Connect with us
Monday,23-March-2026

سیاست

جموں وکشمیر میں 70 برسوں کے بعد جمہوریت کی جیت ہوئی ہے : سید شاہنواز حسین

Published

on

Syed Shahnawaz Hussain

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں منعقد ہوئے ڈی ڈی سی انتخابات کو ملک کی انتخابی تاریخ میں سنہرے لفظوں سے لکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے انتخابات کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پولنگ کے دوران کسی بھی علاقے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

موصوف ترجمان نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں ایک ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ شاہنواز حسین پارٹی کی طرف سے کشمیر میں الیکشن انچارج تھے اور انہوں نے یہاں کئی انتخابی ریلیوں میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا : ’جموں و کشمیر میں ہفتے کے روز اختتام پذیر ڈی ڈی سی انتخابات کو ملک کی انتخابی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا پہلی بار ایسا دیکھا گیا کہ پولنگ کے دوران کسی بھی علاقے میں ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا اور کسی نے کوئی شکایت نہیں کی ہم نے بھی کوئی شکایت نہیں کی۔‘ مسٹر حسین نے کہا کہ میں یہاں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں 70 برسوں کے بعد جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا : ’جموں وکشمیر میں پہلی بار اتنی بھاری تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے، چند ایک کے بغیر تمام پولنگ بوتھوں پر رائے دہندگان کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔‘

موصوف نے کہا کہ آج کی اس پریس کانفرنس کا انعقاد یہ اعلان کرنے کے لئے کیا گیا کہ اب کی بار بی جے پی اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی۔

انہوں نے کہا : ’ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج کا انتظار ہے، ہم کسی کو شکست دیں گے یا نہ دیں گے لیکن میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر میں ہم کانگریس کو ضرور شکست دیں گے۔‘

مسٹر حسین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تین جماعتوں نے ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لیا ایک پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ، بقول ان کے ’گپکار گینگ‘، کانگریس اور بی جے پی نے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 80 انتخابی حلقوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے جبکہ باقی 2 سو حلقوں پر آزاد امیدواروں کی حمایت کی۔

موصوف ترجمان نے کہا کہ آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کا خواب کشمیریت، انسانیت اور جمہوریت اب شرمندہ تعبیر ہوا ہے اور ڈی ڈی سی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ جمہوریت ہی کشمیریت اور انسانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

فورجی موبائل انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا : ’امید ہے کہ جموں وکشمیر میں فور جی موبائل انٹرنیٹ سروس کو جلد بحال کیا جائے گا۔‘

نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جائیداد کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے منسلک کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر سید شاہنواز نے کہا : ’ایجنسیاں اپنا کام آزادنہ طور پر کر رہی ہیں ان کے ساتھ سیاست جوڑنا مناسب نہیں ہے، کرپشن کا سیاست یا انتقام گیری سے کوئی تعلق نہیں ہے، جن پر کرپشن کے الزامات عائد ہیں وہ عدالت میں جا کر اپنا اسٹینڈ پیش کرسکتے ہیں۔‘
بتا دیں کہ جموں وکشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کی ووٹ شماری منگل کے روز ہوگی۔

بزنس

سینسیکس تقریباً 1800 پوائنٹس پھسل گیا، یہی وجہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی۔

Published

on

ممبئی، ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے کاروباری سیشن میں بڑی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ 12:37 بجے، سینسیکس 1,772 پوائنٹس یا 2.32 فیصد کی کمی کے ساتھ 72,803 پر تھا اور نفٹی 565 پوائنٹس یا 2.44 فیصد کی کمی کے ساتھ 22,549 پر تھا۔ مارکیٹ میں چاروں طرف سے گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 2,074 پوائنٹس یا 3.78 فیصد کی کمی کے ساتھ 52,789 پر تھا اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 648.70 پوائنٹس یا 4.12 فیصد کی کمی کے ساتھ 15,070 پر تھا۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً تمام انڈیکس سرخ نشان پر رہے جن میں صارف پائیدار اور دھاتیں سرفہرست رہیں۔ مارکیٹ میں گراوٹ کی بڑی وجہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہے۔ ہفتے کے آخر میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی اور توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا انتباہ دیا۔ تہران نے اہم علاقائی اثاثوں پر حملہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دے کر جواب دیا۔ تنازع اب اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، جس سے سرمایہ کار مارکیٹ کے بارے میں محتاط ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی منڈیوں سے ناقص سگنلز نے بھی ہندوستانی مارکیٹ کے جذبات کو متاثر کیا۔ ٹوکیو، سیول، ہانگ کانگ، شنگھائی اور بنکاک کے بازاروں میں 2 فیصد سے 6.5 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی مارکیٹ کے جذبات کو متاثر کیا۔ تحریر کے وقت، کامیکس پر برینٹ کروڈ 0.84 فیصد اضافے کے ساتھ $113 فی بیرل پر تھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 2.15 فیصد اضافے کے ساتھ $100 فی بیرل تھا۔ مزید برآں، غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئیز) کی جانب سے فروخت کے دباؤ کا بھی مارکیٹ پر وزن رہا۔ آخری تجارتی سیشن (جمعہ) میں، غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئیز) نے ایکوئٹی سے ₹ 5,518.39 کروڑ نکالے، جبکہ گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ڈی آئی آئیز) نے ₹ 5,706.23 کروڑ کی سرمایہ کاری کی۔

Continue Reading

بزنس

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ, قیمتوں میں 14,500 روپے تک کی کمی

Published

on

ممبئی، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں پیر کو بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جس سے سونے کی قیمت 1.37 لاکھ روپے فی 10 گرام اور چاندی کی قیمت 2.13 لاکھ روپے فی کلو سے نیچے آگئی۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر 2 اپریل 2026 کو سونے کے معاہدے کی قیمت 7,619 روپے یا 5.27 فیصد گر کر 1,36,873 روپے ہوگئی۔ اب تک کی تجارت میں، سونا 1,36,403 روپے کی کم اور 1,40,158 روپے کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ چاندی بھی گرتی رہی۔ چاندی کے معاہدے کی قیمت 5 مئی 2026 کو 14,495 روپے یا 6.39 فیصد گر کر 2,12,277 روپے پر آ گئی۔ سونا اب تک ٹریڈنگ میں 2,11,086 روپے کی کم ترین اور 2,17,702 روپے کی بلند ترین سطح کو چھو چکا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس خبر کو لکھنے کے وقت، کامیکس پر سونا 5.50 فیصد کمی کے ساتھ 4,359 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا، اور چاندی 6.65 فیصد کمی کے ساتھ 65.08 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہی تھی۔ موتی لال اوسوال فائنانشل سروسز لمیٹڈ کے کموڈٹی تجزیہ کار مناو مودی نے کہا کہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور سود کی بلند شرحوں کی توقعات کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ آئی، جبکہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہفتے کے آخر میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب صدر ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی اور توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا انتباہ دیا۔ تہران نے اہم علاقائی اثاثوں پر حملہ کرنے اور ممکنہ طور پر آبنائے کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دے کر جواب دیا۔ یہ تنازعہ اب مسلسل چوتھے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے، اور جاری کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی میں طویل رکاوٹ کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

Continue Reading

بزنس

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ بڑی گراوٹ کے ساتھ کھلی۔

Published

on

ممبئی: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان پیر کو ہندوستانی اسٹاک مارکیٹیں نیچے کھل گئیں۔ صبح 9:28 بجے سینسیکس 1,309 پوائنٹس یا 1.78 فیصد گر کر 73,223 پر تھا اور نفٹی 408 پوائنٹس یا 1.77 فیصد گر کر 22,705 پر تھا۔ اسٹاک مارکیٹ میں ابتدائی کاروبار میں ہی گراوٹ دیکھی گئی۔ میٹلز، پی ایس یو بینکس، اور کنزیومر پائیدار اشیاء سب سے زیادہ خسارے میں رہے۔ ریئلٹی، ڈیفنس، آئی ٹی، ہیلتھ کیئر، انرجی، انفرا، میڈیا، سروسز اور پی ایس ای انڈیکس بھی سرخ رنگ میں تھے۔ لارج کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی کمی دیکھی گئی۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 1,248 پوائنٹس یا 2.28 فیصد گر کر 53,607 پر تھا، اور نفٹی سمال کیپ انڈیکس 387 پوائنٹس یا 2.48 فیصد بڑھ کر 15,331 پر تھا۔ ٹاٹا اسٹیل، ایس بی آئی، بجاج فائنانس، ایچ ڈی ایف سی بینک، ٹائٹن، انڈیگو، ایچ ڈی ایف سی بینک، بی ای ایل، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ایم اینڈ ایم، ٹرینٹ، ایکسس بینک، ایم اینڈ ایم، بھارتی ایئرٹیل، آئی ٹی سی، کوٹک مہندرا بینک، اور بجاج فنسرز سینسیکس پیک میں نقصان اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ صرف ایچ سی ایل ٹیک سبز رنگ میں تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تیل کی اونچی قیمتوں کے درمیان مارکیٹیں خطرے سے بچنے والے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا، “عالمی اشارے انتہائی کمزور ہیں، زیادہ اتار چڑھاؤ، اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی طرف سے مسلسل فروخت مارکیٹ کے جذبات پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سمیت ابھرتی ہوئی مارکیٹیں بیرونی جھٹکوں کا شکار ہیں۔ ایشیائی بازاروں میں بھی زبردست فروخت دیکھی گئی۔ ٹوکیو، شنگھائی، ہانگ کانگ، بنکاک اور سیول سرخ رنگ میں تھے۔ جمعہ کو امریکی بازار بھی سرخ رنگ میں بند ہوئے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستانی بازاروں میں فروخت جاری ہے۔ جمعہ کو، غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئیز) نے ایکوئٹی سے 5,518.39 کروڑ روپے نکال لیے، جبکہ گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ڈی آئی آئیز) نے 5,706.23 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان