Connect with us
Saturday,25-July-2026

(جنرل (عام

مولانا ارشد مدنی مسلسل ساتویں مرتبہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر منتخب

Published

on

maulana-arshad-madni

ملک کے موجودہ حالات، قانون و انتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے جمعیۃ کے تعلیمی وظائف کی رقم پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی۔ یہ اعلان انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے مجلس عاملہ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

جمعیۃ کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق مرکزی مجلس عاملہ نے ریاستی جمعیتوں کی مجلس عاملہ کی سفارشات کی بنیاد پر آئندہ میعاد کی صدارت کے لئے مولانا ارشد مدنی کے نام کا اعلان کر دیا۔
مجلس عاملہ سے خطاب میں مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ حالات میں قانون و انتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی تناسب پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کے لئے وظائف کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہماری اس ادنیٰ سی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حد تک سنور سکتا ہے، جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی محاذ آرائی اب شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یاٹکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا اس سے مقابلہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کر کے اس لائق بنا دیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کو شکست سے دو چار کر کے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سر کرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طور پر محدود اور مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کر دیا، سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ یہ افسوسناک صورتحال کیوں پیدا ہوئی، اور اس کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟ اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے خود جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی، کیونکہ اگر انہیں تعلیم سے رغبت نہ ہوتی تووہ مدارس کیوں قائم کرتے۔ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ آزادی کے بعد اقتدار میں آنے والی تمام سرکاروں نے مسلمانوں کو تعلیمی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے وہ تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور روکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کر دینے کی کوششیں ہوتی رہیں، جس کے نتیجہ میں مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہوگئے۔

مولانا مدنی نے کہاکہ ہم ایک بارپھراپنی یہ بات دہرانا چاہیں گے کہ مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، اور کارزارحیات میں کامیابی کیلئے ہماری نوجوان نسل تعلیم کواپنا اصل ہتھیاربنالے۔ ہمیں ایسے اسکولوں اورکالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیا وی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں۔ انہوں نے قوم کے بااثرافرادسے یہ اپیل بھی کی کہ جن کو اللہ نے دولت دی ہے وہ ایسے اسکول قائم کریں، جہاں بچے اپنی مذہبی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، ہر شہر میں چند مسلمان مل کر کالج قائم کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بد قسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے، اس جانب ہندوستانی مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں، آج مسلمانوں کو دوسری چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے، لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے، یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور وہ ہر محاذ پر کامیابی سے کام کر رہی ہے، چنانچہ ایک طرف جہاں یہ مکاتیب ومدارس قائم کر رہی ہے وہیں اب اس نے ایسی تعلیم پر بھی زور دینا شروع کر دیا ہے جو روزگار فراہم کرتا ہے، روزگار فراہم کرنے والی تعلیم سے مراد تکنیکی اور مسابقتی تعلیم ہے تاکہ جو بچے اس طرح کی تعلیم حاصل کر کے باہر نکلیں انہیں فورا روزگار اور ملازمت مل سکے، اور وہ خود کو احساس کمتری سے بھی محفوظ رکھ سکیں۔ تعلیم کے تعلق سے جمعیۃ علماء ہند آزادی کے بعد سے ہی انتہائی حساس رہی ہے چنانچہ اس کے اکابرین نے 1954 میں ایک دینی تعلیمی بورڈ قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں تعلیمی بیداری لانا اور ملک کے طول وعرض میں مکاتب و مدارس قائم کرنا تھا چنانچہ یہ جو ہم پورے ملک میں مکاتب و مدارس کا بچھا ہوا جال دیکھ رہے ہیں یہ انہیں کوششوں کا نتیجہ ہے لیکن اب اس سلسلے میں ہمیں نئے سرے سے مہم شروع کرنی ہوگی، اسی لئے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے ملک گیر سطح پر ایک مؤثر مہم شروع کرے گی اور جہاں کہیں بھی ضرورت محسوس ہوئی تعلیمی ادارے بھی قائم کرے گی اورقوم کے تمام ذمہ اداران کو اس طرف راغب کرانے کی ہر ممکن کوشش بھی اس لئے کہ آج کے حالات میں ہمیں اچھے مدرسوں کی بھی ضرورت ہے اور اچھے اعلیٰ دنیاوی تعلیمی اداروں کی بھی جن میں قوم کے ان غریب مگر ذہین بچوں کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم ہوسکیں۔ جن کے والدین تعلیم کا خرچ اٹھا پانے سے قاصرہیں انہوں نے آگے کہاکہ قوموں کی زندگی میں گھر بیٹھے انقلاب نہیں آتے، بلکہ اس کے لئے عملی طورپر کوشش کی جاتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔

اخیر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات اقلیتوں خاص طور پر مسلم اقلیت اور دلتوں کے لئے انتہائی خطرناک ہوچکے ہیں، ایک طرف جہاں آئین اور قانون کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے وہیں عدل وانصاف کی روشن روایت کو ختم کر دینے کی خطرناک روش اختیار کی جا رہی ہے۔

ہندوستان صدیوں سے اپنی مذہبی غیر جانب داری اور روا داری کے لئے مشہور ہے، سیکولرزم اور رواداری نہ صرف ہندوستان کی شناخت ہے بلکہ یہی اس کے آئین کی روح بھی ہے۔ کثیر المذاہب ملک میں کسی ایک خاص مذہب اور خاص سوچ کی حکمرانی نہیں چل سکتی۔ آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ملک کسی خاص نظریے کی بنیاد پر چلے گا یا قومیت کی بنیادپر یا سیکولرزم کے اصولوں پر؟ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے، ہندوستان ہمیشہ سے گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہاہے، اسی راہ پر چل کر ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے اخیر میں تمام مسلمانوں سے خاص طور پر یہ اپیل کی کہ وہ جہاں بھی ہوں محبت، امن واتحاد کے پیغامبر بن جائیں،نفرت سے نفرت کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتایادرکھیں نفرت کو صرف محبت سے ہی شکست دی جاسکتی ہے، ورکنگ کمیٹی نے ریاستی، ضلعی اور مقامی یونٹوں کو متوجہ کیا کہ وہ جمعیۃ علماء ہند کے تعمیری پروگرام خصوصا اصلاح معاشرہ کے پروگرام کو بطور تحریک چلائیں جس سے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا سد باب ہوسکے۔

جمعیۃ علماء ہند کی توجہ روز اول ہی سے رہی ہے، مکاتب ومدارس کا قیام کے ساتھ ساتھ عصری و ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے غریب اور ضرورت مند طلبہ کے لئے تعلیمی وظائف دینے کا مسلسل کام جاری ہے، اور اس کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس تسلسل کو باقی رکھتے ہوئے اس سال پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپئے کی رقم تعلیمی وظائف کے لئے مختص کی گئی تھی، جس کے لئے پورے ملک سے تقریبا 600 طلبہ منتخب کئے گئے ہیں، جن میں سے اب تک تقریبا 500 طلبہ کو وظیفہ جاری کر دیا گیا ہے، تا ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ ہر دو سال میں جمعیۃ کی ممبر سازی ہوتی ہے، پچھلے ٹرم میں جمعیۃ کے ممبران کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ پندرہ لاکھ تھی جبکہ اس سال اس تعداد میں اضافے کے قوی امکانات ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے آج سے 31/ جولائی تک اس ٹرم کی ممبر سازی کا اعلان کیا ہے۔ شرکاء اجلاس میں صدر محترم مدظلہٗ کے علاوہ مفتی سید معصوم ثاقب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا حبیب الرحمن قاسمی، مولانا سید اسجد مدنی، مولانا اشہد رشیدی، مولانا مشتاق عنفر، مفتی غیاث الدین، مولانا عبداللہ ناصر، حاجی حسن احمد قادری، حاجی سلامت اللہ، وغیرہ اور مدعوئیین خصوصی بھی شریک ہوئے۔

(جنرل (عام

کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا، کہتے ہیں حکومت نے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔

Published

on

CJP

نئی دہلی : کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ہفتہ کو حکومت کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ ملاقات کے بعد چیف جسٹس نے بڑا اعلان کر دیا۔ چیف جسٹس نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جنتر منتر سے احتجاج واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے، اور وہ احتجاج کو واپس لے رہے ہیں۔ حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد، کاکروچ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان آشوتوش رنکا نے کہا، “ہم نے حکومتی وفد کے ساتھ تین دور کی بات چیت کی۔ جنتر منتر پر ہمارے احتجاج کے تین اہم مطالبات تھے: مرکزی وزیر تعلیم کے طور پر دھرمیندر پردھان کا استعفی؛ مظاہرین اور منتظمین کے خلاف تمام قانونی مقدمات یا ایف آئی آر واپس لینے؛ احتجاج کرنے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ یا ایف آئی آر واپس نہ لیا جائے۔”

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا مطالبہ تھا کہ این ای ای ٹی امتحان ملتوی ہونے کے بعد اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کو 1 کروڑ کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔ دھرمیندر پردھان نے کچھ ہی دیر پہلے استعفیٰ دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارا پہلا مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔ ہمارا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ نہ صرف دہلی بلکہ بی جے پی کی حکومت والی اور بی جے پی کی اتحادی ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف درج کی گئی تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں۔ حکومت نے بھی اس مطالبے کو مان لیا ہے۔ ایف آئی آرز جلد واپس لی جائیں گی۔

سورو داس نے کہا کہ حکومت نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ درج کی گئی تمام ایف آئی آر کی کاپیاں شیئر کرے گی۔ ہماری پچھلی معلومات کے مطابق دہلی میں 15 سے 20 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ ہمیں وہ کاپیاں تین سے چار دنوں میں کسی بھی قیمت پر مل جائیں گی۔ حکومت نے بھی ہمیں یقین دلایا ہے کہ ایف آئی آر جلد واپس لے لی جائیں گی۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ منگل تک ہمارے ساتھ ان کا اشتراک کرے گی۔ ہمیں امید ہے کہ منگل تک ہمیں ان ایف آئی آرز اور آئندہ کی کارروائی کے حوالے سے حکومتی ضمانت مل جائے گی۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف ترجمان سورو داس نے کہا، “کاکروچ جنتا پارٹی اعلان کرتی ہے کہ ہم نیک نیتی کے ساتھ ایجی ٹیشن واپس لے رہے ہیں، اس سمجھ کے ساتھ کہ طے شدہ شرائط کو مقررہ وقت کے اندر پورا کیا جائے گا۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پیدائشی سرٹیفکیٹ کی درخواستوں کے لیے اضافی افرادی قوت کی تعیناتی کی ہدایت : ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورما لاونگیرے

Published

on

Prajakta-Verma

ممبئی : ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورمالاونگیرے نے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے زون 5 کے تحت آنے والے علاقوں جیسے مانخورد، شیواجی نگر، کرلا اور چیمور میں پیدائشی سرٹیفکیٹ کی درخواستوں کی فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی افرادی قوت کی تعیناتی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ ان درخواستوں کی منظوری کے لیے سٹیزن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے اوقات کار میں اضافہ کیا جائے۔ آج (25 جولائی 2026)، لاونگرے نے چیمبور میں بی ایم سی کے ایم ویسٹ وارڈ آفس میں زون 5 کے انتظامی وارڈوں میں محکمہ صحت کی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ میٹنگ میں موجود ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی کمشنر (زون 5) سندھیا شامل تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر (ایم-ایسٹ) اجول انگولے، اسسٹنٹ کمشنر (ایم-ویسٹ) شنکر بھوسلے، اور ایگزیکٹیو ہیلتھ آفیسر (محکمہ صحت عامہ) ڈاکٹر دکشا شاہ۔ای

ایم ایل وراڈ ایسٹ ویسٹ وارڈز میں پیدائشی سرٹیفکیٹ سے متعلق درخواستوں پر کارروائی کرنے کے لیے زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔ ورمالاونگیرے نے ہدایت دی کہ شہریوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے صبح 9:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک شہری سہولت مراکز پر درخواستیں قبول کی جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوام کی سہولت کے لیے یہ مراکز اتوار کو بھی کھلے رہیں۔ انتظامی وارڈ کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کو شہریوں کی درخواستوں کو نمٹانے کے لیے اضافی افرادی قوت کا تقرر کرنا چاہیے، اس طرح درخواستوں کی ایک بڑی تعداد کو نمٹانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ ورمالاونگرے نے ہدایت کی کہ درخواستوں کو جمع کرنے کے بعد کم سے کم وقت کے اندر اندر کارروائی اور حل کیا جائے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی طرف سے نئے برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے درخواستوں کو سنبھالنے اور موجودہ میں تصحیح کے لیے سافٹ ویئر تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ سافٹ ویئر درخواست کی تفصیلات جمع کرانے اور متعلقہ دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے میں سہولت فراہم کرے گا، جبکہ اس میں ڈیش بورڈ بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ برتھ سرٹیفکیٹ کی درخواست کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سافٹ ویئر اور ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تعلیمی معاملات سے متعلق درخواستوں کو ترجیح دی جائے۔ بیرون ملک تعلیم اور ویزا پروسیسنگ کے لیے درکار کیو آر کوڈ پر مبنی برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

آج کی میٹنگ کے دوران، ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورمالاونگرے نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پروجیکٹوں، مانسون سے متعلق بیماریوں کے واقعات، اور میٹرنٹی ہومز اور مضافاتی اسپتالوں میں صلاحیت میں توسیع اور مرمت کے کاموں کی حالت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ لوک مانیہ تلک جنرل اسپتال (سائن)، گوونڈی شتابدی اسپتال، اور ما اسپتال (چیمبور) کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔پراجکتا ورما-لاونگیرے نے محکمہ کے سربراہوں کو ہدایت دی کہ وہ صحت کے انتظامیہ کے کاموں میں شفافیت اور شہری مسائل کے جلد حل کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ جائزہ لیں۔ انہوں نے زون کے اندر اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ باقاعدہ سائٹ کا دورہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں طلبا کی فتح پر ‘جشن فتح’… طلبا پر تشدد برپا کرنے والے پولس والوں پر کارروائی کا مطالبہ ابھی نامکمل : ادھو ٹھاکرے

Published

on

Raj-&-Uddhav

ممبئی میں طلبا کی تاریخی فتح پر ‘جشن فتح’ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دلی جنتر منتر پر دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد بھی احتجاج جاری رہے گا۔ یہ موقف کاکروچ جنتا پارٹی لیڈر ابھجیت دیپکے نے جاری کیا ہے۔ ممبئی میں ترنگا مارچ کے ساتھ اب ‘جشن فتح’ منایا جائے گا یہ اعلان یہاں پریس کانفرنس میں ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب شیواجی پارک کے پاس ہی اسٹیج تیار کیا جائے گا اور وہاں پر ہی مجمع جمع ہو گا۔ سدھی ونائک تک مارچ نہیں ہو گا۔ راج ٹھاکرے نے بتایا کہ یہ طلبا کے لئے بڑی کامیابی ہے, اس کا جشن منانے کے لیے یہ مارچ منعقد کیا گیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح سے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لیا گیا ہے۔ ان کا استعفی لینے کے بعد ان کا محکمہ تو تبدیل نہیں کیا گیا یہ اب تک واضح نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی استعفیٰ پر ہی طلبا مطمئن نہیں ہے۔ جن پولس اہلکاروں و افسران نے طلبا پر تشدد کیا ان پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کا مطالبہ بھی مکمل نہیں ہوا ہے, جس طرح سے طلبا پر بربریت کی گئی وہ سراسر غلط ہے, لیکن طلبا ثابت قدم تھے اتنا ہی نہیں انہوں نے احتجاج کے دوران تکالیف برداشت کی اور یہی وجہ کہ سرکار کو ان طلبا کے سامنے جھکنا پڑا۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح سے سرکار نے یہ سمجھا تھا کہ وہ کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی, لیکن طلبا نے اسے مجبور کر دیا۔ ممبئی میں طلبا کے ساتھ اظہار ہمددردی کے لیے ‘جشن فتح’ منایا جائے گا اور روایتی طریقے سے ترنگا ریلی منعقد ہو گی۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ابھیجیت دپیکے سے بات کر کے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان