Connect with us
Saturday,29-August-2026

(جنرل (عام

خواجہ یونس قتل معاملہ: قتل میں ملوث چار پولس والوں کی ملازمت پر بحالی پر اعتراض کرنے کا خواجہ یونس کی والدہ کو حق ہے، سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی

Published

on

ladad

ممبئی (پریس ریلیز)خواجہ یونس قتل معاملے میں ملوث چار پولس والوں کی ملازمت پر بحالی کے ممبئی پولس کمشنر کے خصوصی حکم (آرڈر) کو چیلنج کرنے والی خواجہ یونس کی والد ہ کی جانب سے داخل سول رٹ پٹیشن پر آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ یونس کے قتل میں ملوث چاروں پولس والوں کی ملازمت پر بحالی پر اعتراض کرنے کا حق خواجہ یونس کی والد ہ آسیہ بیگم کو ہے اور وہ عدالت کو اس ضمن میں دوران بحث مطمئین کریں گے۔

واضح رہے کہ پچھلی سماعت پر ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے سوال پوچھا تھا کہ چار وں پولس والوں کی ملازمت پر بحالی سے خواجہ یونس کی والدہ کو کیا فرق پڑتا ہے جس کے جواب میں آج سینئر وکیل مہر دیسائی نے جسٹس اے اے سید اور جسٹس مادھو جامدار کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ممبئی پولس کمشنر نے چاروں پولس والوں کو بحال کرکے ہائی کورٹ کے حکم کی توہین کی ہے اور قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی نے کہا کہ بامبے پولس سزا اوراپیل رول 1956کے تحت ممبئی پولس کمشنر کو پولس والوں کی معطلی ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے اس کے باوجود انہوں نے ایسا کرکے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

اسی درمیان دو رکنی بینچ کے جسٹس اے اے سید اور جسٹس مادھو جامدار نے کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہیکہ یہ سروس کا معاملہ ہے لہذا ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو جانچ کرلینا چاہئے کہ آیا عدالت اس معاملے کی سماعت کرنے اہل ہے کیا یہ بینچ، جسٹس اے اے سید نے کہا کہ اگر رجسٹرار کی طرف سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ موجودہ بینچ اس سول رٹ پٹیشن کی سماعت کرنے کی اہل ہے تو، 2فروری کو عدالت اس معاملے کی سماعت کریگی۔ آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء نے خواجہ یونس کی والد کیجانب سے ممبئی پولس کمشنر کے فیصلہ کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے ا س سے قبل جمعیۃ علماء نے ممبئی پولس کمشنر کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی عرضداشت بھی داخل کی تھی جو زیر سماعت ہے۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ خوجہ یونس کی والدہ آسیہ بیگم کی جانب سے داخل کردہ سول رٹ پٹیشن میں پولس کمشنر آف ممبئی پرم ویر سنگھ کے علاوہ چاروں پولس والوں کو بھی فریق بنایاگیا ہے، پٹیشن میں درج ہیکہ ممبئی پولس کمشنر کا چاروں پولس والوں کی معطلی کو ختم کرکے انہیں دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے لہذا ہائی کورٹ کو اسے کالعدم قراردینا چاہئے کیونکہ پولس کمشنر کویہ اختیار ہی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ممبئی گھاٹکوپر بم دھماکہ معاملے میں ماخوذ کیئے گئے پربھنی کے ملزم خواجہ یونس (سافٹ وئیر انجینئر)کی پولس حراست میں ہوئی موت کے ذمہ دار پولس والوں کو سی آئی ڈی کی تحقیقات کے بعد ملازمت سے معطل کردیا گیا تھا لیکن 6 / جون2020 کو ان پولس والوں کو ملازمت پر بحال کردیاگیاجس کے خلاف خواجہ یونس کی والدہ کی جانب سے جمعیۃ علماء کے توسط سے ممبئی پولس کمشنر پرم ویر سنگھ اور ہوم ڈپارٹمنٹ کو توہین عدالت کانوٹس بھیجا گیا تھا نوٹس کا جواب پولس کمشنر کی جانب سے موصول نہ ہونے پر ممبئی ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی پٹیشن اور سول رٹ پٹیشن داخل کی گئی تھی جو زیر سماعت ہے۔

گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ 2004 میں ممبئی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھاکہ خواجہ یونس قتل معاملے میں ملوث پولس والوں کو ڈسپلینری انکوائری کا سامنا کرنا ہوگا لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اس کے باوجود پولس والوں کو ملازمت پر بحال کردیا گیا جو توہین عدالت ہے نیز ممبئی پولس کمشنر کا فیصلہ غیر آئینی ہے لہذا حصول انصاف کے لیئے جمعیۃ علماء نے توہین عدالت کی پٹیشن کے ساتھ ساتھ ممبئی ہائی کورٹ میں سول رٹ پٹیشن بھی داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ یونس کے والد نے2004 ممبئی ہائی کورٹ میں خواجہ یونس کے ساتھ پولس زیادتی اور اس کے غائب ہوجانے کی شکایت کی تھی جس کے بعد ممبئی ہائی کورٹ نے ان چارو ں پولس والوں کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف انکوائری کا بھی حکم دیا تھا نیز ممبئی پولس کمشنر کویہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ ان پولس والوں کی معطلی ختم کرکے انہیں دوبارہ ملازمت پر بحال کرے۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ اے سی پی سچن وازے، کانسٹبل راجندر تیواری، راجا رام نکم اور سنیل دیسائی کو ملازمت پر لے لیا گیا ہے جبکہ سی آئی ڈی نے ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی او ر فاسٹ ٹریک عدالت میں چلنے والے اس مقدمہ میں ابتک صرف ایک گواہ کی گواہی عمل میں آئی ہے ایسے میں ان پولس والوں کی ملازمت پر بحالی سے خواجہ یونس کی فیملی سمیت انصاف پسند عوام کو صدمہ پہنچا ہے۔ عیاں رہے کہ23 دسمبر 2002 کو خواجہ یونس کو 2، دسمبر 2002 کو گھاٹکوپر میں ہونے والے بم دھماکہ کے الزام میں گرفتارکیا تھا جس کے بعد سچن وازے نے دعوی کیا تھا کہ خواجہ یونس پولس تحویل سے اس وقت فرار ہوگیا جب اسے تفتیش کے لیئے اورنگ آبا دلے جایا جارہا تھا حالانکہ سی آئی ڈٖی نے سچن وازے کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے معاملے کی تفتیش کے بعد ان پولس والوں کے خلاف خواجہ یونس کو قتل کرنے کا مقدمہ قائم کیا تھا جو زیر سماعت ہے ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

نیپال: ہندوستانی تکنیکی ٹیم سرنگ بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے جاسوسی کر رہی ہے۔

Published

on

نیپال میں ہندوستانی سفارت خانے نے ہفتہ کو بتایا کہ ہندوستان کی ایک خصوصی تکنیکی ٹیم نے نیپال کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہائیڈرو پاور سرنگوں کی سائٹ پر تحقیق شروع کردی ہے تاکہ سرنگوں کے اندر پھنسے ہوئے لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کی سہولت فراہم کی جاسکے۔ ہندوستان نے 11 رکنی ریسکیو ٹیم بھیجی ہے جس میں ڈاکٹروں، پیرامیڈیکس اور عملے کے خصوصی ریسکیو آپریشن میں مدد کی درخواست کی گئی ہے۔

خصوصی تکنیکی ٹیم رسووا ضلع میں ترشولی 3اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پہنچی، جہاں سیلاب کے بعد ایک سرنگ کے اندر پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں۔ نیپال کے وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، ہندوستانی ٹیم نے چلیمے اور لینگٹانگ علاقوں کی ابتدائی فضائی نگرانی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا کیونکہ اس سے پہلے مشترکہ ریسکیو ٹیم کی ضرورت تھی۔ پی ایم او نے کہا کہ 82 نیپالی سیکورٹی اہلکار، بشمول نیپالی فوج کے 62 ارکان اور آرمڈ پولیس فورس نیپال اور نیپال پولیس کے 20 اہلکار، سرنگ کے داخلی راستے کو صاف کرنے اور تلاشی مہم کو تیز کرنے کے لیے جمعہ کی رات سے مسلسل تعینات ہیں۔

پی ایم او نے ایک بیان میں کہا، “علاقے میں خراب موسمی حالات کی وجہ سے بچاؤ کی کوششیں انتہائی مشکل ہو گئی ہیں،” پی ایم او نے ایک بیان میں کہا۔ مقامی مہارت کی حدود کی وجہ سے ریسکیو آپریشن دھیرے دھیرے آگے بڑھنے کے ساتھ، نیپال نے بھارت اور چین سے تعاون طلب کیا۔ سفارت خانے نے کہا کہ بھارت نیپال کی جاری امدادی اور بچاؤ کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن، نیپال (آئی پی پی اے این)، جو ملک کے پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز کی نمائندگی کرتی ہے، نے کہا کہ نیپال کے سیلاب سے متاثرہ رسووا اور نوواکوٹ اضلاع میں 11 ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے وابستہ 934 افراد ابھی تک رابطے سے باہر ہیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 26 اگست کو دریائے بھوٹے کوشی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد رسووا میں چھ پن بجلی کے منصوبوں سے وابستہ 730 اور نواکوٹ میں پانچ منصوبوں سے منسلک 204 افراد کا رابطہ نہیں رہا۔ رسووا اور نواکوٹ میں پن بجلی کے منصوبے، جن کی مشترکہ تنصیب کی صلاحیت 675.6 میگاواٹ ہے۔دریں اثنا، سفارت خانہ ہند میں فرسٹ سکریٹری (کامرس) نے حال ہی میں اپر ترشولی-1 ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے بچائے گئے ہندوستانی کارکنوں سے ملاقات کی تاکہ ان کی حفاظت اور بہبود کا پتہ چل سکے۔ سفارت خانے نے کہا کہ سیلاب نے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا اور متاثرہ علاقوں میں پن بجلی کے منصوبوں اور رسائی کے راستوں کو متاثر کیا، جس سے نیپال اور ہندوستان کو امدادی کارروائیوں میں مدد ملی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بھر میں 134 فٹ پاتھ تجاوزات سے پاک 197 کلومیٹر کے کل حصے سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں : کمشنر اشونی بھیڈے

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی جانب سے شروع کی گئی ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے ایک حصے کے طور پر، مختلف محکمے پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ، آسان اور رکاوٹ سے پاک راستوں کو یقینی بنانے کے لیے تجاوزات ہٹانے کی مہم چلا رہے ہیں۔ اس مہم کے پہلے مرحلے میں 200 نشان زد فٹ پاتھوں میں سے 134 سے تجاوزات کا صفایا کر دیا گیا ہے، جس سے مجموعی طور پر 197 کلومیٹر کے علاقے کو مؤثر طریقے سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، گزشتہ دو دنوں میں بھنڈوپ ریلوے اسٹیشن (مغربی) کے قریب فٹ پاتھوں پر 94 غیر مجاز اسٹالوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق میونسپل کمشنراشونی بھیڈے کی رہنمائی میں بی ایم سی ممبئی بھر میں فٹ پاتھوں سے غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو نافذ کر رہی ہے۔

کمشنر بھیڈے نے ایڈیشنل میونسپل کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو اس مہم پر سختی سے عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ وہ ذاتی طور پر ہر انتظامی وارڈ میں ہونے والی پیش رفت اور ان وارڈوں کے اندر مختلف محکموں کی طرف سے کی گئی کارروائیوں کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔ میونسپل انتظامیہ نے ممبئی کی تاجر برادری اور شہریوں سے اس مہم میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ ممبئی میں فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ (پداچاری پرتھم) مہم شروع کی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے، بھاری پیدل چلنے والوں کی آمدورفت والے علاقوں جیسے کہ بھنڈوپ ریلوے اسٹیشن کے آس پاس کے علاقوں میں فٹ پاتھ سے رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں بھنڈوپ کے علاقے میں 14 فٹ پاتھوں پر سے تجاوزات ہٹائی جا رہی ہیں۔ ان فٹ پاتھوں میں سے تقریباً 11 سے تجاوزات کو ختم کرنے کا کام پہلے ہی شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ آپریشن ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے، ڈپٹی کمشنر (زون 6) مسٹر سنتوش کمار دھونڈے اور اسسٹنٹ کمشنر (ایس-وارڈ) سمرین سید کی رہنمائی میں کیا گیا۔


اس کارروائی سے پیدل چلنے والوں کے لیے بھانڈوپ ریلوے اسٹیشن آنے اور جانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ یہ چوٹی کے اوقات میں ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کی بھیڑ کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔ مزید برآں، شہریوں کو اب بھانڈوپ ریلوے اسٹیشن کے علاقے سے لال بہادر شاستری مارگ کی طرف جانے والے رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھ تک رسائی حاصل ہوگی۔ آپریشن میں 5 جے سی بی، 10 ڈمپر، 50 سے زائد افسران اور عملے کے ارکان، 100 مزدور، اور 70 سے زائد پولیس اہلکار شامل تھے۔ ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کے ساتھ ساتھ، ’ایس‘ وارڈ ’کوڑے کے خطرے سے دوچار مقامات‘ (جی وی پی ایس) کو ختم کرنے کے لیے بھی خصوصی کوششیں کر رہا ہے جو کہ بڑی مقدار میں کچرے کے جمع ہونے کا خطرہ ہے۔

کاروباری مالکان اور شہریوں سے اپیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتظامیہ شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ یاد رکھیں کہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کی محفوظ اور آسان نقل و حرکت کے لیے بنائے گئے ہیں۔ فٹ پاتھوں پر غیر مجاز دکانیں، اسٹالز، اسٹرکچر یا کوئی اور مواد رکھ کر رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔ کارپوریشن ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کے تحت فٹ پاتھوں کو صاف رکھنے کے لیے مسلسل کارروائی کر رہی ہے، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قواعد کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں 1,459 مقامات پر کارروائی کی گئی اس مہم کے پہلے مرحلے میں 200 فٹ پاتھوں سے تجاوزات ہٹائی جائیں گی۔ ان میں سے 134 پر کام ہو چکا ہے۔ تقریباً 197 کلومیٹر پر پھیلے فٹ پاتھوں کو رکاوٹوں سے پاک کر دیا گیا ہے، 1,459 مقامات پر نفاذ کی کارروائیاں کی گئیں۔ یہ مہم میونسپل کارپوریشن کے تمام 26 انتظامی وارڈوں میں چلائی جا رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی لال باغ پریل تشدد کے بعد اب وی پی روڈ میں اسلامی پرچم کی توہین سے کشیدگی، امن قائم اور ایک زیر حراست

Published

on

Mumbai Police.2

ممبئی : لال باغ پریل میں عید میلاد النبی کے جلوس سے واپسی کے شر پسندوں کی شرانگیزی اور تشدد کے بعد وی پی رو ڈ عرب گلی علاقہ میں مذہبی جھنڈے اور پرچم کی توہین کے بعد کشیدگی پھیل گئی, لیکن پولس نے جھنڈے کی توہین کرنے والے کو زیر حراست لے کر باز پرس شروع کردی ہے, اب حالات پرامن ضرور ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے عوام صبر و ضبط سے کام لیتے ہوئے افواہ پر توجہ نہ دے پولس بندوبست میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ جنوبی ممبئی کے وی پی روڈ علاقے ایک مخصوص فرقہ سے تعلق رکھنے والے مذہبی و اسلامی پرچم کی مبینہ بے حرمتی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔ پولیس نے بی این ایس کی دفعہ 299 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور پرچم کی بے حرمتی کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس اس شخص سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس فعل کے پیچھے کیا مقصد ہے۔
علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے انتظامات کیے گئے ہیں صورتحال فی الحال معمول پر ہے اور پرامن ہے اور پولیس کے اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ ڈی سی پی راگسودھا نے کہا کہ مذہبی جھنڈے کی توہین اور مبینہ بے حرمتی کے بعد ایک فرد کو پولس نے زیر حراست لیا ہے اور کیس درج کر کے تفتیش شروع ہے فی الوقت امن قائم ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے, پولس نے الرٹ جاری کیا ہے اور بندوبست میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان