Connect with us
Tuesday,28-April-2026

سیاست

سماج وادی پارٹی میں دلتوں کا کوئی مقام نہیں : نرمل

Published

on

Lal-Ji-Prasad-Nirmal

ایس ٹی سماج مالیات و فروغ نگم کے صدر لال جی پرساد نرمل نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو کو ہندوستانی سیاست کا اورنگ زیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس نے اپنے والد کو سیاست سے بے دخل کر کے انہیں گھر میں بیٹھنے کے لئے مجبور کر دیا، ایسے نظریات کے حامل لوگوں کو ریاست کی عوام کبھی معاف نہیں کرے گی۔

ڈاکٹر نرمل نے منگل کو میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں دعوی کیا کہ اسمبلی انتخاب میں کہیں دور۔دور تک اکھلیش یادو دکھائی نہیں پڑیں گے۔ ایس پی صدر پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کے ماننے والوں سے مسٹر یادو نفرت کرتے ہیں۔ وہ صرف ووٹ بینک کے لئے وقت وقت پر دکھاوا کرتے ہیں۔ اکھلیش حکومت میں کل 195 لوگوں کو یش بھارتی ایوارڈ دیا گیا۔ اس میں سے ایک بھی دلت دانشور نہیں تھا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف مغل ذہنیت سے کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانشی رام اردو، عربی- فارسی یونیوسٹی جو لکھنو میں ہے اس کا نام بدل کر خواجہ معین الدین چشتی اردو۔عربی، فاریش یونیورسٹی کر دیا گیا ہے، جبکہ بابا صاحب کی بیوی کے نام پر بنے رمابائی نگر ضلع کا نام بدل کا کانپور دیہات کر دیا گیا۔ ڈاکٹر نرمل نے مسٹر یادو کی سیاست کو خاندانی اور ایک مخصوص ذات کی سیاست بتایا اور کہا کہ ایس پی میں دلتوں کا کوئی مقام نہیں ہے۔ ان کی پارتی میں ایس سی سماج مورچے کا کوئی صدر تک نہیں ہے۔ اور یہی حال ان کی حکمرانی میں بھی تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دلتوں کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے، اور دعوی کیا کہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی سے ذاتی دشمنی کا بدلہ مسٹر یادو نے دلتوں سے لیا۔ دلتوں سے اتنی نفرت تھی، کہ انہوں نے غیر دلت کو ایس سی کمیشن اور مالی نگم کا صدر تک بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر یادو تو اپنی یوم پیدائش تک ملک میں نہیں مناتے ہیں۔ ایسے لیڈروں کو ہمارا غریب، کسان، حاشیہ کا سماج ہوائی لیڈر سمجھتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب مسٹر یادو پورے ملک میں کہیں سے بھی الیکشن نہیں جیت پائیں گے۔ وہ الیکشن جیتنے کے لئے ایسا لوک سبھا حلقہ منتخب کرتے ہیں، جہاں ان کے سماج کی تعداد سب سے زیادہ ہو۔ لیکن ان کے اپنے سماج کے لوگ بھی اب سمجھ گئے ہیں، کہ وہ ووٹ پورے سماج کا لیتے ہیں، لیکن وہ صرف خاندانی سیاست کرتے ہیں۔ وہ صرف اپنے کنبے کا ہی بھلا کرتے ہیں۔ اب تو ان کے کنبے میں بھی صرف دو رکن پارلیمان رہ گئے ہیں۔

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے، کہ جب ذات پر مبنی سیاست اور خاندانی سیاسی پارٹیوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ فرضی سماج وادی اور فرضی بہوجن وار کے خطروں سے پورے ملک کے دلت ساج کو آگاہ کریں گے۔ سماجواد اور بہوجن واد کے نام سے دلتوں۔ پچھڑوں کو چھلنے والے ریجنل پارٹیوں نے ریاست میں ذات پات کو مضبوط کر کے معاشی سامراج اور خاندانی وراثت کو فروغ دیا ہے۔

سیاست

ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی ضرورت نہیں۔ رام مندر کی تعمیر ملک کی قیادت اور عوامی حمایت سے ہوئی : موہن بھاگوت

Published

on

mohan-bhagwat

نئی دہلی : آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر اقتدار میں رہنے والوں کے عزم اور ملک بھر کے لوگوں کی حمایت کی وجہ سے بنایا گیا تھا۔ ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی بات چیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ پہلے سے ہی ایک حقیقت ہے۔ بھاگوت نے یہ بیان پیر کو ناگپور میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی قیادت کرنے والوں کے اعزاز میں ایک تقریب کے دوران دیا۔ آر ایس ایس کی طرف سے جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق اس تقریب کا اہتمام ناگپور کے ریشم باغ میں ڈاکٹر ہیڈگیوار میموریل کمیٹی نے کیا تھا۔ بھاگوت نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر بھگوان رام کی مرضی سے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے بھگوان کرشن کے گووردھن پہاڑ کو اٹھانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ اس نے کہا، “یہ بھگوان کی انگلیوں پر ٹکی ہوئی ہے، لیکن انگلیاں اس وقت تک حرکت نہیں کرتی جب تک کہ لوگ اپنی لاٹھی نہ جوڑ لیں۔ اس طرح ہیکل کی تعمیر ہوئی۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ رام مندر کی تعمیر اقتدار میں رہنے والوں کی پرعزم قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ بھاگوت نے کہا کہ یہ سیاسی مرضی کے بغیر ممکن ہے۔ انہوں نے کہا، “مندر کی تعمیر کا فیصلہ لیا گیا تھا، لیکن یہ مضبوط بنیاد کے بغیر کیسے کھڑا ہوسکتا ہے؟ ہندوستان کے ہر فرد نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔” ان کے مطابق بھگوان رام کی انگلی نے مندر کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ ہندو قوم کے بارے میں موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کے بطور ہندو قوم کے تصور کا کبھی مذاق اڑایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان ہندوؤں کی سرزمین ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ رام مندر کی تعمیر میں شامل لوگوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا کام کر دیا ہے، اب ہمیں اپنا کرنا ہے، انہیں مندر بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی، اور انہوں نے توقع سے زیادہ کام کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مختلف ایجنسیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر جلد از جلد مانسون کے کاموں کو مکمل کرنا چاہیے : میونسپل کمشنر

Published

on

ممبئی : ممبئی کے علاقے میں کام کرنے والے مختلف حکام اور ایجنسیوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تال میل برقرار رکھیں اور مانسون سے پہلے کے کاموں کو جلد از جلد مکمل کریں۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ہدایات جاری کیں کہ مانسون سے پہلے کی تیاریوں کو مؤثر طریقے سے کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے۔
مانسون سے پہلے کی تیاریوں کے سلسلے میں،ممبئی میونسپل کارپوریشن اور مختلف دیگر حکام کی ایک مشترکہ میٹنگ آج برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایچ اے ڈی اے) کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر (ایم ایچ اے ڈی اے) کے ڈپٹی کمشنر ملپاکر، ملپاک پولیس کمشنر پٹھان، سنٹرل ریلوے کے سینئر ڈویژنل منیجر مسٹر کیلاش مینا اس موقع پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ میونسپل کارپوریشن کے زونل ڈپٹی کمشنرز، انتظامی محکموں کے اسسٹنٹ کمشنرز، متعلقہ افسران، مختلف اتھارٹیز اور ایجنسیوں کے نمائندے وغیرہ بھی موجود تھے۔ بارش پانی کے راستے یہ دیکھا گیا ہے کہ ممبئی شہر، مشرقی مضافات اور مغربی مضافات میں 93 مقامات پر بارش کے پانی کی نکاسی کا عمل سست ہے۔ پانی بھرنے والے علاقوں کی تشکیل کے پیچھے وجوہات کی چھان بین اور نکاسی آب کے نالیوں کو صاف کرنے کے لیے باقاعدگی سے اور وقتاً فوقتاً ضروری کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ اس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ پانی بھرنے والے علاقوں سے پانی کو نکالنے کے لیے 547 پورٹیبل ڈی واٹرنگ پمپ نصب کیے جائیں گے۔ نیز، بڑے اور چھوٹے پمپنگ اسٹیشنوں کو یکم مئی 2026 سے آپریشنل کر دیا جائے گا۔

  • ڈی واٹرنگ پمپ کے ساتھ 24 x 7 افرادی قوت 15 مئی 2026 سے مقامی سطح پر دستیاب ہوگی۔ پمپ ڈرائیوروں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کنٹرول روم میں ایک پمپ ڈرائیور کا نمائندہ مقرر کیا جائے گا۔ ہر پمپ ڈرائیور ‘سمارٹ فون’ کے ذریعے کنٹرول روم کو متعلقہ مقام کی تصویر فراہم کرے گا۔ ہر پمپ کے مقام پر پمپ ڈرائیوروں کو دیا جانے والا موبائل فون اس مقام کے ساتھ جیو فینس کیا جائے گا۔ 10 موبائل ڈی واٹرنگ پمپ گاڑیاں (ماؤنٹڈ وہیکلز) پانی بھرنے والے علاقوں میں فوری ردعمل فراہم کرنے اور شہریوں کو ہونے والی تکلیف کو کم کرنے کے لیے تعینات کی جائیں گی۔ ہر سرکل ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ایک گاڑی دستیاب ہوگی یعنی 7 سرکل دفاتر میں۔اس کے علاوہ، طوفان واٹر ڈرینیج (ایس ڈبلیو ڈی) ڈیپارٹمنٹ کے دفاتر میں ایک ایک گاڑی، سٹی ایریا کے لیے ڈپٹی چیف انجینئر (آپریشن اینڈ مینٹیننس)، مغربی مضافاتی علاقوں کے لیے ڈپٹی چیف انجینئر (آپریشن اینڈ مینٹیننس) اور مشرقی مضافات کے لیے ڈپٹی چیف انجینئر (آپریشن اینڈ مینٹیننس) کے دفاتر میں دستیاب ہوگی۔ میٹرو ریل کی ضروریات کے مطابق مرول ناکہ، شیتلادیوی، ورلی ناکہ اور مہالکشمی پر ‘ڈیواٹرنگ پمپ’ دستیاب کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، ماٹونگا، بھنڈوپ، چونا بھٹی اور دادر میں پانی صاف کرنے کے پمپ لگائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں معلومات میونسپل کارپوریشن کے سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں اور عوامی نمائندوں تک باقاعدگی سے پہنچائی جاتی ہیں۔ سڑکیں اور ٹرانسپورٹ روڈ سیمنٹ کنکریٹنگ پروجیکٹ کے فیز 1 کے تحت تقریباً 256.36 کلومیٹر کی سڑکوں کی کنکریٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ہدف کا 83.25 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے۔
  • روڈ سیمنٹ کنکریٹنگ پروجیکٹ کے فیز 2 کے تحت 222.79 کلومیٹر کی سڑکوں کی کنکریٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ہدف کا 60.29 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے۔
  • مانسون کے موسم کی آمد کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے 15 مئی 2026 تک سڑکوں کے کاموں کا جائزہ لیا جائے گا۔ خندقیں بھر کر سڑکوں کی حفاظتی دیکھ بھال اور بحالی کا کام 31 مئی 2026 سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ زون وار ٹھیکیداروں / ایجنسیوں کو گڑھوں کی شکایات کے ازالے کے لیے مقرر کیا جائے گا۔ ایسٹرن اور ویسٹرن ایکسپریس ہائی ویز پر گڑھے بھرنے/سڑکوں کی بہتری کے لیے علیحدہ ایجنسیاں مقرر کی جائیں گی۔ ہر انتخابی وارڈ کے لیے مون سون ڈیوٹی کے لیے سیکنڈری انجینئرز اور روڈ انجینئرز کا تقرر کیا گیا ہے۔ پتھول کوئیک فکس‘ ایپ سڑکوں پر پائے جانے والے گڑھوں کے ساتھ ساتھ قابل مرمت سڑکوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے شہریوں کو گڑھوں کی تصاویر، مقام اور معلومات اپ لوڈ کر کے شکایات درج کرانے کی آسان اور تیز سہولت ملتی ہے۔
  • ڈرین کی صفائی
  • دریائے میٹھی سے سلٹنگ کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ 28 اپریل 2026 تک کل ہدف کا 27.13 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ بڑے نالوں سے سلٹنگ کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ 28 اپریل 2026 تک کل ہدف کا 38.97 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ خطرناک عمارتیں میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں کل 174 عمارتوں کو برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کی دفعہ 354 کے تحت ‘انتہائی خطرناک’ قرار دیا گیا ہے۔
Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

میراروڈ نیانگر میں واچمئن پر قاتلانہ حملہ ملزم زیب زبیر انصاری تفتیش اے ٹی ایس کے سپرد

Published

on

ممبئی : میراروڈ نیانگر میں دو محافظ پر قاتلانہ حملہ کی تفتتیش اب مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس کرے گا۔ میراروڈ میں صبح چار بجے زیب زبیر انصاری نے دو محافظوں پر قاتلانہ حملہ کیا, انہیں زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا۔ اس معاملہ میں پولس نے اقدام قتل کا کیس درج کر لیا تھا, اب اے ٹی ایس اس کی تفتیش کرے گی اے ٹی ایس نوجوان زیب زبیر انصاری سے متعلق یہ معلوم کرے گی کہ وہ شدت پسند کیسے بنا اور شدت پسندی کے پس پشت کون لوگ اس کے روابط میں تھے۔ شدت پسند نوجوان زیب زبیر انصاری داعش سے متاثر تھا اس کے قبضے سے میز پر داعش کا خط جس میں خلافت اور جہاد سے متعلق تذکرہ تھا, اس خط سے متعلق بھی ایجنسی اور اے ٹی ایس اب جانچ کرے گی۔ چونکہ یہ معاملہ بنیاد پرستی اور لوون وولف اٹیک ہے, اس لئے اے ٹی ایس اس کی تفتیش کر رہی ہے۔ اے ٹی ایس کو شبہ ہے کہ اس نوجوان کو شدت پسندی کے راستہ پر آن لائن پروپیگنڈہ سے لایا گیا تھا, اس لئے شدت پسندی سے متعلق تفتیش کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔ اے ٹی ایس نے ایک پریس اعلامیہ میں اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ کیس اس نے تفتیش شروع کردی ہے اور پولس نے یہ کیس اسے منتقل کیا ہے اس لئے اے ٹی ایس اب ملزم کا ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔ اس معاملہ میں ہر پہلو پر تفتیش جاری ہے۔ اس میں اے ٹی ایس نے سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام دستاویزات اور کیس سے متعلق دستاویزات کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور اسی بنیاد پر تفتیش بھی جاری ہے۔ اے ٹی ایس کی تفتیش میں مزید کئی اہم خلاصے کی امید ہے۔ اے ٹی ایس اب دونوں زخمی محافظوں راجکمار اور سبروسین سے دوبارہ باز پرس کر کے بیان درج کرے گی اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم کرے گی کہ ملزم نے واچمین کو کلمہ پڑھنے کیوں کہا تھا اور اس کے پس پشت کا مقصد کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جس عمارت میں وہ ملزم مقیم تھا وہاں پر بھی اس کی حرکت مشتبہ تھی, وہ کسی سے گفتگو نہیں کرتا تھا اور سوسائٹی والے بھی اس سے واقف نہیں تھے۔ اس کی تصدیق سوسائٹی کے رکن اعجاز خطیب نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کمرہ میں ہی رہتا تھا اور کچرے کا ڈبہ تک باہر نہیں رکھتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہم بھی اس سے واقف نہیں تھے اس سے متعلق سرگرمیوں سے سوسائٹی لاعلم تھی, جبکہ اس کی پولس تصدیق کے بعد ہی اسے کمرہ فراہم کیا گیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان