مہاراشٹر
بھیونڈی راجیو گاندھی فلائی اوور بریج کی گزشتہ سے اب تک کی بدعنوانی کی تاریخ
بھیونڈی: (نامہ نگار )
بھیونڈی کے راجیو گاندھی فلائی اوور کے حوالے سے بدعنوانی کی گزشتہ سے لیکر آج تک کی ایک لمبی داستان ہے۔ ایک مرتبہ پھر اس پل کی مرمت کو لے کر شہر میں افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کیونکہ ایم ایم آر ڈی اے کی جانب سے ایک سال قبل مرمت کے لئے ملے کروڑوں روپے فنڈ کے باوجود فلائی اوور کی تزئین و مرمت کا کام ابھی تک شروع نہیں ہو پایا ہےجو باعث تشویش ہے ۔
واضح ہو کہ بھیونڈی راجیو گاندھی فلائی اوور کی تعمیر کے لئے میونسپل کارپوریشن کے پبلک ورکس محکمہ کے ذریعے گزشتہ سن 2 اکتوبر 2002 کو لوک ستہ ، ٹائمز آف انڈیا ، اور انڈین ایکسپریس میں اشتہارات کے ذریعے 25 نومبر 2002 کو ٹینڈر طلب کیا گیا تھا۔ جس میں میسرز وطن سنگھ اینڈ کمپنی ، میسرز جے کمار اینڈ کمپنی ، میسرز والیچا انجینئرنگ لمیٹڈ ، میسرز جے ایم سی پروجیکٹ لمیٹڈ ، میسرز یوپی اسٹیٹ برج کارپوریشن ، میسرز ناگ ارجن کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ اور میسرز کریسنٹ کنسٹرکشن کمپنی سمیت کل سات ٹھیکیدار کمپنیوں نے ٹینڈر جمع کرایا تھا۔ لیکن اس میں میسرز کریسنٹ کنسٹرکشن کمپنی کے ٹینڈر میں غلطی ہونے کی وجہ سے اس کا ٹینڈر قبول نہیں کیا گیا۔ جس کے بعد اس کمپنی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جس کی وجہ سے 25 نومبر 2002 کو کھلنے والے ٹینڈر کو 3 جنوری 2003 کو کھولنا پڑا۔
اس ٹینڈر میں میونسپل کارپوریشن کے ذریعے مقررہ ایسٹیمیٹ سے پہلا میسرز جے کمار اینڈ کمپنی نے (0.99) فیصد ، دوسرے میسرز جے ایم سی پروجیکٹ لمیٹڈ (1) فیصد اور تیسرا میسرز والیچا انجینئرنگ لمیٹڈ (1.11) فیصد زیادہ تھا۔ جس میں میسرز جے کمار کی 0.99 فیصدی سب سے کم شرح ہونے کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن کے ذریعے گزشتہ مقررہ بجٹ 14 کروڑ 79 لاکھ 90 ہزار 25 روپے سے بڑھا کر 14 کروڑ 94 لاکھ 55 ہزار 126 روپے میں ٹھیکہ دینے کی تجویز 29 جنوری 2003 کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں لایا گیا تھا۔ اس وقت اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری تھے۔ لیکن اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس پر دوبارہ غور و فکر کرنےکے لئے میونسپل انتظامیہ کو واپس بھجوا دیا۔ پھر یہ تجویز 11 فروری 2003 کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس نمبر 23 میں ایک بار پھر لائی گئی۔ اس کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی نے اسے منظور کرکے اس تجویز کو جنرل بورڈ کے اجلاس میں لانے کے لئے اس وقت کے میئر سریش ٹاورے کے پاس بھیج دیا گیا تھا ۔ وہاں بھی اس میں ترمیم کے لئے بہت ساری تجاویز آئیں۔ لیکن انہیں قبول نہ کرتے ہوئے تجویز کو جوں کے توں منظور کردیا گیا۔ تب تک آر ڈی شندے کی جگہ بی کے نائیک میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے عہدے پر آچکے تھے۔ واضح ہو کہ اس وقت کے کئی ممبر آج بھی میونسپل کارپوریشن میں موجود ہیں۔
اس وقت اس فلائی اوور کی تعمیر کا معاہدہ کیا گیا تھا جس میں اس وقت کے انجینئر مرحوم شان علی کے ذریعے زبردست دھوکہ دہی کی گئی تھی۔ اس سے قبل اس فلائی اوور کی تکنیکی گارنٹی کی مدت 10 سال کے ساتھ ہی اس کی لمبائی باغ فردوس مسجد کے آگے الائٹ پٹرول پمپ تک تھی اور اس کے منٹ کے تمام صفحات پر اس وقت کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری کے دستخط بھی تھے۔ لیکن اس پرانے معاہدے کو پھاڑ کر شان علی نے اتنی بڑی رقم والے پروجیکٹ کو محض سو روپے کے اسٹامپ پیپر پر نیا بوگس معاہدہ تیار کرکے اس میں فلائی اوور کی لمبائی کو تقریباً 100 میٹر سے بھی زائد کم کرکے اس کو الائٹ پٹرول پمپ کے بجائے باغ فردوس مسجد کے پہلے ہی اتارنے کے ساتھ ساتھ گارنٹی کی مدت بھی 10 سال سے کم کرکے 5 سال کرنے کے علاوہ معاہدے کی تمام شرائط و ضوابط میں نرمی کردی۔ تاکہ اس میں جم کر بدعنوانی کی جاسکے۔
ذرائع سے موصولہ جانکاری کے مطابق اس فلائی اوور کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر گھوٹالہ ہوا ہے۔ کیونکہ کسی بھی طرح کی مستند اور باقاعدہ منظوری کے بغیر چور دروازے سے اس کا اصل بجٹ 14 کروڑ 94 لاکھ 55 ہزار 126 روپے سے بڑھا کر 21 کروڑ 97 لاکھ 62 ہزار 68 روپے کردیا گیا۔ اس طرح اس فلائی اوور کی تعمیر میں چوطرفہ بدعنوانی کرتے ہوئے جہاں ایک طرف سات کروڑ تین لاکھ چھ ہزار 942 روپے کا اضافی بوجھ میونسپل کارپوریشن پر ڈال دیا گیا۔ وہیں دوسری طرف فلائی اوور کی لمبائی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ معاہدے میں مذکور رامیشور مندر سے لے کر باغ فردوس مسجد تک فلائی اوور کے نیچے دونوں جانب کی سڑک کی تعمیر بھی ٹھیکیدار کمپنی کے ذریعے نہیں کرائی گئی۔ آخر میں میونسپل کارپوریشن کو اسے اپنے اخراجات پر تعمیر کرنا پڑا۔
اس ضمن میں اس وقت کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری کا کہنا ہے کہ فلائی اوور کے تخمینے سے زیادہ بجٹ میں اضافے کی تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی میں آنا چاہئے تھی لیکن وہ نہیں آئی۔ نہ ہی اس کے لئے اسٹینڈنگ کمیٹی یا جنرل بورڈ کی کسی بھی طرح کی کوئی منظوری ہی لی گئی۔ لہذا یہ ایک بہت بڑا اقتصادی گھوٹالہ ہے۔ اس کے خلاف معاملہ درج ہونے کے ساتھ ساتھ کسی آزاد ایجنسی کے ذریعہ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔
اس طرح اس وقت کے انجینئر شان علی کے ذریعے ایجاد کی گئی اس بدعنوانی کی بہتی ہوئی گنگا میں سبھی لوگوں نے ہاتھ دھویا ہے جس سے ا نکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ شہر کے اول شہری میئر سریش ٹاورے کے دفتر سے شروع ہوا فلائی اوور کی تعمیر کا کام دوسرے میئر ولاس پاٹل کے دور تک جاری رہا۔ اس ٹینڈر کے وقت آر ڈی شندے میونسپل کمشنر تھے۔ اس کے بعد میونسپل کمشنر بی کے نائیک کے دور میں اس کی پہلی ادائیگی ہوئی۔ اس کے بعد اگلے میونسپل کمشنر کالے سے لے کر شیومورتی نائیک تک سبھی نے مل کر اقتصادی فائدہ اٹھایا ۔ اس وقت پروین جین نامی ایک چیف اکاؤنٹنٹ ہوا کرتے تھے اس کے کاروبار اور کردار کے بارے میں اسی بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں سے رخصت ہونے کے بعد اینٹی کرپشن بیورو نے جین کو رنگے ہاتھوں رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔
یہاں اس بات کا واضح کرنا ضروری ہے کہ جب 2013 میں ہی مذکورہ فلائی اوور میں خرابی پیدا ہونے لگی تو بنا جنرل بورڈ ، اسٹینڈنگ کمیٹی ، یا میونسپل کمشنر کو اعتماد میں لئے اس وقت کے سٹی انجینئر شان علی نے ایک سازش کے تحت 17 اگست 2013 کو فلائی اوور تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار میسرز جئے کمار اینڈ کمپنی کو مکتوب لکھ کر راجیو گاندھی فلائی اوور کے ہلنے اور اندر سے کچھ آواز آنے کی اطلاع دی تھی۔ جس کے بعد متعلقہ ٹھیکیدار کمپنی نے ایم ایس فسکے اینڈ ایسوسی ایٹس کے انجینئروں کی ایک ٹیم کے ذریعے اس کی جانچ کے لئے کچھ دنوں کے لئے فلائی اوور کے استعمال پر پابندی عائد کرکے اس فلائی اوور کے جائزے کی نوٹنکی کروائی تھی۔
جانچ کے بعد کنسلٹنگ انجینئر کے ذریعے 28 اگست 2013 کو لیٹر نمبر ایم ایس پی / کلیان ناکہ فلائی / 5623 کے ذریعے جانچ رپورٹ دلوا کر ٹھیکیدار کمپنی کو کلین چٹ دیتے ہوئے اسے استعمال کے لئے محفوظ بتاتے ہوئے فلائی اوور پر پانی جمع نہ ہونے کی صلاح دی گئی تھی کہ فلائی اوور کی حفاظت کے لئے بارش سے قبل ہر سال پانی کی نکاسی کی پائپ لائن کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ اس میں بھی 10 سے 12 لاکھ روپے کی پائپ کی مرمت کا کام میونسپل کارپوریشن کے خزانے سے ہی کرانا پڑا تھا۔ صرف یہی نہیں اس دوران شان علی کے ذریعے جو شدید غلطی کی گئی اور جو فلائی اوور کے تباہ ہونے کا سبب بنی وہ یہ تھی کہ اسکریپر مشین لگا کر فلائی اوور کو کھرچ دیا گیا تھا۔ اسی وقت کھرچنے کے دوران ہی فلائی اوور کی آہنی سلیا باہر نکل آئی تھی۔ اسی وقت سے فلائی اوور کے ناقص ہونے کی شروعات ہوگئی تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجاز اتھارٹی میونسپل کمشنر یا ڈپٹی میونسپل کمشنر (ہیڈکوارٹر) کے بجائے شان علی نے ٹھیکیدار کمپنی کو کیوں خط لکھا؟ جب یہ فلائی اوور جانچ میں استعمال کے لئے موزوں پایا گیا تو پھر اس کی اسکریپنگ کیوں کی گئی؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جانچ محض ایک فریب اور ٹھیکیدار کمپنی کو بچانے کی سازش تھی۔ تاکہ مستقبل میں گڑبڑی کا سارا ٹھیکرا پانی جمع ہونے کے نام پر پھوڑا جاسکے۔ واضح ہو کہ اس پل کی مرمت پر میونسپل کارپوریشن اب تک 60 لاکھ روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے لیکن نتیجہ صفر ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔
‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔
مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔
سیاست
چیف جسٹس کو کور کمیٹی پر ہنگامہ آرائی کا سامنا دو نوجوانوں نے ابھیجیت ڈپکے کے گھر کے باہر احتجاج کیا۔

چھترپتی سنبھاجی نگر : مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں سی جے پی کی کور کمیٹی کو لے کر ایک تنازعہ چھڑ گیا ہے۔ نوجوانوں کا ایک گروپ ابھیجیت ڈپکے کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوا، پارٹی قیادت پر اقربا پروری اور جانبداری کا الزام لگا۔ انہوں نے جنتر منتر طلبہ تحریک سے وابستہ تمام رابطہ کاروں کی نمائندگی کا بھی مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ وہ جنتر منتر پر طلبہ تحریک کے آغاز سے ہی سرگرم ہیں اور کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ حالیہ کور کمیٹی کی میٹنگ میں ابھیجیت ڈپکے کے قریبی اور جاننے والوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا، جبکہ تحریک سے وابستہ بہت سے کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں کی تحریک تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 450 لوگ جنتر منتر تحریک سے کوآرڈینیٹر کے طور پر وابستہ تھے، لیکن انہیں میٹنگ میں شامل نہیں کیا گیا۔ نوجوانوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا کے ساتھ میٹنگ اور تحریک کو لے کر دیر رات تک بات چیت جاری رہی، لیکن انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ مظاہرین نے انتباہ دیا ہے کہ وہ ابھیجیت ڈپکے کے گھر کے باہر بھوک ہڑتال کریں گے اور اس وقت تک دھرنا اور بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک تحریک میں شامل تمام نوجوانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جاتی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے CJP کے کارکن منیش برہم بھٹ نے کہا، “ایک گروپ بنایا گیا ہے، اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر معاملات جمہوری طریقے سے آگے بڑھے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہو گا۔ ہمیں آپ کے سامنے یہ بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی، اور ہمیں اس پر برا لگتا ہے۔ لیکن جب تک ہم آواز نہیں اٹھائیں گے، ہماری بات نہیں سنی جائے گی۔ ہمیں یہ احساس ہوا کہ رات کے 1 بجے کے قریب ہمیں یہ بات ہوئی۔” آج سے یہ قدم اٹھائیں، جب تک تمام فیصلے شفاف طریقے سے نہیں ہوتے، تب تک ہم اس تحریک کو ملک کے لیے حقیقی تحریک نہیں کہہ سکتے۔
منیش برہم بھٹ نے کہا، “میرا مقصد اور ہمارے تمام ساتھیوں کا مقصد واضح ہے، بشمول 100، 200، یا 500 لوگ وہاں بیٹھے ہیں۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ صرف چند ایک ہی فیصلے کیوں کر رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، تو فیصلے جمہوری طریقے سے ہونے چاہئیں۔ میٹنگوں میں خاندان کے افراد اور دوستوں کو بٹھانا اور دوسروں کو سننے کے قابل نہ ہونے سے روکنا اور غیر اہم مسائل کو قبول کرنے سے روکنا ہے۔ اس تحریک میں شروع سے ہی جانبداری کو ناگوار ہونا چاہیے تھا۔”
منیش برہم بھٹ نے کہا، “حال کچھ بھی ہو، انہیں میٹنگ کرنے دیں، جو لوگ شریک ہوئے انہیں سمجھنا چاہیے کہ کل راہول گاندھی نے پانچ لوگوں کو مدعو کیا تھا جو تحریک کی اہم شخصیت تھے، اب یہ ہماری تحریک کے چہرے ہیں، اگر انہیں مدعو کیا گیا یا میٹنگ میں شامل کیا گیا تو وہ لیڈر بھی نہیں تھے، بہت سے لوگوں کو تکلیف ہے، انہیں مدعو کر کے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ اگر ہم اس طرح تحریک جاری رکھتے تو کب تک چلے گا؟”
منیش برہم بھٹ نے کہا، “حالات کچھ بھی ہوں، انہیں میٹنگ کرنے دیں، جن لوگوں نے شرکت کی انہیں سمجھنا چاہیے- راہول گاندھی نے کل پانچ لوگوں کو بلایا جو تحریک کی اہم شخصیت تھے، اب یہ ہماری تحریک کے چہرے ہیں، اگر انہیں مدعو کیا گیا یا میٹنگ میں شامل کیا گیا تو وہ لیڈر بھی نہیں تھے، بہت سے لوگ تکلیف میں ہیں، انہیں بلایا جانا چاہئے تھا اور مشورہ کیا جانا چاہئے تھا۔ اگر ہم یہ تحریک کتنی دیر تک جاری رہے گی؟”
چیف جسٹس کے کارکن نے کہا، “ہم یہاں بیٹھے ہیں، ہم یہیں رہیں گے جب تک ٹیم تمام رضاکاروں، ہر ریاست کے نمائندوں کو تحریک میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں کرتی، بغیر کسی اقربا پروری یا جانبداری کے، اور فیصلے جمہوری طریقے سے کیے جاتے ہیں، تب تک یہ ایک قومی تحریک نہیں بنے گی، ملک کو مستقبل میں دوبارہ دھوکہ دینے سے روکنے کے لیے، ہم چاہتے ہیں کہ ہم سب کا احتساب کریں، تحریک انصاف کے لیے اب ہم سب کا احتساب کرنا چاہتے ہیں۔ شفاف تحریک”
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
