Connect with us
Saturday,05-September-2026

سیاست

حکومت کسانوں کو کچلنے پر تلی ہے : راہل، پرینکا

Published

on

RAHUL AND PRIYANKA

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت پر کسانوں کو کچلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے آج کہا کہ جس طرح سے پولیس کسانوں کو روکنے کے لئے کام کر رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ حکومت نے اپنے لوگوں کے خلاف ہی محاذ کھول دیا ہے۔

مسٹر گاندھی نے کہا مودی حکومت کا کام کرنے کا طریقہ ہے۔ “ان کو چپ کردو، ان کو کنارے کردو ان کو جم کر کچل دو، پل بناو لیکن دیوار مت چنو۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں لکھا ہے کہ حکومت نے کسانوں کے درمیان گفتگو اور اتحاد کے لئے بنائے گئے تمام ٹویٹر اکاونٹ بند کر دیے ہیں۔

محترمہ واڈرا نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم نریندر مودی کسانوں کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا اور کہا وزیراعظم جی، اپنے کسانوں سے ہی جنگ۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک ویڈیو بھی ٹویٹ کیا ہے، جس میں کسانوں کے دھرنے کے مقام پر بھاری تعداد میں تعینات پولیس فورسز کو اسلحوں کے ساتھ لیس کر کے دکھایا گیا ہے۔ پولیس کی ٹکڑیاں بھاری بھر کم بنے بیریکیٹر کے پیچھے کسانوں کو روکنے کے لئے تعینات ہیں۔

کانگریس محکمہ مواصلات کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا’’محترم مودی جی، کاش یہ قلعہ بندی دہلی بارڈر کے بجائے چین کی سرحد پر کرتے۔ آپ کیسے وزیراعظم ہیں۔ چین کا نام لینے سے ڈرتے ہیں، اور ان داتا کو باڑ نوکیلے تار اور کیلوں سے روکتے ہیں۔ کسان ملک کا پیٹ پالنے کے لئے فصلیں روپتا ہے اور جھوٹی کسان دوست حکومت اسے دہلی آنے سے روکنے کے لئے کیلیں روپ رہی ہے۔ مودی-شاہ کا نیو انڈیا یہی تو ہے۔

(جنرل (عام

تحفظ ختمِ نبوت کے موضوع پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء و رضا اکیڈمی کی اہم نشست

Published

on

ممبئی، 5 ستمبر 2026: عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ، اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے اور نسلِ نو کو بنیادی اسلامی عقائد سے روشناس کرانے کے مقصد سے آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور رضا اکیڈمی کے زیرِ اہتمام چشتی ہندوستانی مسجد، بھائیکلہ، ممبئی میں ایک اہم علمی و دینی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر کے متعدد علمائے کرام، ائمۂ مساجد، دانشوران اور عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔نشست کی صدارت حضرت علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری، خطیب و امام چشتی ہندوستانی مسجد نے فرمائی۔ پروگرام کا آغاز مقررہ وقت سہ پہر 3 بجے ہوا۔ نشست میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، اس کے تحفظ کی دینی ذمہ داری اور موجودہ دور میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ 7 ستمبر 2026 کو کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں بعد نمازِ عشاء منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسیرِ مفتیِ اعظم، بانی و سربراہ رضا اکیڈمی، الحاج محمد سعید نوری نے تحفظِ ختمِ نبوت کے موضوع پر فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی شرعی و اسلامی حیثیت واضح کی۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس عقیدۂ قطعیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ کے بعد کسی بھی شخص کا دعوائے نبوت اسلامی عقائد کے سراسر منافی ہے۔

الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوتامتِ مسلمہ کے بنیادی اور قطعی عقائد میں شامل ہے، جس کی حفاظت ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر بالخصوص نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ فتنۂ قادیانیت کے مقابلے میں علمی، فکری اور پُرامن انداز میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے علمائے کرام اور اہلِ علم سے اپیل کی کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام نسلِ نو تک مؤثر انداز میں پہنچائیں، تاکہ نوجوان نسل اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے مکمل طور پر واقف اور وابستہ رہے۔صدارتی خطاب میں علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تحفظِ ختمِ نبوت محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایمان کی بنیادوں سے وابستہ ایک اہم دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات، تحریروں اور دینی مجالس کے ذریعے عوام تک عقیدۂ ختمِ نبوت کی صحیح تعلیم پہنچاتے رہیں۔ علامہ عبدالجبار ماہر القادری نے علمائے کرام، ائمۂ مساجد اور عاشقانِ رسول سے اپیل کی کہ 7 ستمبر 2026 بروز پیر بعد نمازِ عشاء کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں اور اس اہم دینی و اعتقادی اجتماع کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر مولانا عرفان علیمی نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، فتنۂ قادیانیت کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کو اسلامی عقائد سے روشناس کرانا اور فکری و اعتقادی گمراہیوں سے محفوظ رکھنا اہلِ علم کی اہم ذمہ داری ہے۔نشست میں شریک علمائے کرام اور دانشوران نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی، فکری اور دعوتی سطح پر مسلسل جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسبانی، اشاعت اور نسلِ نو کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے علمی و اصلاحی نشستوں اور اجتماعات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔نشست میں علمائے کرام، دانشوران اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ آخر میں ملک و ملت، امتِ مسلمہ اور خصوصاً عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی ماہم میں دہی ہانڈی پر ہندو مسلم ایکتا کی مثال

Published

on

ممبئی میں ہندو مسلم ایکتا کی مثال پیش کرتے ہوئے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ کے داخلی دروازے پر گووندہ پاٹھکوں نے پہلی سلامی پیش کی ہے ۔ درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نےبتایا کہ یہی ہندوستان کا خاصہ ہے کہ یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتا ہے اور ماہم درگاہ ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا گہوارہ ہے یہاں بلا تفریق و مذہب و ملت ہر کوئی حاضری دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ روایتی انداز میں گووندہ پاٹھک یہاں ہر سال سلامی دیتے ہیں یہ روایت صدیوں سے قائم ہے کیونکہ ہندوستان صوفی سنتوں کا ملک ہے ۔ ممبئی تھانہ میں گوکل اشٹمی دہی ہانڈی کے پس منظر میں پولس نے الرٹ جاری کیا ہے گووندہ پاٹھکوں پر پولس نے نگرانی کے لئے ڈرون کا استعمال کیا دہی ہانڈی کی اونچائی بھی طے کی گئی اس کے علاوہ اونچی دہی ہانڈی میں بچوں کی شمولیت پر پابندی عائد تھی ۔ ممبئی شہر و مضافات میں جوش و خروش کے ساتھ دہی ہانڈی کا تہوار منایا گیا ٹریفک پولس نے بھی اس کے پیش نظر شاہراہوں پر ناکہ بندی کی تھی تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جاسکے اس کے تحت ٹریفک پولس نے بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی ہے ۔

ممبئی شہر میں دہی ہانڈی پر سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے کیا تھا اس مطابق ڈی سی پی راج تلک روشن نے کہا کہ دہی ہانڈی پر پولس پوری طرح سے مستعد ہےاور حالات پر بھی نظر رکھی جارہی ہے اس کے علاوہ ڈرون سے بھی نگرانی جاری ہے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دہی ہانڈی پر قانون کی پاسداری کی بھی اپیل کی ہے ۔ مختلف سرکاری اور بی ایم سی ہسپتالوں سے زخمی گووندوں کے بارے میں دوپہر تک موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق ۲۵ سے زائد گووندہ پاٹھک زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہی ہانڈی کا تہوار اب بھی جاری ہے ایسی صورتحال میں مسلسل بی ایم سی کے اسپتال الرٹ موڈ پر ہے اس کے ساتھ ہی پولس بھی الرٹ ہے ممبئی میں دہی ہانڈی کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا البتہ گووندہ پاٹھکوں کے زخمی ہونے کے واقعات رونما ہوئے ہیں کئی کو علاج کے بعد رخصتی دیدی گئی ہے ۔ گووندہ پاٹھکوں نے یہاں ممبئی کے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ سے پہلی سلامی دی اور ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا ثبوت پیش کیا یہ گووندہ منڈل ہر سال اسی طرز پر آستانہ مخدوم پر سلامی دے کر بابا مخدوم اور ماں صاحب کی جئے کا نعرہ بلند کرتا ہے یہ نفرت پرستوں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہےاس سے یکجہتی اور اتحاد کو فروغ ملتا ہے ۔ پولس نے دہی ہانڈ ی پر سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے جس کے سبب ممبئی میں کسی بھی قسم کا کوئی ناموافق واقعہ پیش نہیں آیا ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی تیل بردار ٹینکر کو خارگ جزیرے کے قریب امریکی میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

Published

on

ملک کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، ہفتے کی صبح ایران کے جنوبی جزیرہ خرگ سے تقریباً 10 کلومیٹر دور امریکی میزائل حملے میں ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز کی طرف سے فائر کیے گئے چار میزائل ٹینکر سے ٹکرا گئے حالانکہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور عملے کے ارکان جہاز کو خالی کر رہے تھے۔ دن کے اوائل میں، ایرانی میڈیا نے جزیرہ کھرگ کے قریب دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔ دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ امریکی فوج جلد ہی ایران کے پِک ایکس رِچ ماؤنٹین کے قریب ایران کے پکیکس پر حملہ کر سکتی ہے۔ – ایران کے ساتھ تنازعہ کو “چھوٹے آلو” کے طور پر کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے

سنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ “ہم بہت جلد پکیکس کو نشانہ بنا سکتے ہیں،” زیر زمین تنصیب کا حوالہ دیتے ہوئے، جہاں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایران نے انتہائی افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو منتقل کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “یہ ایک فوجی تنازعہ ہے، لیکن یہ بہت وقفے وقفے سے ہوتا ہے،” ٹرمپ نے کہا، اگرچہ اس نے بار بار اس تصادم کو “جنگ” کے طور پر بیان کیا ہے اور بعض اوقات اس اصطلاح سے گریز کیا ہے۔ “میں اسے فوجی تنازعہ کہتا ہوں کیونکہ یہ ہمارے لیے چھوٹے آلو ہیں۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے،” ٹرمپ نے کہا، “میں کہوں گا کہ یہ وقفے وقفے سے ہے۔ آپ جانتے ہیں، ہم وقفے وقفے سے ہڑتال کرتے ہیں،” ٹرمپ نے کہا۔ “اس میں بہت ساری سچائی ہے کہ ہم ابھی نہیں لڑ رہے ہیں۔ کوئی لڑائی نہیں ہے۔”

جمعرات کے روز، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کی حکومت کو گرانا اب ایک مرکزی اسرائیل کا مقصد ہے اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ کے ساتھ “پہنچنے کے اندر”۔ “میں اس خطرے کو ایک بار اور ہمیشہ کے لیے دور کرنے کی ہماری صلاحیت کا قائل ہوں۔ اس کا مطلب ہے اس حکومت کو گرانا،” نیتن یاہو نے یہودیوں کے نئے سال کی تقریب میں اسرائیل کے فوجی جنرل اسٹاف سے کہا۔ “یہ مرکزی مشن اب بھی ہمارے سامنے ہے، لیکن یہ قریب ہے۔ یہ ناممکن نہیں ہے۔ یہ پہنچ کے اندر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت “پہلے سے زیادہ کمزور” ہے اور “اپنی زندگی کے لیے لڑ رہی ہے،” اسرائیل کے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے: “ہمارے ساتھ گڑبڑ نہ کریں۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان