Connect with us
Monday,20-April-2026

(جنرل (عام

اُردو کو عوامی زبان بنانے میں اس کے تہذیبی اداروں کا اہم کردار

Published

on

Online-Seminars

اردو کی حکائی روایتوں نے سماجی وتہذیبی اداروں یا اصناف کو جنم دیا جن میں مشاعرہ، قوالی، چہاربیت، مرثیہ خوانی، غزل گائیکی، داستان گوئی وغیرہ قابل ذکر ہیں جن کے سبب اردو نے خاص و عام میں مقبولیت حاصل کی۔ سنٹرفار اردو کلچراسٹڈیز (سی یو سی ایس)، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے ”اردو زبان کے تہذیبی و ثقافتی ادارے“ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ آن لائن سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں کل شام کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ممتاز افسانہ نگار اور ناقد پروفیسر بیگ احساس، سابق صدر شعبہ اردو، حیدر آباد یونیورسٹی نے ان خیالات کا اظہار کیا، اور تہذیبی اداروں کی روایت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی سمینار کے انعقاد میں تعاون کر رہی ہے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر مانو، پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے کہا کہ اردو آج بھی ترسیل، علم، تفریح اور روز گار کا ذریعہ اورہندوستان کی ایک باوقار ترقی یافتہ زبان ہے۔ اسی بناپر یہ زبان نہ صرف بطور زبان بلکہ تہذیب و ثقافت کے میدان میں بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے اردوادب کے فروغ میں سی یو سی ایس کی کاوشوں کی ستائش کی۔

ممتاز ادبی شخصیت مہمان خصوصی پروفیسر شہپر رسول، شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سیمینار کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اردوکے ایسے اداروں کا احاطہ کیا ہے جنہوں نے اردو زبان کو خواص کے دائرے سے نکال کر بیکراں عوامی وسعتوں سے اس طرح ہم کنار کیا کہ یہ زبان ہندوستان کی لینگوافرینکا کے منصب پر فائز ہوگئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اردو زبان کے ادب اور اس کی تہذیب و ثقافت کو دنیا کے دوردراز علاقوں تک پہنچانے میں ویبینار، ویب کانفرنس اور ویب مشاعروں کا غیر معمولی حصہ ہے، چنانچہ ویب دنیا کو اردو کے تہذیبی و ثقافتی عناصر میں شمار کیا جانا چاہیے۔

مہمان اعزازی پروفیسر نسیم الدین فریس، ڈین، السنہ، لسانیات و ہندوستانیات، مانو نے کہا کہ اردو زبان و تہذیب کا تعلق سماج سے انتہائی گہرا ہے، یہ ایک ایسا جامع عنوان ہے جس نے اردو، تہذیب، ثقافت اور ادارہ، ان تمام عناصر کا احاطہ کیا ہے۔ یہ ایک مثلث ہے جس کے ایک سرے پر اردو، دوسرے سرے پر تہذیب و ثقافت اور تیسرے سرے پر سماج واقع ہے۔ان اداروں کے سبب اردو کی ایک خوبصورت تہذیب نے جنم لیا ہے۔

سیمینار کے محرک پروفیسر محمد ظفرالدین، ڈائرکٹر، سی یو سی ایس نے اپنے استقبالیہ کلمات میں سیمینار کی غرض و غایت کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سیمینار میں اردو کے ان تہذیبی عناصر کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جائے گی، جن کے مرکب سے اردو تہذیب و ثقافت کا وجود قائم ہوتا ہے۔

انہوں نے اردو کلچر سنٹر کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے حوالے سے ڈرامہ، بیت بازی،غزل گوئی، مشاعرہ وغیرہ کی زائداز نصابی سرگرمیوں کا انعقاد، کتابوں کو آن لائن مرتب کرنا، یونیورسٹی اور سنٹر میں موجود کتابوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کا انتظام کرنا سنٹر کے اہم مقاصد ہیں۔

سیمینار کو یوٹیوب پر نشر کرنے اور مہمانان کو آن لائن جوڑنے میں انسٹرکشنل میڈیا سنٹرنے اپنا بھر پور تعاون فراہم کیا۔ کنوینر، ڈاکٹر احمد خان نے ہدیہئ تشکر پیش کیا اور نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اجلاس کا آغاز جناب ابرار افضل، کارکن ڈی ٹی پی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے ملاڈ میں منوہر ومن دیسائی اسپتال کا لیا جائزہ

Published

on

ممبئی : ممبئی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے آج (20 اپریل 2026) ملاڈ ایسٹ علاقے میں واقع ممبئی میونسپل کارپوریشن کے منوہر ومن دیسائی اسپتال کا دورہ کیا۔ اس دورہ کے دوران انہوں نے اسپتال کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ، انتہائی نگہداشت کے شعبہ اور اسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں سے بھی بات چیت کی۔ اس کے ساتھ انہوں نے اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور متعلقہ افسران و ملازمین سے بھی بات چیت کی اور وہاں کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما کے آج کے دورے کے دوران، ڈاکٹر چندرکانت پوار، چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مضافاتی اسپتالوں کے شعبہ کے سربراہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ آج کے دورے کے دوران ڈاکٹر شرما نے اسپتال سے متعلق مشینری، ایمبولینس اور مختلف امور کا جائزہ لیا اور وہاں کی صورتحال پر متعلقہ افراد کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی خدمات فراہم کرنے والے متعلقہ افسران اور ملازمین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، ڈاکٹر شرما نے ہدایت دی کہ اسپتال میں طبی خدمات فراہم کرنے والے تمام ڈاکٹروں اور متعلقہ ملازمین کو چاہیے کہ وہ اسپتال میں طبی علاج کے لیے آنے والے مریضوں کے ساتھ زیادہ خوش اسلوبی سے بات کریں اور مریضوں کی مناسب طریقے سے مشاورت کریں۔ ڈاکٹر شرما نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی اور خدمات کی سہولیات کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا۔منوہر ومن دیسائی ہسپتال ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ایک اہم ہسپتال ہے جو ملاڈ مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ 180 بستروں پر مشتمل یہ اسپتال 1976 سے ممبئی والوں کو طبی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ دفتری کام کے دنوں میں اس اسپتال کا آؤٹ پیشنٹ رجسٹریشن صبح 8 بجے سے 11 بجے کے درمیان کھلا رہتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی لینسکارٹ اسٹور میں بی جے پی لیڈر نازیہ الہی کی شرانگیزی, اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے کی اپیل

Published

on

ممبئی : ممبئی کے اندھیری علاقہ میں لیسنکارٹ اسٹور میں داخل ہوکر بی جے پی لیڈر نازیہ الہی نے نہ صرف یہ کہ نفرت انگیزی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک مسلم نوجوان سے بحث کر تے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح سے یہاں شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے لینسکارٹ میں ہندو لباس و طریقہ رسم و رواج پر پابندی کے بعد نازیہ الہی نےسوشل میڈیا پر لینسکارٹ میں داخل ہوکر یہاں ہندو ملازمین کو تلک لگایا جس کے بعد یہ معاملہ اب مذہبی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے لینسکارٹ کے مالک پیوش بنسل سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر اسلامی رسم و رواج کے لیے اتنی “محبت” ہے تو ہندو اکثریت والے ہندوستان میں ہندو عقائد کے لیے اتنی “نفرت” کیوں ہے؟ لینسکارٹ کے دوہرے معیار کے خلاف ملک بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لوگ مختلف طریقوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں سناتن روایات کی حامی اور بی جے پی لیڈر نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا اور ملازمین کو تلک لگایا۔نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا۔نازیہ نے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات اور شناخت سے پوری طرح آگاہ رہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لینسکارٹ اسٹور کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے، اس نے لکھا، “تلک آپ کےلئے باعث افتخار ہے۔ کلاوا آپ کا سنسکار (مقدس دھاگہ) آپ کا سنسکار (ثقافت) ہے۔ سناتن آپ کی پہچان ہے ہر ہر مہادیوکا نعرہ لگانا آپ کا اعزاز ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہندو جہاں بھی کام کرتے ہیں، انہیں اپنی شناخت اور روایات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ نازیہ نے لکھا۔چاہے آپ لینسکارٹ میں کام کریں یا ایئر انڈیا میں، آپ جہاں بھی ہوں، اپنی شناخت سے کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔” نازیہ نے اپنی پوسٹ میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دفتر، وی ایچ پی، بجرنگ دل، مہاراشٹر بی جے پی اور ایئر انڈیا کو ٹیگ کیا
لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگانے کی مہم پوسٹ کی گئی تصاویر میں نازیہ الٰہی خان لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس پوسٹ پر سابق مسلم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔بہت سے صارفین نے انتہائی جارحانہ اور بیہودہ تبصرے کیے ہیں جن کا یہاں ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔لینسکارٹ دوہرے معیار کے الزامات کے درمیان تنازعہ کاشکار ہوگیا ہے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ لینسکارٹ کے اپنے ملازمین کے لیے لباس اور تصویر کے حوالے سے داخلی ہدایات گزشتہ کچھ دنوں سے گرما گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک ہندو اکثریتی ملک میں ایک ہندو ملکی کمپنی جس میں ہندو ملازمین اور ہندو خریداروں کی اکثریت ہے، ہندو مذہبی عقائد اور ہندو شناخت کو دبانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے۔ پیوش بنسل نے دو الگ الگ پوسٹس میں ان الزامات کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لینسکارٹ گرومنگ گائیڈ لائنز پرانی ہیں۔
لینسکارٹ کے ڈریسنگ رولز پر تنقید
پیوش بنسل نے تسلیم کیا کہ سندھور، بندی اور کلاوا پر پابندی عائد تھی۔لوگ یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس طرح کے گہرے امتیازی رہنما خطوط کسی میں موجود ہے۔ لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ “نئے رہنما خطوط کہاں ہیں جو سندور، بندی اور کلاوا پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟” دریں اثنا، لینسکارٹ کے کئی سابق اور موجودہ ملازمین رپورٹ کر رہے ہیں کہ کس طرح کمپنی ہندو ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ کچھ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں اس لیے نکال دیا گیا کیونکہ وہ ہندو مذہبی عقائد کی پاسداری کرتے تھے یا ان کی حمایت میں بات کرتے تھے۔لینسکارٹ کے حصص فروخت ہوئے۔مذہبی امتیاز کے الزامات اور اس کے ارد گرد بڑھتے ہوئے تنازعہ کے بعد، لینسکارٹ کے حصص فروخت ہو رہے ہیں۔ پیر کو، لینسکارٹ کے حصص دونوں بڑے انڈیکس، بی ایس ای اور این ایس ای پر تقریباً دو فیصد گر گئے۔ دوپہر 2:40 بجے اس خبر کو شائع کرنے کے وقت، بی ایس ای پر لینسکارٹ کے حصص 1.83%، یا ₹9.80، ₹524.75 تک نیچے تھے۔ دریں اثنا، این ایس ای پر، لینسکارٹ کے حصص 1.82%، یا ₹9.75، گر کر ₹524.80 پر آ گئے۔اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا ہے جبکہ یہ معاملہ مذہبی بھید بھائو اور فرقہ پرستی سے بھی وابستہ ہے اور کھلے عام مذہبی عناد پیدا کرتے ہوئے نازیہ الہی نے کسی ایک مذہب کا ہدف بھی بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : عیدالاضحی سے قبل جانوروں کی بے جا پکڑ دھکڑ پر روک کا مطالبہ، ابوعاصم اعظمی کی ڈی جی پی سدانندداتے سے کارروائی کا بھی مطالبہ

Published

on

ممبئی : ممبئی عید الاضحی سے قبل شرپسندوں کے جانوروں کے بیوپاریوں اور تاجروں کی ہراسائی قربانی کے جانوروں کی پکڑ دھکڑ ہفتہ وصولی تشدد کے خلاف مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس ڈی جی پی سے ملاقات کر کے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی جانوروں کے تاجروں کو ہرساں کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنانے والوں پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں عید الاضحی پر نظم و نسق خراب کرنے والوں پر بھی ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈی جی سے میٹنگ میں جانوروں کی نقل و حمل کے دوران تاجروں کو درپیش مسائل جن میں ہراساں کرنا، ہفتہ وصولی ، تشدد اور جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جانا شامل ہیں، پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا کہ کئی مقامات پر سماج دشمن عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر تاجروں کو ہراساں کر رہے ہیں جس سے خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اس میٹنگ میں قریشی برادری کو درپیش مسائل سے متعلق بھی ڈی جی پی کو آگاہ کیا گیا اور قربانی کے دوران گوشت کی نقل و حمل بآسانی ہو اس کےلئے اسکواڈ سمیت دیگر سیکورٹی کا بھی انتظام ہو اعظمی نے مطالبہ کیا کہ تاجروں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن نمبر جاری کیا جائے، واضح ہدایات جاری کی جائیں کہ پولیس کے علاوہ کوئی بھی گاڑیوں کو نہ روکے، ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور اجازت نامے کے عمل کو آسان بنایا جائے۔ اس طرح کے کئی مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔
اس سلسلے میں، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدانند دتے نے مثبت یقین دہانی کرائی، رہنمایانہ اصول ایس او پیز کو سختی سے تیار کرنے، ہیلپ لائن نمبر 112 کو فعال رکھنے اور ضروری اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے دیگر مطالبات کو بھی حل کرنے کا وعدہ کیا۔
اس ملاقات میں ایڈوکیٹ یوسف ابرہانی، آصف قریشی اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان