سیاست
دارالعلوم دیو بند اور جمعیۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ادھوری : مولانا ارشد مدنی
ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی تاریخ دارالعلوم دیو بند اور جمعۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ یہ بات انہوں نے یوم جمہوریہ کے موقع پر جاری ایک مضمون میں کہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی ہی نہیں ملک کی کوئی بھی تاریخ ہندوستان کے علمائے کرام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی، خواہ وہ ملی یا قومی قیادت و سیادت ہو یا آزادیئ وطن کے لئے میدان جنگ، کسی تحریک کی قیادت ہو یا پھر کسی مصیبت اور پریشانی کے وقت میں لوگوں کی مدد و غمگساری، ہر میدان میں علماء نے اہم کارنامے انجام دئے ہیں اور حکومتِ وقت کے سامنے سینہ سپر ہوکر حق اور سچ بات رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بڑی تاریخی سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی آزاد ی کی تحریک علماء اور مسلمانوں نے شروع کی تھی اور یہاں کے عوام کو غلامی کا احساس اس وقت کرایا جب اس بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت علماء نے ہی بلند کیا تھا اور جنگ آزادی کا صوربھی انہوں نے ہی پھونکا تھا۔
مولانا نے جنگ آزادی کی تاریخ سے لاعلمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے بے شمار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی پہلی آزادی کی لڑائی 1857ء میں لڑی گئی تھی، لیکن یہ بات اپنی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ آزادی کی تاریخ 1857سے نہیں بلکہ 1799ء میں اس وقت شروع ہوئی جب سلطان ٹیپو شہیدؒ نے سرنگاپٹم میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، جس وقت ان کے خون میں لتھڑی ہوئی لاش پر انگریز فوجی نے کھڑے ہوکر یہ بات کہی تھی کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے“ اس کے بعدہی انگریزیہ کہنے کی ہمت پیدا کر پائے کہ ”اب کوئی طاقت ہمارا مقابلہ کرنے والی، ہمارے پنجے میں پنجہ ڈالنے والی نہیں ہے“ اور پھر انہوں نے عملی طورپرچھوٹے چھوٹے نوابوں اور راجاؤں کو شکست دیکر ان کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کردیا۔
مولانا نے کہا کہ ٹیپو سلطانؒ کی شہادت اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے بعد علمائے کرام نے غلامی کی آہٹ کو محسوس کرلیا تھا اور اس کے بعد سے ہی جہادِ آزادی کا آغاز ہوا، جب انگریز نے 1803 میں دہلی کے اندر یہ اعلان کیا کہ ”خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا“ لیکن آج سے حکم ہمارا ہے، اس دن اس ملک کے سب سے بڑے عالم دین اور خدا رسیدہ بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بڑے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے دلّی میں یہ فتوی دیا کہ ”آج ہمارا ملک غلام ہوگیا اور اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے جہاد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔“ یہ جراء تمندانہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا کہ اس عالم دین کے علاوہ ہندوستان کے اندر کوئی ایسا نہیں تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقابلہ میں اپنی زبان سے آزادئ وطن کے لیے جہاد کا اعلان کرسکتا تھا۔ اس فتویٰ کی پاداش میں ان کو بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، انھیں زہر دے دیا گیا، ان کی جائداد کو قرق کرلیا گیا، ان کی آنکھوں کی بینائی اس زہر سے جاتی رہی، ان کو دلّی شہر سے در بدر کر دیا گیا، وہ ان تمام سخت ترین حالات میں بھی انھوں نے اپنی موت سے پہلے دو روحانی شاگرد پیدا کر دیئے، ایک حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلویؒ اور دوسرے شاہ اسماعیل شہیدؒ، ان لوگوں نے پورے ملک کے دورے کئے، اور مسلمانوں سے جہاد کی بیعت اور اس کا عہد لیا کہ وہ ہمارے ساتھ ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ بالاکوٹ کے میدان میں ہزاروں مسلمان ان دونوں صاحبان کے ساتھ سب سے پہلی آزادیئ وطن کی جنگ میں شہید ہوئے، یہ سب سے پہلا آزادیئ وطن کے لئے جہاد تھا جو دوسرے جہاد آزادی (1857) کا مقدمہ تھا، جو لوگ وہاں اس وقت ناکامی کے بعد واپس ہوئے ان لوگوں نے واپس آکر پھر اِکائیوں کو جمع کیا اور افراد کو تیار کیا، اور چھبیس سال کی محنت کے بعد 1857 میں دوبارہ آزادیئ وطن کے لئے جہاد شروع ہوا، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے لیکن مسلمان زیادہ تھے اور ہندو کم تھے۔
آزادیئ وطن کے لئے یہ دوسرا جہاد بھی ناکام ہوا، اس جہاد کی پاداش میں علماء کو گرفتار بھی کیا گیا اور کچھ علماء نے اپنے آپ کو نظر بند کرلیا، جب یہ علماء تین چار سال کے بعد جیل سے باہر نکلے اور عام معافی کا اعلان ہوا تو انھوں نے بڑی عجیب و غریب چیز دیکھی کہ وہ یتیم جن کے باپ جامِ شہادت نوش کر گئے، انگریز کی دشمنی کی وجہ سے ان کے یتیم بچے سڑکوں پر ہیں، ان کے سر پر کوئی ہاتھ رکھنے والا نہیں ہے، ان حالات کا فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے فکری محاذ پر بھی اپنی لڑائی تیز کر دی، چنانچہ کرسچن اسکول، عیسائی پوپ اور چرچ کے لوگ باہر نکل کر ان یتیموں کا ہاتھ پکڑتے اور کہتے کہ ہمارے ساتھ چلو ہم تم کو کھانا، رہائش اور تعلیم مفت دیں گے، مقصد ذہنی اعتبار سے ان کو انگریز بنانا تھا۔ یہ وہ بچے تھے جن کے آباء واجداد نے انگریز دشمنی میں جہاد آزادی میں جامِ شہادت نوش کیا لیکن اب انہیں کی اولاد انگریزوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان کو فکری اعتبار سے اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، ان حالات کو دیکھ کر علماء کرام سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ لیا کہ دو جہادوں میں مجاہدین شہید کر دئے گئے اب ہمیں آزادیئ وطن کے لئے ایسی فیکٹری کی ضرورت ہے، جہاں اپنے ملک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے مجاہدین تیار کئے جائیں۔
قومی خبریں
رائے پور-بلاس پور ہائی وے پر تیز رفتار بس کی ٹرک سے ٹکر، تین کی موت، دس زخمی

رائے پور : پیر کی علی الصبح دارچورا کے قریب رائے پور-بلاس پور قومی شاہراہ نمبر این ایچ 130 پر ایک تیز رفتار بس ایک رکے ٹرک سے ٹکرا جانے سے تین مسافروں کی موت ہو گئی، اور 10 سے زیادہ دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ سمگا پولیس اسٹیشن کے قریب صبح 5.30 بجے کے قریب پیش آیا۔ پولیس حکام کے مطابق، بس، رائے پور سے امبیکاپور کے راستے میں تقریباً 22 مسافروں کے ساتھ، دارچورا گاؤں سے بالکل پہلے ایک پٹرول پمپ کے قریب مرکزی شاہراہ پر کھڑے ٹوٹے ہوئے ٹرک کے پیچھے سے ٹکرا گئی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ حادثے کے وقت زیادہ تر مسافر سو رہے تھے اور ان کے پاس رد عمل ظاہر کرنے کا بہت کم موقع تھا۔ بس کے ٹوٹے ہوئے ڈھانچے نے کئی افراد کو اندر پھنسا کر رکھ دیا، جس سے ریسکیو آپریشن کو تیز کیا گیا۔ مدد کے لیے چیخ و پکار سن کر مقامی لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے۔
پولیس اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کام شروع کر دیا۔ امدادی کارکنوں نے گیس کٹر کا استعمال کرتے ہوئے بس کی دھاتی باڈی کو کاٹ کر زخمی مسافروں کو نکالا۔ اس کے بعد متاثرین کو علاج کے لیے سمگا کے سرکاری اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس جاں بحق اور زخمیوں کی شناخت کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شدید زخمی مسافروں کی حالت کے لحاظ سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ جائے حادثہ پر مسافروں کا سامان بکھرا ہوا پایا گیا۔ ابتدائی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بس تیز رفتاری سے چلائی گئی جب اس نے کھڑے ٹرک کو ٹکر ماری۔ چھتیس گڑھ میں سڑک حادثات بدستور ایک سنگین تشویش بنے ہوئے ہیں، جہاں رائے پور-بلاس پور کے درمیان بار بار واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ حکام نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے پر توجہ دیتے ہوئے تازہ ترین حادثے کی وجوہات کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
لارنس بشنوئی گینگ کے شوٹروں نے ٹائیگر شراف فائرنگ سے قبل آر اے کالونی جنگل میں شوٹنگ پریکٹس کی تھی

ممبئی : ٹائیگر شراف فائرنگ کے بعد تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ لارنس بشنوئی کے نشانے پر پونے میں ایک تاجر اور ممبئی میں ایک فلم اسٹارتھاگینگ کا مقصد فلم انڈسٹری اور تاجروں میں خوف پیدا کر کے ہفتہ وصولی یا تاوان وصولی کرنا ہے لارنس بشنوئی گینگ کا مقصد قتل نہیں بلکہ فلم انڈسٹری اور تاجروں میں خوف و دہشت پیدا کرنا ہے ۔ لارنس بشنوئی گینگ کے 56 کارندے ممبئی کی مختلف جیلوں میں بند ہیں اور انہوں نے گزشتہ 2-3 برسوں میں ممبئی پونے میں 10 سے زیادہ جرائم کی وارداتیں انجام دی ہیں ۔ بالی ووڈ کو نشانہ بنانا لارنس گینگ کا مقصد ہے اور تاجر برادری میں خو ف و دہشت پیدا کرنے کے لئے گینگ فلم اداکار کو نشانہ بنانے کی سازش میں ملوث ہے ۔
ٹائیگر شراف کیس میں آر اے کالونی جنگل میں شوٹروں نے فائرنگ کی تربیت حاصل کی تھی ایک چرواہے نے ان شوٹروں کو فائرنگ کرتے ہوتے دیکھا تھا وہ اس میں چشم دید گواہ کی حیثیت رکھتا ہے چرواہے کے مطابق تین سے چار افراد نے یہاں فائرنگ کی تربیت حاصل کی تھی اس نے ان شوٹروں کو گولی داغتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ٹائیگر شراف سے متعلق کیس میں نت نئے خلاصے ہو رہے ہیں کرائم برانچ کی تفتیش میں کئی اہم پیش رفت بھی ہوئی ہے اس معاملہ میں اسلحہ جات کی برآمدگی بھی ہوئی ہے اس کے علاوہ پولس نے اس معاملہ میں جن شوٹروں کو گرفتار کیا ہے ان سے تفتیش میں لارنس بشنوئی گینگ کے انیل پنڈت سے متعلق بھی انکشاف ہوا ہے شوٹر انیل پنڈت کے رابطے میں تھے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی اے این سی کی بڑی کارروائی منشیات فروشوں کی گرفتاری

ممبئی : ۲۵ اکتوبر کو انٹی نارکوٹکس سیل اے این سی نے قتل میں مطلوب ملزمین کو منشیات کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ممبئی گھاٹکوپر یونٹ ٹیم نے گشت کے دوران شری کرشنا کامپلیکس کے مین گیٹ قریب نیشنل پارک سامنے، مغربی بوریولی ممبئی یہاں ایم ڈی فروخت کرنے والے تین افراد کو حراست میں لے کران کی تلاشی لی اور ان کے قبضے سے ان کے قبضے سے 01 کلو 028 گرام وزنی ‘ایم ڈی میفیڈرون منشیات برآمد ہوئی پولس نے(کستوربا مارگ پولس 728/2026) دفعہ 8(ک) سہ 22(ک)، 29 این ڈی پی ایس قانون 1985 کے تحت جرم درج کرکے گرفتار کیا گیا۔ مذکورہ گرفتار ملزمان سے کی گئی تفتیش کے دوران یہ پایا گیا کہ وہ قتل میں بھی ملوث ہے ملزمین نے نالاسوپارہ سے منشیات لایا تھااور یہاں فروخت کرنے کی غرض سےآئے تھے
گرفتار ملزمین ایک 28 سالہ شخص ، 2) ایک شخص، 28 سالہ 3) ایک شخص، عمر 39 سال شامل ہے ۔ تینوں ملزمان سے 01 کلو 28 گرام وزنی ‘ایم ڈی میفیڈرون منشیات ضبط کی گئی۔مذکورہ کامیاب کارکردگی یہ پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر جرائم انل کنبھارے، ایڈیشنل کمشنر کانت اپادھیائے، ڈی سی پی پورنیما چوگلےشرینگی کی رہنمائی میں انجام دی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
