Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

حالات کے شکار لوگوں کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے:مفتی محمدہارون ندوی

Published

on

maulanna

دھولیہ :(خیال اثر)
اسلام میں نشہ آور چیز حرام ہے۔ اسلام جس کام سے منع کرتا ہے اس میں دنیا و آخرت دونوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ نشہ اور نشہ آور ادویات کی وجہ سے تباہی کے اندھے کنویں کی طرف بہت تیزی سے جارہا ہے۔دنیا پریشانیوں اور مصیبتوں کا دوسرا نام ہے،اگر کوئی حالات کا شکار ہوتا ہے تو اس کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ان خیالات کا اظہارمفتی محمدہارون ندوی صدر جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں و ڈائریکٹر وائرل نیوز لائیو جلگاؤں،مہاراشٹر نے جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام جلسہ عام بعنوان نشہ مخالف مہم سے خطاب کے دوران کیا۔
تنظیم اصلاح معاشرہ جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام میں ہزاروں مرد و خواتین کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے. مفتی محمدہارون ندوی نے فرمایا کہ نشہ کی عادت معاشرہ کے لئے ایک خطرناک ناسور ہے،جس نشہ کی زیادہ مقدار حرام ہے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔نشہ آور غذا اور دوا یا انجیکشن وغیرہ کا استعمال طرح طرح کے مہلک مرض کا سبب بھی بنتے ہیں۔اس لئے ہمیں ان نشہ آور اشیاء کا انفرادی اور اجتماعی طور پر بائیکاٹ کرنا چاہئے۔
مفتی محمدہارون ندوی نے منشیات کی روک تھام کے لئے انتظامیہ اور عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان ضمیر فروشوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔انتظامیہ کے ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں پر نظریں رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ان کے مشاغل کیا ہیں۔
مفتی موصوف نے نشہ مخالف مہم کو مؤثر بنانے کے لئے ذرائع ابلاغ خاص طور پرمیڈیا اور سوشل میڈیاکے وسائل کو نشہ مخالف ذہن سازی کے لئے استعمال کرنے پر زور دیا،اس کے علاوہ نوجوان نسل کی صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔
موصوف نے سرپرستوں اور ذمہ داروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ نشے کوکبھی شوق میں بھی استعمال نہ کریں اور نہ ہی کسی نشہ کرنے والے یا بیچنے والے شخص کے ساتھ دوستی کریں۔کیونکہ جب کوئی ایک مرتبہ کسی منشیات فروش یا استعمال کرنے والے شخص کے چکر میں پھنس کر نشے کا عادی بن جاتا ہے تو پھر ساری زندگی اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے،جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے۔
مذکورہ پرگروام کا آغاز تلاوتِ کلام پاک کی آیتوں سے مولوی اصغر جمیل نے کیا بعدہ مولوی شعیب حنیف نے بارگاہ رسالت ماٰب صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانہ نعت پیش فرمایا۔
نشہ مخالف مہم کا یہ پہلا عظیم الشان اجلاس حضرت مولانا قاری مشتاق احمد اشاعتی
امام وخطیب مسجد ہدایت، ہڈکو و استاد مدرسہ فلاح دارین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جمعیۃ کے نہایت فعال رکن مولانا محمد عابد صاحب نے مختصراً لیکن جامع انداز میں پروگرام کی غرض و غایت بیان کی۔ اسی طرح خطیب و امام رحمانی مسجد اہل حدیث حضرت مولانا عبدالواحد رحمانی صاحب نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نشے کی قباحت بیان فرمائی اور اس عوام الناس اس مہم میں مکمل تعاون کی درخواست کی۔
حاجی شوال امین
( نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ) نے نشہ مخالف مہم کی منصوبہ بندیاں نیز نوجوانوں کو نشے کی عادت سے بچانے کے لیے ان کے علاج و معالجے کی معلومات بیان کی ، موصوف نے بتایا کہ الحمدللہ جمعیۃ کی جانب سے کلیان کے نشہ مکت اسپتال میں کچھ بچوں کا علاج کروایا گیا ہے اور مزید علاج شروع بھی ہے، اس سلسلے میں خطیر رقم کی ضرورت بھی ہے، موصوف نے ہر طرح کے فلاحی کاموں کی امداد کے ساتھ اس اہم کام میں اپنا دست تعاون دراز کرنے کی عوام الناس سے اپیل کی ۔
اس عظیم الشان اجلاس میں بطورِ مہمان خاص
حضرت مفتی قاسم جیلانی
( مہتمم مدرسہ فلاح دارین و صدر جمعیۃ علماء دھولیہ)
حضرت مفتی مسعود قاسمی
( استاد مدرسہ ریاض الجنہ، دھولیہ)
حضرت مولانا مشتاق احمد
( استاد مدرسہ قمرالزماں، دھولیہ)
حافظ حفظ الرحمن صاحب
( صدر جمعیۃ علماء ، ضلع دھولیہ)
مولانا ضیاء الرحمن
( صدر جمعیۃ علماء، شہر دھولیہ)
مولانا شکیل قاسمی
مفتی شفیق قاسمی
مولانا ہلال قاسمی
جمعیۃ کے دیگر تمام عہدے داران و ذمے داران کے ساتھ جمعیۃ کی ماتحتی میں قائم تنظیم اصلاح معاشرہ کے تمام معزز علماء و مفتیان کثیر تعداد میں موجود تھے ۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ
یہ عظیم الشان اجلاس ہر اعتبار سے کامیاب رہا، تمام ہی خادمین جمعیۃ نے پروگرام کی کامیابی کے لیے انتہائی کوشش و محنت کی ۔
عین اجلاس سے کچھ دیر قبل ایک خبر ملی جسے سن کر تمام ذمے داران کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ۔ جمعیۃ کے ایک انتہائی مخلص خادم، بے لوث خدمت گزار
نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا
کے مصداق
سلیم پینٹر المعروف سلیم ملا اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحوم اس پروگرام کی تیاری میں شروع دن سے ہی نہایت متحرک تھے ۔ مہمان مقرر مفتی ہارون ندوی اور ان کے ساتھ تمام مقامی و بیرونی مہمانان کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔
مدرسہ سراج العلوم کے مہمان خانے کی صفائی سے لے کر تمام تر انتظامات مرحوم نے اپنے ہاتھوں کیے ۔ لیکن مرضی مولا کے آگے سب بے بس ہیں. اچانک سینے میں تکلیف اٹھی. گھر گئے، دواخانے کے لیے لے جایا گیا لیکن راستے ہی میں راہی عدم ہوگئے ۔
دورانِ پروگرام ہی کچھ ساتھی مرحوم کے گھر پہنچ کر انتظامات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوگئے، اختتام کے بعد جمعیۃ کا پورا وفد ساتھ ہی مفتی ہارون ندوی بھی مرحوم کے مکان پہنچ کر ان کے اعزہ کے ساتھ تسلی آمیز جملے بیان کرکے ان کے حق میں مغفرت کی دعا فرمائی ۔
صبح دس بجے مرحوم کی تدفین نئے مسلم قبرستان دھولیہ میں کی گئی ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان