جرم
مالیگاؤں کے سردار ہائی اسکول کی خاتون مدرس کے ساتھ دھوکہ دہی کا معاملہ بے نقاب, چیرمین سمیت 4 افراد پر مقدمہ درج

تعلیم و تعلم اور درس و تدریس ایک معتبر و مقدس پیشہ ہے لیکن حالیہ زمانے میں مختلف افراد نے اسکول و کالج کے نام پر غیر قانونی دھوکہ آمیز کارکردگی سے لوٹ مار مچائے ہوئے ہیں. ماضی میں ہمارے اسلاف نے دینی مدارس اور عصری درس گاہوں کی بنیاد گزاری میں نمایاں کردار ادا کیا تھا لیکن عصر حاضر کے خود ساختہ سر سیدوں نے نہ صرف تعلیم کے نام پر اسلاف کی روحوں کو شرمندہ کررہے ہیں بلکہ خود کو بھی غار مزلت کے حوالے کرتے جارہے ہیں. آج شعبہ درس و تدریس اپنی آخری پستیوں میں گر کر روز بروز تنزلی کا شکار ہے. اسکولوں, کالجوں میں مدرسین کی نامزدگی کے لئے 10 سے 20 لاکھ روپیے طلب کرنا ایک عام بات ہو گئی ہے. خطیر روپیہ طلب کرنے کے باوجود بھی ایسے مدرسین کو 8 سے 10 سالوں تک تنخواہ کی ادائیگی برائے نام کی جاتی ہے اور اگر کبھی کوئی مدرس اس کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو اسے ملازمت سے برخاست کردیا جاتا ہے. ایسا ہے ہی ایک شرمناک واقعہ کل مالیگاؤں میں عہد جدید کے سرسید کہلانے والے اسکول سے نکل کر منظر عام پر آیا ہے. تفصیلات کے مطابق ایک خاتون مدرس کی نامزدگی کے لئے قسط وار 15 لاکھ کی خطیر رقم طلب کی گئی تھی. ملازمت کی چاہت میں اس خاتون کے اہل خانہ نے پہلی قسط کے طور پر پانچ لاکھ اور دوسری قسط یکمشت دس لاکھ روپیے ادا کئے لیکن پندرہ لاکھ روپیے وصول کرنے کے بعد بھی مذکورہ خاتون کو مستقل ملازمت پر نامزد نہیں کیا گیا ایسی شکایت آزاد نگر پولیس اسٹیشن میں 31 سالہ فریادی خاتون نے درج کرائی. مکان نمبر 617 گلی نمبر 7 رونق آباد کی ساکن شکایت کنندہ کی شکایت پر پولیس نے اندراج نمبر 111/2020 کے تحت 420,506,34جیسی دفعات عائد کرتے ہوئے اسکول چیرمن ڈاکٹر منظور حسن ایوبی, ہیڈ مسٹریس ایوبی پروین, شاداب احمد شکیل احمد, نوید احمد صغیر احمد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات پولیس انسپکڑ واگھ کے ذمہ کردی ہے . مذکورہ واقعہ 25 مئی 2016 سے 2 نومبر 2020 کے درمیانی عرصہ میں 15 لاکھ روپیے وصول کئے گئے تھے. 15 لاکھ روپیے وصول کئے جانے کے بعد جب اس 31سالہ خاتون مدرس سے مستقل نامزدگی کے لئے مزید پانچ لاکھ روپیے طلب کئے تو بار بار اپنے لٹنے کا تماشہ دیکھنے کی بجائے اس خاتون نے سٹی زن ویلفر سوسائٹی کے معرفت جاری سردار ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج کے چیرمین ڈاکٹر منظور ایوبی, پروین ایوبی سمیت دیگر دو افراد کے خلاف محمکہ پولیس میں اپنی شکایت کا اندارج کردیا ہے. یاد رہے اس سے پہلے بھی ایک خاتون مدرس کے ہمراہ جنسی ہراسانی کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا جس میں چیرمین موصوف کے جواں سال صاحب زادے اور دیگر افراد کے خلاف شکایت درج کی گئی تھی. تعلیم کے نام پر اپنی تجوریوں میں مال غنیمت کی طرح خزانہ سمیٹ لینے والے تعلیمی مافیاؤں کی ایسی حرکات سے تعلیم جیسا متعبر شعبہ بھی بدنامی کی دہلیز تک پہنچ گیا ہے.
جرم
‘پاپا نے ممی کو جلا کر مار ڈالا’، پہلے بیوی کو قتل کیا پھر خود کشی کی کہانی گھڑ لی، 7 سالہ بیٹی نے راز فاش کر دیا

ممبئی / تھانے : نئی ممبئی میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو جلا کر ہلاک کر دیا۔ اسے شک تھا کہ اس کی بیوی کے کسی اور کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ اس نے اس واقعہ کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کی سات سالہ بیٹی نے سارا واقعہ دیکھا اور پولیس کو بتایا کہ اس کے والد نے اس کی ماں کو جلا کر قتل کیا ہے۔ یہ واقعہ 25 اگست کو اُران علاقے کے پاگوٹیگاؤں میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق راجکمار رام شرومنی ساہو نامی 35 سالہ شخص کو اپنی 32 سالہ بیوی جاگرانی سے ناجائز تعلقات کا شبہ تھا۔ اسی شک کی وجہ سے اس نے یہ بھیانک قدم اٹھایا۔ اوران تھانے کے سینئر انسپکٹر حنیف ملانی نے بتایا کہ ملزم نے اپنی بیوی کو بری طرح جھلسا ہوا پایا۔ اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیوی نے خود کو کمرے میں بند کر لیا اور خود کو آگ لگا کر خودکشی کر لی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر حادثاتی موت کا مقدمہ درج کیا تھا۔
تفتیش کے دوران پولیس کو ملزم کے بیان میں کچھ تضادات پائے گئے۔ سینئر انسپکٹر حنیف ملانی نے کہا کہ لیکن ہماری تفتیش میں ان کی کہانی میں تضاد پایا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جوڑے کی سات سالہ بیٹی کے بیان کو غور سے دیکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزم نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بیوی نے خود کو کمرے میں بند کر کے خودکشی کی۔ لیکن لڑکی نے پولیس کو سچ بتا دیا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اس کے والد نے اس کی ماں کو جلا کر قتل کیا۔
پولیس نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اسکین کر لی۔ اس میں ملزم کو واردات کے بعد رات گئے گھر سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ افسر نے کہا کہ یہ ایک اہم ثبوت ہے جو اس شخص کے اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ وہ واقعے کے وقت گھر پر موجود نہیں تھا۔ میڈیکل رپورٹ، فرانزک شواہد اور عینی شاہد (لڑکی) کے بیان کی بنیاد پر، پولیس نے 26 اگست کو انڈین جسٹس کوڈ کی دفعہ 103(1) (قتل) کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ بعد میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس افسر نے کہا کہ یہ واضح طور پر قتل کا معاملہ ہے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ گھریلو تشدد کا ایک وحشیانہ فعل تھا۔ پولیس اب اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملزم نے ایسا کیوں کیا اور کوئی اور ملوث ہے یا نہیں۔
جرم
ممبئی سمیر شبیر شیخ کو منشیات کے کیس میں ۱۵ سال کی قید ایک لاکھ کا جرمانہ کی سزا

ممبئی : ممبئی شہر میں ڈرگس اور منشیات اسمگلر کے خلاف انٹی نارکوٹکس سیل اے این سی کو بڑی کامیابی ملی ہے ممبئی میں منشیات اسمگلر سمیر شبیر شیخ ۳۲ سالہ کو ممبئی باندرہ یونٹ نے ۱۱۰ گرام ایم ڈی میفیڈون کے ساتھ ۱۲ مئی ۲۰۲۲ کو گرفتار کیا تھا اس معاملہ میں پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی اور اب عدالت نے اس معاملہ میں ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ۱۵ سال کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ ملزم کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ سمیت مارپیٹ تشدد اور دیگر جرائم درج ہیں کل ۹ معاملات درج ہیں۔
جرم
ممبئی کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی بین الاقوامی گینگ بے نقاب، کرائم برانچ کی کارروائی 12 ملزمین گرفتار، بینک اکاؤنٹ خرید کر دھوکہ دہی کی گئی : ڈی سی پی

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے سائبر دھوکہ دہی کے بین الاقوامی ریکیٹ کو بے نقاب کرنے کا دعوی کرتے ہوئے 12 ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ ملک بھر میں سائبر دھوکہ دہی میں ملوث تھے اور دوسروں کے بینک اکاؤنٹ خرید کر اس کا استعمال سائبر فراڈ سے حاصل رقومات کی منتقلی کیلئے استعمال کیا کرتے تھے۔ اس لئے اس معاملہ میں کرائم برانچ نے باقاعدہ طو رپر پانچ ایسے افراد کو بھی ملزم بنایا ہے جنہوں نے اپنا بینک اکاؤنٹ فراڈ کیلئے فراہم کئے تھے۔ ان اکاؤنٹ کو 7 ہزار سے 5 ہزار روپے میں خریدا جاتا تھا۔
ممبئی پولیس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی پی ڈٹیکشن راج تلک روشن نے بتایا کہ 60 کروڑ روپے سے زائد دھوکہ دہی کے معاملہ میں ملوث سائبر فراڈ گینگ کو اس وقت بے نقاب کیا گیا جب کاندیولی میں پولیس نے چھاپہ مارا اور یہاں سے پانچ افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس دفتر میں سم کارڈ, لیپ ٹاپ, 25 موبائل فون اور فرضی دستاویزات بھی برآمد ہوئے تھے اس کے علاوہ اے ٹی ایم کارڈ بھی ملا تھا۔ 943 بینک اکاؤنٹ میں سے 181 بینک اکاؤنٹ کا استعمال سائبر فراڈ کے پیسوں کی منتقلی کیلئے کیا گیا تھا۔ ملک بھر میں یہی اکاؤنٹ کا استعمال سائبر فراڈ کے پیسوں کی منتقلی کیلئے کیا جاتا تھا۔
ان اکاؤنٹ کا استعمال ڈیجیٹل اریسٹ, شیئر ٹریڈنگ سمیت دیگر فراڈ کے پیسوں کیلئے کیا گیا تھا, اس کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ سائبر فراڈ سے متعلق 1930 پر شکایات موصول ہوئی تھی, جس میں کل 339 شکایت میں سے ممبئی کی 16 اور مہاراشٹر میں 46 شکایت کے بعد 16 جرم درج کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر صوبوں میں 277 شکایات موصول ہوئی تھی۔ اس میں سے 33 جرم درج کئے گئے ہیں ملزمین پر مزید مقدمات درج ہونے کا امکان بھی ہے۔ یہ گروہ منظم طریقے سے لوگوں کو بے وقوف بنایا کرتا تھا۔ اس گینگ کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ پہلے وہ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتا جو اپنے بینک اکاؤنٹ فروخت کرنے کے خواہاں ہے۔ اس کے بعد ان کے بینک اکاؤنٹ خرید کر سائبر فراڈ کے پیسوں کی اس میں منتقلی کی جاتی۔ اس کے ساتھ ہی ان بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور تمام پاس ورڈ بھی اپنے پاس ہی یہ لوگ رکھتے تھے, اس کے بعد اے ٹی ایم اور دیگر سینٹروں سے بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکالا کرتے تھے۔ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی آن لائن اور اے ٹی ایم سے پیسے نکالے گئے ہیں۔ جن لوگوں کا اکاؤنٹ سائبر فراڈ کے پیسوں کی منتقلی کے لئے استعمال کیا گیا تھا انہیں اس کا علم تھا اس لئے اب ایسے افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے, جنہوں نے اپنا اکاؤنٹ فراہم کیا ہے۔ یہ تمام بھی جرم میں شریک پائے گئے تھے, اس لئے ڈی سی پی راج تلک روشن نے بتایا ہے کہ لالچ میں کسی کو بھی اپنا اکاؤنٹ فروخت نہ کرے اور سائبر فراڈ سے محفوظ رہنے کیلئے آن لائن پر کسی بھی قسم کی دھمکی سے خوفزدہ نہ ہو, کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ وغیرہ نام کی کوئی چیز نہیں انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سائبر فراڈ کے کیسوں میں اضافہ ہوا ہے اسی طرح کرائم برانچ بھی فعال ہے, ایسے میں کرائم برانچ نے 60 کروڑ سے زائد کے فراڈ کے کیس کو حل کر لیا ہے۔ اور 10 کروڑ روپے ان اکاؤنٹ سے منجمد بھی کئے ہیں۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ویبو پٹیل, سنیل کمار پاسوان، امن کمار گوتم، خاتون خوشباو سندر جول، رتیک بندیکر شامل ہے ان ملزمین کے قبضے سے دو لیپ ٹاپ، ایک پرنٹر, 25 موبائل فون متعدد بینکوں کی 25 پاس بک, 30 چیک بک, 46 اے ٹی ایم سوئپ مشین و دیگر کمپنی کے موبائل کے 104 سم کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف سمتا نگر پولیس اسٹیشن میں سائبر فراڈ سمیت دیگر دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملہ کی تفتیش میں پیش رفت ہونے کے بعد مزید ملزمین کی گرفتاری عمل لائی گئی ہے اور اب تک اس معاملہ میں 12 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس میں جس خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے اس نے اپنا اکاؤنٹ فروخت کیا تھا۔ اسی لئے پولیس نے شہریوں سے الرٹ رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ پیسوں کی لالچ میں ایسے گینگ کے دام میں نہ آئے
-
سیاست10 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست6 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا