Connect with us
Thursday,22-October-2026

سیاست

ممبئی میونسپل کارپوریشن نے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے بنگلے کو ڈیفالٹر قرار دیا!

Published

on

اگر عام ممبئی والوں پر پانی کا بل دو تین ماہ سے زیادہ واجب الادا ہوتا ہے، تو برہمومبائی میونسپل کارپوریشن فورا کاروائی کرتی ہے، لیکن وزیر اعلی اور دیگر وزرا کی سرکاری رہائش گاہ پر پانی کا بل 24 لاکھ 56 ہزار 469 بقایا ہونے کے باوجود میونسپل کارپوریشن وزیر اعلی اور دیگر وزراء کی سرکاری رہائش گاہ پر مہربان ہے۔
آر ٹی آئی کارکن شکیل احمد شیخ نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ویبسائٹ سے معلومات اکھٹی کی ہیں۔ معلومات کے مطابق وزیر اعلی سمیت دیگر وزراء کے سرکاری رہائش گاہوں پر کل 24 لاکھ 56 ہزار 469 روپے کا بقایاجات واجب الاد ہے اور میونسپل کارپوریشن نے ان بنگلوں کو ڈیفالٹر فہرست میں ڈال دیا ہے۔
جن وزراء کے پانی کے بل سرکاری رہائش گاہوں سے زیر التواء ہیں ان میں وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے (ورشا بنگلہ)، وزیر اعلی کے سیکیوریٹی اہلکار (تورنا)، وزیر خزانہ اجیت پوار (دیوگیری)، جینت پاٹل (سیواسدن)، نتن راؤت، وزیر توانائی (پرن کوٹی)، بالا تھورات، وزیر برائے محصول (رائل اسٹون)، اپوزیشن لیڈر دیویندر فڑنویس (ساگر)، اشوک چوہان (میگھ دوت) سبھاش دیسائی، وزیر صنعت (پوراتن)، دلیپ ولسے پاٹل (شیوگیری)، عوامی باندھ کام (ساروجنک اپکرم) وزیر ایکناتھ شندے (نندنون)، راجیش ٹوپے ( جیٹ ون)، نانا پاٹولے، اسپیکر قانون ساز اسمبلی (چترکٹ)، راجندر شنگھے (سات پڑا)، نواب ملک (مکتاگری)، چھگن راؤ بھجبل (رام ٹیک)، رام راجا نمبالکر قانون ساز اسپیکر (اجنٹھا) اور سہیادری گیسٹ ہاؤس وغیرہ۔

کس وزیر کی رہائش گاہ پر کتنا بقایا ہے!

نمبر, وزیر کا نام رہائش گاہ کا نام پانی کا بل نمبر, بقایا بیلنس
1 ادھو ٹھاکرے، وزیراعلی ورشا
DXX 8190001
DXX8180007
DXX8170002
DXX8160008
کل مجموعی بقایا رقم. – /13275
6101 / –
5038 / –
502 / –
24916 / –
اگست 2020
دسمبر 2019
جون 2020
2020 اکتوبر

2 ) وزیراعلی کے سیکیوریٹی آفیسر تورنا
DXX8150003
کل مجموعی بقایا رقم -/3803
اپریل 2020 -/3803

3) اجیت پوار، وزیر خزانہ دیوگیری
DXX 7520005
DXX 7510000
DXX9240000
کل مجموعی بقایا رقم -/ 84224
43010 / –
8066 / –
نومبر 2019 -/135300
2020 فروری
2020 جولائی

3) جینت پاٹل سیوا سدن DXX7570008
کل مجموعی بقایا رقم -/115288
جنوری 2020 -/115288

4 ) نتن راؤت ، وزیر توانائی پرن کٹی
DXX8260003
کل مجموعی بقایا رقم -/115288
جنوری 2020 -/ 115288

5( بالا صاحب تھورات ، وزیر محصول رائل اسٹون DXX8480003
DXX8490008
کل مجموعی بقایا رقم -/12809
4970 / –
نومبر 2019 -/17779

6) اشوک چوہان میگھ دوت DXX7650004
کل مجموعی بقایا رقم -/111005
نومبر 2019 -/111005

7 ) سبھاش دیسائی، وزیر صنعت، پوراتن
DXX8290007
DXX8300001
کل مجموعی بقایا رقم -/50120
71587 /-
نومبر 2019
نومبر 2019 -/121707

8) دلیپ ولسے پاٹل شیوگیری
DXX 7580002
DXX7590007
کل مجموعی بقایا رقم -/5756
344996 / –
نومبر 2019 -/350752
نومبر 2019

9 )وزیر ایکناتھ شندے، عوامی باندھ کام (پبلک انڈرٹیکنگ) نندنون DXX8350004
DXX8360009
DXX8370003
کل مجموعی بقایا رقم -/119524
7971 / –
11866 / –
جنوری 2020 139361
جنوری 2020
نومبر 2019

10 ) راجیش ٹوپے جیٹ ون DXX8060002
DXX9310002
کل مجموعی بقایا رقم -/6703
236817 / –
اگست 2020 -/243520
نومبر 2019

11) نانا پاٹولے، اسمبلی اسپیکر چترکوٹ
DXX8270008
کل مجموعی بقایا رقم -/83514
جنوری 2020 -/83514

12) راجندر شنگھے سات پڑا DXX8070007
کل مجموعی بقایا رقم -/23746
جنوری 2020 -/23746

13) نواب ملک مکتاگیری DXX9320007
DXX8110005
DXX8120000
DXX8130004
کل مجموعی بقایا رقم -/30102
5989 / –
24699 / –
9599 / –
جون 2020 -/70389
نومبر 2019
جنوری 2020
2020 اپریل

14) چھگن راؤ بھجبل رام ٹیک DXX9340006
DXX7540004
DXX9350000
کل مجموعی بقایا رقم -/39939
90303 / –
14173 / –
فروری 2020 -/144415
2020 فروری
2020 فروری

15) رام راجا نمبالکر قانون ساز اسپیکر اجنٹھا
DXX 7630005
کل مجموعی بقایا رقم -/ 128797
دسمبر 2019 -/128797

16 )دیویندر فڑنویس ساگر DXX7660009
DXX7670003
کل مجموعی بقایا رقم -/111550
13003 / –
نومبر 2019
نومبر 2019 -/124553

17) سہیادری گیسٹ ہاؤس DXX9290003
DXX9290015
کل مجموعی بقایا رقم -/640523
105333 / –
نومبر 2019
نومبر 2019 -/745856

آر ٹی آئی کارکن شکیل احمد شیخ کے مطابق اگر سرکاری محکمہ پانی کا بل وقت پر نہیں بھرتا ہے تو پھر عام عوام بقایا پانی کا بل کیسے ادا کریں گے؟ شکیل احمد شیخ نے سوال کیا ہے کہ کیا مہانگر پالیکا کمشنر اقبال سنگھ چہل بقایا دار وزیروں کے گھروں کا کنکشن منقطع کرنے کی ہمت کریں گے؟

(جنرل (عام

آسام ویجیلنس ڈی ایس پی ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تحقیقات جاری ہیں

Published

on

Death

گوہاٹی : آسام میں چیف منسٹر کے ویجیلنس سیل سے منسلک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کھرگیشور رابھا کی جزوی طور پر بوسیدہ لاش جمعرات کو بونگائیگاؤں کے ایک ہوٹل کے کمرے سے برآمد ہوئی، جس سے اس کی موت کے آس پاس کے حالات کی تحقیقات شروع ہوگئی، حکام نے بتایا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق رابھا کی لاش بونگائی گاؤں میں ہوٹل جاہنوی ریجنسی کے کمرہ نمبر 102 کے اندر سے ملی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جب اسے برآمد کیا گیا تو لاش جزوی طور پر گلنے والی حالت میں تھی۔ جسم کی بازیابی کی وجہ سے حالات واضح نہیں ہیں۔ موت کی وجہ سرکاری طور پر قائم نہیں ہوسکی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ پولیس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ افسر کی موت کے ارد گرد کے حالات کی تحقیقات کرے گی اور اس کی لاش کی بازیابی سے پہلے کے واقعات کی ترتیب قائم کرے گی۔

فوری طور پر اس بارے میں کوئی سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہوسکی کہ آیا کسی غلط کھیل کا شبہ تھا یا پوسٹ مارٹم کا معائنہ کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے نتائج اور طبی معائنے سمیت مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں آسام میں پولیس اہلکاروں پر مشتمل پریشان کن اقساط کی ایک سیریز کے درمیان سامنے آیا ہے، بشمول عسکریت پسندوں کے حملے، پولیس آپریشن کے دوران حملے اور سیکورٹی اداروں کے اندر مہلک فائرنگ۔ 10 ستمبر کو، ضلع ناگون کے گائوں گیرواٹی میں ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک پولیس ٹیم پر لوگوں کے ایک گروپ کی طرف سے حملہ کیا گیا جس میں کھٹووال تھانے کے انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ واقعے میں پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔

اس سے قبل 3 ستمبر کو کامروپ ضلع کے گیمریمورا پولیس چوکی پر فائرنگ میں آسام پولیس کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ ایک ساتھی پولیس اہلکار پر اے کے 47 رائفل سے فائرنگ کرنے کا الزام تھا۔ ایک اور بڑے واقعے میں، آسام پولیس کے چار اہلکار زخمی ہوئے جب مشتبہ عسکریت پسندوں نے 22 مارچ کو تینسوکیا ضلع کے جگن میں ایک پولیس کمانڈو چوکی پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، حملے میں راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ شامل تھے۔ ان واقعات نے ریاست میں پولیس اہلکاروں کو آپریشن کے دوران اور سیکورٹی اداروں کے اندر درپیش خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم، پولیس ابھی تک ان واقعات اور رابھا کی موت کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کر پائی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں مجوزہ یکساں سول کوڈ سے متعلق مسلمانوں اور اقلیتی برادریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا ابوعاصم اعظمی کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے متعلق رائے طلب کئے جانے کے ساتھ اس میں مسلمانوں اقلیتوں کے مذہبی عقائد کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے ایک میمورنڈم میں وزیر اعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام کو یہ باور کروایا کہ یو سی سی یکساں سول کوڈ سے متعلق فیصلہ میں سرکار مسلمانوں اقلیتوں کے مذہبی آزادی اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔ مہاراشٹر میں مجوزہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے مطابق شہریوں سے طلب شدہ اعتراضات اور تجاویز کے پس منظر میں، ایک نمائندگی و میمورنڈم وزیر اعلی ریاست مہاراشٹر دیویندر فڑنویس ممبئی سٹی، ممبئی مضافاتی اور بھیونڈی کے متعلقہ ڈسٹرکٹ کلکٹرس کو پیش کیا گیا اس میں مطالبے کیا گیا تمام اقلیتی برادریوں بشمول مسلم کمیونٹی کے آئین ہند کی طرف سے دی گئی مذہبی آزادی، ذاتی قوانین سے متعلق حقوق اور حقوق کے تحفظ کیا جائے اس یادداشت کے معرفت یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں فیصلہ لیتے وقت مسلم کمیونٹی کے مذہبی عقائد، روایات اور پرسنل لاز پر مکمل غور کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نکاح، مہر، طلاق، نفقہ اور وراثت کے حقوق جیسے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل مسلم کمیونٹی کے مذہبی رہنماؤں، فقہا، خواتین کے نمائندوں اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں سے وسیع تر بات چیت کی جانی چاہیے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یکساں سول کوڈ کا پورا مسودہ منظر عام پر لایا جائے، شہریوں کو اپنے اعتراضات اور تجاویز کے لیے مناسب وقت دیا جائے اور موصول ہونے والی تمام تجاویز پر منصفانہ غور کیا جائے۔ ساتھ ہی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے عمل میں آئین میں مساوات کا حق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ خواتین اور مردوں کو یکساں انصاف، وقار اور قانونی تحفظ ملنا چاہیے۔ تاہم اس کے لیے کسی بھی مذہبی طبقے کے آئینی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس میں موقف پیش کیا گیا ہے کہ حکومت کو تمام متعلقہ برادریوں کو اعتماد میں لینے، شفاف طریقے سے اور وسیع تر بات چیت کے بعد ہی آگے کی کارروائی کرنی چاہیے۔ حکومت اس بیان کا نوٹس لے، مسلم کمیونٹی سمیت تمام اقلیتی برادریوں کے اعتراضات اور تجاویز پر صحیح غور کرے اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ٹائیگر شراف فائرنگ معاملے میں مزید چار گرفتار، دو خواتین پر اسلحہ فراہم کرنے کا الزام، ملزمین 26 اکتوبر تک پولیس ریمانڈ پر

Published

on

ممبئی ٹائیگر شراف فائرنگ کیس میں ممبئی کرائم برانچ نے مزید چار ملزمین کو گرفتار کیا ہےجس میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہے ان دو خواتین میں بییتا اور رداھا جبکہ اس میں کنال اور ویجندر کو گرفتار کیا گیا ہے ان چاروں ملزمین کو آج قلعہ کورٹ میں پیش کیا گیا اس دوران سیکورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے تھے پولس نے اس معاملہ میں ملزمین سے تفتیش کےلئے ریمانڈ طلب کیا جس کے بعد پولس کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے ملزمین کو۲۶ اکتوبر تک پولس ریمانڈپر رکھنے کا حکم صادر کیا ہے ان دو خواتین پر شوٹروں کو اسلحہ جات فراہم کرنے اور ملزمین کی مدد کا الزام ہے اس معاملہ میں مزید تفتیش اورُیہ معلوم کرنے کہ آیا ملزمین کا تعلق بشنوئی گینگ سے ہے یا نہیں اس کی تفتیش کےلیے پولس نے ریمانڈطلب کیا تھااب تک پولس نے اس معاملہ میں ۱۰ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی پولس نے شوٹروں پھول سنگھ ، ریحان اور ریتک عرف روشن کو گرفتار کیا تھا ان تینوں نے ہی فائرنگ کی تھی اور ممبئی سے فرار ہو کر دلی بذریعہ ٹرین سفر کر رہے تھے ممبئی پولس کی اطلاع پر کوٹا پولس نےانہیں گرفتار کیا گیا اس کے ساتھ دلی اسپیشل سیل نے ہریانہ اور دلی سے ۶ ملزمین کو گرفتار کیا تھا جس میں خواتین اور دیگر اسلحہ سپلائر بھی شامل ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان