Connect with us
Friday,03-April-2026

سیاست

کشمیر میں نویں سے بارہویں جماعت تک اسکول کھل گئے

Published

on

Kashmiri-Students

وادی کشمیر میں خوشگوار موسم کے بیچ پیر کے روز قریب ایک برس بعد نویں سے بارہویں جماعت کے طلباء کے لئے اسکول کھل گئے، اور درس وتدرس کا باقاعدہ عمل بحال ہوگیا۔ وادی کے کالجوں میں گذشتے ہفتے ہی درس وتدریس کا عمل شروع ہوا ہے۔ سرکاری حکمنامے کے مطابق وادی میں آٹھویں جماعت کے طلباء کے لئے اسکول 8 مارچ سے کھلیں گے، تاہم اساتذہ کو یکم مارچ سے ہی اسکولوں میں حاضر ہونے کو کہا گیا ہے۔

بتا دیں کہ وادی میں کم و بیش دو برس کے بعد تعلیمی سرگرمیاں باقاعدگی سے شروع ہو رہی ہیں، کیونکہ کورونا لاک ڈاؤن سے قبل مرکزی حکومت کے پانچ اگست 2019 کے فیصلوں کے بعد وادی کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر باقی ماندہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل ہوگئی تھیں۔

اگرچہ سال گذشتہ ماہ مارچ میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے لگی تھیں، لیکن کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک بار پھر تعلیمی ادارے بند ہوگئے تھے، اور حکام نے بعد میں آف لائن کلاسز کے ذریعے مشعل علم کو فروزاں رکھا تھا۔

حکام نے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کے بعد اگرچہ سالانہ انتحانات کا بحسن خوبی انعقاد عمل میں لایا، لیکن امتحانات ختم ہونے کے بعد ہی سرمائی تعطیلات کے اعلان کے پیش نظر تعلیمی ادارے پھر بند ہوئے۔

یو این آئی کے ایک نمائندے نے پیر کی صبح سری نگر کے بعض اسکولوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ اسکولوں میں ہر سوخوشی کا سماں تھا، جیسے ایک خزاں رسیدہ باغ میں بہار نو کی فضا قائم ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں اساتذہ کے چہرے ہشاش بشاش اور خوش و خرم نظر آ رہے تھے، وہیں طلباء چہرے بھی خوشی و مسرت سے کھل رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں کورونا گائیڈ لائنز کا خاص خیال رکھا گیا تھا، اور کلاس روموں میں بچوں کے درمیان ضروری دوری رکھی گئی تھی۔ موصوف نے کہا کہ ایس ایس آر بی کے امتحانات کے پیش نظر کئی اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال نہیں ہوسکیں۔

ایک طالب علم نے کہا: ’ہم بہت ہی خوش ہیں کہ اسکول کھل گئے ہیں، جس سے ہم نہ صرف اپنے اساتذہ کے سامنے بیٹھ کر پڑھ سکیں گے، بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی مل پائیں گے، اور اپنے تعلیمی سر گرمیوں کے بارے میں بات چیت کر سکیں گے۔‘

فردوس احمد نامی استاد نے بتایا کہ ہم اساتذہ کا اس دن کے لئے دل بے قرار تھا، کیونکہ طلباء کے بغیر اسکول ایک ویرانے کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک استاد کو بھی تب تک سکون میسر نہیں ہوتا ہے، جب تلک نہ وہ اپنے طلباء کو رزق علم فراہم کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ صوبہ جموں میں یکم فروری سے ہی نویں سے بارہویں جماعت تک اسکول کھل گئے تھے، جبکہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے لئے اسکول ایک ہفتہ قبل کھول دئے گئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مضافات سے ۵۰ غنڈے شہر بدر, گھاٹکوپر سمیت زون ۷ کے کئی غنڈوں پر پولس کا ایکشن

Published

on

ممبئی: ممبئی پولس نے غنڈوں بدمعاشوں کےخلاف سخت کاروائی شروع کردی ہے اس لیے اب جرائم میں ملوث غنڈوں کی خیر نہیں ہے پولس نے علاقہ میں دہشت پیدا کرکے جرائم کی وارداتیں انجام دینے والے غنڈوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اسی کے مناسبت سے خطرناک غنڈے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ممبئی پولس کے زون ۷ میں تقریبا ۵۰ غنڈوں کو شہر بدر کردیا گیا ہے۔ ان پچاس غنڈوں پر نئی ممبئی، ممبئی، تھانہ کی حدود میں تڑی پار شہربدری کے دوران داخلہ ممنوعہ ہے ممبئی پولس نے اپیل کی ہے کہ ان غنڈوں کے خلا ف اگر کوئی شکایت کرنا چاہتا ہے تو اس کی شکایت وہ پولس اسٹیشن میں کرسکتا ہے اس پر کارروائی ہو گی یہ کارروائی ممبئی زون ۷ کے ڈی سی پی ہیمراج راجپوت کی ۲۰۲۶ کی رپورٹ پر کی گئی ہے ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر یہ کارروائی کی گئی ہے جس میں گھاٹکوپر، پنتھ نگر، وکرولی، بھانڈوپ، کانجورمارگ، ملنڈ اور نوگھر کے پچاس غنڈوں کو شامل کیا گیا ہے ان تمام غنڈوں پر سنگین جرائم اور علاقہ میں دہشت پیدا کرنے سمیت دیگر الزامات ہے۔ ممبئی پولس نے ممبئی میں امن وامان کی بقا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کےلئے ایسے غنڈوں پرکارروائی کی ہے جس میں گھاٹکو پر پولس اسٹینش میں سورج عرف کنچا دلوی، جتیش رام کھیرنار، جعفر برکت علی ونت راؤ اسی طرح گھاٹکوپر سے ۱۰ ،پنتھ نگر سے ۸ ، وکرولی سے ۴، پارک سائٹ سے ۲ ، بھانڈوپ سے ۸ کانجورمارگ سے ۳ ، ملنڈ سے ۱۰ نوگھر سے ۶ ملزمین اور غنڈوں کو شہر بدر کیا گیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بی ایم سی موسم باراں سے قبل نالوں کی مرمت جنگی پیمانے پر جاری, بارش کے پانی کی رفتار بڑھانے میں اضافہ ہوگا

Published

on

ممبئی: ممبئی میونسپل کارپوریشن ممبئی سٹی ڈویژن میں 100 سال پرانے زیرزمین آرچ طوفانی نالوں کو جیو پولیمر لائننگ (اسٹورم واٹر آرچ ڈرینز بائی جیو پولیمر لائننگ ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی) کے ساتھ مضبوط کر رہی ہے۔ اس سے برطانوی دور کے ان سٹارم ڈرینز کی زندگی میں کم از کم 50 سال کا اضافہ ہو جائے گا۔ نیز، پانی کے بہاؤ کی رفتار بڑھے گی اور تیز بارش کے دوران بارش کا پانی تیزی سے نکلے گا۔اس لائننگ کام کا معائنہ ڈپٹی کمشنر (انفراسٹرکچر) نے کیا۔ گریش نکم، چیف انجینئر (رین واٹر چینلز) کلپنا راول، ڈپٹی چیف انجینئر سنیل دت رسل، ایگزیکٹیو انجینئر۔ ملند وٹکر، پرشانت رنسور، مدھوسودن سوناونے وغیرہ۔ شانتی نکیتن رین واٹر آؤٹ فال کے قریب شملداس گاندھی مارگ (پرنسس اسٹریٹ) فلائی اوور۔ممبئی کے مغرب میں بحیرہ عرب ہے اور ممبئی میں خلیج کا علاقہ بھی ہے۔ سمندری بارش کے پانی کو محرابی/محدود بارش کے پانی کے چینل سسٹم کے ذریعے سمندر میں چھوڑنے کے نقطہ نظر سے جوار ایک اہم حصہ ہے۔ سٹی ڈویژن میں بارش کے پانی کے 495 کلومیٹر طویل نالے ہیں۔ اس کے علاوہ، مشرقی مضافات اور مغربی مضافاتی علاقوں میں کل 621 کلومیٹر محراب/بند طوفانی پانی کے چینلز ہیں، ہر ایک میں 63 کلومیٹر۔ ان میں سے، سٹی ڈویژن میں آرچڈ/بند سٹارم واٹر چینلز کی مرمت کا کام جاری ہے۔ فی الحال 14 کلومیٹر کے فاصلے پر پانی کی نالیوں کی لائننگ کی جا رہی ہے۔ ممبئی شہر کے علاقے میں زیر زمین محراب والے طوفانی پانی کے چینلز موجود ہیں۔ اس کی صفائی/ڈیسلٹنگ باقاعدگی سے کی جاتی ہے۔ محکمہ سرکولیشن اینڈ کنزرویشن کی جانب سے کرائے گئے سی سی ٹی وی سروے میں پرانے محراب والے طوفانی پانی کے چینلز کے کچھ حصوں میں کئی دراڑیں، اینٹوں کی نقل مکانی، دو اینٹوں کے درمیان جوڑ کو نقصان، چھت کے حصوں کا گرنا اور کچھ دیگر نقائص پائے گئے۔ اس میں 23 ہزار 548 میٹر لمبائی والے 56 محراب والے سٹارم واٹر چینلز خراب حالت میں پائے گئے۔ ان میں سے 14 ہزار 285 میٹر کی لمبائی والے 27 محراب والے طوفانی پانی کے چینلز (فیز نمبر 1 میں) کو فوری بحالی کی ضرورت ہے۔میونسپل کارپوریشن کے آپریشن اینڈ کنزرویشن ڈپارٹمنٹ نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (ممبئی) (ٹی.آئی.ٹی. ممبئی) اور ویرماتا جیجا بائی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (وی. جے.ٹی. آئی.) دونوں کے ساتھ بات چیت کی تاکہ پرانے محراب والے طوفانی پانی کے راستوں کی بحالی کے لیے بہترین ٹیکنالوجی تجویز کی جا سکے۔دونوں اداروں سے مشورہ حاصل کرنے کے بعد، نومبر 2022 میں ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جیسا کہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا، اس وقت دستیاب تمام ٹیکنالوجیز میں سے، جیو پولیمر لائننگ کی آرچڈ سٹارم واٹر چینلز کی بحالی کے لیے ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی کے ذریعے مرمت کی جا رہی ہے۔ سٹارم واٹر چینل ڈیپارٹمنٹ نے سٹی علاقہ میں محراب والے طوفان واٹر چینلز کی جیو پولیمر لائننگ فیز 1 میں ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شروع کی ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے استعمال کی جا رہی جیو پولیمر لائننگ ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی ہندوستان میں پہلی بار استعمال کی جا رہی ہے۔ اس طرح کا کام دوسرے ممالک میں بنیادی طور پر امریکہ میں ہوتا ہے۔

طوفانی پانی کے چینلز کی صلاحیت میں اضافہ
گزشتہ چند سالوں میں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے، ممبئی میں مانسون کے موسم میں صرف چند دنوں میں تقریباً 1000 ملی میٹر بارش کے درج کی گئی ہیں۔ اس تیز بارش کی وجہ سے ممبئی کے نشیبی علاقوں میں بعض اوقات پانی بھر جاتا ہے۔ اس پس منظر میں سٹارم واٹر چینلز کی صلاحیت کو دوگنا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی ماحول دوست ہے
27 زیر زمین آرک سٹارم واٹر چینلز (14,285 میٹر لمبے) جو کہ تقریباً 100 سال پرانے ہیں، کی بحالی کی جا رہی ہے۔ اس سے ان چینلز کی زندگی میں کم از کم 50 سال کا اضافہ ہوگا۔ اس سے پانی کے بہاؤ کی رفتار کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چیف انجینئر (اسٹارم واٹر چینلز) مسز کلپنا راول، ڈپٹی چیف انجینئر مسٹر سنیل دت رسل نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی ماحول دوست ہے۔

Continue Reading

سیاست

“مجھے خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن میں نہیں ہارا،” راگھو چڈھا کا عام آدمی پارٹی کو پیغام، سنگین الزامات لگاتے ہوئے

Published

on

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے راجیہ سبھا ایم پی راگھو چڈھا نے سوشل میڈیا پر ایک اہم بیان دیتے ہوئے اپنی ہی پارٹی پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عوامی مسائل اٹھانے سے روکا جا رہا ہے۔ پارٹی نے حال ہی میں انہیں راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹانے کے بعد یہ بیان زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ چڈھا پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی مدت 2022 سے 2028 تک چلتی ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ میں خاموش ہو گیا ہوں، لیکن شکست نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن وہ عام آدمی کے مسائل کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں چڈھا نے وضاحت کی کہ انہوں نے ہمیشہ پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کو نمایاں طور پر اٹھایا ہے۔ انہوں نے مثالوں کا حوالہ دیا جیسے کہ ہوائی اڈے پر کھانے کی زیادہ قیمت کا مسئلہ یا آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز جیسے سوئگی اور زوماٹو پر ڈیلیوری کے عملے کو درپیش مسائل — ان سب کو انہوں نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بینکنگ سیکٹر کو درپیش مسائل اور ٹول پلازوں پر عوام کو درپیش مسائل کو بارہا پارلیمنٹ میں اٹھا چکے ہیں۔ راگھو چڈھا نے الزام لگایا کہ ان کی اپنی پارٹی اب انہیں ان مسائل کو اٹھانے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عام آدمی کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت عوام کی آواز کو کیوں دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پارٹی نے پارلیمنٹ میں ہدایات جاری کی ہیں کہ انہیں سوالات اٹھانے کا موقع نہ دیا جائے اور انہیں بولنے سے روکا جائے۔ اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ ترقی اے اے پی کے اندرونی اختلافات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاہم اس معاملے پر پارٹی قیادت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان