Connect with us
Thursday,11-June-2026
تازہ خبریں

مہاراشٹر

بھیونڈی راجیو گاندھی فلائی اوور بریج کی گزشتہ سے اب تک کی بدعنوانی کی تاریخ

Published

on

bikejjh

بھیونڈی: (نامہ نگار )
بھیونڈی کے راجیو گاندھی فلائی اوور کے حوالے سے بدعنوانی کی گزشتہ سے لیکر آج تک کی ایک لمبی داستان ہے۔ ایک مرتبہ پھر اس پل کی مرمت کو لے کر شہر میں افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کیونکہ ایم ایم آر ڈی اے کی جانب سے ایک سال قبل مرمت کے لئے ملے کروڑوں روپے فنڈ کے باوجود فلائی اوور کی تزئین و مرمت کا کام ابھی تک شروع نہیں ہو پایا ہےجو باعث تشویش ہے ۔

واضح ہو کہ بھیونڈی راجیو گاندھی فلائی اوور کی تعمیر کے لئے میونسپل کارپوریشن کے پبلک ورکس محکمہ کے ذریعے گزشتہ سن 2 اکتوبر 2002 کو لوک ستہ ، ٹائمز آف انڈیا ، اور انڈین ایکسپریس میں اشتہارات کے ذریعے 25 نومبر 2002 کو ٹینڈر طلب کیا گیا تھا۔ جس میں میسرز وطن سنگھ اینڈ کمپنی ، میسرز جے کمار اینڈ کمپنی ، میسرز والیچا انجینئرنگ لمیٹڈ ، میسرز جے ایم سی پروجیکٹ لمیٹڈ ، میسرز یوپی اسٹیٹ برج کارپوریشن ، میسرز ناگ ارجن کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ اور میسرز کریسنٹ کنسٹرکشن کمپنی سمیت کل سات ٹھیکیدار کمپنیوں نے ٹینڈر جمع کرایا تھا۔ لیکن اس میں میسرز کریسنٹ کنسٹرکشن کمپنی کے ٹینڈر میں غلطی ہونے کی وجہ سے اس کا ٹینڈر قبول نہیں کیا گیا۔ جس کے بعد اس کمپنی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جس کی وجہ سے 25 نومبر 2002 کو کھلنے والے ٹینڈر کو 3 جنوری 2003 کو کھولنا پڑا۔

اس ٹینڈر میں میونسپل کارپوریشن کے ذریعے مقررہ ایسٹیمیٹ سے پہلا میسرز جے کمار اینڈ کمپنی نے (0.99) فیصد ، دوسرے میسرز جے ایم سی پروجیکٹ لمیٹڈ (1) فیصد اور تیسرا میسرز والیچا انجینئرنگ لمیٹڈ (1.11) فیصد زیادہ تھا۔ جس میں میسرز جے کمار کی 0.99 فیصدی سب سے کم شرح ہونے کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن کے ذریعے گزشتہ مقررہ بجٹ 14 کروڑ 79 لاکھ 90 ہزار 25 روپے سے بڑھا کر 14 کروڑ 94 لاکھ 55 ہزار 126 روپے میں ٹھیکہ دینے کی تجویز 29 جنوری 2003 کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں لایا گیا تھا۔ اس وقت اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری تھے۔ لیکن اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس پر دوبارہ غور و فکر کرنےکے لئے میونسپل انتظامیہ کو واپس بھجوا دیا۔ پھر یہ تجویز 11 فروری 2003 کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس نمبر 23 میں ایک بار پھر لائی گئی۔ اس کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی نے اسے منظور کرکے اس تجویز کو جنرل بورڈ کے اجلاس میں لانے کے لئے اس وقت کے میئر سریش ٹاورے کے پاس بھیج دیا گیا تھا ۔ وہاں بھی اس میں ترمیم کے لئے بہت ساری تجاویز آئیں۔ لیکن انہیں قبول نہ کرتے ہوئے تجویز کو جوں کے توں منظور کردیا گیا۔ تب تک آر ڈی شندے کی جگہ بی کے نائیک میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے عہدے پر آچکے تھے۔ واضح ہو کہ اس وقت کے کئی ممبر آج بھی میونسپل کارپوریشن میں موجود ہیں۔

اس وقت اس فلائی اوور کی تعمیر کا معاہدہ کیا گیا تھا جس میں اس وقت کے انجینئر مرحوم شان علی کے ذریعے زبردست دھوکہ دہی کی گئی تھی۔ اس سے قبل اس فلائی اوور کی تکنیکی گارنٹی کی مدت 10 سال کے ساتھ ہی اس کی لمبائی باغ فردوس مسجد کے آگے الائٹ پٹرول پمپ تک تھی اور اس کے منٹ کے تمام صفحات پر اس وقت کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری کے دستخط بھی تھے۔ لیکن اس پرانے معاہدے کو پھاڑ کر شان علی نے اتنی بڑی رقم والے پروجیکٹ کو محض سو روپے کے اسٹامپ پیپر پر نیا بوگس معاہدہ تیار کرکے اس میں فلائی اوور کی لمبائی کو تقریباً 100 میٹر سے بھی زائد کم کرکے اس کو الائٹ پٹرول پمپ کے بجائے باغ فردوس مسجد کے پہلے ہی اتارنے کے ساتھ ساتھ گارنٹی کی مدت بھی 10 سال سے کم کرکے 5 سال کرنے کے علاوہ معاہدے کی تمام شرائط و ضوابط میں نرمی کردی۔ تاکہ اس میں جم کر بدعنوانی کی جاسکے۔

ذرائع سے موصولہ جانکاری کے مطابق اس فلائی اوور کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر گھوٹالہ ہوا ہے۔ کیونکہ کسی بھی طرح کی مستند اور باقاعدہ منظوری کے بغیر چور دروازے سے اس کا اصل بجٹ 14 کروڑ 94 لاکھ 55 ہزار 126 روپے سے بڑھا کر 21 کروڑ 97 لاکھ 62 ہزار 68 روپے کردیا گیا۔ اس طرح اس فلائی اوور کی تعمیر میں چوطرفہ بدعنوانی کرتے ہوئے جہاں ایک طرف سات کروڑ تین لاکھ چھ ہزار 942 روپے کا اضافی بوجھ میونسپل کارپوریشن پر ڈال دیا گیا۔ وہیں دوسری طرف فلائی اوور کی لمبائی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ معاہدے میں مذکور رامیشور مندر سے لے کر باغ فردوس مسجد تک فلائی اوور کے نیچے دونوں جانب کی سڑک کی تعمیر بھی ٹھیکیدار کمپنی کے ذریعے نہیں کرائی گئی۔ آخر میں میونسپل کارپوریشن کو اسے اپنے اخراجات پر تعمیر کرنا پڑا۔

اس ضمن میں اس وقت کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری کا کہنا ہے کہ فلائی اوور کے تخمینے سے زیادہ بجٹ میں اضافے کی تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی میں آنا چاہئے تھی لیکن وہ نہیں آئی۔ نہ ہی اس کے لئے اسٹینڈنگ کمیٹی یا جنرل بورڈ کی کسی بھی طرح کی کوئی منظوری ہی لی گئی۔ لہذا یہ ایک بہت بڑا اقتصادی گھوٹالہ ہے۔ اس کے خلاف معاملہ درج ہونے کے ساتھ ساتھ کسی آزاد ایجنسی کے ذریعہ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔
اس طرح اس وقت کے انجینئر شان علی کے ذریعے ایجاد کی گئی اس بدعنوانی کی بہتی ہوئی گنگا میں سبھی لوگوں نے ہاتھ دھویا ہے جس سے ا نکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ شہر کے اول شہری میئر سریش ٹاورے کے دفتر سے شروع ہوا فلائی اوور کی تعمیر کا کام دوسرے میئر ولاس پاٹل کے دور تک جاری رہا۔ اس ٹینڈر کے وقت آر ڈی شندے میونسپل کمشنر تھے۔ اس کے بعد میونسپل کمشنر بی کے نائیک کے دور میں اس کی پہلی ادائیگی ہوئی۔ اس کے بعد اگلے میونسپل کمشنر کالے سے لے کر شیومورتی نائیک تک سبھی نے مل کر اقتصادی فائدہ اٹھایا ۔ اس وقت پروین جین نامی ایک چیف اکاؤنٹنٹ ہوا کرتے تھے اس کے کاروبار اور کردار کے بارے میں اسی بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں سے رخصت ہونے کے بعد اینٹی کرپشن بیورو نے جین کو رنگے ہاتھوں رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

یہاں اس بات کا واضح کرنا ضروری ہے کہ جب 2013 میں ہی مذکورہ فلائی اوور میں خرابی پیدا ہونے لگی تو بنا جنرل بورڈ ، اسٹینڈنگ کمیٹی ، یا میونسپل کمشنر کو اعتماد میں لئے اس وقت کے سٹی انجینئر شان علی نے ایک سازش کے تحت 17 اگست 2013 کو فلائی اوور تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار میسرز جئے کمار اینڈ کمپنی کو مکتوب لکھ کر راجیو گاندھی فلائی اوور کے ہلنے اور اندر سے کچھ آواز آنے کی اطلاع دی تھی۔ جس کے بعد متعلقہ ٹھیکیدار کمپنی نے ایم ایس فسکے اینڈ ایسوسی ایٹس کے انجینئروں کی ایک ٹیم کے ذریعے اس کی جانچ کے لئے کچھ دنوں کے لئے فلائی اوور کے استعمال پر پابندی عائد کرکے اس فلائی اوور کے جائزے کی نوٹنکی کروائی تھی۔

جانچ کے بعد کنسلٹنگ انجینئر کے ذریعے 28 اگست 2013 کو لیٹر نمبر ایم ایس پی / کلیان ناکہ فلائی / 5623 کے ذریعے جانچ رپورٹ دلوا کر ٹھیکیدار کمپنی کو کلین چٹ دیتے ہوئے اسے استعمال کے لئے محفوظ بتاتے ہوئے فلائی اوور پر پانی جمع نہ ہونے کی صلاح دی گئی تھی کہ فلائی اوور کی حفاظت کے لئے بارش سے قبل ہر سال پانی کی نکاسی کی پائپ لائن کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ اس میں بھی 10 سے 12 لاکھ روپے کی پائپ کی مرمت کا کام میونسپل کارپوریشن کے خزانے سے ہی کرانا پڑا تھا۔ صرف یہی نہیں اس دوران شان علی کے ذریعے جو شدید غلطی کی گئی اور جو فلائی اوور کے تباہ ہونے کا سبب بنی وہ یہ تھی کہ اسکریپر مشین لگا کر فلائی اوور کو کھرچ دیا گیا تھا۔ اسی وقت کھرچنے کے دوران ہی فلائی اوور کی آہنی سلیا باہر نکل آئی تھی۔ اسی وقت سے فلائی اوور کے ناقص ہونے کی شروعات ہوگئی تھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجاز اتھارٹی میونسپل کمشنر یا ڈپٹی میونسپل کمشنر (ہیڈکوارٹر) کے بجائے شان علی نے ٹھیکیدار کمپنی کو کیوں خط لکھا؟ جب یہ فلائی اوور جانچ میں استعمال کے لئے موزوں پایا گیا تو پھر اس کی اسکریپنگ کیوں کی گئی؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جانچ محض ایک فریب اور ٹھیکیدار کمپنی کو بچانے کی سازش تھی۔ تاکہ مستقبل میں گڑبڑی کا سارا ٹھیکرا پانی جمع ہونے کے نام پر پھوڑا جاسکے۔ واضح ہو کہ اس پل کی مرمت پر میونسپل کارپوریشن اب تک 60 لاکھ روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے لیکن نتیجہ صفر ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

وزیراعظم نریندر مودی کی کارگزاریوں کی ستائش، نائب وزیر اعلی شندے کی این ڈی اے میٹنگ میں وزیراعظم مودی کو مبارکباد

Published

on

Modi-Shinde

شیوسینا کے سربراہ اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے نئی دہلی میں منعقدہ این ڈی اے میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میں ایک تہنیتی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 4398 دنوں تک ملک کی قیادت کرکے ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے اور ان کی قیادت میں ہندوستان تیزی سے سپر پاور بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی ملک کی خدمت کے 12 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ‘وکاسیت بھارت’ کی قرارداد کے ذریعے اگلے 21 سالوں کے لیے ملک کی ترقی کے لیے ایک واضح وژن پیش کیا ہے، جو ان کے وژن اور ملک کے لیے لگن کی عکاسی کرتا ہے۔

نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کے سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیر اعظم رہنے کا ریکارڈ بنایا ہے اور سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے نہ صرف ایک ریکارڈ بنایا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو گئی ہے اور ملک اقتصادی سپر پاور بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں مودی نے دنیا کے مقبول ترین لیڈروں میں اپنی شناخت بنائی ہے اور کئی ممالک نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزازات سے نوازا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ شندے نے بھی وزیر اعظم مودی کی اچھی صحت، لمبی عمر اور ملک کی مسلسل خدمت کی خواہش کی۔ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مہاراشٹر اور ملک نے ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کوسٹل روڈ، وادھوان بندرگاہ اور نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے جیسے اہم پروجیکٹوں کے لیے بھاری مالی امداد دی ہے۔ شندے نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں مہاراشٹر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری موصول ہوئی جس سے ریاست کی ترقی میں تیزی آئی۔ انہوں نے مراٹھی زبان کی کلاسیکی زبان کی حیثیت، جن دھن یوجنا، خواتین کو بااختیار بنانے اور غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں کو وزیر اعظم مودی کی اہم کامیابیاں قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، آرٹیکل 370 کو ہٹانے اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں نے وزیر اعظم مودی کی مضبوط قیادت کو ثابت کر دیا ہے۔ ثقافتی ورثے کی ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شندے نے غریبوں کی فلاح و بہبود اور قوم کی تعمیر میں ان کے تعاون کے لیے وزیر اعظم مودی کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم مودی سے گھریلو مراسم – ایکناتھ شنڈے
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ شیوسینا این ڈی اے میں بی جے پی کی سب سے پرانی اور قابل اعتماد اتحادی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ صرف سیاسی لیڈر بلکہ خاندان کے سربراہ کے طور پر کام کیا ہے۔ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ذاتی طور پر ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے کئی بار اپنی صحت اور آواز پر تشویش کا اظہار کیا۔ شندے نے کہا کہ جب ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے ‘آپریشن سندھور’ کے سلسلے میں بیرون ملک ہندوستانی وفد کی نمائندگی کی، تب بھی وزیر اعظم نے ان کے بارے میں گہری معلومات لی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو چھوٹےرودرانش سے خاص لگاؤ ​​ہے۔

شیو سینا نے خود کو خود غرض سیاست کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے این ڈی اے سے الگ کر لیا :
نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اقتدار اور خود غرضی کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا جسے ہندو دل کے شہنشاہ بالا صاحب ٹھاکرے نے کبھی قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شیوسینا نے کچھ وقت کے لیے خود کو این ڈی اے سے دور کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا نے بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات اور ہندوتوا کے نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے این ڈی اے میں دوبارہ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ عوام کی مرضی کے مطابق مہاراشٹر میں مخلوط حکومت قائم ہوئی اور آج شیوسینا اور این ڈی اے کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط اور اٹوٹ ہیں۔

Continue Reading

مہاراشٹر

ممبئی : ملنڈ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی بڑی کارروائی، بغیر لیبل والی اشیائے خوردونوش برآمد، ذخیرہ ضبط، کاروبار بند

Published

on

items-seized

ممبئی : ممبئی فورڈ اینڈ ڈرگ محکمہ نے غیر صحت بخش اشیاء خورد نوش کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غیر صحت بخش اشیا خورد نوش ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کے حکم پر اور جوائنٹ کمشنر (خوراک) مہیش چودھری اور اسسٹنٹ کمشنر چھتر پال سنگھ دیوی کی رہنمائی میں۔ سیفٹی آفیسر رشیکیش راجیش درشنواد کی ایک خصوصی ٹیم میگھنا پوارنے ممبئی میں غیر قانونی اور غیر تعمیل کھانے کے تاجروں کے خلاف کارروائی کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت اس ٹیم نے مولنڈ میں “گپتا چنا بھنڈر” (گالا نمبر ٹی جی 137، 1/1 ڈمپنگ روڈ، گوتم نگر، ملنڈ ویسٹ، ملنڈ سینٹرل، گریٹر ممبئی) کے شجرکاری کا جسمانی معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران کارخانے اور گودام میں انتہائی ناقص اور غیر صحت بخش حالات پائے گئے۔ اس کے علاوہ، فیکٹری میں تیار اور فروخت کے لیے رکھی جانے والی مختلف اشیائے خوردونوش کے پیکٹوں پر کوئی قانونی لیبل نہیں تھا جیسا کہ مینوفیکچرر، تیاری کی تاریخ یا ختم ہونے کی تاریخ (لیبل کے بغیر)۔ عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ان سنگین معاملات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے فوڈ سیفٹی افسران نے فیکٹری سے مجموعی طور پر 114.2 کلو گرام غذائی اشیاء کو قانونی طور پر قبضے میں لے لیا ہے, جس کی تخمینہ مالیت 20 کروڑ روپے ہے۔ ضبط شدہ اشیاء میں پانی پوری، سکھی پوری، سبز مٹر سمیت دیگر سامان پایا گیا۔ کھانے پینے کی اشیاء کی ضبطی اور نمونوں کی جانچ: مذکورہ بالا تمام بغیر لیبل والے اور مشکوک رنگوں والے اسٹاک کو قانونی طور پر ضبط کر لیا گیا ہے اور اشیائے خوردونوش کے نمونے مزید لیبارٹری تجزیہ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ تجزیہ رپورٹ ملنے کے بعد قانون کے تحت مزید کارروائی کی جائے گی۔ کاروبار بند کرنے کا نوٹس فارم میں کیڑوں کے پھیلنے کے امکان اور بڑے پیمانے پر قوانین کی خلاف ورزی کے خدشے کے پیش نظر، مذکورہ فارم کے کاروبار کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے, جب تک کہ انتظامیہ کی طرف سے متعین خامیوں کو مکمل طور پر دور نہیں کیا جاتا اور احاطے کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک اور صاف نہیں کیا جاتا۔ اس لئے ایف ڈی اے نے کارروائی کرتے ہوئے اشیا خوردنوش کے خلاف کارروائی کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دادر میں عوامی پارکنگ لاٹس کو بااختیار بنانے کے لیے ممبئی میونسپل کارپوریشن کا خصوصی پائلٹ تجربہ، اسے ممبئی میں ہر جگہ نافذ کیا جائے گا

Published

on

Parking

ممبئی : عوامی پارکنگ لاٹوں کے استعمال کو بڑھانے اور ٹریفک کو ہموار بنانے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے دادر ویسٹ میں جگن ناتھ ساونت مارگ پر پبلک پارکنگ لاٹ کو ‘ماڈل پارکنگ لاٹ’ کے طور پر تیار کرنے کی پہل کی ہے۔ اس پارکنگ میں صفائی مہم چلائی گئی ہے، اضافی لائٹنگ اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ خواتین ڈرائیوروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مقامی شہریوں کو ماہانہ پاس فیس میں 50 فیصد رعایت دی گئی ہے اور پہلے مرحلے میں 400 رعایتی پاس دئیے جائیں گے۔ اس کے بعد، ڈیمانڈ آنے کے بعد اس پر الگ سے غور کیا جائے گا۔ سڑکوں پر سرخ سیاہ پٹیاں پینٹ کی جا رہی ہیں تاکہ واضح طور پر ‘نو پارکنگ’ والے علاقوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ نیز، یکساں تاریخوں کے مطابق پارکنگ کے انتظامات کے لیے سرخ اور سفید پٹیاں کھینچی جارہی ہیں۔ پارکنگ کی معلومات کو آسانی سے دستیاب کرنے کے لیے دشاتمک نشانیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر اس اقدام کو شہریوں کی طرف سے اچھا رسپانس ملتا ہے تو اس پائلٹ تجربہ کو شہر کے دیگر پبلک پارکنگ لاٹس پر بھی لاگو کیا جائے گا۔

ممبئی میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پس منظر میں، ممبئی میونسپل کارپوریشن پارکنگ کے انتظام کو مزید موثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کو نافذ کر رہی ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مجاز اور محفوظ پارکنگ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پورے شہر میں پارکنگ کی سہولیات تیار کی ہیں۔ مختلف مقامات پر میونسپل کارپوریشن کو منتقل کیے گئے کل 37 پارکنگ لاٹس میں سے کل 30,135 گاڑیاں پارکنگ کے لیے دستیاب ہیں۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی رہنمائی میں جگناتھ ساونت مارگ کی پارکنگ لاٹ میں ایک ’ماڈل پارکنگ‘ پہل کو لاگو کیا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹ) ابھیجیت بنگر نے کہا کہ موٹرسائیکلوں کی سہولت کے لیے جگناتھ ساونت مارگ پارکنگ لاٹ میں 1,000 تین پہیہ اور چار پہیہ اور 12 دو پہیہ گاڑیوں کے لیے پارکنگ کا انتظام ہے۔ کوتوال گارڈن کے سامنے کا علاقہ، کبوترخانہ، گنیش پیٹھ گلی اور ٹی آر ساونت مارگ سے بال گووند داس مارگ تک کے علاقے کو پہلے ہی ‘نو پارکنگ’ ایریا قرار دیا جا چکا ہے۔ فی الحال، اس علاقے میں 200 سے زیادہ ‘نو پارکنگ’ کے بورڈ لگائے گئے ہیں اور مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ ‘ماڈل پارکنگ’ اقدام کے تحت، سڑکوں پر کرب پتھروں کو گہرے سرخ اور سیاہ پٹیوں سے پینٹ کیا جا رہا ہے تاکہ ‘نو پارکنگ’ والے علاقوں کو زیادہ واضح طور پر ظاہر کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں طاق اور جفت تاریخوں کے مطابق پارکنگ کے لیے سرخ اور سفید پٹیوں کی پینٹنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پارکنگ کی جگہوں کی دستیابی کی نشاندہی کرنے والے دشاتمک نشانوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

پارکنگ کو مزید پرکشش اور محفوظ بنانے کے لیے صفائی مہم چلائی گئی ہے۔ اضافی ٹیوب لائٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ مقامی شہریوں کو پارکنگ لاٹ استعمال کرنے کی ترغیب کے طور پر ماہانہ پاسز پر 50 فیصد رعایت دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اس طرح کی چھوٹ کے ساتھ کل 400 پاس دستیاب ہیں۔ اس کے بعد ڈیمانڈ آنے کے بعد الگ سے غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مسٹر بنگر نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن والیٹ پارکنگ کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) بنگر نے مزید کہا کہ ان تمام اقدامات کے ایک حصے کے طور پر، شہریوں کو نوٹ کرنا چاہیے کہ 1 جولائی 2026 سے ٹریفک پولیس کی جانب سے احتیاطی اور تعزیری کارروائی کی جائے گی، اگر گاڑیاں ‘نو پارکنگ’ ایریا یا جگن ناتھ ساونت مارگ کے آس پاس کے دیگر مقامات پر کھڑی پائی جاتی ہیں۔ اگر اس اقدام کو مقامی شہریوں کی طرف سے مثبت جواب ملتا ہے تو میونسپل کارپوریشن کو ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات کو نافذ کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ نیز، بنگر نے امید ظاہر کی کہ اس سے ٹریفک کی بھیڑ کے مسئلے میں کچھ راحت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان