Connect with us
Wednesday,30-September-2026

(جنرل (عام

حالات کے شکار لوگوں کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے:مفتی محمدہارون ندوی

Published

on

maulanna

دھولیہ :(خیال اثر)
اسلام میں نشہ آور چیز حرام ہے۔ اسلام جس کام سے منع کرتا ہے اس میں دنیا و آخرت دونوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ نشہ اور نشہ آور ادویات کی وجہ سے تباہی کے اندھے کنویں کی طرف بہت تیزی سے جارہا ہے۔دنیا پریشانیوں اور مصیبتوں کا دوسرا نام ہے،اگر کوئی حالات کا شکار ہوتا ہے تو اس کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ان خیالات کا اظہارمفتی محمدہارون ندوی صدر جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں و ڈائریکٹر وائرل نیوز لائیو جلگاؤں،مہاراشٹر نے جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام جلسہ عام بعنوان نشہ مخالف مہم سے خطاب کے دوران کیا۔
تنظیم اصلاح معاشرہ جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام میں ہزاروں مرد و خواتین کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے. مفتی محمدہارون ندوی نے فرمایا کہ نشہ کی عادت معاشرہ کے لئے ایک خطرناک ناسور ہے،جس نشہ کی زیادہ مقدار حرام ہے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔نشہ آور غذا اور دوا یا انجیکشن وغیرہ کا استعمال طرح طرح کے مہلک مرض کا سبب بھی بنتے ہیں۔اس لئے ہمیں ان نشہ آور اشیاء کا انفرادی اور اجتماعی طور پر بائیکاٹ کرنا چاہئے۔
مفتی محمدہارون ندوی نے منشیات کی روک تھام کے لئے انتظامیہ اور عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان ضمیر فروشوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔انتظامیہ کے ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں پر نظریں رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ان کے مشاغل کیا ہیں۔
مفتی موصوف نے نشہ مخالف مہم کو مؤثر بنانے کے لئے ذرائع ابلاغ خاص طور پرمیڈیا اور سوشل میڈیاکے وسائل کو نشہ مخالف ذہن سازی کے لئے استعمال کرنے پر زور دیا،اس کے علاوہ نوجوان نسل کی صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔
موصوف نے سرپرستوں اور ذمہ داروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ نشے کوکبھی شوق میں بھی استعمال نہ کریں اور نہ ہی کسی نشہ کرنے والے یا بیچنے والے شخص کے ساتھ دوستی کریں۔کیونکہ جب کوئی ایک مرتبہ کسی منشیات فروش یا استعمال کرنے والے شخص کے چکر میں پھنس کر نشے کا عادی بن جاتا ہے تو پھر ساری زندگی اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے،جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے۔
مذکورہ پرگروام کا آغاز تلاوتِ کلام پاک کی آیتوں سے مولوی اصغر جمیل نے کیا بعدہ مولوی شعیب حنیف نے بارگاہ رسالت ماٰب صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانہ نعت پیش فرمایا۔
نشہ مخالف مہم کا یہ پہلا عظیم الشان اجلاس حضرت مولانا قاری مشتاق احمد اشاعتی
امام وخطیب مسجد ہدایت، ہڈکو و استاد مدرسہ فلاح دارین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جمعیۃ کے نہایت فعال رکن مولانا محمد عابد صاحب نے مختصراً لیکن جامع انداز میں پروگرام کی غرض و غایت بیان کی۔ اسی طرح خطیب و امام رحمانی مسجد اہل حدیث حضرت مولانا عبدالواحد رحمانی صاحب نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نشے کی قباحت بیان فرمائی اور اس عوام الناس اس مہم میں مکمل تعاون کی درخواست کی۔
حاجی شوال امین
( نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ) نے نشہ مخالف مہم کی منصوبہ بندیاں نیز نوجوانوں کو نشے کی عادت سے بچانے کے لیے ان کے علاج و معالجے کی معلومات بیان کی ، موصوف نے بتایا کہ الحمدللہ جمعیۃ کی جانب سے کلیان کے نشہ مکت اسپتال میں کچھ بچوں کا علاج کروایا گیا ہے اور مزید علاج شروع بھی ہے، اس سلسلے میں خطیر رقم کی ضرورت بھی ہے، موصوف نے ہر طرح کے فلاحی کاموں کی امداد کے ساتھ اس اہم کام میں اپنا دست تعاون دراز کرنے کی عوام الناس سے اپیل کی ۔
اس عظیم الشان اجلاس میں بطورِ مہمان خاص
حضرت مفتی قاسم جیلانی
( مہتمم مدرسہ فلاح دارین و صدر جمعیۃ علماء دھولیہ)
حضرت مفتی مسعود قاسمی
( استاد مدرسہ ریاض الجنہ، دھولیہ)
حضرت مولانا مشتاق احمد
( استاد مدرسہ قمرالزماں، دھولیہ)
حافظ حفظ الرحمن صاحب
( صدر جمعیۃ علماء ، ضلع دھولیہ)
مولانا ضیاء الرحمن
( صدر جمعیۃ علماء، شہر دھولیہ)
مولانا شکیل قاسمی
مفتی شفیق قاسمی
مولانا ہلال قاسمی
جمعیۃ کے دیگر تمام عہدے داران و ذمے داران کے ساتھ جمعیۃ کی ماتحتی میں قائم تنظیم اصلاح معاشرہ کے تمام معزز علماء و مفتیان کثیر تعداد میں موجود تھے ۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ
یہ عظیم الشان اجلاس ہر اعتبار سے کامیاب رہا، تمام ہی خادمین جمعیۃ نے پروگرام کی کامیابی کے لیے انتہائی کوشش و محنت کی ۔
عین اجلاس سے کچھ دیر قبل ایک خبر ملی جسے سن کر تمام ذمے داران کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ۔ جمعیۃ کے ایک انتہائی مخلص خادم، بے لوث خدمت گزار
نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا
کے مصداق
سلیم پینٹر المعروف سلیم ملا اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحوم اس پروگرام کی تیاری میں شروع دن سے ہی نہایت متحرک تھے ۔ مہمان مقرر مفتی ہارون ندوی اور ان کے ساتھ تمام مقامی و بیرونی مہمانان کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔
مدرسہ سراج العلوم کے مہمان خانے کی صفائی سے لے کر تمام تر انتظامات مرحوم نے اپنے ہاتھوں کیے ۔ لیکن مرضی مولا کے آگے سب بے بس ہیں. اچانک سینے میں تکلیف اٹھی. گھر گئے، دواخانے کے لیے لے جایا گیا لیکن راستے ہی میں راہی عدم ہوگئے ۔
دورانِ پروگرام ہی کچھ ساتھی مرحوم کے گھر پہنچ کر انتظامات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوگئے، اختتام کے بعد جمعیۃ کا پورا وفد ساتھ ہی مفتی ہارون ندوی بھی مرحوم کے مکان پہنچ کر ان کے اعزہ کے ساتھ تسلی آمیز جملے بیان کرکے ان کے حق میں مغفرت کی دعا فرمائی ۔
صبح دس بجے مرحوم کی تدفین نئے مسلم قبرستان دھولیہ میں کی گئی ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پولس کی آپریشن شودھ مہم

Published

on

Police

ممبئی شہر میں ریکارڈ پر موجود اغواء/اختطاف شدہ 18 سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکی (بچے) اور گمشدہ 18 سال سے اوپر کے مرد/خاتون کے بارے میں خصوصی تلاش مہم کرنے کے لیے تاریخ ۲۹ ستمبر سے ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۶ اس مدت میں ممبئی شہر میں “آپریشن شودھ 5” اس تلاش مہم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مذکورہ مدت میں ممبئی شہر سے 18 سال سے کم عمر کے گمشدہ زیادہ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیاں اور 18 سال سے اوپر کی گمشدہ خاتون/مرد ملنے کے لیے پولیس تھانہ سطح پر زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے گی۔ مذکورہ مہم کامیاب ہونے کے لیے ممبئی کے شہریوں نے پولیس اور گمشدہ/اختطاف/اغواء کے سلسلے میں کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں کو مدد کرنے سے زیادہ سے زیادہ گمشدہ/اختطاف شدہ بچوں، خواتین/مردوں کی تلاش لینے میں مدد ہوگی۔ اس لیے ممبئی کے تمام شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس میں مشکوک چھوٹے لڑکے/لڑکیاں گمشدہ خواتین/مرد ملنے پر اگر ان کے بارے میں کچھ معلومات کی حصولیابی پر نیچے دی گئی معلومات متعلقہ محکموں کو دے کر مذکورہ اقدام کو اچھے طریقے سے نافذ کرنے کے لیے ممبئی پولیس کی مدد کریں۔ کسی بھی مشکوک چھوٹے لڑکے اور لڑکی یا گمشدہ خاتون/مرد ملنے پر ان سے پوچھ گچھ کریں اور کچھ مشکوک لگنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں اور مذکورہ گمشدہ شخص/بچوں کو فوری قریبی پولیس تھانے لے جائیں۔

۲۹ ستمبر سے ۱۶ اکتوبر اس مدت میں ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، راستے پر بھیک مانگنے والے یا کچرا جمع کرنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں، مذہبی مقامات، ہسپتال، ہوٹل، دکانیں وغیرہ جگہوں پر کام کرنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔علاقے میں چھوٹے لڑکے/لڑکیاں کام کر رہے ہیں ایسا ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔> ریلوے اسٹیشن کے باہر کا علاقہ/بس اسٹینڈ کے باہر کا علاقہ اس جگہ پر بے وارث حالت میں چھوٹے لڑکے/لڑکیاں یا خاتون/مرد ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔اپنے رہائشی علاقے میں رشتہ داروں کے پاس رہنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں، خاتون/مرد کے بارے میں کچھ شک ہونے پر اس بارے میں فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔کوئی بھی کم عمر لڑکا یا لڑکی مشکوک لگنے پر اس بارے میں https://missionvatsalya.wcd.gov.in اس ویب سائٹ پر جا کر کھویا۔پایا اس پورٹل پر لڑکے اور لڑکی کا فوٹو اپ لوڈ کریں۔اپنے آس پاس کے علاقے میں کوئی چھوٹے لڑکے گھر کا کام کرتے ہوئے ملنے پر اس بارے میں فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کی میئر، ڈپٹی میئر اور میونسپل کمشنر نے ماحول دوستی کو برقرار رکھنے کی پہل کرنے پر گنیش عقیدت مندوں کا کیا شکریہ ادا

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) کی جانب سے کیے گئے بہترین اقدامات اور ماحول دوست گنیش اتسو کی اپیل پر پرجوش ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، ممبئی کے شہریوں اور گنیش منڈلوں نے حیرت انگیز طور پر 97.27 فیصد مورتیاں مصنوعی تالابوں میں وسرجن کیں۔ یہ وسرجن بی ایم سی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ 383 مصنوعی تالابوں میں کیا گیا۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئرسنجے گھاڑی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے تہوار کو ماحول دوست رکھنے کی پہل کرنے پر تمام عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس سال کے گنیش اتسو کے دوران، برہن ممبئی کے علاقے میں کل 1,97,382 گنیش مورتیوں کا وسرجن کیا گیا۔ ان میں سے 1,92,237 مورتیاں (جن کی اونچائی 6 فٹ تک تھی) 383 مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی گئیں اس تعداد میں 1,22,391 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) کی مورتیاں اور 69,846 ‘شادو’ مٹی (قدرتی مٹی) کی مورتیاں شامل تھیں۔ دریں اثنا، 6 فٹ سے زیادہ اونچی 5,382 مورتیاں وسرجن کے 67 قدرتی مقامات پر وسرجن کی گئیں؛ اس زمرے میں 5,259 پی او پی مورتیاں اور 123 ‘شادو’ مٹی کی مورتیاں شامل تھیں۔ اس سال کے شری گنیش اتسو کے لیے ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے اور ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی کی رہنمائی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے کی ہدایات کے تحت مختلف اقدامات کیے گئے؛ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے کی قیادت اور ڈپٹی کمشنر (زون 2) گنیش اتسو کوآرڈینیٹر شری پرشانت سپکالے کی نگرانی میں یہ اقدامات کیے گئے۔ممبئی کے قدرتی آبی ذخائر پر مورتی وسرجن کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے، انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ شری گنیش کی مورتیاں مصنوعی تالابوں میں وسرجن کریں۔ اس کے نتیجے میں، شہر بھر میں مختلف مقامات پر مصنوعی تالاب قائم کیے گئے، جن میں کھلے پلاٹ، پارکس اور شہریوں کے گھروں کے قریب موجود گراؤنڈز شامل تھے۔ اس اقدام کو فروغ دینے کے لیے عوامی آگاہی کی مؤثر مہمات بھی چلائی گئیں۔ نتیجتاً، مورتی وسرجن کے دوران مختلف ساحلوں پر ہجوم میں نمایاں کمی آئی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی انتظامیہ نے اس سال مصنوعی تالابوں کے لیے وسیع انتظامات کیے تھے۔ ممبئی بھر میں کل 383 مصنوعی تالاب دستیاب کرائے گئے تھے، اس کے علاوہ سمندری کناروں، ساحلوں اور دیگر مقامات پر وسرجن کے لیے 67 قدرتی مقامات بھی موجود تھے۔

6 فٹ تک کی اونچائی والی گنیش کی مورتیوں کے وسرجن کے لیے مصنوعی تالابوں کے استعمال کا اختیار دیا گیا تھا۔ بی ایم سی کی جانب سے فراہم کردہ مصنوعی تالابوں کے اس اختیار کو اس سال زبردست پذیرائی ملی مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی جانے والی 6 فٹ تک کی اونچائی والی مورتیوں میں 1,22,391 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) کی مورتیاں اور 69,846 ‘شادو’ (شادو) مٹی کی مورتیاں شامل تھیں۔ اس طرح، کل 1,92,237 مورتیاں (6 فٹ تک اونچی) مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی گئیں۔ دریں اثنا، چھ فٹ سے زیادہ اونچی مورتیوں کے لیے قدرتی وسرجن کے مقامات کا استعمال کیا گیا۔ ان مقامات پر کل 5,382 مورتیاں وسرجن کی گئیں جن میں 5,259 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) اور 123 ‘شادو’ مٹی سے بنی مورتیاں شامل تھیں۔ماحول دوست گنیش اتسو کو فروغ دینے کے لیے، میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے تہوار کے آغاز سے کافی پہلے ہی مختلف اقدامات نافذ کر دیے تھے۔ ماحول دوست مورتیاں تیار کرنے کے لیے مجسمہ سازوں کو 940 میٹرک ٹن سے زیادہ ‘شادو’ مٹی مفت فراہم کی گئی تھی۔ مزید برآں، ان مورتیوں کی تیاری کے لیے 25,400 لیٹر ماحول دوست پینٹ مفت فراہم کیا گیا۔میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے مورتیوں کے وسرجن (پانی میں بہانے کے عمل) کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت اور مشینری تعینات کی۔ وسرجن کی تقریب کو محفوظ اور خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے 25,000 سے زائد افسران اور عملے کے ارکان ڈیوٹی پر مامور تھے اس طرح، کل 1,92,237 مورتیاں (6 فٹ تک اونچی) مصنوعی تالابوںامات، اور سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ و مہاراشٹر پولوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط کی تعمیل میں، میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے اس سال کے گنیش اتسو کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں مصنوعی تالابوں کی فراہمی، ماحول دوست مورتیاں بنانے کی حوصلہ افزائی، وسرجن کے مقامات پر حفاظتی انتظامات، ‘نرمالیہ’ (مذہبی رسومات میں پیش کی جانے والی اشیاء) کو جمع کرنا، اور وسرجن کے بعد مورتیوں کے مواد کو اکٹھا کرنے اور اس کے انتظام کا عمل شامل تھا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یونیفارم سول کوڈ کمیٹی میں اقلیتی برادری کے نمائندے کو بطور مشیر مقرر کیا جائے، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے محکمہ قانون و عدلیہ کو میمورنڈم کیا پیش

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ آئی اے ایس (آئی اے ایس) افسر مسٹر شتروگھن سنگھ کو یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کمیٹی کا مشیر مقرر کیے جانے کے بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو یو سی سی مسودہ کمیٹی میں بطور مشیر اور رکن مقرر کیا جائے۔ مہاراشٹر کے لیے مجوزہ یونیفارم سول کوڈ کا مسودہ تیار کرتے وقت عمل کو وسیع، سب کو شامل کرنے والا اور شفاف بنانے کے لیے یہ اقدام انتہائی ضروری ہے۔ریاست کے محکمہ قانون و عدلیہ کے پرنسپل سیکریٹری سوپنل کھاٹی کو ذاتی طور پر پیش کیے گئے ایک خط میں، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ یو سی سی مسودہ کمیٹی میں مشیر کی حالیہ تقرری کے پیش نظر، حکومت کو کمیٹی میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی اہل فرد کو مشیر مقرر کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

“اس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ مسودہ سازی اور مشاورت کے عمل کے دوران پرسنل لا (ذاتی قوانین)، خاندانی معاملات اور مجوزہ یو سی سی مسودے کے عملی اثرات کے حوالے سے مناسب نقطہ نظر کو پوری طرح مدنظر رکھا جائے۔”گزشتہ ہفتے، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھ کر یو سی سی کمیٹی میں اقلیتی برادری کے رکن کی تقرری پر زور دیا تھا۔ اپنے خط میں، رکن اسمبلی شیخ نے نشاندہی کی کہ معزز جسٹس (ریٹائرڈ) آر سی چوہان کے استعفے کے بعد کمیٹی میں ایک نشست خالی ہوئی ہے۔ یو سی سی مسودہ کمیٹی کو ایسے موضوعات پر کام کرنا ہے جو شہریوں کی ذاتی اور خاندانی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں جن میں شادی، طلاق، وراثت، گود لینے کا عمل اور دیگر متعلقہ شہری معاملات شامل ہیں۔ لہٰذا، مجوزہ خاکہ تیار کرتے وقت مہاراشٹر کی متنوع برادریوں کے تجربات، خدشات، خیالات اور نقطہ نظر کو مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔ ایم ایل اے شیخ نے محکمہ قانون و عدلیہ کے پرنسپل سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ مسودہ کمیٹی (ڈرافٹنگ کمیٹی) میں موجود خالی آسامی کو پُر کرنے کے لیے اقلیتی برادری، بالخصوص مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے کسی مناسب اہل فرد کو مقرر کیا جائے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ کمیٹی مشاورت کے عمل کے دوران مہاراشٹر کی آبادی کے تمام طبقات جن میں اقلیتی برادریاں، خواتین، قانونی ماہرین، مذہبی و سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی کے گروہ اور عوام شامل ہیں کو اپنے خیالات کے اظہار کا شفاف موقع فراہم کرے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان