(جنرل (عام
مولانا ارشد مدنی مسلسل ساتویں مرتبہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر منتخب
ملک کے موجودہ حالات، قانون و انتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے جمعیۃ کے تعلیمی وظائف کی رقم پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی۔ یہ اعلان انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے مجلس عاملہ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
جمعیۃ کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق مرکزی مجلس عاملہ نے ریاستی جمعیتوں کی مجلس عاملہ کی سفارشات کی بنیاد پر آئندہ میعاد کی صدارت کے لئے مولانا ارشد مدنی کے نام کا اعلان کر دیا۔
مجلس عاملہ سے خطاب میں مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ حالات میں قانون و انتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی تناسب پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کے لئے وظائف کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہماری اس ادنیٰ سی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حد تک سنور سکتا ہے، جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی محاذ آرائی اب شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یاٹکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا اس سے مقابلہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کر کے اس لائق بنا دیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کو شکست سے دو چار کر کے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سر کرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طور پر محدود اور مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کر دیا، سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ یہ افسوسناک صورتحال کیوں پیدا ہوئی، اور اس کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟ اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے خود جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی، کیونکہ اگر انہیں تعلیم سے رغبت نہ ہوتی تووہ مدارس کیوں قائم کرتے۔ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ آزادی کے بعد اقتدار میں آنے والی تمام سرکاروں نے مسلمانوں کو تعلیمی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے وہ تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور روکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کر دینے کی کوششیں ہوتی رہیں، جس کے نتیجہ میں مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہوگئے۔
مولانا مدنی نے کہاکہ ہم ایک بارپھراپنی یہ بات دہرانا چاہیں گے کہ مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، اور کارزارحیات میں کامیابی کیلئے ہماری نوجوان نسل تعلیم کواپنا اصل ہتھیاربنالے۔ ہمیں ایسے اسکولوں اورکالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیا وی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں۔ انہوں نے قوم کے بااثرافرادسے یہ اپیل بھی کی کہ جن کو اللہ نے دولت دی ہے وہ ایسے اسکول قائم کریں، جہاں بچے اپنی مذہبی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، ہر شہر میں چند مسلمان مل کر کالج قائم کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بد قسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے، اس جانب ہندوستانی مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں، آج مسلمانوں کو دوسری چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے، لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے، یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور وہ ہر محاذ پر کامیابی سے کام کر رہی ہے، چنانچہ ایک طرف جہاں یہ مکاتیب ومدارس قائم کر رہی ہے وہیں اب اس نے ایسی تعلیم پر بھی زور دینا شروع کر دیا ہے جو روزگار فراہم کرتا ہے، روزگار فراہم کرنے والی تعلیم سے مراد تکنیکی اور مسابقتی تعلیم ہے تاکہ جو بچے اس طرح کی تعلیم حاصل کر کے باہر نکلیں انہیں فورا روزگار اور ملازمت مل سکے، اور وہ خود کو احساس کمتری سے بھی محفوظ رکھ سکیں۔ تعلیم کے تعلق سے جمعیۃ علماء ہند آزادی کے بعد سے ہی انتہائی حساس رہی ہے چنانچہ اس کے اکابرین نے 1954 میں ایک دینی تعلیمی بورڈ قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں تعلیمی بیداری لانا اور ملک کے طول وعرض میں مکاتب و مدارس قائم کرنا تھا چنانچہ یہ جو ہم پورے ملک میں مکاتب و مدارس کا بچھا ہوا جال دیکھ رہے ہیں یہ انہیں کوششوں کا نتیجہ ہے لیکن اب اس سلسلے میں ہمیں نئے سرے سے مہم شروع کرنی ہوگی، اسی لئے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے ملک گیر سطح پر ایک مؤثر مہم شروع کرے گی اور جہاں کہیں بھی ضرورت محسوس ہوئی تعلیمی ادارے بھی قائم کرے گی اورقوم کے تمام ذمہ اداران کو اس طرف راغب کرانے کی ہر ممکن کوشش بھی اس لئے کہ آج کے حالات میں ہمیں اچھے مدرسوں کی بھی ضرورت ہے اور اچھے اعلیٰ دنیاوی تعلیمی اداروں کی بھی جن میں قوم کے ان غریب مگر ذہین بچوں کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم ہوسکیں۔ جن کے والدین تعلیم کا خرچ اٹھا پانے سے قاصرہیں انہوں نے آگے کہاکہ قوموں کی زندگی میں گھر بیٹھے انقلاب نہیں آتے، بلکہ اس کے لئے عملی طورپر کوشش کی جاتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
اخیر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات اقلیتوں خاص طور پر مسلم اقلیت اور دلتوں کے لئے انتہائی خطرناک ہوچکے ہیں، ایک طرف جہاں آئین اور قانون کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے وہیں عدل وانصاف کی روشن روایت کو ختم کر دینے کی خطرناک روش اختیار کی جا رہی ہے۔
ہندوستان صدیوں سے اپنی مذہبی غیر جانب داری اور روا داری کے لئے مشہور ہے، سیکولرزم اور رواداری نہ صرف ہندوستان کی شناخت ہے بلکہ یہی اس کے آئین کی روح بھی ہے۔ کثیر المذاہب ملک میں کسی ایک خاص مذہب اور خاص سوچ کی حکمرانی نہیں چل سکتی۔ آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ملک کسی خاص نظریے کی بنیاد پر چلے گا یا قومیت کی بنیادپر یا سیکولرزم کے اصولوں پر؟ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے، ہندوستان ہمیشہ سے گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہاہے، اسی راہ پر چل کر ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے اخیر میں تمام مسلمانوں سے خاص طور پر یہ اپیل کی کہ وہ جہاں بھی ہوں محبت، امن واتحاد کے پیغامبر بن جائیں،نفرت سے نفرت کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتایادرکھیں نفرت کو صرف محبت سے ہی شکست دی جاسکتی ہے، ورکنگ کمیٹی نے ریاستی، ضلعی اور مقامی یونٹوں کو متوجہ کیا کہ وہ جمعیۃ علماء ہند کے تعمیری پروگرام خصوصا اصلاح معاشرہ کے پروگرام کو بطور تحریک چلائیں جس سے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا سد باب ہوسکے۔
جمعیۃ علماء ہند کی توجہ روز اول ہی سے رہی ہے، مکاتب ومدارس کا قیام کے ساتھ ساتھ عصری و ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے غریب اور ضرورت مند طلبہ کے لئے تعلیمی وظائف دینے کا مسلسل کام جاری ہے، اور اس کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس تسلسل کو باقی رکھتے ہوئے اس سال پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپئے کی رقم تعلیمی وظائف کے لئے مختص کی گئی تھی، جس کے لئے پورے ملک سے تقریبا 600 طلبہ منتخب کئے گئے ہیں، جن میں سے اب تک تقریبا 500 طلبہ کو وظیفہ جاری کر دیا گیا ہے، تا ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ ہر دو سال میں جمعیۃ کی ممبر سازی ہوتی ہے، پچھلے ٹرم میں جمعیۃ کے ممبران کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ پندرہ لاکھ تھی جبکہ اس سال اس تعداد میں اضافے کے قوی امکانات ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے آج سے 31/ جولائی تک اس ٹرم کی ممبر سازی کا اعلان کیا ہے۔ شرکاء اجلاس میں صدر محترم مدظلہٗ کے علاوہ مفتی سید معصوم ثاقب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا حبیب الرحمن قاسمی، مولانا سید اسجد مدنی، مولانا اشہد رشیدی، مولانا مشتاق عنفر، مفتی غیاث الدین، مولانا عبداللہ ناصر، حاجی حسن احمد قادری، حاجی سلامت اللہ، وغیرہ اور مدعوئیین خصوصی بھی شریک ہوئے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
انتخابی فہرستوں کے لیے ’ایس آئی آر‘ پروگرام کے تحت 24 درخواستیں دائر کرنے پر ایک شخص کے خلاف دھاراوی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج

ممبئی : الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق،ممبئی خطے میں انتخابی فہرستوں کی ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) یعنی ’خصوصی تفصیلی نظرثانی‘ کا پروگرام نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں، دھاراوی پولیس اسٹیشن میں ایک ایسے شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس نے ایک ہی دن میں 24 الگ الگ درخواستیں دائر کیں۔ یہ درخواستیں مسودہ انتخابی فہرست (ڈرافٹ الیکٹورل رول) کے حوالے سے دعووں اور اعتراضات پر مشتمل تھیں سال 2026 کے ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) پروگرام کے تحت، تمام اسمبلی حلقوں کے لیے مسودہ انتخابی فہرستیں 31 اگست 2026 کو شائع کی گئی تھیں۔ ان مسودہ فہرستوں کے حوالے سے دعوے اور اعتراضات دائر کرنے کی مدت 31 اگست 2026 سے 26 اکتوبر 2026 تک مقرر کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکٹورل آفیسر (مہاراشٹر) کی ہدایات کے مطابق، ایک حد مقرر کی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی فرد ایک دن میں ’فارم 7‘ (فارم 7) کے ذریعے زیادہ سے زیادہ 10 درخواستیں ہی دائر کر سکتا ہے۔ اگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے جان بوجھ کر ’فارم 7‘ میں غلط معلومات فراہم کی ہیں یا جھوٹا بیان دیا ہے، تو ’ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ، 1950‘ (ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ, 1950) کی دفعہ 31 کے تحت اس شخص کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔تاہم، یہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ 178دھاراوی اسمبلی حلقے میں، گردھاری سوامی ناتھ جیسوال (رہائشی: گنگا دھر لال چال، 90 فٹ روڈ، دھاراوی ایسٹ) نے ایک ہی دن میں 24 درخواستیں دائر کیں۔ یہ عمل مقررہ قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے مطابق، دھاراوی پولیس اسٹیشن میں گری دھاری سوامی ناتھ جیسوال کے خلاف ‘ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ، 1950’ (ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ, 1950) کی دفعہ 31 کے تحت شکایت درج کرائی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ‘فارم 7’ (فارم 7) کی ایسی درخواستیں جمع کرائیں جن میں غلط اور غیر درست معلومات درج تھیں۔
(جنرل (عام
بھوٹان کے مونگر میں بھارت کی مدد سے تیار کیے گئے 15 کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کا افتتاح

تھمپو : بھوٹان کے مونگر ضلع میں 65 کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں، 10 کلومیٹر آبپاشی کی نہروں اور دو پلوں سمیت حکومت ہند کے تعاون سے 15 ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس (ایچ آئی سی ڈی پی) کا افتتاح کیا گیا، تھمپو میں ہندوستانی سفارت خانے نے ہفتے کے روز کہا۔ ان پروجیکٹوں کا افتتاح ہندوستانی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن (ڈی سی ایم ) نے، داشو زونگ ڈاگ ، 17 گیوگس کے گپس اور مونگرکے لوگوں کے ساتھ کیا۔”ان میں 65 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں، 10 کلومیٹر آبپاشی کی نہریں، دو پل، سڑک سے ناگور مڈل سیکنڈری اسکول تک، کسانوں کے لیے روزانہ کی زندگی کے پروجیکٹوں کے لیے ناگور مڈل سیکنڈری اسکول تک، یہ پروجیکٹ شامل ہیں۔ اور مونگر اور آس پاس کے علاقوں میں خاندان، ان کے لیے سہولت، حفاظت، وقار اور مواقع کو بڑھاتے ہیں،” سفارت خانے نے ایکس پر پوسٹ کیا، “ایچ آئی سی ڈی پی مقامی کمیونٹیز کی طرف سے ان کی ضروریات اور خواہشات کی بنیاد پر شناخت کیے گئے پروجیکٹوں کے لیے ہندوستان کی حمایت کا ایک منفرد نمونہ ہے،” اس نے مزید کہا۔ اگست میں، بھوٹان کے پین بینگ، زیم گانگ میں ہندوستان کی حمایت یافتہ تین ایچ آئی سی ڈی پی کا افتتاح کیا گیا۔
ان منصوبوں میں گیوگ سینٹر – لیچیبی فارم روڈ کی بلیک ٹاپنگ (نئی 20 ملین)، لامتھنگ چیوگ روڈ کی سڑک کی تعمیر/جی ایس بی (5.7 ملین)، اور بدھشی چیوگ روڈ کی سڑک کی بہتری (5 ملین) شامل ہیں۔ “انڈیا کے تعاون سے ایچ آئی سی ڈی پی پروجیکٹس زرعی پیداوار کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بناتے ہیں، ذریعہ معاش کو بڑھاتے ہیں، اور پان بانگ کے لوگوں کے لیے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔” ایمبیسی نے ایکس پر کہا تھا۔ اگست میں منعقدہ پانچویں پلان مذاکرات کے دوران، دونوں ممالک کے حکام نے آئی این آر / یو این کے لیے ہندوستانی حکومت کی حمایت کی مجموعی پیش رفت اور عمل درآمد کا جائزہ لیا۔ بھوٹان کی 13ویں مالی سال کی مدت (2024-29) کے لیے 100 بلین (10,000 کروڑ)۔ اس سپورٹ میں پروجیکٹ ٹائیڈ اسسٹنس (پی ٹی اے) پروجیکٹس، ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹس (ایچ آئی سی ڈی پی )، اکنامک اسٹیمولس پروگرام (ای ایس پی) اور پروگرام گرانٹ شامل ہیں۔ حکومت ہند نے آئی این آر / این یو بھی جاری کیا ہے۔ 12,500 ملین (1,250 کروڑ) ای ایس پی ، آئی این آر / این یو کی طرف۔ ایچ آئی سی ڈی پی اور آئی این آر / این یو کی طرف 7,352 ملین (735.20 کروڑ)۔ پروگرام گرانٹ کی طرف 2,000 ملین (200 کروڑ)۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ایم بی وی وی پولیس نے بین ریاستی ایم ڈی ڈرگ سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کیا، تلنگانہ میں کیمیکل فیکٹری تباہ

میرا-بھائندر : وسئی-ویرار (ایم بی وی وی) پولیس کی کرائم برانچ یونٹ 4 نے بین ریاستی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے تلنگانہ میں ایک کیمیکل فیکٹری کو تباہ کر دیا ہے۔ اس فیکٹری میں میفیڈرون (ایم ڈی) ڈرگز بنانے کے لیے کچا مال تیار کیا جا رہا تھا۔ یہ حالیہ چھاپہ اس جاری تفتیش میں ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے اس بڑے ڈرگ سنڈیکیٹ میں گرفتار ہونے والوں کی کل تعداد 25 ہو گئی ہے۔ اس آپریشن کی شروعات 24 جون 2026 کو ہوئی تھی، جب پولیس نے نالا سوپارا ایسٹ میں پریا واشنگ سینٹر کے قریب بابا پارکنگ علاقے سے دو افراد—اویناش عرف سونو لوکناتھ آئیر (22) اور روی کانت اوم پرکاش رام (23)—کو گرفتار کیا تھا۔ حکام نے ان کے قبضے سے 3,36,000 روپے مالیت کی 112 گرام ایم ڈی ضبط کی تھی اور تلنج پولیس اسٹیشن میں این ڈی پی ایس (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ ابتدائی گرفتاریوں کے بعد، اعلیٰ حکام نے مزید تفتیش کے لیے کیس کرائم برانچ یونٹ 4 کے حوالے کر دیا۔ اس گہری تفتیش کے دوران پہلے 19 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ایم ڈی بنانے والی دو غیر قانونی فیکٹریوں کا پردہ فاش کیا گیا۔ یہ فیکٹریاں گرام ساندھان (کچھ، گجرات) اور کوساڈا کلاں (پریاگ راج، اتر پردیش) میں زرعی زمینوں پر چل رہی تھیں۔ پولیس نے حالیہ چھاپے سے قبل 69.871 کلوگرام ایم ڈی، نقدی، 260 لیٹر کیمیکل اور لیب کے آلات ضبط کیے تھے۔
مزید تفتیش کے نتیجے میں مختلف مقامات سے مزید پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان نئے گرفتار شدہ ملزمان میں شامل ہیں:
- نندوربار سے مرتضیٰ محمد بھائی پتراوالا عرف مونٹو عرف حسنین بھوپالی (36)۔
- بلڈھانہ سے شبھم ونود مورے (23)۔
- ممبئی سے سلیم عرف سلیم بھائی اسماعیل عرف اسماعیل ڈولا (61)۔
- ممبئی سے صابر محمد دیولیکر عرف کنگ میمن عرف صابر علی (42)۔
- کانپور، اتر پردیش سے محمد تحریم عبدالرئیس صدیقی (37)۔
دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ 25واں ملزم، رمیش بابو ساکے (رہائشی- میڈچل-ملکاجگری، حیدرآباد)، غیر قانونی طور پر این ڈی پی ایس کے زیر کنٹرول کیمیکل پاؤڈر “2-برومو-4-میتھائل پروپیوفینون” تیار اور سپلائی کر رہا تھا، جو ایم ڈی ڈرگز بنانے کے لیے ضروری ہے۔ وہ تلنگانہ کے سنگاریڈی ضلع کے پاٹن چیرو میں واقع آئی ڈی اے پاشمیلارام (آئی ڈی اے پاشامیلارم) سے اس فیکٹری کو چلا رہا تھا۔ اس خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، 21 اکتوبر 2026 کو کرائم برانچ یونٹ 4 کی ایک ٹیم نے سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کی پاٹن چیرو پولیس کی مدد سے مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا۔ ٹیم نے رمیش بابو ساکے کو حراست میں لے کر اس کی فیکٹری کو تباہ کر دیا۔ پولیس نے 27,06,740 روپے مالیت کا 44.699 کلوگرام کیمیکل پاؤڈر، نیز کیمیکل بنانے کے لیے درکار دیگر کیمیکلز اور لیبارٹری کے آلات ضبط کر لیے۔ اب تک، ایم بی وی وی پولیس نے نالا سوپارا، ممبئی، کلیان، نیرل، جلگاؤں، گجرات، اتر پردیش اور تلنگانہ سے کل 25 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جو کیمیکل فراہم کرنے والوں، ڈرگ مینوفیکچررز، اسمگلروں، پیڈلرز اور مالی لین دین کرنے والوں جیسے مختلف کرداروں میں شامل تھے۔ یہ وسیع آپریشن کمشنر آف پولیس نکیت کوشک، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس سنجے شینترے، ڈی سی پی (کرائم) سندیپ ڈوئیفوڈے اور سینئر پی آئی نتن پاٹل کی رہنمائی میں انجام دیا گیا۔ اس کارروائی کی قیادت کرائم برانچ یونٹ 4 کے انچارج پی آئی پرمود بڈاکھ، اے پی آئی پروین بھوسلے، اے پی آئی دتاترے سرک، پی ایس آئی امیش بھگوت اور دیگر اہلکاروں نے سائبر سیل کے تعاون سے کی۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
