم شیخ مین ہول سانحہ : امدادی رقم ۱۰ لاکھ بینک اکاؤنٹ میں جمع، مرحوم کی اہلیہ انجم شیخ نے مئیر کا کیا شکریہ ادا

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے 10 لاکھ کی مالی امداد انجم شیخ کے حوالے کی گئی ہے، مرحوم اسلم شیخ کی اہلیہ جو ساکی ناکہ (یادو نگر) کے رہنے والے ہیں جو خیرانی روڈ، کرلا میں ایک مین ہول کے سانحے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ انجم شیخ نے ایک خط بھیجا جس میں میئر، تمام سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں اور میونسپل انتظامیہ کو اس بحران کے دوران ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کی طرف سے فراہم کردہ فوری مدد اور کارپوریشن کی طرف سے بروقت فراہم کی جانے والی مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔ 2 جولائی 2026 کو پیش آنے والے سانحے کے بعد، مئیر ریتو تاوڑے شیخ خاندان سے تعزیت کے لیے پہنچی خاندان کی ضرورت مند حالات کو تسلیم کرتے ہوئے، اس نے فوری طور پر 10 لاکھ روپے کی مالی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کارپوریشن کے ‘ایل’ وارڈ (کرلا) دفتر نے اس معاملے کی پیروی کی، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور وراثت کے دستاویزات سے متعلق ضروری رسمی کارروائیوں کی تکمیل کو یقینی بنایا۔
4 اگست 2026 کو، 10 لاکھ کی رقم براہ راست انجم شیخ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی میونسپل کارپوریشن کو امداد کا تحریری اعتراف جمع کرواتے ہوئے، انجم شیخ نے اپنے خط میں کہا میئر کی طرف سے ہمارے خاندان کے لیے اس انتہائی مشکل وقت میں کیا گیا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ میں تمام جماعتوں کے عوامی نمائندوں، عہدیداروں، میئر، اور میونسپل افسران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سارے عمل میں رہنمائی اور تعاون کیا خاندان کے والد کفیل اسلم شیخ کے سانحہ ارتحال سے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ تاہم، اس سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا فرض تھا۔ انجم شیخ کے خط میں ظاہر کیے گئے جذبات میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو زیادہ حساسیت کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
باندرہ پی ایم او دفتر کا اہلکار بتا کر تقریب میں داخلہ کی کوشش دو زیر حراست

ممبئی : وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ممبئی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اس وقت ہلچل مچ گئی جب ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں واقع نیتا امبانی کلچرل سینٹر (این ایم اے سی سی) میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے اہلکار کے طور پر ظاہر کر کے داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نوجوان کے ساتھ آنے والے ایک اور شخص کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حراست میں لیے گئے نوجوان کی شناخت 24 سالہ روہن پاریکھ کے طور پر کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روہن کے پاس ایک شناختی کارڈ تھا جس میں وزیر اعظم کے دفتر سے وابستگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی چیک کے دوران معائنہ کرنے پر کارڈ جعلی نکلا۔پی ایم او آفیشل ہونے کا دعویٰ کیا۔ ذرائع کے مطابق روہن پاریکھ نے خود کو وزیر اعظم کے دفتر کا اہلکار بتایا۔ وہ اس دعویٰ شدہ شناخت کی بنیاد پر تقریب کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وزیر اعظم کے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے جائے وقوعہ پر تعینات سیکورٹی ایجنسیاں اور ممبئی پولیس پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھی۔
سیکیورٹی اہلکاروں کو اس کی نقل و حرکت مشکوک معلوم ہوئی اور اس کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ جانچ کے دوران اس کے قبضے میں پی ایم او شناختی کارڈ مشکوک پایا گیا۔ چنانچہ اسے حراست میں لے لیا گیا، اور پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ باڈی گارڈ اس کے ساتھ قبضے سے بندوق برآمدہوئی ۔کیس کا ایک خاص طور پر سنگین پہلو یہ ہے کہ روہن پاریکھ تنہا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک فرد بھی تھا جو اس کے محافظ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اس شخص سے ایک بندوق برآمد ہوئی۔پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے سرکاری معلومات جاری نہیں کی ہیں کہ بندوق لائسنس یافتہ ہے یا غیر قانونی۔ حکام اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص کے پاس اسلحہ لے جانے کے لیے ایک درست لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات موجود تھیں۔ کرائم برانچ نے تفتیش شروع کر دی ہے واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معاملے کی مزید تحقیقات ممبئی کرائم برانچ کو سونپ دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ روہن پاریکھ نے مبینہ طور پر جعلی پی ایم او شناختی کارڈ کیوں بنایا اور اس کا اصل مقصد کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی اس کی بھی تلاش کر رہی ہے کہ روہن نے شناختی کارڈ کہاں سے حاصل کیا، اس کے ساتھ آنے والے مسلح فرد سے اس کا تعلق اور اس واقعہ سے قبل دونوں نے کن مقامات کا دورہ کیا تھاسیکیورٹی ایجنسیاں بھی پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ وزیر اعظم کی شرکت سے متعلق ایک تقریب کا ہے، سیکورٹی ایجنسیاں بھی اس پورے واقعہ کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ پولیس فی الحال حراست میں لیے گئے دونوں افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور ان کے موبائل فون، شناختی دستاویزات اور دیگر سامان کی جانچ کر رہی ہے مزید قانونی کارروائی اور الزامات کی تصدیق کے بارے میں تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کے شمالی علاقہ میں منشیات فروشوں کے خلاف پولس کی سخت کارروائی، غیر قانونی گھر و قبضہ جات مسمار : ڈی سی پی گجانن راج مانے

ممبئی پولیس نے منشیات فروشو ں کے خلاف اب سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ منشیات فروشوں پر قدغن لگانے کے لئے پولس نے ان کے غیر قانونی مکانات اور اثاثوں وملکیت کی مسماری اور بلڈورز ایکشن شروع کردیا ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر، شمالی ممبئی 3، ممبئی کے حکم کے مطابق کرار پولیس تھانے کی حدود میں منشیات فروشی کرنے والے ریکارڈ پر موجود جرائم پیشہ مطلوب ملزمین کے گھر پر بی ایم سی اور پولس کی مشترکہ کارروائی میں گھروں اور جنگلات کی زمین پر قائم غیر قانونی قبضہ جات پر بلڈوزر چلایا گیا۔ جرائم پیشہ اور منشیات فروشوں میں 1) سائلہ سبھاش پٹیل عرف شالو عمر 35 سال عرف سائلہ بائی عرف شالو راجو پوار، 2) دھرمندر لوہاری جیسوار عمر 20 سال، 3) سکندر لوہار جیسوار عمر 21 سال، 4) پشپا نارائن تاڈے عمر 36 سال، 5) سبھاش موتی لال پٹیل عمر 49 سال، 6) بھرت عرف سونو رام ناتھ نشاد عمر 27 سال، 7) محمد ابراہیم عبدالعزیز شیخ عرف جون عمر 59 سال، 8) امنہ قدیر محمد انصاری عمر 39 سال، 9) عائشہ سلیم شیخ عمر 40 سال، 10) سنتوش اشوک شرکے عمر 21 سال، 11) غفران علی ممتاز علی خان عمر 35 سال شامل ہے ان کے غیر قانونی ٹھکانوں اور گھروں و مکانات پر پولس نے بی ایم سی کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کر کے مکانات کو ہی بلڈوز کردیا ہے۔ یہ پولیس تھانے کی حدود میں محکمہ جنگلات کے آپا پاڑہ، پالن نگر، بنجاری پاڑہ، پنپری پاڑہ، آدیواسی پوپٹ کمپاؤنڈ، امبیڈکر نگر، ماتنگ گڑھ، للوبھائی کمپاؤنڈ، جیسوار نگر، جامروشی نگر اس جگہ پر غیر قانونی گھر تعمیر کر کے مقیم تھے۔
ان کے خلاف این ڈی پی ایس قانون کے تحت وقتاً فوقتاً کرار پولیس تھانے میں مقدمات درج ہیں۔ مذکورہ منشیات فروشی کرنے والے ملزمان کے غیر قانونی گھروں پر کارروائی کرکے منشیات فروشی کے دھندے کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے آج تاریخ ۷ ستمبر کو صبح 10:00 بجے سے 16:00 بجے تک کرار پولیس تھانے اور محکمہ جنگلات کی جانب سے مشترکہ طور پر غیر قانونی 11 گھروں پر انہدامی کارروائی کی گئی مذکورہ کارروائی پولیس ڈپٹی کمشنر، گجانن شولنگ راجمانے، شمالی زون 3، ممبئی اوراسسٹنٹ پولیس کمشنر، سمتا نگر ڈیویژن، ممبئی کی رہنمائی میں کرار پولیس تھانے کے سینئر پولیس انسپکٹر سشیل کمار گائیکواڈ کی نگرانی میں کرار پولیس تھانے کے پولیس افسران اور عملدار نیز محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین کے ساتھ مشترکہ طور پر انہدامی کارروائی کو انجام دیا گیا اس سے منشیات فروشوں میں پولس اور بی ایم سی اور محکمہ جنگلات کی کارروائی کا خوف پیدا ہوگا اس کارروائی کے بعد منشیات فروشوں میں کافی دہشت ہے اس سے عوام میں پولس کے تئیں اعتماد بحال ہوا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
