Connect with us
Thursday,03-April-2025
تازہ خبریں

جرم

بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی

Published

on

بے شک اسلام ایک بہترین مذہب ہے اور مسلمان ایک بدترین قوم. مذکورہ جملہ شکسپئر نے کہا تھا. آج جو حالات ہمارے سامنے ہیں. اس سے مسلمانوں کی بدبختی ظاہر ہورہی ہیں. ایک ہمارے اجداد تھے جن کے کردار و عمل سے غیر قوم مشرف بہ اسلام ہوتے تھے. آج ہم کردار کے غازی نہیں ہے. جس کا سراسر الزام والدین پر عائد ہوتا ہے. آج والدین کے پاس اولاد کے لئے وقت نہیں ہے. موبائل انٹرنیٹ سے منسلک ہوکر ہم نے بے حیائی کے سمندر کو اپنا مسکن بنالیا ہے. یہی وجہ ہے کہ آج ہماری اولاد بھی فحاشیت اور گندگی کے اسی دلدل میں دھنستی جارہی ہیں. پہلے لوگ اپنی تسکین کے لئے کوٹھے پر جایا کرتے تھے جہاں طوائفیں ان کی دلجوئی کرتی تھیں مگر ہمیں یہ لکھتے ہوئے عار محسوس ہورہی ہیں کہ مغربی کی اندھی تقلید میں ہمارے نوجوان اور بنت حوا نے کوٹھے کی طوائف سے زیادہ خود کو سستا کردیا ہے. یہ طوائفیں پیسے کے لئے اپنے جسم کا سودا کرتی تھیں مگر آج ابن بنت حوا اپنی ہوس کی آگ بجھانے کے لئے ابن آدم کو اپنا جسم سونپتی ہیں. قارئین اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ ہے کہ بھیونڈی شہر جو کہ مہاراشٹر کا مانچسٹر کہلاتا ہے. اس شہر کی ایک ادبی شناخت ہیں. اس شہر کے ایک بیٹے اور بیٹی نے آج امت مسلمہ کو شرمسار کردیا ہے. واقعہ یوں ہے کہ کلمب گاؤں کے سابق سرپنچ فائق بھائی احمد خان کی بھانجی “انشاء” کا رشتہ بھیونڈی بھوسار محلہ کے ساکن “تمثیل انور کھوٹے” کے ساتھ طے ہوا تھا. مگر تقدیر کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں. عین نکاح کے ایک دن قبل ایک فون کال نے کلمب گاؤں میں دلہن کے گھر ہلچل مچادی. بات ہی اتنی شرمناک تھی کہ کسی کو یقین ہی نہیں ہورہا تھا.

دلہن کے گھر والوں کے مطابق لڑکے تمثیل کا کسی دوسری لڑکی سے ناجائز رشتہ تھا, اور بات حدسے آگے بڑھ گئی تھی. اس خبر کو سن کر سب پریشان تھے. کیونکہ انشاء کے ساتھ ہی اس کی چھوٹی بہن کا رشتہ تلوجہ کے ساکن ذیشان شریف خان سے طے ہوا تھا, اور والدین دونوں بیٹیوں کے فرض سے ایک ساتھ سبکدوش ہونا چاہتے تھے. دونوں بہنوں کی مہندی رسم بھی ہوچکی تھی. اہل خانہ کشمکش میں تھے تبھی جس لڑکی سے تمثیل کھوٹے کے ناجائز تعلقات تھے اس لڑکی کا فون آیا اور وہ ڈرانے دھمکانے لگ گئی. اب کوئی آنکھوں دیکھی مکھی نگھل نہیں سکتا ایک بیٹی کی زندگی کا سوال تھا. جو بسنے سے پہلے اجڑ رہی تھی. ایک تو ہمارے سماج کا قاعدہ ہی غلط ہے اگر کسی لڑکی کا رشتہ یا منگنی ٹوٹ جائے تو چاہے غلطی لڑکے کی ہو سارا الزام لڑکی کے سر منڈھ دیا جاتا ہے. یہ تو سراسر بارات لوٹانے والی بات تھی. مگر سابق سرپنچ فائق خان کے گھر والوں نے ہر بات کو بالائے طاق رکھ کر بارات روکنے اور رشتہ توڑنے کا فیصلہ کرلیا-

جس کے بعد گاؤں میں ہر طرف سناٹا چھاگیا. اب تک جہاں شہنائیاں بج رہی تھیں. وہاں اب ماتمی لہر پھیل گئی. دکھ سبھی مہمانوں, رشتےداروں اور گاؤں کے نوجوانوں کے چہروں پر صاف جھلک رہا تھا. جس منڈپ میں کھڑے تھے وہاں پر ہر طرف مایوسی اور غم کے بادل چھائے تھے.

اچانک گاؤں کے نوجوانوں نے اور ذمہ داران نے فیصلہ کیا کہ گاؤں سے جو بھی لڑکا اس بچی سے نکاح کرنے کو تیار ہو جائے اس نکاح کے لیے گھر والوں کو راضی کیا جائے گا اور کل صبح جامع مسجد کلمب گاؤں میں نکاح منعقد کیا جائے گا-

کسی کو بھی پتہ نہیں تھا جس منڈپ میں چائے پان کی محفل میں جو لڑکا مہمانوں کو چائے بانٹ رہا تھا اسی نوجوان کے گھر والوں کو نکاح کے لیے راضی کر لیا جائیگا اور آج صبح اللہ کے رحم و کرم سے اور سب کی دعا سے اس بچی کا نکاح اس لڑکے سے ہوگیا. کلمب گاؤں کی مشہور شخصیت اور تنٹا مکت سمیتی کے صدر “ایوب کوئلکر” کے صاحبزادے “معراج” اور “انشاء” رشتہ ازداج میں بندھ گئے.

اللہ رب العزت اس جوڑے کو اور اس نکاح کو قبول کریں اور انہیں اپنے رحم و کرم سے نوازے….
اس کار خیر میں جن نوجوانوں نے اور ذمہ داروں نے اس رشتے کو جوڑنے کی کوشش کی ہے اللہ ان سبھی کی جائز حاجتوں کو پورا کریں..
اللہ امت کے اتفاق اور اتحاد کو قبول کریں. آمین

نامہ نگار نے جب دلہن انشاء کے اہل خانہ سے اس پورے معاملے کے بارے میں جاننا چاہا تو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فائق خان نے کہا کے بیشک الله سب سے بہتر پلانر ہے. الله جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے. اس میں اس کی حکمت پوشیدہ ہے اگر ہم نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہوتا تو ہماری معصوم بچی کی زندگی جہنّم بن جاتی. ہمارے احساسات کا کھلواڑ کرنے والوں پر سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہئے جس سے سبق لیکر کوئی بھی کسی کی اولاد کے ساتھ ایسا کھلواڑ ناکر سکے-

“دلہن کے دادا نے اپنی بات رکھتے ہوئے نم آنکھوں سے سماج سے اپیل کی ہے کہ اپنی پھول جیسی اولاد کا نکاح کرتے وقت دولت, شہرت, تعلیم سے زیادہ دینی معاملات کو مدنظر رکھے اگر وہ لڑکا دینی خیالات سے وابستہ ہوتا تو الله اور آخرت کے ڈر سے حرام کاری کی طرف مائل نہ ہوتا”
ساتھ ہی ساتھ انہوں نے حکومت سے ذمے دار افراد کے خلاف سختی سے نپٹنے کی مانگ کی-

بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فوج کا غزہ میں بڑا فوجی آپریشن، آئی ڈی ایف کے حملے میں 50 فلسطینی ہلاک، نیتن یاہو نے بتایا موراگ راہداری منصوبے کے بارے میں

Published

on

Netanyahu-orders-army

تل ابیب : اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل غزہ میں ایک طویل اور وسیع مہم کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج دو متوازی کارروائیاں شروع کرنے جا رہی ہے۔ ایک شمالی غزہ میں اور دوسرا وسطی غزہ میں۔ اس تازہ ترین مہم کا مقصد پورے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں حماس کا اثر کم ہے۔ دوسرا علاقہ وہ ہے جہاں حماس کے دہشت گردوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیلی فوج غزہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے جا رہی ہے۔

دریں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایک نیا سکیورٹی کوریڈور قائم کر رہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے اسے موراگ کوریڈور کا نام دیا۔ راہداری کا نام رفح اور خان یونس کے درمیان واقع یہودی بستی کے نام پر رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور دونوں جنوبی شہروں کے درمیان تعمیر کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں “بڑے علاقوں” پر قبضہ کرنے کے مقصد سے اپنے فوجی آپریشن کو بڑھا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اسرائیل غزہ کی پٹی میں ‘بڑے علاقوں’ پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا رہا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ دریں اثنا، غزہ کی پٹی میں حکام نے بتایا کہ منگل کی رات اور بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً ایک درجن بچوں سمیت کم از کم 50 فلسطینی مارے گئے۔ کاٹز نے بدھ کے روز ایک تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی آپریشن کو “عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو کچلنے” اور “فلسطینی سرزمین کے بڑے حصوں کو ضم کرنے اور انہیں اسرائیل کے سیکیورٹی علاقوں سے جوڑنے کے لیے بڑھا رہا ہے۔”

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں کے ساتھ سرحد پر اپنی حفاظتی باڑ کے پار غزہ میں ایک “بفر زون” کو طویل عرصے سے برقرار رکھا ہوا ہے اور 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے کے بعد سے اس میں وسیع پیمانے پر توسیع کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بفر زون اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جب کہ فلسطینی اسے زمینی الحاق کی مشق کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے چھوٹے خطے کو مزید سکڑنا پڑے گا۔ غزہ کی پٹی کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے۔ کاٹز نے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ فوجی آپریشن میں توسیع کے دوران غزہ کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے جنوبی شہر رفح اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کاٹز نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں سے ‘حماس کو نکالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے’ کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا، ‘جنگ ختم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔’ اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 59 اسرائیلی یرغمال ہیں جن میں سے 24 کے زندہ ہونے کا اندازہ ہے۔ شدت پسند گروپ نے جنگ بندی معاہدے اور دیگر معاہدوں کے تحت متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کیا ہے۔

Continue Reading

جرم

پونے : لڑکی میوری ڈانگڈے نے اپنے دولہے ساگر جے سنگھ کدم پر حملہ کیا، شادی سے پہلے دولہے کو مارنے کا دیا ٹھیکہ

Published

on

Ahlianagar-Issue

پونے : اہلیہ نگر کی ایک لڑکی کی شادی 12 مارچ کو طے ہے۔ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ لڑکے کے گھر والوں نے اسے روک دیا۔ پھر دونوں کی منگنی ہوگئی اور پری ویڈنگ شوٹ بھی خوبصورت جگہوں پر ہوا۔ اب شادی کی تیاریاں زوروں پر ہونے لگیں۔ اس دوران دولہا پر جان سے مارنے کے ارادے سے حملہ کیا گیا۔ اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ معاملہ پولیس تک پہنچا اور جو انکشاف ہوا سب کو چونکا دیا۔ ہونے والے دولہے پر اس کی ہونے والی دلہن نے حملہ کیا۔ اس نے نوجوان کو مارنے کے لیے حملے کا حکم دیا تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گیا۔ اس سازش میں لڑکی کا 40 سالہ بوائے فرینڈ بھی شامل تھا۔

پولیس نے بتایا کہ دلہن کا نام میوری ڈانگڈے (20) ہے۔ اس کی شادی ساگر جے سنگھ کدم کے ساتھ طے ہوئی تھی۔ وہ بنیر میں ایک فاسٹ فوڈ کی دکان میں باورچی کے طور پر کام کرتا ہے۔ 27 فروری کو ساگر نے لڑکی کو کھمگاؤں گاؤں کے قریب اس کے رشتہ دار کے گھر چھوڑ دیا۔ ساگر پر اسی راستے سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے ساگر کو بری طرح مارا۔ اسے شدید چوٹیں آئیں اور اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ساگر کدم نے یکم مارچ کو یاوت پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں اس نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے ایک نے دوسرے لوگوں سے اس کی ٹانگیں توڑنے کو کہا تاکہ وہ شادی میں شرکت نہ کرسکے۔ ساگر نے یہ بھی کہا کہ انہیں 21 اور 22 فروری کو ایک نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہوئیں۔

پولیس نے ابتدائی طور پر تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 118 (جان بوجھ کر شدید چوٹ پہنچانا)، 351 (مجرمانہ دھمکی) اور 352 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا اور تحقیقات شروع کی۔ یاوتمال پولیس کی ایک ٹیم نے 28 مارچ کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی جانچ کی مدد سے حملہ آوروں میں سے ایک کا سراغ لگایا۔ یاوت پولیس کے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر مہیش مانے نے بتایا کہ گرفتار نوجوان (19 سال) لڑکی کا کزن ہے۔ اس نے ساری سازش بتائی اور چار اور لوگوں کے نام بتائے۔ جس میں لڑکی کا عاشق (40 سال) بھی شامل ہے، جو اہلیہ نگر کے شری گونڈہ میں ایک گیراج کا مالک ہے۔ اسے دو دن کے اندر حراست میں لے لیا گیا۔ خاتون (23 سال) ابھی تک مفرور ہے۔

مانے نے کہا کہ لڑکی اور قدم نے 21 فروری کو ساسواڑ کے قریب شادی سے پہلے کا فوٹو شوٹ کروایا تھا۔ لڑکی نے قدم سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بتائے کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن کدم نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اور اس کے عاشق نے قدم کو ختم کرنے کی سازش رچی۔ اہلکار نے بتایا کہ قدم کی منگیتر نے 27 فروری کو ان سے رابطہ کیا اور پونے میں فلم دیکھنے کے لیے اس کے ساتھ جانے کو کہا۔ نوجوان نے موٹر سائیکل پر یاوت کے قریب کھامگاؤں میں اپنے رشتہ دار کے گھر اٹھایا اور پونے میں فلم دیکھی۔ اس نے اسے شام 7.30 بجے کے قریب کھامگاؤں میں واپس چھوڑ دیا۔

جب قدم پونے واپس آ رہے تھے تو ایک کار میں سوار چار آدمیوں نے اسے زبردستی روکا۔ انہوں نے اسے لاٹھیوں سے مارا اور پھر دھمکی دی کہ اگر اس نے عورت سے شادی کی تو وہ اسے جان سے مار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ خاتون اور اس کے عاشق نے ضلع اہلیانگر کے تین مردوں کو نوکری پر رکھا تھا۔ خاتون کا کزن بھی ساتھ تھا۔ خاتون اور اس کے عاشق نے اسے 1.25 لاکھ روپے ایڈوانس دیے تھے۔

Continue Reading

جرم

بابا صدیق قتل کیس : این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا

Published

on

baba siddiqi

 ممبئی : مرحوم این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا ہے، اور التجا کی ہے کہ انہیں اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس کا خاندان ملزم کے فعل کا حتمی شکار ہے۔ چونکہ عدالت نے ابھی مقدمے کی سماعت شروع کرنا ہے، بابا کی اہلیہ شہزین نے جمعہ کو اپنے وکیل تروین کمار کرنانی کے ذریعے ایک درخواست جمع کرائی ہے، جس میں اسے مقدمے کی سماعت کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس نے استدعا کی کہ ملزمان نے مقتول کا پہلے سے منصوبہ بند اور سوچے سمجھے طریقے سے سرد خون، بہیمانہ قتل کیا ہے۔ شہزین نے اپنی درخواست میں کہا، “اسے ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اور یہ کہ مداخلت کرنے والے کے لیے سچے اور درست حقائق کو ریکارڈ پر رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ اس عدالت کو معاملے میں آزادانہ اور منصفانہ نتیجے پر پہنچنے میں مدد ملے،” شہزین نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ کئی اہم پہلو ہیں جن کے لیے مناسب وزن کی ضرورت ہے۔

درخواست میں متاثرہ کے سننے کے حق پر زور دیا گیا ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے متعدد درخواستوں میں رکھا ہے۔ “یہ خیال کیا گیا ہے کہ متاثرہ فرد جرم کا حقیقی طور پر شکار ہوا ہے۔ جرم کی روک تھام اور سزا دینے کے لئے فوجداری انصاف کی فراہمی کے اخلاق کو شکار کی طرف سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ متاثرین کے سننے اور مجرمانہ کارروائی میں حصہ لینے کے حقوق کے حوالے سے فقہ مثبت طور پر تیار ہونا شروع ہوئی ہے”۔66 سالہ صدیق کو 12 اکتوبر 2014 کو باندرہ میں ان کے بیٹے ذیشان صدیق کے دفتر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔ بشنوئی کے گینگ کے مبینہ طور پر تین حملہ آوروں نے اس کار پر فائرنگ کی جہاں بابا دفتر سے نکلنے کے لیے بیٹھا تھا۔ جیسے ہی وہ کار میں آیا، ملزم نے اس پر گولی چلا دی، جس سے اس کے گارڈز کو رد عمل کا اظہار کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملی۔ تاہم حملہ آور فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔

پولیس اب تک قتل کے الزام میں 26 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ ممبئی پولیس نے دسمبر میں این سی پی لیڈر کے قتل میں ملوث 26 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ قتل کا حکم بشنوئی نے دیا تھا، جو اس گروہ کا سربراہ ہے۔اپنی چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ گینگ کے ارکان بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے خلاف نفرت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ، صدیق اداکار کے بہت قریب تھا، اور اس کے علاوہ، گینگ دہشت گردی اور بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا. صدیق کے قتل کی سازش کے پیچھے یہی بنیادی محرکات تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com