Connect with us
Sunday,22-March-2026

سیاست

وادی کشمیر میں تمام کالجوں میں درس وتدریس کا عمل بحال ہوا

Published

on

exam

وادی کشمیر میں پیر کے روز تمام کالجوں میں قریب ایک برس بعد تمام تر احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد کے بیچ درس وتدریس کا عمل باقاعدگی سے شروع ہوا، بتادیں وادی میں سال گذشتہ کے ماہ مارچ میں ہی کورونا لاک ڈاؤن کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے بند کر دئے گئے تھے، اور بعد میں تعلیم و تعلم کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

متعلقہ حکام کے مطابق وادی میں پرائمری و مڈل سطح تک کے اسکول یکم مارچ سے کھلنے والے ہیں، جبکہ صوبہ جموں میں یکم فروری سے ہی کالج کھل گئے ہیں۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار نے سری نگر میں قائم مختلف کالجوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ کالجوں میں صبح سے ہی طلباء کے جوق در جوق آنے کا سلسلہ جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء اور اساتذہ کے چہروں پر خوشیاں عیاں تھیں، اور اساتذہ طلباء کا استقبال کر رہے تھے۔

موصوف نے بتایا کہ کالجوں کو سینیٹائز کیا گیا تھا اور دیگر تمام کورونا گائیڈ لائنز پر بھی من و عن عمل کیا جا رہا تھا۔

ایک طلاب علم نے یو این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں آج جہنم سے آزاد ہوکر جنت میں داخل ہوا ہوں۔ کالج میں قدم رکھتے ہی سکون کی ایک چادر نے میرے وجود کو ڈھانپ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم آن لائن کلاسز لے کر تعلیم جاری رکھے ہوئے تھے، لیکن کالج آکر اساتذہ کے کلاسوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کا لطف ہی کچھ الگ بھی ہے، اور اس کے بسیار فوائد بھی ہیں۔

موصوف طالب علم نے کہا کہ کالج کھلنے سے طلباء کا ذہنی دباؤ بھی کم ہو جائے گا، جس کا شکار ہم مسلسل گھروں میں بیٹھنے سے ہوئے ہیں۔ ایک استاد نے بتایا کہ طلباء کو کلاس روم میں رو برو پڑھانے سے ہی دلی سکون اور تسلی میسر ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلباء کے بغیر کالجوں کا وجود ہی بے، معنی ہوکر رہ جاتا ہے، اور آج جب طلباء کالجوں میں حاضر ہوئے تو ان کی رونق دو بالا ہوگئی۔

والدین کا ماننا ہے کہ وادی کشمیرمیں پانچ اگست 2019 سے ہی تعلیمی ادارے بند ہیں، اگرچہ بیچ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہونے لگا تھا، لیکن پھر کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے دوبارہ معطل ہو کے رہ گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں گذشتہ دو برسوں کے دوران طلباء کو نا قابل تلافی تعلیمی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سائبر دھوکہ دہی میں سم کارڈ کا استعمال، ناگپاڑہ سمیت اندھیری کے سم کارڈ ایجنٹوں پر کیس درج

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ کی سائبر سیل نے اب ایسے سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کے فروخت کردہ سم کارڈ دھوکہ دہی میں استعمال کیا گیا کرائم برانچ نے پانچ سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو دھوکہ دہی کے کیس میں تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ سائبر دھوکہ دہی کے لیے ایجنٹ اور دکاندار کے معرفت ملزمین سم کارڈ کی حصولیابی کیا کرتے تھے اور یہی نمبر دھوکہ دہی کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ سم کارڈ فروخت کرنے والے اپنی دکان سے گاہک کے دستاویزات کا غلط استعمال کرکے اگر گاہک ایک سم کارڈ طلب کرتا تو اس کے دستاویز پر ایک دو یا تین سم کارڈ جاری کرواتے تھے اور پھر یہ سم کارڈ یہ لوگ خود کے فائدہ کےلیے استعمال کرتے تھے اور سائبر جرائم میں مفرور ملزمین کو فراہم کرتے تھے سائبر سیل نے ناگپاڑہ سے سم کارڈ فروخت کرنے والے ملزمین محمد سلطان محمد حنیف ، ذیشان کمال کے خلاف آئی ڈی ایکٹ سمیت دیگر دفعات میں کیس درج کیا ہے۔ اسی طرح دیا شنکر بھگوان شکلا، پردیپ کمار برنل والا ، نیرج شیورام کے خلاف کیس درج کیا ہے ان پر بھی غیر قانونی طریقے سے سم کارڈ فروخت کرنے کا کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایماء پر ڈی سی پی سائبر سیل پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔ سائبر سیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل نمبر سے متعلق سنچار ساتھی ایپ پر جانچ کرے اگر انہیں اپنے نام پر دیگر نمبر ملتا ہے تو اس پر وہ رپورٹ کرے اور اس معاملہ میں عوام سنچار ساتھی ایپ میں شکایت بھی کر سکتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ میں بڑی بے ضابطگیاں، ریاست بھر میں جانچ کے احکامات

Published

on

ممبئی: ( قمر انصاری )
مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ سے متعلق ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ اور عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس معاملے نے زمین کی ملکیت کے حقوق اور سرکاری نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سے بڑی تعداد میں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں رہنے والے افراد۔

یہ معاملہ مہاراشٹر لینڈ ریونیو کوڈ کی ایک شق کے مبینہ غلط استعمال سے جڑا ہوا ہے، جس کا مقصد صرف معمولی غلطیوں جیسے ٹائپنگ یا دفتری خامیوں کو درست کرنا ہوتا ہے۔ تاہم الزام ہے کہ اسی شق کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی ملکیت میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تبدیلیاں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق کئی معاملات میں بغیر مناسب جانچ پڑتال اور قانونی طریقہ کار کے زمین کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں، جس سے غیر قانونی طور پر زمین کی منتقلی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے اصل مالکان میں اپنی جائیداد کھونے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں اس شق کے تحت کیے گئے تمام اندراجات کی جامع جانچ کا حکم دیا ہے۔ ضلعی سطح پر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام تبدیلیوں کا جائزہ لیں اور ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں۔

ابتدائی جانچ سے یہ اشارہ ملا ہے کہ یہ معاملہ صرف چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ اس جانچ کا مقصد حقیقت کو سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری مقدمات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کے حقوق کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کے حقوق کا تحفظ اور زمین کے ریکارڈ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

Continue Reading

بزنس

سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد سے زیادہ کا اضافہ، ان وجوہات کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا۔

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کے تجارتی سیشن میں مضبوطی دیکھی جارہی ہے۔ دوپہر 12 بجے، سینسیکس 728 پوائنٹس، یا 1 فیصد، 74،935 پر تھا، اور نفٹی 236 پوائنٹس، یا 1.03 فیصد، 23،238 پر تھا. وسیع مارکیٹ میں تیزی برقرار ہے۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 693 پوائنٹس یا 1.27 فیصد بڑھ کر 55,185 پر تھا اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 111 پوائنٹس یا 0.65 فیصد بڑھ کر 15,816 پر تھا۔ ہندوستانی بازار میں اضافہ خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کی وجہ سے ہے۔ جمعہ کو برینٹ کروڈ 1.21 فیصد گر کر 107.3 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ میں دونوں فریقوں کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بعد جمعرات کو برینٹ کروڈ کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ مارکیٹ میں تیزی کی ایک وجہ مغربی ایشیا میں تناؤ میں کمی کے آثار ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کے جذبات میں بہتری آئی ہے اور مارکیٹ میں خریداری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سیول اور شنگھائی کے بازار سبز رنگ میں کھل گئے۔ دریں اثناء امریکی مارکیٹس بھی جمعرات کی نچلی سطح سے بحال ہوئیں لیکن نیچے بند ہوئیں۔ انڈیا VIX، ایک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا انڈیکس، بھی سیشن کے دوران کمزور ہوا۔ عام طور پر، جب انڈیا VIX میں کمی آتی ہے، تو مارکیٹ بڑھ جاتی ہے۔ مزید برآں، سستی قیمتوں پر خریداری کو بھی مارکیٹ میں تیزی کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں، سابق سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی) کے رکن کملیش چندر ورشنی نے کہا کہ حالیہ گراوٹ کے بعد، ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل ثابت ہوسکتی ہے۔ ورشنی نے کہا، “مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ہندوستانی مارکیٹ میں کمی نے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئیز) کے لیے ایک پرکشش موقع پیش کیا ہے۔” نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ روس-انڈیا فورم کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے، ورشنی نے کہا کہ موجودہ سطح پر ہندوستانی اسٹاک میں سرمایہ کاری کرنے کا “انتہائی اچھا موقع” ہے۔ بینچ مارک انڈیکس اس ماہ 8 فیصد سے زیادہ گر گئے ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو پست کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اندراج کی قیمتوں میں بھی بہتری لائی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان